کیا یہ سوال کبھی آپ کے ذہن میں آیا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ تنخواہ کس ملک کے سربراہ کو ملتی ہے؟ اور کیا وزرا کو زیادہ تنخواہ دینے سے کرپشن کم ہوتی ہے؟
کیا یہ سوال کبھی آپ کے ذہن میں آیا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ تنخواہ کس ملک کے سربراہ کو ملتی ہے؟
حال ہی میں سنگاپور کی حکومت نے کہا کہ وزرا اور عوامی عہدوں پر فائز افراد کی سالانہ تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے گا جن میں سنگاپور کے وزیراعظم بھی شامل ہیں اور وہ دنیا میں سب سے زیادہ تنخواہ پانے والے سربراہ ہیں۔
لارنس وونگ کی سالانہ تنخواہ میں ایک عشاریہ چار ملین سنگاپور ڈالر کا اضافہ ہو گا تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ اگلے پانچ سال کے دوران اس اضافی آمدن کو خیرات کے مقصد سے استعمال کریں گے۔
انھوں نے اس بارے میں کہا ہے کہ وزرا کی تنخواہوں میں اضافہ اس لیے ضروری تھا تاکہ بہتر ٹیلنٹ سامنے آئے۔ سنگاپور کی حکومت کا ماضی میں یہ موقف رہا ہے کہ وزرا کو زیادہ تنخواہ دینے سے کرپشن فروغ نہیں پاتی۔
دوسری جانب سنگاپور میں اس معاملے پر تنقید بھی ہو رہی ہے جہاں ملازمتوں میں کمی اور مہنگائی کی وجہ سے پریشانی پائی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ سنگاپور کے وزیراعظم لارنس وونگ کی تنخواہ بڑھنے سے پہلے بھی وہ دنیا میں سب سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے سربراہ تھے۔
ان کی سالانہ تنخواہ دو اعشاریہ دو ملین سنگاپور ڈالر تھی جو اب ساٹھ فیصد اضافے کے بعد تین اعشاریہ چھ ملین سنگاپور ڈالر ہو جائے گی جو پاکستانی کرنسی کے حساب سے تقریبا 77 کروڑ روپے سے زیادہ بنتے ہیں۔ اس حساب سے دیکھا جائے تو ماہانہ تنخواہ تقریبا ساڑے چھ کروڑ پاکستانی روپے بنتی ہے۔
ٹرمپ کی تنخواہ کتنی ہے؟
سنگاپور کے بعد سب سے زیادہ تنخواہ پانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹیو جان لی لیتے ہیں۔ انھیں سات لاکھ 19 ہزار امریکی ڈالر ملتے ہیں۔
تیسرے نمبر پر سوئٹزرلینڈ کے صدر گائی برنارڈ پارملن ہیں جن کی تنخواہ چھ لاکھ چھ ہزار امریکی ڈالر ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تنخواہ سالانہ چار لاکھ امریکی ڈالر ہے۔ برطانیہ کے وزیراعظم اینڈی مرے کی سالانہ تنخواہ دو لاکھ 30 ہزار امریکی ڈالر ہے۔

سنگاپور میں تنخواہوں میں اضافے پر تنقید کیوں؟
منگل کے دن سنگاپور کے وزیراعظم نے اعتراف کیا کہ ان کے ملک میں عام شہری کے مقابلے میں وزرا کی تنخواہیں بہت زیادہ ہیں۔ سنگاپور میں اوسط ماہانہ آمدن 5775 ڈالر ہے۔
تاہم لارنس وونگ نے موقف اختیار کیا کہ انھیں کاروباری شخصیات اور اعلی عہدیداران کو سیاسی عہدہ لینے پر قائل کرنے میں مشکل ہوتی رہی ہے اور ان کے مطابق حکومت ان کو اتنی تنخواہ نہیں دے سکتی جتنا وہ کماتے ہیں لیکن کریئر چھوڑ کر سیاست میں آنے کی معاشی قیمت بہت زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میرا ماننا ہے کہ میرے اور آئندہ کے وزرائے اعظم کو قابل شہریوں کو آگے بڑھ کر سنگاپور کے لیے مضبوط ٹیم بنانے میں اس سے مدد ملے گی۔‘
سنگاپور میں وزرا کی تنخواہ ایک اعشاریہ ایک ملین ڈالر ہے جو حالیہ اضافے کے بعد ایک اعشاریہ دو ملین ڈالر ہو جائے گی۔
وزیراعظم وونگ کا کہنا تھا کہ انھیں توقع ہے کہ حکومت کی معیاد ختم ہونے سے پہلے ان وزرا کی تنخواہ مذید بڑھے گی جس کی بنیاد ان کی کارکردگی ہو گی۔
واضح رہے کہ وزرا کی تنخوہوں میں اضافے کا دورومدار چند اہم امور سے جڑا ہے جن میں ملک میں ملازمت کی شرح، معاشی ترقی کے طے شدہ اہداف کا حصول شامل ہے۔
سنگاپور کی حکومت ملک میں کرپشن کی کمی کو ایک ثبوت کے طور پر پیش کرتی ہے کہ وزرا کو زیادہ تنخواہ دینا فائدہ مند ہوتا ہے۔
سنگاپور ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل تنظیم کی جانب سے شائع ہونے والی سالانہ کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں تقریبا سب سے اوپر ہے۔ سنگاپور حکومت کا کہنا ہے کہ زیادہ تنخواہ کی وجہ سے وزرا میں رشوت لینے کا لالچ نہیں رہتا۔
تاہم اس کے باوجود ملک میں کئی لوگ حالیہ اضافے پر تنقید کرتے دکھائی دیے جن کا کہنا تھا کہ مہنگائی اور ملازمتوں میں کمی کے خدشات پر حکومت دھیان نہیں دے رہی۔ چند افراد ایسے بھی تھے جنھوں نے اس فیصلے کا دفاع یہ کہتے ہوئے کیا کہ ’سب سے بہتر لوگ ملک چلائیں، اس کے لیے یہ ضروری ہے۔‘