لاہور کے علاقے شادمان میں مبینہ ٹریفک حادثے کے بعد 26 سالہ محمد زین کی موت نے کئی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ نوجوان کے اہلِ خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ حادثہ پیش آنے کی اصل وجہ ڈیوٹی پر موجود ایک ٹریفک وارڈن کی مبینہ کارروائی تھی، جبکہ انہوں نے انصاف اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
اہلِ خانہ کے مطابق محمد زین ایک نجی کمپنی میں الیکٹریشن تھا اور واقعے سے صرف تین ہفتے قبل اس کی منگنی ہوئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ 26 اگست کی شام زین موٹر سائیکل پر شادمان مارکیٹ میں واقع اپنے دفتر جا رہا تھا کہ سینئر ٹریفک وارڈن سلطان الحق نے اسے روکنے کی کوشش کی۔
متوفی کے ورثا کی جانب سے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کو دی گئی درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وارڈن سڑک کے درمیان آیا اور مبینہ طور پر زین کو دھکا دے دیا۔ نوجوان موٹر سائیکل سمیت سڑک پر گھسٹتا ہوا فٹ پاتھ سے جا ٹکرایا، جس کے نتیجے میں اس کے سر پر شدید چوٹیں آئیں۔
زین کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کے دماغ کا آپریشن کیا، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکا۔ والدہ کا الزام ہے کہ خاندان کو لاش کے حصول کے لیے ایسا بیان دینے پر مجبور کیا جا رہا ہے جس میں حادثے کی ذمہ داری زین پر عائد کی جائے۔ ان کے مطابق میت جنرل اسپتال میں موجود ہے۔
اہلِ خانہ نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ واقعے کے بعد متعلقہ وارڈن نے اپنے دفاع میں مقدمہ درج کروا لیا، جبکہ ان کے مطابق موقع کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور عینی شاہدین واقعے کی مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ خاندان نے زین کا سامان، رقم، شناختی کارڈ اور ڈرائیونگ لائسنس بھی واپس کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ورثا نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ سی سی ٹی وی ریکارڈنگ اور گواہوں کے بیانات کی بنیاد پر غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اور اگر اہلکار ذمہ دار ثابت ہو تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
دوسری جانب چیف ٹریفک آفیسر لاہور نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی صدر زون کو انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ واقعے کی اصل حقیقت تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔