اس وقت میرے ذہن میں اپنی جان نہیں بلکہ بچوں کو بچانے کا خیال تھا، میں نے ہیرو بننے کے لیے یہ سب نہیں کیا، میں صرف ایک نرس اور ماں کی حیثیت سے اپنا فرض ادا کر رہی تھی۔
پمز اسپتال میں آتشزدگی کے دوران نومولود کو چند ہی سیکنڈز میں شعلوں سے نکالنے والی نرس رضیہ نورین کی بہادری کو پاکستان کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے بھی واقعے کی تفصیلات شائع کرتے ہوئے رضیہ کے حوصلے اور فوری فیصلے کو نمایاں کیا۔
رپورٹ کے مطابق آگ سے بھرے کمرے میں داخل ہو کر رضیہ نورین نے صرف 8 سیکنڈ میں ایک نومولود کو بحفاظت باہر نکال لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس لمحے انہیں اپنی حفاظت کی فکر نہیں تھی بلکہ بچوں کی زندگی بچانا ان کی اولین ترجیح تھی۔
رضیہ نورین کی اس جرات پر انہیں پاکستان بھر میں قومی ہیرو کے طور پر سراہا جا رہا ہے۔ حکومت پاکستان نے بھی ان کی خدمات کے اعتراف میں ستارۂ خدمت اور مالی انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق نرس کی اس کوشش کو ملک کے مختلف حلقوں، جن میں مسلم اور مسیحی برادریاں بھی شامل ہیں، کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی ہے۔ رضیہ نورین کے لیے یہ واقعہ کسی اعزاز کی تلاش نہیں بلکہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری اور انسانی فرض کی ادائیگی کا ایک لمحہ تھا۔