اپنے تین بچوں کو قتل کرنے کے الزام کا سامنا کرنے والی ماں کی عدالت میں پیشی: وہ بہت مشکل وقت سے گزر رہی تھی، سابق شوہر کی گواہی

’آپ نے اپنے تینوں بچوں، پانچ سالہ کورا، تین سالہ ڈاسن اور آٹھ ماہ کے کالن کو قتل کیا ہے۔‘ جب ایک امریکی عدالت کے جج اپنے سامنے موجود ملزمہ لنڈسے کلینسی کو یہ الزامات پڑھ کر سُنا رہے تھے تو کمرۂ عدالت میں ملزمہ نے سسکیاں لے کر رونا شروع کر دیا۔

انتباہ: اس خبر میں پریشان کن تفصیلات شامل ہیں اور خودکشی کی کوشش کا ذکر ہے۔

’آپ نے اپنے تینوں بچوں، پانچ سالہ کورا، تین سالہ ڈاسن اور آٹھ ماہ کے کالن کو قتل کیا ہے۔‘

جب ایک امریکی عدالت کے جج اپنے سامنے موجود ملزمہ لنڈسے کلینسی کو یہ الزامات پڑھ کر سُنا رہے تھے تو کمرۂ عدالت میں ملزمہ نے سسکیاں لے کر رونا شروع کر دیا۔

امریکی ریاست میساچیوسٹس سے تعلق رکھنے والی لنڈسے کلینسی پر اپنے تین بچوں کو قتل کرنے کا الزام ہے۔ لنڈسے کلینسی اپنے بچوں کو مارنے سے متعلق الزام سے انکار نہیں کرتیں، تاہم اُن کا دفاع کرنے والے وکلا کا مؤقف ہے کہ اُن کی مؤکلہ شدید ذہنی بیماری کا شکار تھیں، اور اسی بنیاد پر انھیں قانونی طور پر قتل کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے۔

اس مقدمے نے امریکہ بھر میں غیر معمولی توجہ حاصل کی ہے۔ اس کیس کی عدالتی کارروائی چینلز پر براہ راست نشر کی گئی، جسے لاکھوں افراد نے دیکھا۔

جنوری 2023 میں پیش آئے اس واقعے کے بعد مقتول بچوں کی والدہ لنڈسے کلینسی پر فرسٹ ڈگری قتل کے تین الزامات عائد کیے گئے۔ اگر جیوری انھیں مجرم قرار دیتی ہے تو انھیں بغیر پیرول عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

استغاثہ کا الزام ہے کہ 24 جنوری 2023 کو لنڈسے کلینسی نے میساچوسٹس کے علاقے ڈکسبری میں واقع اپنے گھر میں اپنے تینوں بچوں کو ورزش میں استعمال ہونے والے فٹنس بینڈز کی مدد سے گلا گھونٹ کر مارا اور پھر مبینہ خودکشی کی کوشش کے دوران وہ دوسری منزل کی کھڑکی سے نیچے کود گئیں۔

دوسری منزل سے گرنے کے نتیجے میں 36 سالہ لنڈسے کلینسی اب مفلوج ہو چکی ہیں اور انھیں مقدمے کی کارروائی میں شرکت کے لیے وہیل چیئر پر لایا جاتا ہے۔

مقدمے کے دوران اُن کا دفاع کرنے والے وکلا کا مؤقف یہ رہا ہے کہ لنڈسے کلینسی نے اپنے بچوں کو نفسیاتی عارضے (سائیکوسس) کے زیرِ اثر قتل کیا۔ اُن کے وکیل کیون ریڈنگٹن نے کہا کہ اُن کی مؤکلہ ایک بیماری کا شکار تھیں اور اس کے لیے ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات بھی استعمال کر رہی تھیں، اور اس لیے انھیں اس قتل کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔

’پوسٹ پارٹم سائیکوسس‘ ایک نایاب کیفیت ہے جس میں خواتین زچگی کے بعد افسردگی، بیگانہ پن یا اس نوعیت کی علامات کا شکار ہو سکتی ہیں۔

عموماً خواتین کے لیے حمل اور زچگی خوشی کی بات ہوتی ہے، لیکن کچھ مائیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو بچے کی پیدائش کے بعد پریشانی، مایوسی، غصہ، خوف اور یہاں تک کہ جرم کے احساس کا شکار ہو جاتی ہیں۔ انھیں نفسیاتی علامات بھی لاحق ہو سکتی ہیں، جیسے ایسی آوازیں سُننا جو حقیقت میں موجود نہ ہوں۔ شدید اور غیر معمولی صورتوں میں وہ خود کو یا دوسروں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، یا حتیٰ کہ قتل بھی کر سکتی ہیں۔

ماہرین نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ زچگی کے بعد خواتین کو لاحق ہونے والی انتہائی سنگین بیماریوں میں سے ایک ہے۔

وکیل دفاع کا مؤقف: لنڈسے کلینسی فریبِ نظر اور وہم کا شکار تھیں

United States
Reuters
وکیل دفاع کے مطابق ملزمہ تیسرے بچے کی پیدائش کے بعد بعد از زچگی ہونے والے ایک نفسیاتی عارضے میں مبتلا ہوئیں

لنڈسے کلینسی کے وکلا نے کبھی بھی بچوں کی ہلاکتوں میں اُن کے کردار کی تردید نہیں کی۔ تاہم وکلا کا کہنا ہے کہ کلینسی ذہنی خلل کا شکار تھیں اور اپنے تیسرے بچے کی پیدائش کے بعد سے فریبِ نظر اور وہم (Hallucinations and Delusions) کی بیماری کا سامنا کر رہی تھیں۔

واضح رہے کہ فریبِ نظر (Hallucination) ایسی کیفیت کو کہا جاتا ہے جس میں کسی شخص کو ایسی چیزیں دکھائی دیتی ہیں یا آوازیں سنائی دیتی ہیں، جو حقیقت میں اپنا وجود نہیں رکھتیں۔ جبکہ وہم (Dellusion) کا شکار افراد کسی ایسی بات پر یقین کر لیتے ہیں، جو حقائق کے برعکس ہوتی ہے، اور پھر شواہد موجود ہونے کے باوجود بھی وہ اپنے اس وہم پر قائم رہتے ہیں۔

وکلا نے نشاندہی کی کہ لنڈسے کلینسی ذہنی صحت کے مسائل کا شکار تھیں اور ہلاکتوں سے چند روز قبل انھیں ذہنی امراض کے ایک ہسپتال میں داخل کروایا گیا تھا۔

دوسری جانب استغاثہ کا کہنا ہے کہ ملزمہ کلینسی نے اپنے بچوں کو جان بوجھ کر قتل کرنے کا سوچا سمجھا فیصلہ کیا تھا اور انھیں قانونی طور پر جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔

استغاثہ کے مطابق کلینسی نے اپنے شوہر پیٹرک کلینسی کو جان بوجھ کر گھر کے کسی کام سے باہر بھیج دیا تاکہ جب وہ اپنے بچوں کو قتل کریں تو اُن کے شوہر آس پاس موجود نہ ہوں۔

کلینسی کے اہلِخانہ، جن میں ان کی والدہ، سابقہ ساس اور شوہر شامل ہیں، نے ہلاکتوں سے قبل اُن کی ذہنی کیفیت کے بارے میں گواہی دی ہے۔

کئی ہفتوں سے جاری سماعت کے دوران سینکڑوں خواتین لنڈسے کلینسی کی حمایت میں عدالت کے باہر جمع ہوئیں۔ انھوں نے گلابی قمیضیں پہن رکھی تھیں جن پر ’انھیں (لنڈسے) مدد کی ضرورت تھی‘ اور ’لنڈسے کے لیے سلامتی‘ جیسی عبارتیں تحریر تھیں۔

وہ بہت مشکل وقت سے گزر رہی تھیں: سابق شوہر کی گواہی

تصویر
Reuters
لنڈسے اور پیٹرک کلینسی: شادی کے موقع پر لی گئی تصویر

دو روز تک جاری رہنے والی عدالتی کارروائی میں لنڈسے کلینسی کے سابق شوہر پیٹرک نے جیوری کو اپنی سابقہ اہلیہ کی زچگی کے بعد بگڑتی ذہنی صحت کے بارے میں بتایا اور اُس دن کی تفصیلات بیان کیں جس دن اُن کے بچے ہلاک ہوئے۔

انھوں نے کہا کہ لنڈسے کلینسی کی حالت میں بگاڑ کا آغاز بچوں کی ہلاکتوں سے تقریباً ایک ماہ پہلے شروع ہوا تھا۔

پیٹرک کے بقول: ’اُن کا وزن تیزی سے کم ہونے لگا، وہ شدید افسردگی کا شکار ہو گئیں اور بہت مشکل وقت سے گزر رہی تھیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ کلینسی وقفے وقفے سے ڈاکٹروں سے مدد لیتی رہیں اور مختلف ادویات استعمال کرتی رہیں۔ ان کے مطابق وہ یہ ذکر بھی کرتی تھیں کہ انھیں خودکشی کے خیالات آتے ہیں۔

پیٹرک کلینسی کہتے ہیں کہ وقوعے کے روز جب وہ کھانا اور دوائیں لینے گھر سے نکلے تو اُن کا بیٹا ڈاسن صوفے پر بیٹھا چکن نگٹس کھا رہا تھا۔ واپس آنے پر انھوں نے دیکھا کہ تینوں بچے مر چکے تھے۔

لنڈسے کلینسی عدالت میں اس وقت آبدیدہ ہو گئیں جب اُن کے شوہر کی 911 پر کی گئی کال کی ریکارڈنگ چلائی گئی۔ اُس وقت تک پیٹرک تہہ خانے میں اپنے بچوں کو مردہ حالت میں دیکھ چکے تھے اور چیختے ہوئے کہہ رہے تھے: ’انھوں (لنڈسے) نے بچوں کو مار ڈالا ہے۔‘

مقدمے کے آغاز سے ہی سوشل میڈیا پر پیٹرک کلینسی کے بارے میں مختلف سازشی نظریات گردش کرتے رہے ہیں، بعض میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا کہ وہ خود اس واقعے میں ملوث تھے۔

تاہم تفتیش کاروں نے انھیں کبھی بھی مشتبہ قرار نہیں دیا، جبکہ لنڈسے کلینسی اپنے بچوں کو قتل کرنے کا اعتراف کر چکی ہیں اور اُن کے وکلا نے بھی اس کی تردید نہیں کی۔

’وہ ہر روز خودکشی کرنے کا سوچتی تھیں‘

لنڈے کلینسی
Jonathan Wiggs/The Boston Globe via Getty Images
لنڈسے کلینسی کے مقدمے نے امریکہ میں وسیع پیمانے پر توجہ حاصل کی ہے اور بہت سے خواتین اُن کے حق میں بھی بات کر رہی ہیں

پیٹرک کلینسی کے علاوہ لنڈسے کی سابقہ ساس، اُن کی والدہ اور بہن نے بھی گواہی دی اور بچوں کی پیدائش کے بعد اُن کی بگڑتی ذہنی صحت کے بارے میں بتایا۔

اُن کی سابقہ ساس سوسن کلینسی نے کہا کہ لنڈسے کلینسی ’مدد کی بھیک مانگ رہی تھیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ لنڈسے کو ’بے خوابی کی شکایت تھی، اُن کی بھوک ختم ہو رہی تھی، وہ بہت پریشان اور اُداس تھیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کی پیدائش تک کلینسی ایک بہت خیال رکھنے والی ماں تھیں۔

کلینسی کی والدہ پاؤلا مسگرو نے کہا کہ اُن کی بیٹی نے ہلاکتوں سے تقریباً ایک ماہ قبل انھیں اور اپنے سابق شوہر کو بتایا تھا کہ اسے بچوں کو نقصان پہنچانے کے خیالات آ رہے ہیں۔

اُن کے مطابق کلینسی وسوسوں کا شکار ہو رہی تھیں اور یہ خیال ظاہر کرتی تھیں کہ ادویات ’اُن کے دماغ کو تباہ کر رہی ہیں۔‘

کلینسی کی بہن ایلیسن اوزگا نے عدالت کو بتایا کہ بچوں کو قتل کرنے سے ایک ماہ پہلے سے اُن کی بہن ہر روز خودکشی کرنے کا سوچتی تھیں۔

ماہرین اور وکلا میں کلینسی کے علاج پر اختلاف

دفاع اور استغاثہ دونوں جانب سے 10 سے زیادہ ماہر گواہوں نے بیان دیا، جن میں سے بعض نے کلینسی کی ذہنی صحت کے حوالے سے وکلا کے ساتھ اختلاف کیا۔

علاج کے دوران کلینسی کو ایک درجن سے زیادہ ادویات دی گئیں اور انھوں نے خودکشی کی ہیلپ لائن اور ایمرجنسی روم سے بھی مدد حاصل کی۔

کلینسی کی قانونی ٹیم نے جیوری کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ بعد از زچگی نفسیاتی عارضے (پوسٹ پارٹم سائیکوسس) میں مبتلا تھیں۔

کلینسی کا دعویٰ ہے کہ انھیں فریبِ نظر اور وہم کا سامنا تھا۔ عدالت میں ایک روز اُس وقت خاصی کشیدگی پیدا ہوئی جب کلینسی کی ماہرِ نفسیات جینیفر ٹفٹس نے استغاثہ کی جانب سے گواہی دیتے ہوئے کہا کہ ملاقاتوں کے دوران کلینسی میں نفسیاتی عارضے کی علامات نہیں تھیں۔

ٹفٹس، جنھوں نے پانچ ماہ کے دوران ایک درجن سے زیادہ مرتبہ کلینسی کا معائنہ کیا تھا، نے کہا: ’اس بات کے کوئی سنگین اشارے نہیں تھے کہ ان کی یا کسی اور کی سلامتی خطرے میں تھی۔‘

تاہم وکلا دفاع نے ٹفٹس کے طبی نوٹس کی طرف اشارہ کیا جن میں لکھا تھا کہ اپنی گفتگو سے کلینسی ’ہیجان تو نہیں البتہ دباؤ کا شکار ضرور دکھائی دیتی ہیں۔‘تیز تیز اور بد حواسی سے بولنا دیوانگی کی علامت ہو سکتا ہے۔

ٹفٹس نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مطلب یہ نہیں تھا کہ کلینسی میں ایسی علامات موجود تھیں۔

جب وکیلِ دفاع کیون ریڈنگٹن نے مزید سوالات کیے تو انھوں نے جواب دیا: ’مجھے پروا نہیں کہ اس میں کیا لکھا ہے، میں جانتی ہوں میرا مطلب کیا تھا۔‘

ریڈنگٹن کی استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے ایک اور ماہر، ماہرِ نفسیات ایورم میک، سے بھی تکرار ہوئی جب انھوں نے بار بار پوچھا کہ آیا پوسٹ پارٹم سائیکوسس کو باضابطہ طور پر ایک مرض قرار دیا جاتا ہے یا نہیں۔

میک نے یہ ماننے سے گریز کیا کہ پوسٹ پارٹم سائیکوسس باضابطہ طور پر تسلیم شدہ بیماری بیماری ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکن سائیکائٹرک ایسوسی ایشن اسے صرف ایک مجوزہ بیماری تصور کرتی ہے۔

استغاثہ کا مؤقف

استغاثہ کا مؤقف ہے کہ کلینسی نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بچوں کو جان بوجھ کر قتل کیا اور قانونی معیار کے مطابق وہ ذہنی عدم توازن کی تعریف پر پورا نہیں اترتیں۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ 36 سالہ ماں نے جب اپنے بچوں کو قتل کیا تو وہ اپنی حرکات کے نتائج سے پوری طرح آگاہ تھیں، ان کے اقدامات سوچے سمجھے اور دانستہ تھے۔

استغاثہ کی وکیل جینیفر سپریگ کا کہنا ہے کہ قتل کے وقت کلینسی درست اور غلط میں فرق کرنے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔ استغاثہ نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ 2023 میں پیش آنے والے واقعے کی زمانی ترتیب سے ظاہر ہوتا ہے کہ کلینسی نے اپنے شوہر کے گھر سے نکلتے ہی بچوں کو قتل کرنا شروع کیا، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ ایک منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا اقدام تھا۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US