وہ واٹس ایپ گروپ جس کے ذریعے انتہا پسندی اور منظم جرائم کی مالی معاونت کی گئی

یورپی نشریاتی اداروں کی جانب سے کی گئی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ایک واٹس ایپ گروپ چیٹ کے ذریعے دنیا بھر میں کروڑوں یورو نقد رقم منتقل کی جاتی رہی، منظم جرائم اور انتہاپسندوں کی مالی معاونت کی جاتی رہی لیکن اس لین دین کا کوئی تحریری ریکارڈ موجود نہیں تھا۔
A composite image showing a stylised rendition of a phone with WhatsApp-style text message bubbles in grey and green, with one displaying currency symbols. On the right-hand side is an image of an IS militant with his face covered with a balaclava and carrying an assault rifle, with an image of war-torn Syria behind him.
BBC
شام میں سرگرم شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ کو بھی گروپ کے ذریعے رقوم منتقل کی جاتی تھیں

یورپی نشریاتی اداروں کی جانب سے کی گئی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ایک واٹس ایپ گروپ چیٹ کے ذریعے دنیا بھر میں کروڑوں یورو نقد رقم منتقل کی جاتی رہی، منظم جرائم اور انتہاپسندوں کی مالی معاونت کی جاتی رہی لیکن اس لین دین کا کوئی تحریری ریکارڈ موجود نہیں۔

532 ارکان پر مشتمل اس گروپ، جس کا نام ’ٹریڈرز آف گریٹر یورپ‘ تھا، کو اپنے کلائنٹس کے لیے سرحد پار نقد رقوم کی منتقلی کا انتظام کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ جن علاقوں میں رقوم منتقل کی گئیں، ان میں برطانیہ کے شہر برمنگھم اور لندن بھی شامل تھے۔

ایک بار برسلز سے کی جانے والی رقوم کی ادائیگیاں شام میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں تک بھی پہنچیں۔

یورپی براڈکاسٹنگ یونین (ای بی یو) کے تحقیقاتی صحافت کے نیٹ ورک، جس میں بی بی سی بھی شامل ہے، نے اس بات کے مزید شواہد بھی حاصل کیے کہ اسی نوعیت کا نقد رقوم کی منتقلی کا نظام انسانی سمگلنگ اور منشیات کی سمگلنگ میں بھی استعمال ہو رہا تھا۔

یہ گروپ چیٹ، جس میں فروری 2022 کے اواخر سے دسمبر 2022 کے درمیان بھیجے گئے 82 ہزار سے زائد پیغامات شامل تھے، سب سے پہلے بیلجیئم کے تفتیشی مجسٹریٹ ونسنٹ گیرا نے دریافت کی تھی۔ تفتیشی مجسٹریٹ وہ جج ہوتا ہے جو مقدمے کی سماعت سے قبل پیچیدہ معاملات میں شواہد کا جائزہ لیتا ہے اور یہ سفارش کرتا ہے کہ آیا مقدمہ آگے بڑھنا چاہیے یا نہیں۔

گیرا نے کہا کہ اس مالی لین دین کا پیمانہ ’حیران کن‘ تھا اور یہ نیٹ ورک ’پوری دنیا‘ پر محیط تھا۔ ان کے بقول یہ معاملہ ابتدا میں دہشت گردی کی مالی معاونت کی تحقیقات کے طور پر شروع ہوا تھا، لیکن بعد میں یہ ’لین دین کے سمندر میں محض ایک قطرہ‘ ثابت ہوا۔

Graphic showing translated group chat messages dated March to May 2022. Messages reference requests for cash amounts and UK locations, including “We need 60,000£ London,” “We need Birmingham, England, 15,150 pounds,” “We have 200,000£ Liverpool,” and “We need 20,000£ London.” Replies from other participants include “Sent,” “Sent Dortmund,” and “It’s available.” Several participant names are redacted with black bars. A note at the bottom states that the text messages were translated from Arabic and that names of group chat members who were not convicted are redacted.
BBC

گروپ کے ارکان ایک دوسرے کو عربی زبان میں پیغامات بھیجتے تھے تاکہ قدیم حوالہ نظام کے ذریعے نقد رقوم کی ادائیگیوں کا انتظام کیا جا سکے۔ حوالہ ایک ایسا نظام ہوتا ہے جس میں قابلِ اعتماد مالی ایجنٹس کا ایک نیٹ ورک کسی بھی الیکٹرانک ریکارڈ یا کرنسی نوٹوں کی منتقلی کے بغیر دنیا بھر میں رقوم کی ترسیل کا بندوبست کر سکتا ہے۔

اس نظام میں مختلف مقامات پر موجود دو مالی ایجنٹس، جنہیں حوالہ دار کہا جاتا ہے، کے درمیان ایک معاہدہ ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک حوالہ دار کو نقد رقم کی ایک مخصوص مقدار ادا کی جاتی ہے، جبکہ دوسرا حوالہ دار کمیشن لینے کے بعد اتنی ہی رقم کسی دوسری جگہ پر موجود کسی شخص کو فراہم کرنے پر رضامند ہوتا ہے۔ دونوں حوالہ دار اس بات پر متفق ہوتے ہیں کہ وہ اپنے تمام لین دین کا حساب کتاب بعد میں آپس میں طے کریں گے۔

حوالہ کے ذریعے رقوم کی منتقلی اکثر جائز مقاصد کے لیے استعمال کی جاتی ہے، مثلاً تارکینِ وطن مزدور اپنے خاندانوں کی مالی مدد کے لیے ایسے ممالک میں رقم بھیجتے ہیں جہاں بینکاری کی سہولیات تک رسائی محدود ہوتی ہے۔

تاہم مجرم بھی حوالہ نظام سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں تاکہ زیادہ تر بین الاقوامی مالی منتقلیوں میں استعمال ہونے والے سوئفٹ نظام سے بچا جا سکے۔ اس نظام میں بینک عموماً معمول کے کاروباری لین دین سے ہٹ کر ہونے والی بڑی رقوم کی منتقلی کی تحقیقات کرتے ہیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع دینا ان کے لیے لازم ہوتا ہے۔

’ٹریڈرز آف گریٹر یورپ‘ نامی واٹس ایپ گروپ کو صرف 5,000 یورو سے زیادہ مالیت کے لین دین کے لیے مخصوص کیا گیا تھا اور ادائیگیاں اکثر اس سے کہیں زیادہ بڑی رقموں پر مشتمل ہوتی تھیں۔ اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ گروپ میں شامل تمام افراد مجرمانہ رقوم کی منتقلی یا لین دین میں ملوث تھے۔

حوالہ کا نظام یورپی یونین کے بیشتر ممالک سمیت کئی ممالک میں غیر قانونی ہے، تاہم برطانیہ میں یہ اس شرط کے ساتھ قانونی ہے کہ مالی ایجنٹس کی رجسٹریشن محکمۂ محصولات و کسٹمز کے ساتھ ہو۔

واٹس ایپ پیغامات کا یہ ذخیرہ ای بی یو نے بیلجیئم میں 2024 کے ایک عدالتی مقدمے کے بعد حاصل کیا، جس میں منی لانڈرنگ میں ملوث چھ افراد کو سزا سنائی گئی تھی۔ ان میں برسلز میں اس نیٹ ورک کے سربراہ ابو آدم اور ان کے نائب ابو احمد بھی شامل تھے۔

بیلجیئم کی پولیس کو شواہد ملے تھے کہ ملزمان نام نہاد دولتِ اسلامیہ کو رقوم بھیج رہے تھے، جن کا مقصد شام میں حراستی کیمپوں میں موجود جنگجوؤں کی بیویوں کو فرار ہونے میں مدد دینا تھا۔ جب پولیس نے ابو آدم کو گرفتار کیا تو ان کے موبائل فون سے ’ٹریڈرز آف گریٹر یورپ‘ کی گروپ چیٹ برآمد ہوئی۔

گویرا نے کہا کہ یہ ایسا تھا جیسے ’جیک پاٹ لگ گیا ہو‘ کیونکہ اس سے ایک وسیع اور خفیہ زیرِ زمین نظام کے اندرونی طریقۂ کار کا پتا چلا۔

فون میں 5 یورو کے نوٹوں کی 6,000 تصاویر بھی موجود تھیں جن میں ان کے سیریل نمبرز دکھائی دے رہے تھے، جبکہ 6,000 تصاویر شناختی کارڈوں کی تھیں۔

گویرا کے مطابق یہ تفصیلات اکثر حوالہ لین دین میں منفرد شناختی کوڈز کے طور پر استعمال کی جاتی ہیں اور نوٹوں اور شناختی کارڈوں کی مجموعی تعداد سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابو آدم کم از کم 12,000 لین دین نمٹا چکے تھے۔

انہوں نے کہا ’یہ محض شوقیہ کام نہیں ہے، یہ پیشہ ورانہ نوعیت کا ہے اور ایسے درجے کا ہے جس کا ہم کبھی تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’یہ ایسے بینکار ہیں جن پر کسی حکومتی ادارے کی نگرانی نہیں ہے۔‘

Vincent Guerra, a man with short brown hair and metal-rimmed glasses, wearing a navy suit and a pale shirt and tie, gestures with both hands towards the camera as he is interviewed in a large room, with rows of benches behind him and a large painting on the far wall.
VRT
ونسنٹ گیرا نے کہا کہ واٹس ایپ گروپ کا سراغ لگ جانا ’جیک پاٹ لگنے‘ کے مترادف تھا

ای بی یو کی تحقیقات میں یہ بھی معلوم ہوا کہ یورپ بھر میں مزید مجرمانہ گروہ غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے حوالہ نظام استعمال کر رہے تھے۔

یورپی حوالہ نیٹ ورکس میں ماضی میں منی لانڈرنگ میں ملوث ایک شخص، جسے ہم ’فرینک‘ کے نام سے پکار رہے ہیں، نے ای بی یو کو بتایا کہ وہ کئی سو ملین یورو مالیت کی مالی منتقلیوں میں شامل رہا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ حوالہ نظام سے ان کا پہلا تعارف روٹرڈیم سے باہر ایک چھوٹے قصبے میں واقع ایک دفتر میں ہوا تھا۔ ان کے مطابق وہاں تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے دوران پانچ یا چھ قاصد رقم لے کر آئے تھے اور ان کے اندازے کے مطابق کم از کم دس لاکھ یورو منتقل کیے گئے تھے۔

انہوں نے کہا ’بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ یہ صرف پیسے کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ دہشت گردی کی مالی معاونت سے بھی متعلق ہے۔ یہ منشیات کی سمگلنگ سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اور اگر نرم الفاظ میں کہوں تو یہ جسم فروشی اور اس طرح کی دوسری بہت سی غیر قانونی سرگرمیوں سے بھی جُڑتا ہے۔‘

آسٹریا میں سامنے آنے والے مقدمات نے یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ حوالہ نظام انسانی سمگلنگ اور تشدد سے بھی جڑا ہوا ہے۔

آسٹریا کا نشریاتی ادارہ او آر ایف بھی اس تحقیقاتی نیٹ ورک کا حصہ تھا۔ اس کی جانب سے بھی ایک مقدمے کی تفتیش اور تحقیقات کا جائزہ لیا گیا اور یہ بات سامنے آئی کہ آسٹریا کی پولیس نے اس مقام پر چھاپہ مارا جسے اس نے ’ویانا کا سب سے بڑا حوالہ دفتر‘ قرار دیا۔ یہ ایک مصروف شاہراہ پر واقع ایک کباب ریسٹورنٹ سے چلایا جا رہا تھا، اور حکام کا کہنا ہے کہ اسے انسانی سمگلنگ کی ادائیگیوں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

اس دفتر کو چلانے والے دو شامی بھائیوں پر انسانی سمگلنگ کے علاوہ ایک قاصد کو تشدد کا نشانہ بنانے اور اس کے ساتھ زیادتی کرنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قاصد نے 350,000 یورو گم ہونے کے بارے میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ اسے لوٹ لیا گیا ہے۔ گذشتہ سال انہیں مجرم قرار دیا گیا اور بالترتیب 18 اور 8 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

آسٹریا کی پولیس اور یوروپول نے حال ہی میں حوالہ نظام کے ذریعے مالی معاونت حاصل کرنے والے ایک اور انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورک کو بھی ختم کیا، جس کے بارے میں حکام کا کہنا تھا کہ اس نے 18 ماہ کے دوران تقریباً 100,000 افراد کو یورپ منتقل کیا تھا۔

آسٹریا کی کریمنل انٹیلی جنس سروس (بی کے) میں انسانی سمگلنگ کی تحقیقات کرنے والے ونگ کے سربراہ جیرالڈ ٹیٹزگرن نے او آر ایف کو بتایا کہ انسانی سمگلنگ میں تشدد ایک حقیقت ہے اور اسے منافع میں اضافہ کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا ’تشدد کی ویڈیوز پھر متاثرہ شخص کے اہلِ خانہ کو بھیجی جاتی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اگر وہ مزید ایک ہزار یورو یا کئی ہزار یورو نہ بھیجیں تو متعلقہ شخص، یعنی آپ کا بیٹا، آپ کا بھائی یا آپ کے والد، مزید تکلیف کا سامنا کریں گے۔‘

Gerald Tatzgern, a man with short, grey hair, wearing a light grey suit and a white shirt, sitting in an office with books, pot plants and police memorabilia behind him.
ORF
جیرالڈ ٹاٹزگرن کہتے ہیں کہ جرائم پیشہ گروہ تارکینِ وطن پر تشدد کرتے تھے اور حوالہ نظام کے ذریعے ان کے اہلِ خانہ سے رقم کا مطالبہ کرتے تھے

ان کے بقول تشدد رکوانے کے لیے ادائیگیوں کا مطالبہ حوالہ نظام کے ذریعے کیا جاتا تھا۔

پولیس کمانڈر اور یوروپول کے افسر کوئنٹن مگ، جنہوں نے منی لانڈرنگ کے متعدد مقدمات کی تحقیقات کی قیادت کی ہے، نے کہا کہ حوالہ نظام ’منظم جرائم کے لیے منی لانڈرنگ کا بنیادی ذریعہ‘ ہے۔

انہوں نے کہا ’چاہے رقم انسانی سمگلنگ، لوگوں کی غیر قانونی نقل و حمل، جسم فروشی کے دھندے، کسی دادی کی جانب سے اپنے بیٹے کو سالگرہ کے تحفے کے طور پر بھیجی گئی بچت، یا فرانس میں کام کرنے والے کسی مالی باشندے کی طرف سے اپنے خاندان کی مدد کے لیے بھیجی گئی ہو، (حوالہ ڈیلروں) کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتا۔‘

انہوں نے مزید کہا ’اور وہ اپنے مقررہ ریٹس لاگو کریں گے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US