جمعے کو جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی میں ملزمہ نتاشہ دانش کے خلاف منشیات استعمال کرنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ اس دوران عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزمہ کے خلاف منشیات استعمال کرنے کا الزام ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔
کراچی کی عدالت نے کار ساز ٹریفک حادثہ کیس میں ملزمہ نتاشہ دانش کو عدم شواہد کی بنیاد پر منشیات استعمال کرنے کے مقدمے سے بھی بری کر دیا ہے۔ اس سے قبل اکتوبر 2024 میں اہلخانہ سے راضی نامے کے بعد ملزمہ کو اقدامِ قتل کے مقدمے سے بری کر دیا گیا تھا۔
جمعے کو جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی میں ملزمہ نتاشہ دانش کے خلاف منشیات استعمال کرنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ اس دوران عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزمہ کے خلاف منشیات استعمال کرنے کا الزام ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔
خیال رہے کہ یہ حادثہ 19 اگست 2024 کو اس وقت ہوا جب موٹر سائیکل پر سوار عمران عارف اور ان کی بیٹی آمنہ عارف کو عقب سے آنے والی ایک گاڑی نے ٹکر ماری جس کے نیتجے میں دونوں باپ بیٹی ہلاک ہو گئے تھے۔ واقعے کے فوری بعد نتاشہ کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔
ملزمہ کے خلاف کراچی کے تھانہ بہادر آباد میں مقدمات درج کیے گئے تھے۔
اس حادثے کے بعد منظرِعام پر آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا تھا کہ سروس روڈ پر ایک تیز رفتار گاڑی موٹر سائیکل سواروں کو کچل رہی ہے۔
سندھ ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران سرکاری وکیل کی جانب سے عدالت میں بیان دیا گیا تھا کہ ’ملزمہ گاڑی چلاتے ہوئے نشے کی حالت میں تھیں۔‘
اس گاڑی نے موٹرسائیکل سواروں کو کچلنے کے بعد آگے جا کر ایک اور گاڑی کو بھی ٹکر ماری تھی اور چار مزید افراد کو بھی زخمی کیا تھا۔ ملزمہ کے خلاف قتل اور منشیات کے استعمال کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اب ملزمہ کو ان تمام الزامات سے بری کر دیا گیا ہے۔
جمعے کو عدالتی فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملزمہ کے وکیل فواد علی کچھی نے دعویٰ کیا کہ پولیس کی جانب سے ملزمہ سے لیے گئے نمونوں میں ٹیمپرنگ کی گئی۔
اُن کا کہنا تھا کہ عدالت نے ملزمہ کو عدم شواہد کی بنا پر بری کردیا، 'کیمیکل ایگزمینر اور بلڈ ٹیسٹ می ملزمہ کے بلڈ میں کہیں آئس نہیں پائی گئی۔'
صلح نامہ اور قتل کے مقدمے سے بریت
اس مقدمے کے مدعی اور حادثے میں ہلاک ہونے والے عمران عارف کے بھائی امتیاز عارف نے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی تھی کہ لواحقین نے ملزمہ نتاشہ کو ’فی سبیل اللہ معاف کیا ہے‘ اور ایسا بغیر کسی معاوضے کے کیا گیا ہے۔
انھوں نے بتایا تھا کہ ’کچھ عرصہ قبل نتاشہ کی فیملی بھابھی کے پاس آئی تھی اور تعزیت کی تھی اور معذرت طلب کی تھی۔ میری بھابھی کا دل بڑا ہے انھوں نے انھیں معاف کر دیا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’لواحقین کے پاس تین آپشن تھے، قصاص، دیت اور فی سبیل اللہ، جس میں سے انھوں نے تیسرا آپشن منتخب کیا اور بغیر کسی معاوضے کی معافی دے دی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وہ لوگوں کی حمایت کے شکر گزار ہیں ’لیکن فیصلہ فیملی نے ہی لینا تھا۔‘
اس واقعے کا مقدمہ پروفیسر امتیاز عارف کی ہی درخواست پر درج کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ 19 اگست کو شام چھ بج کر45 منٹ پر انھیں حادثے کی اطلاع ملی تو وہ ہسپتال پہنچے جہاں علم ہوا کہ ٹکر مارنے والی گاڑی کی ڈرائیور ایک خاتون تھیں۔
اس حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد ویڈیوز اور تصاویر سامنے آئیں جن میں دیکھا گیا کہ مشتعل لوگ ایک خاتون کو گھیرے ہوئے ہیں جبکہ بعد میں انھیں پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا۔
’ریاست مدعی کیوں نہ بنی‘
حادثے کے فوراً بعد ملزمہ کے وکلا نے ان کی ذہنی حالت خراب ہونے کا دعویٰکیا اور بعد میں آئی جی سندھ کی جانب سے مقامی اخبار ڈان کو اس بات کی تصدیق کی گئی کہ ملزمہ کہ خون کے نمونے میں ’آئس‘ کی موجودگی ثابت ہوئی ہے۔ اس کے بعد ملزمہ کے خلاف ریاست کی مدعیت میں منشیات استعمال کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
تاہم ساتھ ہی سوشل میڈیا پر فیک نیوز کا دور بھی چلا جس میں ملزمہ نتاشہ کی ایک ایسے تصویر وائرل ہوئی جو دراصل مصنوعی ذہانت کی مدد سے بنائی گئی تھی۔
تاہم جب حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے ورثا کی جانب سے ملزمہ کو ’معاف کرنے‘ کی خبر سامنے آئی تو ایک سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔
ایک صارف کی جانب سے اس بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’یہ متوقع تھا کیونکہ ورثا کا خاندان ملزمہ کے خاندان کے ساتھ ہم پلہ ہو کر مقدمہ نہیں لڑ سکتا تھا۔‘
صارف شاہد صدیقی نے کہا کہ ’اس ناانصافی کے نظام اور معاشی بدحال کے درمیان، ہمارے پاس انھیں روکنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔‘
ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ ریاست کے لیے کتنی شرمندگی کی بات ہے۔ خاندان کو مدعی کے طور پر کیوں لیا گیا، ریاست مدعی کیوں نہ بنی۔‘
ہلاک ہونے والے عمران عارف اور آمنہ عارف کون ہیں؟
حادثے میں ہلاک ہونے والے عمران عارف کے والد شہزاد منظر روزنامہ مساوات کے اسٹنٹ ایڈیٹر رہے تھے اور جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں اخبار کو پیپلز پارٹی سے قربت کی وجہ سے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد میں وہ قلمی نام تبسم سے جنگ اور اخبار جہاں میں بھی لکھتے رہے۔
پروفیسر ڈاکٹر امتیاز عالم نے بی بی سی کو بتایا کہ حادثے میں ہلاک ہونے والے ان کے بڑے بھائی عمران عارف موٹر سائیکل پر بچوں کے چپس اور پاپڑ سپلائی کرتے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ آمنہ عارف تین بچوں میں سب سے چھوٹی تھیں۔
پروفیسر ڈاکٹر امتیاز عالم کا کہنا تھا کہ آمنہ نے کراچی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد دو سال قبل نوکری شروع کی تھی اور اقرا یونیورسٹی کی بزنس ڈگری بھی پوری ہونے کے قریب تھی۔
’وہ اپنی یونیورسٹی کے اخراجات خود پورا کرتی تھی۔ بیچلر کے بعد اس نے اپنے والد سے ذاتی اخراجات کے لیے پیسے نہیں لیے بلکہ اپنی تنخواہ گھر پر خرچ کرتی تھی۔ اس نے ہی گھر کا رنگ و روغن کروایا، پردے تبدیل کروائے۔‘
آمنہ عارف کے ساتھ کام کرنے والے ایک سنیئر ساتھی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’آمنہ عارف بہت محنتی اور لائق تھیں۔‘
’اس نے بہت کم عرصے میں کام پر عبور حاصل کر لیا تھا اور ہر پراجیکٹ میں بہت اچھے نتائج دیئے تھے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس میں سیکھنے کی بہت صلاحیت تھی۔‘
آمنہ عارف کے سینیئر ساتھی کا کہنا تھا کہ انھوں نے حال ہی میں ایک پراجیکٹ مکمل کیا تھا اور وہ ایک دوسرے پراجیکٹ پر کام شروع کر چکی تھیں۔ ’حادثے والے دن بھی وہ اسی پراجیکٹ پر کام کر رہی تھیں۔‘