اتوار کے روز کھیل کے دوران سعود شکیل کی 97 رنز کی اننگز کو دیکھ کر لگتا تھا کہ پاکستان کی شکست ٹل سکتی ہے تاہم انگلینڈ نے مہمان ٹیم کو 194 رنز پر آل آؤٹ کر کے میچ اپنے نام کر لیا۔

انگلینڈ نے لارڈز میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ کے چوتھے روز پاکستان کو 194 رنز سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز میں 2-0 کی فیصلہ کن برتری حاصل کر لی ہے۔
اتوار کے روز کھیل کے دوران سعود شکیل کی 97 رنز کی اننگز کو دیکھ کر لگتا تھا کہ پاکستان کی شکست ٹل سکتی ہے تاہم انگلینڈ نے مہمان ٹیم کو 194 رنز پر آل آؤٹ کر کے میچ اپنے نام کر لیا۔
پاکستان کو جیت کے لیے 389 رنز کا ہدف ملا تھا جو لارڈز میں کسی بھی کامیاب رن چیس کے لیے ریکارڈ ہدف ہوتا۔ تاہم سیریز میں پاکستان کی پچھلی بہترین اننگز 171 رنز رہی تھی جس کے باعث میچ کو پانچویں روز تک لے جانا زیادہ حقیقت پسندانہ ہدف دکھائی دے رہا تھا۔
تاہم جب رابنسن نے اپنے تیسرے اوور میں دو وکٹیں حاصل کر کے پاکستان کا سکور 14-3 کر دیا تو واضح ہو گیا کہ یہ ٹیسٹ چار دن کے اندر مکمل ہو جائے گااور اگر بارش اور خراب موسم کے باعث ضائع ہونے والے وقت کو مدنظر رکھا جائے تو یہ مقابلہ تین دن سے بھی کم میں اختتام کو پہنچا۔
رابنسن نے اتوار کو 24 رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں جبکہ میچ میں ان کا مجموعی سکورار 35 رنز کے عوض آٹھ وکٹیں رہا۔
بابر اعظملارڈز کرکٹ گراؤنڈ میںٹیسٹ میچ کے چوتھے روز آؤٹ ہونے کے بعد میدان سے باہر جاتے ہوئے پاکستانی بلے باز سعود شکیل نے 97 رنز بنائے، تاہم رابنسن نےمسلسل اوورز میں شان مسعود اور محمد رضوان کی وکٹیں حاصل کر کے پاکستان کی امیدیں مزید کمزور کر دیں۔
جب شکیل جوش ٹنگ کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے تو انگلینڈ کی فتح تقریباً یقینی ہو گئی اور پاکستان کی پوری ٹیم 194 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔
اس فتح کے ساتھ جو روٹ نے کپتان کے طور پر اپنی دوسری مدت کے ابتدائی دونوں ٹیسٹ جیت لیے ہیں۔
انگلینڈ نے ایک میچ باقی رہتے ہوئے سیریز اپنے نام کر لی ہے اور یہ اس کی 2024 کے بعد پہلی ٹیسٹ سیریز فتح بھی ہے۔
سیریز کا تیسرا اور آخری ٹیسٹ نوستمبر بروز بدھ ایجبسٹن میں شروع ہو گا۔
’ایک بار پھر وہی کہانی، وہی غلطیاں اور وہی مایوس کن نتیجہ‘
پاکستان کی شکست کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر پاکستانی ٹیم کی کارکردگی پر بحث چھڑ گئی اور کرکٹ فینز نے ٹیم کی کاکردگی کو آڑہ ہاتھوں لیا۔
ایکس پر عروج نامی صارف نے لکھا کہ ’پاکستان کی شرمناک شکست کا سلسلہ جاری۔۔۔ پاکستانی ٹیم ایک بار پھر انگلینڈ کی کنڈیشنز میں بری طرح ناکام رہی، نہ بیٹنگ میں مزاحمت نظر آئی اور نہ ہی بولنگ میں وہ جارحیت دکھائی دی جس کی اس ٹیم سے توقع تھی۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ پاکستان گزشتہ 30 سال سے انگلینڈ کی سرزمین پر کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں جیت سکا۔ ایک بار پھر وہی کہانی، وہی غلطیاں اور وہی مایوس کن نتیجہ۔ آخر پاکستان کو انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز جیتنے کے لیے مزید کتنے سال انتظار کرنا ہوگا؟‘
سردار افتخار نامی صارف نے دل جلے انداز میں لکھا،
’نہ بیٹ چلا، نہ بال چلی، نہ میچ بچا—بس شکست نے پھر سلامی دی۔ لگتا ہے پاکستان ٹیسٹ کھیلنے نہیں، انگلینڈ کو پریکٹس کروانے گیا تھا۔‘
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان دوسرے اور تیسرے ٹیسٹ کے درمیان وقفے میں شاہ چارلس پاکستانی ٹیم سے ملاقات کریں گےپاکستانی ٹیم کی شاہ چارلس سے ملاقات شیڈول
اتوار کو بکنگھم پیلس نے تصدیق کی ہے کہ شاہ چارلس اس ہفتے کے آخر میں پاکستانی ٹیم سے ملاقات کریں گے جس کی منصوبہ بندی سیریز شروع ہونے سے قبل کی گئی تھی۔
اطلاعات ہیں کہ شاہ چارلس پاکستانی ٹیم کے ساتھ تقریباً 15 منٹ گزاریں گے۔
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان جاری لارڈز ٹیسٹ کے دوران عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو نشر کرنے پر تنازع ہوا تھا اور اس پر پاکستانی ٹیم نے دورۂ انگلینڈ منسوخ کرنے کی بھی دھمکی دی تھی۔ مگر اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستانی ٹیم برطانیہ کے شاہ چارلس سے ملاقات کرے گی۔
سیریز کے دوسرے ٹیسٹ کے پہلے دن لنچ کے دوران سکائی سپورٹس نے سابق پاکستانی کپتان اور وزیر اعظم عمران خان کے بیٹوں سلیمان اور قاسم خان کا انٹرویو نشر کیا تھا۔
عمران خان گذشتہ تین برس سے بدعنوانی کے الزامات میں قید ہیں۔ وہ اپنے اوپر عائد کردہ الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے انٹرویو نشر ہونے سے قبل لارڈز ٹیسٹ جاری نہ رکھنے اور تین میچوں کی سیریز کے باقی مقابلے بھی منسوخ کرنے کی دھمکی دی تھی۔
اس معاملے پر انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے برطانیہ میں خارجہ، دولتِ مشترکہ و ترقیاتی امور سے متعلق دفتر سے بھی مشورہ مانگا تھا۔
اتوار کو بکنگھم پیلس نے تصدیق کی ہے کہ شاہ چارلس اس ہفتے کے آخر میں پاکستانی ٹیم سے ملاقات کریں گے جس کی منصوبہ بندی سیریز شروع ہونے سے قبل کی گئی تھی۔
ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شاہ چارلس ’دولتِ مشترکہ کے سربراہ کی حیثیت سے پاکستان کی مردوں کی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کا کلیرنس ہاؤس کے باغات میں استقبال کریں گے۔ یہ ملاقات موسمِ گرما میں انگلینڈ میں کھیلے جانے والے دوسرے اور تیسرے ٹیسٹ میچ کے درمیان وقفے میں ہو گی۔‘
73 سالہ عمران خان نے پاکستان کے لیے 21 برس طویل بین الاقوامی کیریئر گزارا اور 1992 میں اپنی ٹیم کو ورلڈ کپ جتوایا تھا۔
وہ 2018 سے 2022 تک پاکستان کے وزیر اعظم رہے اور ایک سال بعد انھیں قید کر دیا گیا تھا۔
شاہ چارلس 2013 میں کلیرنس ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران عمران خان سے ملاقات کر رہے ہیںعلیمہ خان کی شاہ چارلس سے اپیل
دسمبر 2025 کے دوران عمران خان کی بہن نے دولتِ مشترکہ کے سربراہ کی حیثیت سے شاہ چارلس سے اپیل کی تھی کہ وہ اس صورت حال پر آواز اٹھائیں۔
دی ٹائمز کے مطابق علیمہ خان نے کہا تھا کہ ’پاکستان دولتِ مشترکہ کی رکن ریاست ہے۔
’اس کے منشور کے بنیادی اصول قانون کی حکمرانی، جمہوریت اور انسانی حقوق ہیں۔ ایک رکن ملک تینوں بنیادی اصولوں کو تباہ کرنے میں مصروف ہے۔‘
علیمہ نے سوال کیا تھا کہ ’کیا رکن ممالک، خاص طور پر جہاں شاہ چارلس دولتِ مشترکہ تنظیم کے سربراہ ہیں، فسطائیت یا فوجی آمریت کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے؟ پھر ایسی تنظیموں کا مقصد کیا ہے؟‘
پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی موجودہ پاکستانی حکومت میں وزیر داخلہ بھی ہیں۔
بی بی سی نے پی سی بی سے اس حوالے سے موقف طلب کیا ہے کہ آیا محسن نقوی شاہ چارلس کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں موجود ہوں گے یا نہیں۔
عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو نشر ہونے سے قبل سکائی سپورٹس کو ایک شکایت موصول ہوئی تھی۔ تاہم اس نے سابق انگلش کپتان مائیکل ایتھرٹن کی سلیمان اور قاسم کے ساتھ گفتگو کا ایک ورژن نشر کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔
انٹرویو میں سلیمان اور قاسم نے اپنے والد کے ساتھ کیے جانے والے سلوک اور انھیں فراہم کی جانے والی سکیورٹی پر تشویش کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی انھوں نے برطانیہ کی حکومت کے ردعمل پر بھی تنقید کی تھی۔
انٹرویو سے پیدا ہونے والے تنازع کے باوجود دوسرے ٹیسٹ کے پہلے دن لنچ کے بعد پاکستانی ٹیم مقررہ شیڈول کے مطابق میدان میں واپس آئی تھی۔
دوسرے دن کا کھیل ختم ہونے پر پاکستان کے کوچ سرفراز احمد نے کہا کہ انھیں اور ان کی ٹیم کو اس انٹرویو کے بارے میں علم نہیں تھا۔
سرفراز نے کہا کہ ’مجھے کچھ معلوم نہیں۔ میری تمام توجہ صرف میچ پر ہے۔‘
انھوں نے کہا تھا کہ ’آپ انٹرویو کی بات کر رہے ہیں؟ ہمیں اس انٹرویو کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔‘
اکتوبر میں انگلینڈ پاکستان اور سری لنکا کے ساتھ ایک روزہ سہ فریقی سیریز کے لیے پاکستان کا دورہ کرے گا۔
ملک میں سکیورٹی خدشات کے باعث دوروں کے درمیان 17 سال کے وقفے کے بعد گذشتہ چار برس میں یہ انگلینڈ کا پاکستان کا چوتھا دورہ ہو گا۔