سی سی ٹی وی فوٹیج میں اس واقعے کا وقت 10:59:53 درج ہے۔ جلد ہی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئی۔ لیکن اس کے بعد کیا ہوا؟
یہ ویڈیو محض چند سیکنڈ پر مشتمل ہے۔
نیپال اور تبت کی سرحد پر چین کی جانب واقع گی رونگ میں عمارتوں کے پیچھے سے ایک سیاہ رنگ کی دیوار جیسی ابھرتی دکھائی دیتی ہے۔ شروع میں یہ کسی سیاہ بادل جیسی لگتی ہے، لیکن پھر اس کی شکل واضح ہوتی ہے اور رفتار بڑھنے لگتی ہے: پانی، کیچڑ، بڑے بڑے پتھر، برف اور چٹانیں تیزی سے بہ کر وادی میں نیچےکی طرفآتی نظر آتی ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں اس واقعے کا وقت 10:59:53 درج ہے۔ جلد ہی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل جاتی ہے۔
بہت سے لوگوں کو اس ویڈیو سے نیپال اور تبت کے بارڈر پر آنے والی تباہی کے حقیقی اور وسیع پیمانے کا اندازہ ہوا۔
اس کے بعد کے چند منٹوں میں کیا ہوا، اس کی مکمل تفصیلات اب بھی واضح نہیں ہیں۔ تاہم ویڈیوز کے ٹکڑوں اور سیٹلائٹ تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ سرحدی کمپلیکس کا بڑا حصہ سیلابی ریلے میں بہہ گیا، جبکہ وادی کے نشیبی حصے میں موجود کئی عمارتیں مکمل طور پر غائب ہو گئیں۔
نیپال کے راسوواگاڑھی سرحدی چوکی کے الیکٹرانک امیگریشن ریکارڈ سے اس واقعے کے بعض پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد مل رہی ہے جبکہ وہاں کے واحد زندہ بچ جانے والے اہلکارسے حاصل ہونے والی معلومات بھی اہم ہیں۔ ٹیکا رام پوکھاریل نے بی بی سی کو بتایا کہ جس روز سیلابی پانی سرحدی گزرگاہ تک پہنچا، وہ اتفاقاً کٹھمنڈو میں ایک امتحان دے رہے تھے۔ ان کے مطابق اس وقت سرحدی گزرگاہ پر غیر معمولی رش تھا۔
کٹھمنڈو میں مقیم ماہرِ آبیات (ہائیدرولوجسٹ) اجے ڈکشت بتاتے ہیں کہ ’یہ کٹھمنڈو اور تبت کے درمیان ایک تاریخی سفری راستہ ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ ارضیاتی اعتبار سے کافی غیر محفوظ ہے۔ اجے ڈکشٹ کے مطابق اس علاقے میں گہری گھاٹیاں اور تیز بہاؤ والے دریا پائے جاتے ہیں۔ ’انتہائی تیز بہاؤ والے یہ دریا بھاری مقدار میں ملبہ اپنے ساتھ لاتے ہیں اور بڑے بڑے پتھروں کو بھی بہا سکتے ہیں۔‘
یہ وہ مقام ہے جہاں سے کوہِ کیلاش جانے والے زائرین، نیپال اور چین کے درمیان سفر کرنے والے تاجر، ٹرک ڈرائیور، کسٹمز اہلکار، سیاح اور سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگ گزرتے ہیں۔
جس روز سیلاب آیا، اس صبح سرحدی گزرگاہ یا اس کے آس پاس ممکنہ طور پر 100 سے زیادہ انڈین شہری موجود تھے۔ انڈیا کی وزارتِ خارجہ کے مطابق نیپال میں کم از کم 275 انڈین شہری اب بھی لاپتا ہیں۔
نیپال کا محکمہ امیگریشن یہ معلوم کرنے کی کوششوں میں لگا ہے کہ تباہی سے پہلے کے آخری گھنٹوں میں راسوواگاڑھی سرحدی گزرگاہ سے کون کون گزرا تھا۔
الیکٹرانک ریکارڈز سے ظاہر ہوتا ہے کہ 89 نیپالی اور غیر ملکی شہری نیپال سے تبت جانے کے لیے امیگریشن کارروائی مکمل کر چکے تھے، جبکہ چار افراد نے نیپال میں اپنی آمد رجسٹر کرائی تھی۔
امیگریشن سسٹم میں آخری اندراج مقامی وقت کے مطابق 08:35:03 پر کیا گیا جو کہ تبت کے وقت کے مطابق 10:52 بنتا ہے۔ یعنی گی رونگ کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں سیلابی ریلہ نظر آنے سے دس منٹ سے بھی کم وقت پہلے۔
سیلاب میں امیگریشن کے چار ملازمین لاپتا ہو گئے تھے۔ ان میں راسوواگاڑھی دفتر کے سربراہ بھی شامل تھے۔ بعد میں ان کی لاش دریا کے بہاؤ کے ساتھ کافی نیچے سے برآمد ہوئی۔ آخری اندراجات ریکارڈ کرنے والی خاتون اہلکار اب بھی لاپتا ہیں۔
اس صبح نیپال سے روانہ ہونے والے غیر ملکی شہریوں میں 32 انڈین، 12 چینی اور نو امریکی شہری شامل تھے، جبکہ برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور اٹلی کے شہری بھی ان میں شامل تھے۔
راسوواگاڑھی میں تعینات اور زندہ بچ جانے والے سینیئر امیگریشن اسسٹنٹ ٹیکا رام پوکھاریل کا کہنا ہے کہ الیکٹرانک ریکارڈز اس صبح سرحد پر ہونے والی سرگرمیوں کی صرف جزوی تصویر پیش کرتے ہیں۔
ان کے مطابق امیگریشن دفتر گھاٹے کھولا بازار میں واقع تھا، جو تیمورے کے شمال میں تقریباً 1.5 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک چھوٹی تجارتی بستی ہے۔ وہاں سے تبت کے ساتھ سرحد کی نشاندہی کرنے والے فرینڈشپ برج تک کا فاصلہتقریباً دو کلومیٹر تھا۔ اس راستے پر دکانیں، ہوٹل اور پارکنگ کے مقامات موجود تھے، جہاں مسافر اور گاڑیاں سرحد عبور کرنے سے پہلے جمع ہوتے تھے۔
پوکھاریل کے مطابق نیپالی امیگریشن دفتر صبح آٹھ بجے کھلتا تھا۔ امیگریشن کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد مسافر یا تو سرحد کی جانب روانہ ہو جاتے تھے یا عبور کرنے سے پہلے قریبی علاقے میں انتظار کرتے تھے۔
پوکھاریل کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے اس صبح 08:20 پر اپنے ایک ساتھی سے رابطہ کیا تو انھیں بتایا گیا کہ سرحدی گزرگاہ پر غیر معمولی رش تھا۔ ان کے مطابق اس وقت تقریباً 300 سے 400 افراد نیپال سے تبت جانے کے منتظر تھے، جبکہ چین کی جانب سے آنے والے دیگر مسافر بھی علاقے میں موجود تھے۔
پوکھاریل نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جن لوگوں نے اس صبح نیپال میں امیگریشن کی کارروائی مکمل کر لی تھی، میرے خیال میں وہ چین کی جانب اپنی امیگریشن کارروائی مکمل نہیں کر سکے تھے۔‘
ان کے مطابق مسافروں کو نیپالی سرحد کی طرف امیگریشن کلیئر ہونے کے بعد پل تک پیدل پہنچنے میں 15 سے 20 منٹ لگتے تھے۔
گذشتہ روز دوپہر کے بعد پہنچنے والے بعض مسافروں کو کبھی کبھی سرحد دوبارہ کھلنے تک اگلی صبح انتظار کرنا پڑتا ہے، جبکہ گروپوں یا بسوں میں سفر کرنے والے افراد اکثر اس وقت تک رکے رہتے ہیں جب تک ان کے تمام ساتھیوں کا امیگریشن کا عمل مکمل نہ ہو جائے اور پھر سب ایک ساتھ آگے بڑھیں۔
اسی وجہ سے یہ تعین کرنا مشکل ہے کہ سیلاب کے وقت ریکارڈ میں موجود وہ 89 افراد کہاں موجود تھے۔
نیپال کے مرکزِ برائے آبیات اور آبی وسائل کی جانب سے اس روز پیش آنے والے واقعات کی تیار کردہ ترتیب کے مطابق، 08:37 پر زلزلہ پیما آلات نے سرحد کے اوپر واقع پہاڑوں میں حرکت ریکارڈ کی۔ اس سے دو منٹ سے بھی کم وقت قبل امیگریشن نظام میں آخری اندراج کیا گیا تھا۔
بعد ازاں محققین نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ اشارہ برفانی تودے (گلیشیئر) کے ایک حصے کے منہدم ہونے سے پیدا ہوا تھا، جس نے سیلاب کو جنم دیا۔
چین کا کہنا ہے کہ مٹی اور ملبے کے اس ریلے کو اپنے نقطۂ آغاز سے سرحدی گزرگاہ تک پہنچنے میں تقریباً سات منٹ لگے۔
سینیئر امیگریشن اسسٹنٹ ٹیکا رام پوکھاریل سیلاب سے بچ جانے والے راسوواگاڑھی امیگریشن دفتر کے واحد اہلکار ہیں۔ سیلاب کے وقت وہ ایک امتحان دینے کے لیے کٹھمنڈو میں موجود تھے۔عین ممکن ہے کہ جب سیلاب آیا تو یہ تمام لوگ سرحدی پل کی جانب جا رہے ہوں، گھاٹے کھولا میں انتظار کر رہے ہوں یا چینی امیگریشن مرکز کی طرف جانے کی تیاری کر رہے ہوں۔ تاہم سیلاب آنے کے وقت ہر شخص کہاں موجود تھا، اس بارے میں ابھی تک واضح معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
اور گھاٹے کھولا محض انتظار کرنے کی جگہ نہیں تھی۔ پوکھاریل کے مطابق وہاں 50 سے 60 مکانات موجود تھے، جبکہ ہوٹل، مقامی کاروبار اور پن بجلی کے منصوبوں کے چار دفاتر بھی قائم تھے۔
یہ کٹھمنڈو سے آنے والی بسوں کا آخری سٹاپ بھی تھا، اور ڈرائیوروں، معاون عملے، ٹورسٹ گائِڈز اور کسٹمز کلیئرنس کے منتظر کارگو ورکرز کے لیے ایک اہم مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔ تبت جانے والے مسافر اکثر ایک روز پہلے ہی وہاں قطار میں انتظار شروع کر دیتے تھے۔
پوکھاریل کہتے ہیں کہ ’میرے 40 سے 50 قریبی دوست لاپتا ہیں۔‘
پوکھاریل کا خیال ہے کہ سایلاب سے ہونے والے جانی نقصان کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ ان کے اندازے کے مطابق 2,000 سے 2,500 افراد اس سیلاب کی زد میں آئے ہوں گے۔ تاہم یہ صرف ان کا ذاتی اندازہ ہے اور اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
جب سیلاب آیا اس وقت سرحدی گزرگاہ پر ممکن ہے کہ 100 سے زیادہ انڈین شہری موجود ہوں۔ پوکھاریل کے مطابق امیگریشن دفتردریا سے تقریباً 100 میٹر اونچائی پر واقع تھا۔ تاہم سیلاب کے دوران پانی کا ریلہ اس سے بھی کہیں زیادہ بلندی تک پہنچتا دکھائی دیا۔ ابتدا میں انھیں امید تھی کہ ان کے لاپتا ساتھی شاید کئی کلومیٹر دور واقع چراگاہوں کی طرف نکل جانے میں کامیاب ہو گئے ہوں گے۔
سرحد پر موجود بعض انڈین زائرین کے لیے وہ دن بھی کسی معمول کی صبح کی طرح شروع ہوا۔ وہ چین کے امیگریشن دفتر کے کھلنے کا انتظار کر رہے تھے اور اپنے اہلِ خانہ کو ویڈیو کالز اور سوشل میڈیا ریلز کے ذریعے پہاڑوں کے مناظر دکھا رہے تھے۔
سدپتو بھٹاچاریہ کو اپنی اہلیہ سبھاشری چکرورتی کے پیغامات موصول ہو رہے تھے جو 60 سے زائد افراد پر مشتمل ایک گروپ کے ساتھ سفر کر رہی تھیں۔ نیپال کے وقت کے مطابق سات بج کر 57 منٹ پر انھوں نے اپنے پاسپورٹ پر لگے روانگی کے مہر کی تصویر بھیجی اور بتایا کہ نیپالی امیگریشن کی کارروائی مکمل ہو چکی ہے۔
چھ منٹ بعد آٹھ بج کر تین منٹ پر انھوں نے ایک اور پیغام بھیجا کہ ’ہم چین میں داخل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔‘ اس کے بعد ان کا کوئی پیغام نہیں آیا۔
چینی امیگریشن مرکز میں موجود افراد میں ایشا فاؤنڈیشن سے وابستہ 77 زائرین کا ایک گروپ بھی شامل تھا، جو کوہِ کیلاش کی زیارت سے واپس آ رہا تھا۔ سیلاب کے ریلے کے علاقے سے گزرنے کے بعد یہ زائرین اور ان کے ساتھ موجود عملے کے تین ارکان لاپتا ہو گئے تھے۔
28 اگست کو جب 21 رکنی چینی امدادی ٹیم بالآخر گی رونگ پہنچی تو ایک امدادی کارکن نے چینی سرکاری میڈیا کو بتایا کہ ’جہاں تک نظر جاتی، وہاں ملبے کے سوا کچھ نہیں تھا۔‘
یہ سرحدی گزرگاہ حال ہی میں ایک اور بڑے سیلاب کا شکار ہوئی تھی۔ جولائی 2025 میں آنے والے سیلاب کے باعث راسوواگاڑھی تقریباً چھ ماہ تک بند رہی تھی۔ چین کی جانب سے ایک عارضی پل تعمیر کیے جانے کے بعد اسے یکم جنوری کو دوبارہ کھولا گیا تھا۔
اس کے بعد سرحدی آمدورفت بحال ہو گئی تھی۔ چینی سرحدی حکام کے مطابق جون تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد گی رونگ کے راستے سفر کر چکے تھے، جبکہ نیپالی امیگریشن ریکارڈز کے مطابق جولائی کے وسط تک کے ایک سال میں راسوواگاڑھی پر 53,742 آمد و رفتیں ریکارڈ کی گئی تھیں۔ تاہم دونوں اعداد و شمار مختلف مدتوں اور مختلف طریقۂ شمار پر مبنی ہیں، اس لیے ان کا براہِ راست موازنہ کرنا مشکل ہے۔
نیپالی امیگریشن چوکی پر سب سے بڑی تعداد انڈین شہریوں کی تھی اور پھر نیپالی اور چینی شہریوں کی۔
گی رونگ نیپال اور چین کے درمیان رابطے کی ایک اہم تجارتی گزرگاہ بھی بن چکا تھا۔
کٹھمنڈو میں قائم ادارے ساؤتھ ایشیا واچ آن ٹریڈ، اکنامکس اینڈ انوائرمنٹ کے اعزازی چیئرمین پوش راج پانڈے کے مطابق راسوواگاڑھی، تاتوپانی کے ساتھ، چین کے ساتھ نیپال کی دو بڑی تجارتی گزرگاہوں میں شامل ہے اور یہ شمالی ہمسایہ ملک کے ساتھ نیپال کی 2.95 ارب ڈالر مالیت کی تجارت کا تقریباً ایک تہائی حصہ سنبھالتی ہے۔
ہر روز تقریباً 60 سے 70 ٹرک اس گھاٹی سے گزرتے تھے، جو الیکٹرانکس، مشینری، گاڑیاں، پھل، کپڑے اور دیگر سامان کٹھمنڈو لے جاتے تھے۔ پانڈے کے مطابق چین سے نیپال درآمد ہونے والی تقریباً 80 فیصد الیکٹرک گاڑیاں بھی اسی راستے سے آتی تھیں۔
اس گزرگاہ کی بندش کے بعد نیپال کا انحصار تاتوپانی پر مزید بڑھ گیا ہے۔ تاہم کٹھمنڈو پوسٹ کے مطابق چینی حکام نے نیپال میں لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کے باعث تاتوپانی کی سرحدی گزرگاہ کو بھی عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔
یہ گزرگاہ اس مجوزہ ریلوے منصوبے کے راستے میں بھی واقع ہے جو اس خطے کو کٹھمنڈو سے جوڑنے کے لیے تجویز کی گئی ہے۔ یہ منصوبہ نیپال اور چین کے درمیان ایک بین الہمالیائی ریلوے نیٹ ورک کی ترقی کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔
پانڈے کہتے ہیں کہ ’نیپال کو چین کے ساتھ تجارت کے لیے متبادل راستہ تیار کرنا چاہیے اور اپنی وسیع تر ترقیاتی حکمتِ عملی پر بھی نظرِ ثانی کرنی چاہیے، خصوصاً اس حوالے سے کہ پن بجلی کے بیشتر منصوبے اسی دریائی نظام کے کنارے قائم ہیں۔‘
ان کے بقول ’ہم نے اپنے تمام انڈے ایک ہی ٹوکری میں رکھ دیے ہیں۔ ہمیں ایک متبادل سرحدی بندرگاہ تیار کرنے کی ضرورت ہے۔‘
دوسری جانب، سرحد پار ٹیکا رام پوکھاریل اپنے ان ساتھیوں کے بارے میں سوچ رہے ہیں جو اب لاپتا ہیں۔
گذشتہ سال کے سیلاب نے راسوواگاڑھی کے امیگریشن دفتر کے عملے کو خطرات کے بارے میں بہت حساس بنا دیا تھا۔ پوکھاریل کے مطابق رات کے وقت انھیں بعض اوقات زمین میں ارتعاش محسوس ہوتی تو وہ دریا کا جائزہ لینے کے لیے باہر نکل آتے تھے۔ انھوں نے آپس میں یہ بات بھی کی تھی کہ اگر دوبارہ سیلاب آیا تو پہاڑی کی جانب اونچائی پر بھاگ کر جان بچانے کی کوشش کریں گے۔

نیپال میں زیر زمین سُرنگوں میں پھنسے سینکڑوں افراد کو بچانے کا غیر معمولی آپریشن: ’مجھے 50 فیصد امید ہے کہ وہ زندہ ہیں‘
نیپال میں آفات سے نمٹنے کے سرکاری ادارے کے مطابق تبت، نیپال کے سرحدی علاقے میں آنے والے تباہ کُن سیلاب کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس سیلاب کے بعد 3,900 سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں، جن میں 600 سے زیادہ وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ دریائے تریشولی کے کنارے واقع پن بجلی منصوبوں پر کام کر رہے تھے اور سیلاب کے باعث ان منصوبوں سے منسلک سرنگوں میں کیچڑ بھر جانے کے باعث وہ وہاں پھنس گئے ہیں۔
سرنگوں میں پھنس جانے والے ان 600 کے لگ بھگ ورکرز کی زندگیاں بچانے کے لیے مختلف ممالک کے ماہر انجینیئرز سرنگوں کے اندر ہوا پمپ کر رہے ہیں۔ اگرچہ امدادی ٹیم ایک سرنگ میں داخل ہونے میں کامیاب بھی ہوئی، تاہم وہاں کسی شخص کے نہ ملنے پر یہ ٹیم واپس لوٹ آئی۔
نیپال کے ایک پن بجلی منصوبے پر کام کرنے والے 33 سالہ لاپتہ انجینیئر اورَس بھنڈاری کی اہلیہ انوشیلا بھنڈاری نے بی بی سی نیپالی سے گفتگو میں کہا کہ ’کاش ہم انھیں ڈھونڈ سکیں۔ کاش وہ گھر واپس آ جائیں۔‘
سرنگوں میں موجود افراد کو بچانے کے لیے کی جانے والی امدادی کارروائیوں کی قیادت چین اور نیپال کے فوجی اہلکاروں پر مشتمل ایک بین الاقوامی ٹیم کر رہی ہے، جبکہ انڈیا، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا کے ماہرین بھی اس آپریشن میں شریک ہیں۔
ایک متاثرہ پن بجلی پلانٹ میں کام کرنے والے ایک شخص کی اہلیہ سیتا پانڈے نے نیپالی روزنامہ کانتی پور سے گفتگو میں کہا کہ ’مجھے اب بھی 50 فیصد امید ہے کہ وہ زندہ ہیں، کیونکہ سُرنگ کے اندر آکسیجن کا نظام موجود تھا۔‘
بہت سے افراد اب بھی اپنے لاپتہ پیاروں کے زندہ مل جانے کی اُمید رکھے ہوئے ہیںنیپال اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی حد تک پن بجلی پر انحصار کرتا ہے اور گذشتہ کئی برسوں سے نیپال نے اپنے دریائی نظاموں پر کئی نئے پن بجلی کے منصوبے شروع کیے ہیں جبکہ پرانے پلانٹس کی توسیع کی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق کم از کم 11 ایسے پن بجلی منصوبے، جو مکمل ہو چکے تھے یا زیر تعمیر تھے، سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔
ریسکیو ٹیموں نے ہفتے کے اختتام پر ایک سرنگ میں ہوا پمپ کرنا شروع کی، تاہم پھنسے ہوئے افراد کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پہلے کیا جانا چاہیے تھا۔
پیر کے روز امدادی اہلکار ایک پن بجلی گھر تک جانے والی سرنگ میں داخل ہونے میں کامیاب بھی ہوئے، لیکن واپسی پر انھوں نے بتایا کہ انھیں اندر کوئی شخص نہیں ملا۔
پلانٹ کے اندر پھنسے ایک اور شخص کے رشتہ دار جیون کھڈکا نے ’کانتی پور‘ اخبار سے گفتگو میں کہا کہ ’جتنا زیادہ وقت گزر رہا ہے، ہماری امید اتنی ہی کم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ آپریشن بہت تیزی سے آگے بڑھنا چاہیے کیونکہ ہمارے لیے ہر لمحہ قیمتی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ انتہائی سست رفتار امدادی کارروائی ہے، جو مایوس کُن ہے۔‘
وزیر اعظم بالین شاہ نے کہا کہ امدادی سرگرمیوں میں ’تیزی‘ لائی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ نیپال میں آنے والا سیلاب کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔
انھوں نے پیر کی شب فیس بک پر جاری بیان میں لکھا کہ ’یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمالیائی خطے میں ہمیں درپیش خطرات موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ بڑھتے جا رہے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ ہم عالمی برادری کے سامنے موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں پیش آنے والی آفات کے مسئلے کو بھرپور انداز میں اٹھائیں۔‘
امدادی کارروائیوں سے متعلق خبر کے لیے بے چینی سے منتظر ایک اور خاتون پریا کھاریل ہیں، جن کے بھائی سیلاب کے وقت اپر تریشولی ون منصوبے میں انجینیئر کے طور پر کام کر رہے تھے۔
انھوں نے بی بی سی نیوز نیپالی کو بتایا کہ ’جو لوگ پن بجلی منصوبے سے واپس آئے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ سرنگ کے اندر لوگ موجود تھے۔ اس لیے امید ہے کہ اگر فوج جلد وہاں پہنچ جائے تو انھیں بچایا جا سکتا ہے۔‘

امدادی کارروائیوں میں نیپالی حکام کی معاونت کرنے والے آسٹریلوی انجینیئر آرنلڈ ڈکس نے کہا کہ امدادی ٹیموں کو سرنگوں کا سراغ لگانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
انھوں نے بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام ورلڈ ایٹ ون میں کہا کہ ’اِن سرنگوں کے تمام نشانات ختم ہو چکے ہیں۔ ہر چیز غائب ہے۔‘
ڈکس کے مطابق جب ریسکیو اہلکار بجلی گھروں کا درست مقام معلوم کر لیتے ہیں تو پھر رسائی کا بہترین طریقہ طے کیا جا سکتا ہے، جس میں عموماً کھدائی کرنا اور ’بڑے بڑے پتھروں کو دھماکوں سے توڑنا‘ شامل ہوتا ہے۔
بین الاقوامی ٹنلنگ ایسوسی ایشن کے سابق سربراہ نے کہا کہ ’یہاں ایسے پتھر موجود ہیں جو انتہائی بڑے سائز کے ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں پہلے کبھی ایسا منظر نہیں دیکھا۔ یہ واقعی ایک غیرمعمولی آپریشن ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ انھیں اب بھی زیر زمین پھنسے افراد کے زندہ بچ جانے کی کچھ امید ہے کیونکہ ممکن ہے سرنگوں کے اندر کا ماحول اوپر سے آنے والے شدید سیلاب سے کسی حد تک تحفظ فراہم کر سکا ہو۔