نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں رواں سال 20 اگست تک فنانشل اور واٹس ایپ فراڈ کی ہزاروں شکایات موصول ہونے کے باوجود ایف آئی آرز کے اندراج کی شرح انتہائی کم رہی ہے۔
دستیاب دستاویزات کے مطابق ایجنسی میں عملے کی کمی یا حکمت عملی کے فقدان کے باعث تینوں سرکلز میں انکوائریز کے بعد برائے نام مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
رواں سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران ایجنسی کو فنانشل فراڈ کی مجموعی طور پر 3 ہزار 5 شکایات موصول ہوئیں، جن پر 854 انکوائریز رجسٹر کی گئیں جبکہ محض 26 ایف آئی آرز درج ہوسکیں۔
اسی طرح واٹس ایپ فراڈ کی 540 شکایات سامنے آئیں، جن پر صرف 16 انکوائریز رجسٹر کی گئیں لیکن آٹھ ماہ کے عرصے میں ایک بھی ایف آئی آر درج نہیں کی جاسکی۔
ان شکایات اور انکوائریز کا سب سے بڑا تناسب کراچی سرکل میں دیکھنے میں آیا، جہاں فنانشل فراڈ کی 1870 اور واٹس ایپ فراڈ کی 473 شکایات موصول ہوئیں۔ ان شکایات پر بالترتیب 683 اور 3 انکوائریز رجسٹر کی گئیں، تاہم کارروائی کے نتیجے میں کراچی سرکل میں بھی صرف 12 ایف آئی آرز درج کی جاسکیں۔