میر رضا کیس: تحقیقاتی کمیشن کے سامنے دوستوں کے کردار، پولیس کی کارروائی اور پوسٹ مارٹم پر سوالات

والد نے کمیشن کو بتایا کہ انہیں حیرت ہوئی کہ دوستوں کو اپنے گمشدہ ساتھی کے بجائے مالی معاملات کی زیادہ فکر تھی۔

کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کی پُراسرار موت کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن کے سامنے دیے جانے والے بیانات میں ان کی گمشدگی سے لے کر لاش ملنے، دوستوں کی سرگرمیوں، پولیس کے ردعمل اور پوسٹ مارٹم رپورٹ سے متعلق کئی سوالات زیرِ بحث آئے ہیں۔

اب تک کمیشن کے سامنے میر رضا کے والدین، بہن، وکیل جبران ناصر، پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ اور ایدھی فاؤنڈیشن کے رضاکاروں نے بیانات قلم بند کروائے ہیں۔

ایک موقع پر پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ نے کمیشن کو بتایا کہ ان پر کوئی دباؤ نہیں۔ جبکہ والدین نے دوستوں کے کردار اور پولیس کی کارروائی پر سوالات اٹھائے۔

کمیشن نے سماعت تین ستمبر تک ملتوی کر دی ہے، جبکہ میر رضا کے بزنس پارٹنر احمد اور عبداللہ اور دوستوں حیثم اور رازق کو اگلی سماعت پر طلب کرلیا ہے۔

ان کے علاوہ کمیشن نے ایس ایچ او فیروز آباد عدیل افضال اور ایس ڈی پی او شارع فیصل ارشد آفریدی کو بھی پیش ہونے کے لیے نوٹس جاری کیے ہیں۔

یاد رہے کہ کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا 28 جولائی کو کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس سے لاپتہ ہوئے تھے اور دو روز بعد گلستانِ جوہر کے علاقے سے ان کی لاش ملی تھی۔ بعد میں پوسٹ مارٹم کے طریقہ کار اور ابتدائی رپورٹ پر بھی سوالات اٹھے، جس کے بعد قبر کشائی کر کے دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا۔

سندھ حکومت نے کیس کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔

میر رضا کی گمشدگی اور پولیس پر تاخیر کا الزام

میر رضا کی والدہ نے کمیشن کو بتایا کہ 29 جولائی کی صبح 4 بج کر 14 منٹ پر ان کے بیٹے کے دوست حیثم نے فون کر کے اطلاع دی کہ میر رضا نے اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس ڈیلیٹ کر دیے ہیں۔

خاندان نے گھر کی تلاشی لی تو چابیاں موجود تھیں، لیکن میر رضا گھر پر نہیں تھے۔ والدہ کے مطابق جب بیٹے کی منگیتر سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ میر رضا ان کے پیغامات کا جواب بھی نہیں دے رہے۔

والدہ نے کمیشن کو مزید بتایا کہ کچھ دیر بعد میر رضا کے دوست رزاق گھر پہنچے جبکہ دکان کے مینیجر شیری اور کاظم بھی صبح سویرے خاندان کے پاس آ گئے۔

میر رضا کے والد میر حسین نے بتایا کہ انھوں نے فوری طور پر پولیس ہیلپ لائن 15 پر رابطہ کیا اور مختلف مقامات پر خود بھی تلاش شروع کر دی۔

والد کے مطابق فیروز آباد تھانے نے ابتدائی طور پر مقدمہ درج کرنے سے انکار کیا اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ 'نوجوان ناراض ہو کر گھر سے چلا گیا ہوگا۔'

انھوں نے کمیشن کو بتایا کہ 15 پر اطلاع دینے کے باوجود پولیس کی کوئی موبائل موقع پر نہیں پہنچی۔

Mir Raza's grave
BBC

بعد ازاں خاندان نے خود سی سی ٹی وی فوٹیج اکٹھی کرنا شروع کی۔ والد کے مطابق ایک پڑوسی کے کیمرے میں میر رضا کو صبح 4 بج کر 8 منٹ پر گھر سے نکلتے ہوئے دیکھا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بعد میں ایک اور فوٹیج میں میر رضا کو ایک گاڑی میں سوار ہوتے دیکھا گیا، جو خالد بن ولید روڈ کی جانب جاتی نظر آئی۔

میر رضا کے والد کے مطابق ’اسلام آباد میں موجود اپنے بھائی سے ایس ایچ او کی بات کروائی گئی تو ایس ایچ او نے کہا کہ جائیں ایف آئی آر درج کروائیں، جس کے بعد شام ساڑھے چار بجے ایف آئی آر درج ہوئی۔‘

دوست کمرے میں کیا ڈھونڈ رہے تھے؟

کمیشن کے سامنے والدہ نے بیان دیا کہ گمشدگی کے بعد میر رضا کے بزنس پارٹنر محمد احمد، عبداللہ اور دیگر دوست گھر آئے اور کمرے کی تلاشی لی۔

ان کے مطابق دریافت کرنے پر دوستوں نے کہا کہ ’شاید وہ کسی بس کا ٹکٹ یا ایسی ہی کوئی چیز تلاش کر رہے ہیں، جس سے اس بات کا سراغ مل سکے کہ میر رضا گئے کہاں ہیں۔‘

والدہ نے دعویٰ کیا کہ بعد میں انھیں معلوم ہوا کہ میر رضا کی ’پارٹنرشپ کا معاہدہ کمرے سے غائب ہے۔‘ ان کے مطابق انھوں نے یہ معاہدہ ’پہلے سٹڈی ٹیبل کی دراز میں خود دیکھا تھا۔‘

دوسری جانب مقتول کی بہن علشبہ نے کمیشن کو بتایا کہ بھائی کے دوست ’آئی کلاؤڈ کے ذریعے ان کی لوکیشن تلاش کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔‘

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ گمشدگی کے دوران ’ایک بزنس پارٹنر نے ہفتہ وار ادائیگی کے لیے اکاؤنٹ نمبر مانگا، جس پر انھوں نے جواب دیا کہ میر رضا کے واپس آنے پر ان سے رابطہ کر لیا جائے۔‘

وائٹ آلٹو، سی سی ٹی وی اور مالی معاملات

کمیشن کے سامنے متعدد بار ایک سفید آلٹو گاڑی کا ذکر بھی آیا۔

والدہ نے کہا کہ رات گئے پانچ دوست وائٹ آلٹو میں ان کے گھر پہنچے اور بعد میں کاروباری شراکت داروں نے سی سی ٹی وی فوٹیج دکھائی، جس میں میر رضا کو ایک عمارت میں داخل ہوتے اور سکیورٹی گارڈ کی پستول نکالتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔

ان کے مطابق اسی دوران دوستوں کی جانب سے مبینہ مالی واجبات کا ذکر بھی کیا گیا۔

والد نے کہا کہ انھیں حیرت ہوئی کہ دوستوں کو اپنے گمشدہ ساتھی کے بجائے ’مالی معاملات کی زیادہ فکر تھی۔‘

لاش کیسے ملی؟

خاندان کے مطابق گمشدگی کی اگلی صبح رینٹل کار سروس سے رابطہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ میر رضا کو گلستانِ جوہر بلاک ٹو میں چھوڑا گیا تھا۔

والدہ نے بتایا کہ خاندان اس مقام پر پہنچا، جہاں ان کا ایک کلاؤڈ کچن بھی موجود تھا، وہاں سے انہیں ایک گیسٹ ہاؤس کا پتا ملا۔

ان کے مطابق جب انہوں نے گیسٹ ہاؤس کے اندر موجود افراد کو میر رضا کی تصویر دکھائی تو وہاں موجود لڑکے بھاگنے لگے۔

والدہ نے دعویٰ کیا کہ اسی دوران چند موٹر سائیکل سوار بھی آئے اور بتایا کہ کچھ افراد پچھلی دیوار پھلانگ کر فرار ہوئے ہیں۔

خاندان کے مطابق اسی دوران پولیس موبائل موقع پر پہنچی اور اطلاع دی کہ ایک نوجوان کی لاش ملی ہے۔

والد نے بتایا کہ جب وہ جناح ہسپتال پہنچے تو میر رضا کی لاش ایمبولینس میں موجود تھی۔

والدہ کے مطابق ان کے بیٹے کا چہرہ ’بُری طرح مسخ تھا اور شناخت مشکل ہو گئی تھی۔‘

بعد ازاں تدفین کے دوران خاندان کو محسوس ہوا کہ ’جسم کی بعض ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔‘

پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر کا بیان

کمیشن نے ایدھی فاؤنڈیشن کے رضاکار محسن اور جاوید کے بیانات بھی قلم بند کیے۔

رضاکاروں نے بتایا کہ جب وہ موقع پر پہنچے تو پولیس پہلے سے موجود تھی۔

ان کے مطابق لاش کو سیدھا کرنے پر گولی لگنے کا نشان دکھائی دیا اور چہرہ شدید متاثر تھا۔

رضاکاروں نے کہا کہ انھوں نے پولیس کو گولی کے نشان کے بارے میں آگاہ کیا، تاہم ان کے بقول کوئی پولیس اہلکار اوپر جا کر لاش کا معائنہ کرنے نہیں آیا۔

میر رضا کا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ نے کمیشن کو بتایا کہ انھوں نے کبھی خودکشی کی بات نہیں کی تھی۔ ان کے مطابق 11 اگست کو فائنل رپورٹ جاری کی گئی اور قبر کشائی کے بعد حتمی رپورٹ مرتب کی گئی۔

کمیشن نے سوال کیا کہ اچانک ایسا کیا ہوا کہ رپورٹ تبدیل ہوگئی جبکہ حتمی رپورٹ اور پرانی رپورٹ کی ہینڈ رائٹنگ بھی الگ الگ ہے۔

کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ سے پوچھا کہ کیا دونوں رپورٹس انھوں نے تیار کی تھیں؟ ڈاکٹر اسامہ نے بتایا کہ قبر کشائی کے بعد کیمیکل رپورٹس کی روشنی میں فائنل رپورٹ تیار کی گئی۔

کمیشن نے سوال کیا کہ کیا یہ غلطی ہے، غفلت ہے یا قتل کی سہولت کاری ہے؟ کمیشن نے یہ بھی پوچھا کہ رپورٹ بنانے کا کس نے کہا تھا اور اگر کسی نے کہا ہے تو اس کا نام بتایا جائے۔

ڈاکٹر اسامہ نے جواب دیا کہ ان پر کسی کا دباؤ نہیں تھا۔

کمیشن نے پوچھا کہ خون میں اینستھیٹکس کتنے وقت تک موجود رہ سکتی ہے۔ ڈاکٹر اسامہ کے مطابق یہ آٹھ سے بارہ گھنٹے تک خون میں موجود رہ سکتی ہے۔

Edhi
Getty Images

کمیشن نے سوال کیا کہ اگر ان کے مطابق لاش 24 سے 36 گھنٹے پرانی ہے تو خون میں اینستھیٹکس کیسے ملی؟ ڈاکٹر اسامہ نے بتایا کہ یہ لوکل اینستھیزیا ہے، جسے ڈینٹسٹ وغیرہ استعمال کرتے ہیں۔

کمیشن نے پوچھا کہ اینستھیٹکس میر رضا کے جسم میں کیسے پہنچی اور کیا یہ سپرے کے ذریعے دی جا سکتی ہے۔

ڈاکٹر اسامہ نے بتایا کہ انھوں نے تمام چیزیں ڈاکٹر سمیہ کے ساتھ شیئر کی تھیں، لیکن ڈاکٹر سمیہ نے کچھ نہیں کہا۔ کمیشن نے سوال کیا کہ اگر سب کچھ درست تھا تو ڈاکٹر سمیہ کو خط لکھنے کی کیا ضرورت تھی۔

اس موقع پر کمیشن نے ریمارکس دیے کہ پوسٹ مارٹم سویپر کرتے ہیں اور ڈاکٹر صرف دستخط کرتے ہیں۔

کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ سے یہ بھی پوچھا کہ انھیں وزیراعلیٰ ہاؤس کیوں بلایا گیا تھا؟

ڈاکٹر اسامہ کے مطابق انھیں ’ڈی آئی جی ایسٹ فرخ لنجار نے فون کر کے وہاں بلایا تھا۔ بعد میں ایڈیشنل آئی جی آزاد خان نے بھی رابطہ کیا۔‘

ان کے مطابق وزیراعلیٰ ہاؤس میں موجود افسران نے ان سے ’کیس کی ٹائم لائن طلب کی تھی۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US