نیپال اور تبت میں سیلابی ریلے اور لینڈ سلائیڈ کی تباہ کاریوں کے مناظر سے چین کے بیشتر عوام لاعلم کیوں ہیں؟

چین کے سخت سنسر شدہ انٹرنیٹ پر سیلاب کی ویڈیوز کو تلاش کرنا بھی مشکل رہا ہے۔ اسی طرح بدھ سے اب تک سینکڑوں جانیں لینے والی اور اتنی ہی تعداد میں لوگوں کے لاپتہ ہونے کا سبب بننے والی اس اچانک آنے والی سیلابی صورتحال کے بارے میں پوسٹس تلاش کرنا بھی اتنا ہی دشوار ہے۔
CCTV shows people running as mud and water destroys buildings in Gyirong, Tibet
Reuters

بدھ کے روز پانی کا ایک سیلابی ریلا نیپال اور تبت کے درمیان اہم سرحدی گزرگاہوں میں سے ایک، گیریونگ پورٹ، سے گزرتا ہوا اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو بہا لے گیا جبکہ سینکڑوں لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے بھاگ رہے تھے۔

سی سی ٹی وی کیمروں میں محفوظ ہونے والے یہ مناظر تیزی سے سوشل میڈیا اور دنیا بھر کی سکرینوں تک پہنچ گئے۔ یہ ڈرامائی مناظر نظر انداز کرنا کسی کے لیے بھی تقریباً ناممکن تھے لیکن چین میں یہ منظر سب کی نگاہوں سے اوجھل رہے۔

اب تک چین میں سرکاری زیرِ انتظام مرکزی نیوز بلیٹن میںاس ویڈیو سے صرف ایک تصویر نشر کی گئی ہے۔

چین کے سخت سنسر شدہ انٹرنیٹ پر سیلاب کی ویڈیوز کو تلاش کرنا بھی مشکل رہا ہے۔ اسی طرح بدھ سے اب تک سینکڑوں جانیں لینے والی اور اتنی ہی تعداد میں لوگوں کے لاپتہ ہونے کا سبب بننے والی اس اچانک آنے والی سیلابی صورتحال کے بارے میں پوسٹس تلاش کرنا بھی اتنا ہی دشوار ہے۔

بیجنگ نے سینکڑوں ہنگامی کارکنوں پر مشتمل ایک بڑے پیمانے کی امدادی کارروائی شروع کر رکھی ہے جو تاحال جاری ہے اور صدر شی جن پنگ نے کوششوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے حکام کے ساتھ ایک ہنگامی اجلاس کی صدارت بھی کی۔

لیکن اگر آپ ملک کے انٹرنیٹ پر موجود مواد کا موازنہ ان مناظر سے کریں جو دنیا کے بیشتر حصے گزشتہ چند دنوں سے آن لائن دیکھ ا جا رہا ہے تو چین کی فائر وال پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں نظر آتی ہے۔

تبت، جسے بیجنگ نے 1950 کی دہائی میں اپنے ساتھ ملا لیا تھا، طویل عرصے تک چینی کمیونسٹ پارٹی کی حکمرانی کی مزاحمت کرتا رہا تھا۔

چین نے برسوں کے دوران احتجاجی مظاہروں کو کچل دیا ہے، بعض اوقات پُرتشدد طریقے سے بھی اور اس پر اس بدھ مت اکثریتی خطے میں سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

چین نے جلا وطن روحانی رہنما دلائی لاما کو علیحدگی پسند قرار دیا ہے۔

تبت سے متعلق ماضی کی یہی تاریخ ہے جس کی وجہ سے وہاں کے بارے میں معلومات پر چین میں سخت نظر رکھی جاتی ہے۔ ایسے مواقع پر بیجنگ کی یہ حساسیت اور زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔

اس شدید سیلاب سے لاپتہ اور ہلاک ہونے والوں کے بارے میں روزانہ کی بنیاد پر تازہ معلومات جاری کی جا رہی ہیں، اور بیجنگ امدادی کارروائیوں کے بارے میں بھی معلومات فراہم کر رہا ہے۔

ساتھ ہی اُس جھیل سے پیدا ہونے والے خطرات کے بارے میں بھی، جو سیلاب کے نتیجے میں بنی ہے اور جس کے اُمڈنے یا لبریز ہونے کا خدشہ رہا ہے۔

ہفتے کے روز چینی سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری نئی ویڈیو میں امدادی ٹیموں کو کیچڑ اور پتھروں سے اٹی ویران زمین پر چلتے ہوئے اور پھنسے ہوئے افراد کو آوازیں دیتے ہوئے دکھایا گیا۔

لیکن اس کے علاوہ تفصیلات بہت کم ہیں۔ تبت میں بچ جانے والوں کے بیانات موجود نہیں ہیں اور شدید مشکل لمحات یا ان کے بعد کے حالات کو دکھانے والی صارفین کی تیار کردہ ویڈیوز تقریباً ناپید ہیں۔

ہمیں اب تک لاپتہ افراد کے پریشان حال اہلِ خانہ سے بھی کچھ سننے کو نہیں ملا۔ وہاں لوگوں سے رابطہ کرنے کی کوشش معمول کے اوقات میں بھی تقریباً ناممکن ہوتی ہے۔

ایک ایسے صحافی کے طور پر جس نے شمالی کوریا کی رپورٹنگ کی ہے، میرے لیے اکثر پیانگ یانگ میں انٹرویو دینے والے افراد سے رابطہ کرنا تبت کے دارالحکومت لہاسہ میں لوگوں سے رابطہ کرنے کے مقابلے میں زیادہ آسان رہا ہے۔

نیپال
Getty Images

جمعرات کی رات، جب دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ ہمالیہ کی ایک وادی میں ہونے والی تباہی کو اپنی شہہ سرخیوں میں جگہ دے رہے تھے اس وقت چین کے سرکاری نشریاتی ادارے نے اپنے خبرنامے کا آغاز شی جن پنگ کی نئی کتاب کے اجرا سے کیا جس میں ان کی سب سے اہم اور بنیادی تحریروں کا انتخاب موجود تھا۔

غیر ملکی صحافی حکومتی اجازت کے بغیر تبت نہیں جا سکتے۔ اس طرح کی بڑی خبروں میں چند گھنٹوں کے اندر زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرنا پڑتی ہے، اس سے پہلے کہ ویڈیوز ہٹا دی جائیں اور لوگوں سے بات کرنا مشکل ہو جائے۔

ایسے حالات میں ہمیں سرکاری میڈیا پر انحصار کرنا پڑتا ہے جو اب تک زیادہ تر امدادی کارروائیوں پر توجہ دے رہا ہے۔

خصوصی امدادی ٹیمیں پہاڑوں اور چٹانوں پر چڑھ کر اور تیز بہاؤ والی ندیوں کو عبور کر کے متاثرہ علاقوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ وہاں پہنچنے کے بعد کیا ہوا اور وہ کتنے لوگوں کو بچا سکیں۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ بیجنگ اس صورتحال کو اہمیت نہیں دے رہا۔ حقیقت میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔

چین کے وزیرِاعظم لی چیانگ کو فوری طور پر متاثرہ علاقے بھیجا گیا جہاں وہ امدادی اور ملبہ ہٹانے کے کام کا جائزہ لیتے نظر آئے۔

Rescue workers operating in Shigatse in Tibet after devastating flooding and landslides
Gongga Laisong/China News Service/VCG via Getty Images

کسی بڑی آفت کے فوراً بعد ملک کی دوسری اہم ترین شخصیت کا موقع پر جانا غیر معمولی بات سمجھی جاتی ہے۔

دنیا جسے نسبتاً محدود ردِعمل سمجھ سکتی ہے، اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ شی جن پنگ ملک میں استحکام برقرار رکھنے کو بہت اہم سمجھتے ہیں۔

کمیونسٹ پارٹی کو خدشہ ہو سکتا ہے کہ ایسی آفت عوامی ناراضی کا باعث بنے، چاہے وہ امدادی کارروائیوں کے بارے میں ہو یا اس سوال پر کہ آفت سے نمٹنے کی پیشگی تیاری کیوں نہیں کی گئی۔

حکام کو یہ فکر بھی ہو سکتی ہے کہ ایسا سانحہ لوگوں کو ایک جگہ جمع ہونے کا موقع دے سکتا ہے، خاص طور پر ایسی برادری میں جہاں مذہب کی اہمیت بہت زیادہ رہی ہے۔

اگرچہ اس خطے میں کافی عرصے سے احتجاجی مظاہرے نہیں ہوئے، لیکن بیرونِ ملک موجود تبتی گروہوں نے چین کے بڑھتے ہوئے کنٹرول پر تشویش ظاہر کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ نئے تعلیمی قوانین کا مقصد خانقاہوں اور بدھ مت کے مذہب کے کردار کو کمزور کرنا ہے۔

نیپال
Getty Images

حادثے کے چند گھنٹوں بعد ہی کمیونسٹ پارٹی نے مقامی کارکنوں کو متحرک کرنا شروع کر دیا تاکہ لینڈ سلائیڈ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر عدم اطمینان کی کسی بھی علامت کو روکا جا سکے۔

مقامی پارٹی دفتر نے ایک نوٹس جاری کیا جس میں ارکان سے کہا گیا کہ وہ امدادی کاموں میں حصہ لیں اور متاثرہ افراد کو ذہنی اور جذباتی مدد فراہم کریں۔

نوٹس میں خاص طور پر زور دیا گیا کہ وہ ’سماجی نظم و ضبط برقرار رکھنے اور متاثرہ علاقوں میں استحکام اور عوامی اعتماد قائم رکھنے‘ کی ہر ممکن کوشش کریں۔

اس میں کہا گیا کہ اچھی کارکردگی دکھانے والوں کو انعام دیا جائے گا جبکہ ناقص کارکردگی پر جواب دہی ہو گی۔

یہ ایک ایسی وارننگ ہے جسے سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق تبتی باشندوں کو صحافیوں سے بات کرنے یا سوشل میڈیا پر ایسی معلومات شیئر کرنے پر حراست میں لیا جا سکتا ہے جو حکومتی مؤقف کے خلاف سمجھی جائیں۔

اسی وجہ سے خطے سے باہر رہنے والے تبت کے بہت سے شہریوں کو اپنے رشتہ داروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

انٹرنیشنل کیمپین فار تبت نے امدادی کارکنوں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بیجنگ سوشل میڈیا سے ویڈیوز اور عینی شاہدین کی معلومات ہٹا رہا ہے۔

تنظیم نے چینی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ نقصانات اور ہلاکتوں کے بارے میں مکمل اور قابلِ تصدیق معلومات جاری کریں۔

تبتیوں کی زندگی کو سمجھنے کے لیے بی بی سی نے گزشتہ سال ایک ایسے قصبے کا دورہ کیا تھا جو ہمالیائی سطحِ مرتفع کے کنارے واقع ہے اور چین کے مطابق تبتی خودمختار علاقے سے باہر ہے۔

وہاں ہم نے ابا میں کیرتی خانقاہ(یا تبتی زبان میں نگابا) میں راہبوں سے بات کی، جو کبھی بیجنگ کے خلاف مزاحمت کا مرکز تھا۔

ایک راہب نے ہمیں بتایا کہ ’ہم تبتی بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔‘

انھوں نے الزام عائد کیا کہ وہ مسلسل نگرانی میں زندگی گزارتے ہیں اور چینی حکومت تبتیوں کے ساتھ ظلم کرتی ہے۔ ہماری بات چیت مختصر رہی کیونکہ ہمیں زیادہ دیر تک کسی سے بات کرتے ہوئے نہیں دیکھا جا سکتا تھا۔

دوسری جانب بیجنگ ان الزامات کو مسترد کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس نے سیاحت کے فروغ اور خطے کو ملک کے دوسرے حصوں سے جوڑنے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے۔

تاہم چین میں لوگوں کو تبت میں ہونے والی پیش رفت سے متعلق بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US