امریکی حکام کے مطابق امریکا نے حوثی باغیوں سے متعلق انٹیلی جنس معلومات اور اہداف کا ڈیٹا سعودی عرب کو فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس مقصد کے لیے تقریباً 200 امریکی فوجی اہلکار پہلے سے ہی سعودی عرب میں موجود ہیں جو وہاں غیر فوجی معاونت کی فراہمی میں مصروف ہیں۔ امریکی انتظامیہ کے مطابق فی الحال ان کا حوثیوں کے خلاف براہِ راست فوجی مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے بحیرہ احمر میں حوثیوں کی پیش قدمی اور خطرات پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے کارروائی کا مطالبہ کیا تھا، تاہم امریکی صدر نے براہِ راست فوجی اقدام سے معذرت کرلی تھی۔