انسپکٹر جمشید کے کردار پر بننے والی فلم کے ٹریلر کی دھوم کیوں؟

پاکستانی فلم 'آئی جے: دی سیکرٹ پارچمنٹ' کے ٹریلر نے سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کر لی ہے۔ معروف مصنف اشتیاق احمد کے مقبول کردار انسپکٹر جمشید کو پہلی بار بڑی سکرین پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اشتیاق احمد کی جاسوسی کہانی پر مبنی اس فلم کو انگریزی زبان میں ریلیز کیا جائے گا، تاہم پاکستان میں اس کا اردو ڈب شدہ ورژن بھی پیش کیا جائے گا۔

ایک تیز رفتار گاڑی سڑک پر دوڑ رہی ہے۔ اس کا تعاقب نہ صرف ایک اور تیز رفتار کار کر رہی ہے بلکہ ایک ڈرون بھی فضا میں اسی کے پیچھے ہے۔ اچانک آگے جانے والی گاڑی ایک دوسری گاڑی سے ٹکرا جاتی ہے اور ہوا میں اچھلتی ہوئی دور جا گرتی ہے۔

یہ منظر کسی ہالی وڈ فلم کا نہیں بلکہ پاکستانی فلم ’آئی جے: دی سیکرٹ پارچمنٹ‘کے ٹریلر کا ہے، جس میں پہلی مرتبہ معروف مصنف اشتیاق احمد کے تخلیق کردہ کردار انسپکٹر جمشید کو بڑی سکرین پر پیش کیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر فلم کے پہلے ٹریلر کے بارے میں خاصی گفتگو ہو رہی ہے۔ کچھ لوگ اس کے بین الاقوامی معیار کے ایکشن کی تعریف کر رہے ہیں، جبکہ بعض کے خیال میں اس فلم کی ریلیز اشتیاق احمد کی کہانیوں کے کرداروں کو ایک نئی زندگی دے سکتی ہے۔

تاہم ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو سمجھتا ہے کہ فلم کو انگریزی زبان میں نہیں بنایا جانا چاہیے تھا۔ ان کے نزدیک انسپکٹر جمشید کو اسی زبان میں پیش کیا جانا چاہیے تھا جس میں ان کی کہانیاں لکھی گئیں، یعنی کے اردو میں۔

تیز رفتار گاڑیوں کے تعاقب کے مناظر، جدید آلات، ٹائم بم، خفیہ تنظیمیں، تلوار بازی اور ہینڈ ٹو ہینڈ کومبیٹ ۔۔۔ ٹریلر میں وہ تمام عناصر موجود ہیں جو عموماً مشن امپاسیبل، فاسٹ اینڈ فیوریئس اور ہالی وڈ کی دیگر جاسوسی فلموں میں دکھائے جاتے ہیں۔

فلم کی شوٹنگ دبئی اور ابوظہبی کے مختلف مقامات پر کی گئی ہے۔ ٹریلر میں عمیر رانا، احد رضا میر، فاران طاہر اور آصف رضا میر جیسے اداکار نظر آتے ہیں۔ انوشے عباسی نے فلم میں انسپکٹر جمشید کی اہلیہ کا کردار ادا کیا ہے جبکہ اطلاعات ہیں کہ احمد علی اکبر، عثمان خالد بٹ اور رابعہ بٹ بھی فلم کی کاسٹ میں شامل ہیں۔ فلم آئندہ سال نمائش کے لیے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

انسپکٹر جمشید کون ہیں؟

انسپکٹر جمشید کو سمجھنے کے لیے کتابوں کی دنیا میں واپس جانا پڑے گا۔

مصنف اشتیاق احمد نے 1970 کی دہائی میں یہ کردار اُس وقت تخلیق کیا جب اردو میں بچوں کے لیے ادب تو موجود تھا، لیکن جاسوسی کہانیاں نسبتاً کم لکھی جاتی تھیں۔ ان کا تخلیق کردہ کردار نہ صرف مقبول ہوا بلکہ نصف صدی گزرنے کے باوجود آج بھی قارئین میں اپنی جگہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔

انسپکٹر جمشید کی سب سے بڑی طاقت بندوق نہیں بلکہ ان کی ذہانت، مشاہدے کی صلاحیت اور تفتیش کی مہارت تھی۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ وہ دیگر جاسوس کرداروں کی طرح اکیلے نہیں تھے بلکہ ان کے تین بچے، محمود، فاروق اور فرزانہ، ان کی تفتیشی مہمات کا مستقل حصہ ہوا کرتے تھے۔

اشتیاق احمد نے اپنے طویل ادبی سفر میں 750 سے زیادہ ناول تحریر کیے، لیکن جو شہرت انھیں انسپکٹر جمشید سے ملی وہ ان کے دیگر مقبول کرداروں، انسپکٹر کامران مرزا اور شوکی برادرز، کو حاصل نہ ہو سکی۔

یہ پہلا موقع نہیں جب اردو ادب کے کسی معروف کردار کو بڑی سکرین پر لانے کی کوشش کی گئی ہو۔ تاہم حالیہ برسوں میں ایسی کئی کوششوں کو دیکھنے والوں کی پذیرائی نہیں مل سکی۔ مثال کے طور پر دو سال قبل ریلیز ہونے والی فلم ’عمرو عیار‘ باکس آفس پر خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکی۔

1970 کی دہائی میں ابنِ صفی کے جاسوسی کرداروں پر مبنی فلم ’دھماکہ‘ بھی بنائی گئی تھی، لیکن شبنم، جاوید شیخ اور رحمان جیسے اداکاروں کی موجودگی کے باوجود اسے بھی سنیما بینوں کی توقعات کے مطابق پذیرائی نہ مل سکی۔

اسی لیے جہاں انسپکٹر جمشید کو سنیما تک لانا ایک چیلنج تھا، وہیں اسے کامیاب بنانا اس سے بھی بڑا امتحان تصور کیا جا رہا ہے، کیونکہ ہر قاری کے ذہن میں اس کردار کی اپنی ایک جداگانہ تصویر موجود ہے۔

ایک مختلف کوشش کیوں؟

اردو ادب کے مقبول کرداروں کو بڑی سکرین پر پیش کرنے کی کوششیں نئی نہیں، تاہم ’آئی جے: دی سیکرٹ پارچمنٹ‘ کا پروڈکشن معیار نمایاں دکھائی دیتا ہے۔

فلم کی پروڈکشن ٹیم میں 13 مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں جبکہ اس کی شوٹنگ 104 دنوں میں مکمل کی گئی۔

ٹریلر سے اندازہ ہوتا ہے کہ فلم سازوں نے انسپکٹر جمشید کو محض ایک پاکستانی کردار کے طور پر پیش کرنے کے بجائے ایک عالمی جاسوسی فلم کے ہیرو کے طور پر متعارف کرانے کی کوشش کی ہے۔ یہ حکمتِ عملی ایک خطرہ بھی ہے اور ایک موقع بھی۔

اگر یہ کوشش کامیاب ہوئی تو انسپکٹر جمشید کا کردار پہلی مرتبہ پاکستان سے باہر وسیع ناظرین تک پہنچ سکتا ہے۔ تاہم اگر یہ تجربہ ناکام ہوا تو خدشہ ہے کہ کردار کی اصل کشش بڑے ایکشن مناظر کے نیچے دب جائے۔

فلم کا سکرین پلے ایرک برگ نے تحریر کیا ہے جبکہ عاطف صدیق شریک مصنف ہیں۔ فلم کی ہدایت فہد نور نے دی ہیں۔ ٹریلر میں نظر آنے والے ایکشن مناظر کے لیے بین الاقوامی ماہرین کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔

فلم کے مناظر سنیماٹوگرافر مارک رابسن نے عکس بند کیے ہیں جبکہ فائٹ کوریوگرافی جارج کربی نے ترتیب دی ہے، جو اس سے قبل گیم آف تھرونز، دی بیٹ مین اور ڈاکٹر سٹرینج جیسے منصوبوں پر کام کر چکے ہیں۔

انسپکٹر جمشید کا کردار کرنے کی تین مرتبہ پیش کش ہوئی، تب حامی بھری: عمیر رانا

اداکار عمیر رانا کے لیے انسپکٹر جمشید کا کردار ادا کرنا صرف ایک فلم میں کام کرنے تک محدود نہیں، بلکہ ایک ایسے کردار کو سکرین پر پیش کرنے کی ذمہ داری ہے جو پاکستان کی کئی نسلوں کے بچپن کا حصہ رہا ہے۔

بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ انسپکٹر جمشید کا کردار کرنے کی انھیں تین مرتبہ پیش کش کی گئی تھی، تب جا کر انھوں نے قبول کی۔

ان کے مطابق اس فلم کا تصور کووڈ سے پہلے سامنے آیا تھا، تاہم اس کی شوٹنگ کووڈ کے بعد متحدہ عرب امارات میں ہوئی۔ اتفاق سے یہی وہ جگہ تھی جہاں ان کی پرورش ہوئی اور جہاں انھوں نے خود انسپکٹر جمشید کی کہانیاں پڑھیں۔

انھوں نے کہا: ’میرے لیے انسپکٹر جمشید اس لیے خاص ہے کہ یہ ایسا کردار ہے جو کئی نسلوں سے لوگوں کے تخیل کا حصہ رہا ہے۔ مجھے ایک ایسا کردار ادا کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی جسے لوگ پہلے سے جانتے اور پسند کرتے تھے اور انھوں نے اپنے تصور میں اس کردار کی ایک شبیہ بھی قائم کر رکھی تھی۔‘

عمیر رانا کے مطابق ایسے کردار کو ادا کرنا چیلنج بھی ہوتا ہے اور غیر معمولی موقع بھی، کیونکہ اداکار کو لوگوں کے ذہنوں میں موجود ایک تصور کو حقیقت کا روپ دینا پڑتا ہے۔

وہ اس منصوبے کو عملی شکل دینے کا کریڈٹ ایگزیکٹو پروڈیوسر محمد عدنان بٹ اور ہدایت کار فہد نور کو دیتے ہیں۔

ہیرو پہلے ہمارا تھا، لیکن سب کے لیے تھا: پروڈیوسر

فلم کے ایگزیکٹو پروڈیوسر محمد عدنان بٹ کے مطابق انسپکٹر جمشید صرف ایک کردار نہیں بلکہ لاکھوں قارئین کی یادوں کا حصہ ہیں، جو برسوں تک ان کے کارنامے پڑھتے رہے ہیں۔

بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا: ’ہم انسپکٹر جمشید کو کسی عجائب گھر میں رکھی ہوئی پرانی یادگار کی طرح پیش نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ہماری کوشش یہ تھی کہ ایسی مہم جوئی تخلیق کی جائے جس میں پرانے قارئین کے لیے بھی تجسس ہو اور نئے ناظرین کے لیے بھی دلچسپی کا باعث بنے۔‘

ان کے مطابق ’آئی جے: دی سیکرٹ پارچمنٹ‘ صرف ایک جاسوسی کہانی نہیں بلکہ یادوں، تعلق اور ماضی کے دوبارہ زندہ ہو جانے کی داستان بھی ہے۔

فلم کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ اس کی زبان بھی ہے۔ اسے عالمی ناظرین کے لیے انگریزی زبان میں ریلیز کیا جائے گا جبکہ پاکستان میں اس کا اردو ڈب شدہ ورژن بھی پیش کیا جائے گا۔

یہ فیصلہ ایک طرف انسپکٹر جمشید کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کی کوشش ہے، لیکن دوسری طرف یہ سوال بھی پیدا کرتا ہے کہ کیا اردو میں جنم لینے والا یہ کردار انگریزی زبان میں بھی وہی جمشید محسوس ہوگا جسے کئی نسلوں نے کتابوں پڑھا اور اپنے تخیل میں دیکھا؟

سوشل میڈیا پر کیا کہا جا رہا ہے؟

ٹریلر ریلیز ہوتے ہی سوشل میڈیا پر اس کے بارے میں گفتگو شروع ہو گئی۔ اشتیاق احمد، انسپکٹر جمشید اور دی سیکرٹ پارچمنٹ جیسے الفاظ ٹرینڈ کرنے لگے جبکہ ہیش ٹیگ ’ایکشن کمز ہوم‘ بھی پاکستان میں توجہ حاصل کرتا رہا۔

فلم کے ٹریلر کو شوبز شخصیات کی جانب سے بھی پزیرائی ملی۔ ایک طرف دی لیجنڈ آف مولا جٹ کے ہدایت کار بلال لاشاری نے اس کی تعریف کی، تو دوسری جانب ماہرہ خان، ثروت گیلانی، یاسر حسین، علی رحمان خان اور مایا علی سمیت کئی فنکاروں نے فلم اور اس کی ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

تاہم سب سے نمایاں ردِعمل ان لوگوں کی جانب سے آیا جو بچپن میں اشتیاق احمد کی کتابیں پڑھتے رہے ہیں۔ ان کے لیے اپنے پسندیدہ کرداروں کو پہلی مرتبہ بڑی سکرین پر دیکھنا بذاتِ خود ایک جذباتی تجربہ ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ردِعمل میں ایک جانب پرانی یادیں ہیں اور دوسری جانب تجسس۔

لوگ یہ دیکھنے کے منتظر ہیں کہ وہ انسپکٹر جمشید، جنھیں انھوں نے برسوں کتابوں اور اپنے تخیل میں دیکھا، بڑی سکرین پر کیسے نظر آئیں گے۔ شاید یہی اس ٹریلر کی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ اس نے ایک ہی وقت میں پرانی یادوں کو تازہ کیا ہے اور نئی توقعات کو جنم دیا ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US