ہسپتال کی نرسری کے باہر لگے سی سی ٹی وی کیمرے کی ویڈیو میں رضیہ نورین کو آگ لگنے کے بعد ایک بچے کو گود میں اُٹھائے بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے پمز اسپتال میں آتشزدگی کے واقعے کے دوران نومولود بچی کی جان بچانے والی نرس رضیہ نورین سے ملاقات کی اور ان کی جرات و بہادری کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ ’رضیہ نورین نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر ایک معصوم بچی کو بچایا، جو ایک عظیم اور قابلِ فخر کارنامہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ پوری قوم ان پر فخر کرتی ہے اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔‘
اس موقع پر وزیرِاعظم نے اعلان کیا کہ رضیہ نورین کو ان کی خدمات کے اعتراف میں 23 مارچ کو تمغۂ خدمت سے نوازا جائے گا۔ اس موقع پروزیراعظم محمد شہباز شریف نے رضیہ نورین کو ایک کروڑ روپے کا چیک بھی دیا۔
رضیہ نورین نے وزیرِ اعظم کو بتایا کہ آگ لگنے کے بعد وہ فوری طور پر وارڈ کے اندر گئیں اور ایک نومولود بچی کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔
رضیہ نورین نے وزیرِ اعظم کو بتایا کہ انھوں نے بچی کو باہر لا کر جلدی سے ڈاکٹرعبدالرحمن کے حوالے کیا تاکہ رش میں وہ محفوظ ہاتھوں میں رہے اور دوسرے بچوں کی جان بچانے کی بھی کوشش کی لیکن ہنگامی صورتحال کی وجہ سے ایسا نہیں ہو سکا، آگ تیزی سے پھیل گئی اور اچانک اندھیرا ہو گیا اور دھواں پھیل گیا۔
وزیرِ اعظم نے پمز میں آتشزدگی کے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انھوں نے وزارتِ صحت کو ہدایت کی کہ پمز اسپتال میں سہولتوں کو بہتر بنایا جائے اور موجود مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
ملاقات کے دوران وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال اور وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ بھی موجود تھے۔
’میں واپس گئی تھی مگر آگ بہت زیادہ تھی‘
یہ 26 اگست کی صبح کی بات ہے جب بچوں کے وارڈ میں تعینات نرس رضیہ نورین اگلی شفٹ کے عملے کی منتظر تھیں۔
پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں رات سے صبح تک کئی گھنٹوں کی شفٹ کے بعد وہ تھک چکی تھیں اور اپنا کام مکمل کر کے گھر جانے کی تیاری کر رہی تھیں۔
اسی دوران چھ بج کر 38 منٹ پر بچوں کی نرسری میں آگ بھڑک اٹھی جو انتہائی قلیل وقت میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کا سبب بنی۔
اس نرسری میں 15 نومولود بچے تھے، یعنی صرف ایک بچے کی جان بچائی جا سکی تھی۔
ہسپتال کی نرسری کے باہر لگے سی سی ٹی وی کیمرے کی ویڈیو میں رضیہ نورین کو آگ لگنے کے بعد اس ایک بچے کو گود میں اُٹھائے بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
نرس رضیہ نورین نے بتایا ہے کہ یہ نومولود بچے ان کے اپنے بچوں کی طرح تھے جن سے انھیں بہت لگاؤ تھا۔ مگر انھیں اب بھی یہ دکھ ہے کہ وہ باقی بچوں کی جانیں نہیں بچا سکیں۔
پاکستانی حکومت نے اس واقعے کی انکوائری کے بعد جہاں ہسپتال کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر (ای ڈی) عمران سکندر سمیت آٹھ افراد کو معطل کیا ہے تو وہیں نرس رضیہ نورین کے لیے ایک کروڑ روپے کے انعام اور سول ایوارڈ کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
’ایک کروڑ انعام سے زیادہ خوشی بچے کو بچانے کی ہے‘
واقعے کی ابتدائی انکوائری کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ’اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ایک بچے کی زندگی بچانے‘ والی پمز ہسپتال کی نرس رضیہ نورین کے لیے ’ستارہ خدمت‘ اور ایک کروڑ روپے کے انعام کا اعلان کیا ہے۔
تاہم رضیہ نورین نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ انھیں حکومت کی طرف سے اعزاز اور ایک کروڑ روپے کے انعام سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ وہ کم از کم ایک نومولود بچے کی جان بچانے میں کامیاب ہوئیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’جب میں نے زندہ بچ جانے والے بچے کو اس کی ماں کے حوالے کیا تو انھوں نے مجھے تشکر آمیز نگاہوں سے دیکھا اور یہی میری زندگی کا سب سے بڑا انعام ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’میں نے کسی ایوارڈ کے لیے ایسا نہیں کیا۔
’بچوں سے مجھے پیار تھا کیونکہ بچوں کے لیے کام کرنا میرا شوق ہے اور مجھے ان سے لگاؤ ہے۔‘
تاہم انھیں اس بات کا افسوس بھی ہے کہ وہ آتشزدگی کے واقعے میں مزید کسی بچے کو نہیں بچا پائیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’جب میں نے دوسرے بچے کو بچانے کے لیے نرسری میں جانے کی کوشش کی تو اچانک آگ میں شدت آ گئی۔‘
نرس رضیہ نورین نے پاکستانی ٹی وی چینل سما کو بتایا کہ وہ نرسری میں ان بچوں کے ’پیمپر بدلتی تھی، انھیں فیڈ کراتی تھی، میں انھیں دوا دیتی تھی۔ وہ بچے میرے تھے۔‘
انھوں نے آبدیدہ ہو کر کہا کہ ’میں ان بچوں کے لیے بہت دکھی ہوں۔ میں انھیں بچانا چاہتی تھی۔‘
وہ یاد کرتی ہیں کہ ایک بچے کو بچانے کے بعد ’میں واپس گئی کہ میں ان بچوں کو بھی اُٹھاؤں۔ لیکن میں انھیں نہیں بچا سکی۔‘
’یہ میری بدقسمتی ہے کہ میں ان کی مدد نہ کر سکی۔ آگ بہت زیادہ تھی۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’چھ بج کر 38 منٹ پر آگ لگی اور چھ بج کر 39 منٹ پر (یعنی ایک منٹ میں) سب ختم ہو گیا۔‘
’میں باقی بچوں کو نہیں بچا سکی جس کی وجہ سے میں اب بھی پریشان ہوں۔ مجھ سے سویا نہیں جاتا۔‘
افسران کی معطلی
پمز میں نومولود بچوں کی نرسری میں آتشزدگی کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی کمیٹی کی نشاندہی پر ہسپتال کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر عمران سکندر سمیت آٹھ افراد کو فوری طور پر معطل کر کے ان کے خلاف فوجداری کارروائی کی منظوری دے دی ہے۔
بدھ کے روز جب پمز ہسپتال کے زچہ و بچہ وارڈ کی نرسری میں آگ لگی تو اس وقت وارڈ میں 15 نومولود بچے موجود تھے جن میں سے صرف ایک کو زندہ بچایا جا سکا۔
سنیچر کے روز وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پمز آتشزدگی واقعے پر اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیرِ اعظم کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی کمیٹی نے اپنی عبوری رپورٹ پیش کی۔
وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق وزیرِ اعظم نے کمیٹی کی جانب سے نشاندہی کردہ ذمہ داران کے خلاف نہ صرف ڈیپارٹمنٹل کارروائی بلکہ فوجداری (کرمنل کوڈ) قوانین کے تحت کارروائی کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

کمیٹی کی جانب سے جن افراد کو واقعے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے ان میں پمز کے ای ڈی پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر کے علاوہ جوائنٹ ای ڈیز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور چوہدری ڈاکٹر اویس علی شاہ، نیونیٹل ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینیئر رجسٹرار ڈاکٹر نغم، ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سکیورٹی محمد عثمان، سی ڈی اے کے ایمرجنسی سروس کے ڈی جی ڈاکٹر عبدالرحمن شامل ہیں۔
بیان کے مطابق وزیرِ اعظم نے وارڈ میں موجود ایک نرس اور خاتون گارڈ کو او ایس ڈی (آفیسر آن سپیشل ڈیوٹی) بنا کر مزید تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے این آئی ایچ کے سی ای او ڈاکٹر محمد سلمان کو پمز کا عبوری ای ڈی تعینات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ جن لوگوں کو عہدوں سے ہٹایا گیا ہے ان کی جگہ نئے لوگوں کو فوری اور یکمشت تعینات کیا جائے۔