اگرچہ فیشن کے انداز تو ہر دور میں بدلتے رہے ہیں اور اس دور کے ملبوسات، میک اپ، جوتوں سمیت جیولری پہننے کے انداز بھی بدلتے رہتے ہیں۔ لیکن سوشل میڈیا کے اس دور میں ایسا لگ رہا ہے کہ ہر کوئی جاننا چاہتا ہے کہ اگر وہ 1980 کی دہائی میں ہوتے تو کیسے نظر آتے۔
سچ کہوں تو اس بات کا امکانانتہائی کم ہے کہ آج کل آپ نے اپنا سوشل میڈیا کھولا ہو اور اس پر کسیدوست یا سیلبریٹی کو ڈینم جینز اور رنگ برنگی شرٹ کے ساتھ گھنے ہئیر سٹائل اور کلائی میں گھڑی پہنے پوز کرتے نہ دیکھا ہو۔ ممکن ہے آپ خود بھی انھی میں سے ایک ہوں۔لیکن خاص بات ہے کہ اس تصویر میں زمانہ وہ نہیں جس میں ہم اس وقت ہیں۔ یہ سب اس لیے ہی کہ لوگ مصنوعی ذہانت کی مدد سے خود کو 80 کی دہائی کے فیشن میں دیکھنا چاہتے ہیں۔
یہ ٹرینڈ اس قدر وائرل ہے کہ انڈیا اور پاکستان دونوں ممالک کے نہ صرف عام لوگ بلکہ سلیبریٹیز بھی اپنی تصاویر بنا رہے ہیں۔ جو نہیں بنا رہے ان کے فینز ان کی تصاویر بنا رہے ہیں۔
اگرچہ فیشن کے انداز تو ہر دور میں بدلتے رہے ہیں اور اس دور کے ملبوسات، میک اپ، جوتوں سمیت جیولری پہننے کے انداز بھی بدلتے رہتے ہیں۔ لیکن سوشل میڈیا کے اس دور میں ایسا لگ رہا ہے کہ ہر کوئی جاننا چاہتا ہے کہ اگر وہ 1980 کی دہائی میں ہوتے تو کیسے نظر آتے۔
اس ٹرینڈ کا حصہ بننے کے لیے لوگ اپنی تصاویر چیٹ جے پی ٹی میں ڈالتے ہیں، جو اس تصویر میں تبدیلیاں کر کے آپ کی ایک خوبصورت تصویر آپ کے سامنے رکھ دیتا ہے اور پھر صارفین اسے اپنی فیس بک یا انسٹا گرام فیڈ میں شیئر کر دیتے ہیں۔
ہم نے جاننے کی کوشش کی ہے کہ 80 کی دہائی کا یہ فیشن کیوں مقبول ہوا اور کیا اس کے ’اے آئی‘ سے نکل کر حقیقت بننے کا امکان ہے؟
گھنے بالوں والا یہ منفرد ہیئر سٹائل کون سا ہے؟
’80 کی دہائی میں پرم، کرلز اور کرمڈ بالوں کا بہت زیادہ فیشن تھا۔ پونیاں بنانے کا بھی رجحان تھا۔ اب یہ ٹرینڈ واپس آ رہا ہے۔ گذشتہ دنوں میرے بیوٹی سیلون میں بھی کئی بچیاں اس طرح کے بال بنوا چکی ہیں۔‘
یہ کہنا ہے پاکستان کی ہیئر سٹائلسٹ بینش پرویز کا جو پاکستان میں کئی روز سے جاری 80 کی دہائی کے ٹرینڈ کے اثرات اپنے بیوٹی سیلون میں بھی محسوس کر رہی ہیں، جہاں ایسے بال بنوانے اور میک اپ کے لیے آنے والی خواتین اور بچیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے بینش پرویز کا کہنا تھا کہ حیران کن طور پر چھوٹی بچیاں بھی اس ٹرینڈ سے واقف ہیں اور 80 کے دور کی طرح کے بال بنوانے کا کہہ رہی ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ امکان یہی کہ ’یہ ٹرینڈ مزید آگے بڑھے گا اور ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے کہ جب پرانے فیشن نئے انداز میں واپس آتے رہے ہیں اور اب بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ ‘
بینش پرویز کہتی ہیں کہ ہر دہائی میں بالوں کی بناوٹ کا ایک خاص ٹرینڈ مقبول ہوتا ہے، اس دور میں لانگ کرلز کا رجحان رہا ہے۔
’80 کی دہائی میں گھنگریالے بالوں کا رجحان تھا، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دور میں پاپ راک کلچر بہت زیادہ مقبول تھا اور عام لوگوں نے بھی پنک ہیئر رکھنا شروع کیے۔‘
اُن کے بقول اگر اُس دور کے گلوکاروں کو دیکھیں تو وہ مولٹ اور شیگی کٹ بال رکھتے تھے۔
بینیش کہتی ہیں کہ ’مجھے لگتا ہے کہ یہ ٹرینڈ صرف اے آئی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ایسا لگتا ہے کہ ہم دوبارہ 80 کی دہائی کے ٹرینڈ کی طرف ہی جا رہے ہیں۔ اگر ہم آج کل کے نوجوان لڑکوں کو دیکھیں تو وہ پہلے ہی سے شیگز اور مولٹ کٹنگ کروا رہے ہیں۔‘
’80 کی دہائی میں لوگ مائیکل جیکسن کو فالو کرتے تھے‘
پاکستانی فیشن ڈیزائنر عبدالصمد کہتے ہیں کہ 70 کی دہائی میں کھلے پائنچوں والی پینٹس عام تھیں جبکہ چست شرٹس اور بڑے کالرز پہننے کا دور تھا۔
بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ 80 میں پینٹس کے ڈیزائن تبدیل ہوئے اور پھر مائیکل جیکسن نے جینز اور لیدر کی جیکٹس پہننا شروع کیں تو پھر یہ رجحان پاکستان میں بھی آیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ اگر 80 کی دہائی کی بات کی جائے تو یہ ڈینم جینز کا دور تھا۔
’لوگ مائیکل جیکسن کو فالو کر رہے تھے، جینز بہت ہٹ ہو گئی تھی، لیدر جیکٹس آ گئی تھیں۔ بالوں کا پف بنانے کا رجحان عام ہوا۔ خواتین میں گھنگریالے بالوں کا زیادہ رجحان تھا۔‘
عبدالصمد کہتے ہیں کہ 80 کی دہائی میں پاکستان میں مارشل کا دور تھا، تو جو زیادہ تر ٹرینڈز مغرب سے ہی آتے تھے۔
اُن کے بقول اُس دور میں پاکستانی مشہور فلمی اداکاروں کے کپڑوں جبکہ خواتین کے گھنگریالے بالوں کی بھی نقل کی جاتی تھی۔
’80 کی دہائی میں محمد علی، ندیم، وحید مراد، بابرہ شریف اور سلطان راہی کی فلموں میں بڑے کالرز، جینز، سگار، گھنگریالے بال عام تھے۔‘
ہیئر سٹائلسٹ بینش پرویز کہتی ہیں کہ جو اس وقت ہمیں آن لائن دیکھنے کو مل رہا ہے، بہت جلد یہ ہمیں عام دکھائی دے گا۔
’جس کو فیشن کا پتہ ہے، وہ اے آئی تصویریں لگانے سے پہلے ہی یہ ٹرینڈ فالو کر رہے ہیں۔ میں نے ایک ماہ قبل کئی بچیوں کے مولٹ اور شیگی کٹنگ کی اور میں حیران تھی کہ ان بچوں کو 80 کے فیشن کا کیسے پتہ ہے۔‘
’80 کی دہائی میرے لیے یادگار تھی‘
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے اپنے انسٹا گرام اکاؤنٹ پر اپنی اہلیہ شنیرا اکرم کے ہمراہ اس ٹرینڈ کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ 80 کی دہائی میرے لیے بہت یادگار تھی۔
شرٹ کے کھلے بٹن، کالا چشمہ، بائیں ہاتھ میں گھڑی اور بالوں کا مخصوص انداز جب کہ دوسری جانب اُن کی اہلیہ شنیرا اکرم جینز اور گھنگریالے بالوں کے ساتھ نظر آ رہی ہے۔
اُنھوں نے اپنی اہلیہ شنیرا کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ 80 کی دہائی میں ہم ایسے نظر آتے۔
پاکستانی اداکار دانش تیمور نے بھی اس ٹرینڈ پر مبنی تصویر اپنے انسٹا گرام پر شیئر کی ہے جس میں وہ جینز، جوگر اور ٹی شرٹ پہنے ہوئے ہیں۔
اداکارہ طوبیٰ انوار نے بھی اس ٹرینڈ کو فالو کرتے ہوئے بھورے رنگ کا ٹو پیس سوٹ پہنا ہوا ہے۔ اوپر براؤن ٹوئیڈ یا چیکڈ بلیزر ہے جس کا انداز قدرے کلاسک اور رسمی ہے۔
کمر پر چوڑا کالا لیدر بیلٹ ہے، جس میں نمایاں گولڈن بکل ہے۔ ساتھ کالے رنگ کا شولڈر بیگ بھی ہے۔ کانوں میں گولڈن ہوپس ہیں۔
اور جو اداکار یا فنکارہ ایسا نہیں کر رہے ان کے فینز ان کی تصاویر اے آئی سے بنا کر شیئر کر رہےہیں کہ وہ اس فیشن میں کیسے دکھائی دیتے ہیں۔
ایک ڈرامہ شینل نے تو اپنے مقبول ڈراموں کے مرکزی کرداروں کو بھی 80 کی دہائی کے فیشن میں دکھایا کہ اگر اس وقت یہ ڈرامے ریلیز ہونے تو ان کے ٹائٹل کچھ اس طرح دکھائی دیتے۔
غرض ایسا لگتا ہے کہ 80 کی دہائی کا فیشن ٹرینڈ ہر ایک کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنھیں لگ رہا ہے وہ شاید غلظ زمانے میں پیدا ہو گئے۔
ایسی ہی صارف صحافی ملیحہ ہاشمی نے ازراہِ تفنن ایکس پر لکھا کہ ’میری ٹائم لائن 80 کے ٹرینڈ کی تصاویر سے بھری ہوئی ہے۔ ہم نوے کی دہائی کے بچے اب کیا کریں؟‘
عامر شیخ نامی صارف نے لکھا کہ ’اس نئے رجحان سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہم ماضی میں 80 کی دہائی کا سفر کر رہے ہوں، جس میں اُس دور کا منفرد انداز اور خاص ماحول جھلکتا ہے۔‘
ایک صارف نے لکھا کہ ’80 کے فوٹو ٹرینڈ کے لیے صارفین اپنی ذاتی تصاویر چیٹ جے پی ٹی کے اے آئی ٹولز پر اپ لوڈ کرتے ہیں، تاکہ انھیں 1980 کی دہائی کے سٹوڈیو پورٹریٹس میں تبدیل کیا جا سکے۔‘
اُنھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اوپن اے آئی اور دیگر کمپنیاں آپ کی تصاویر کو اپنے ماڈلز بہتر بنانے کے لیے استعمال کر سکتی ہیں۔
کیا چیٹ بوٹ پر تصویر ڈالنا پرائیویسی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے؟
جہاں اس 80 کے دہائی کے فیشن لکس کو خود پر دیکھنے کا شوق لوگوں کو اے آئی کی طرف راغب کر رہا ہے وہیں کچھ ماہریناس کے خطرات سے بھی آگاہ کر رہے ہیں۔
آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ماہر مجتبی محمد کہتے ہیں کہ اے آئی کے جہاں ٹیکنالوجی کی دُنیا میں بہت سے فوائد ہیں، وہیں پرائیویسی پر سمجھوتے کے بہت سے امکانات ہوتے ہیں۔
بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ اے چیٹ بوٹس ’پرسنل پروفائلنگ‘ کرتے ہیں۔ اگر پرسنل پروفائلنگ کا ڈیٹا بریچ ہوتا ہے تو پھر لامحالہ پرائیویسی بھی متاثر ہوتی ہے۔
’80 کا ٹرینڈ یا کوئی بھی اے آئی ٹرینڈ جس کے ذریعے آپ اپنی تصویر میں ردوبدل کر سکتے ہیں اور اگر یہ ڈیٹا بریچ ہوتا ہے تو پھر اس کے نقصانات ہو سکتے ہیں۔‘
مجتبی محمد کہتے ہیں کہ اے آئی کا ہماری زندگی میں ابھی اتنا عمل دخل نہیں ہے۔ لیکن اس کا آغاز ہو چکا ہے اور یہ بہت تیزی کے ساتھ ہماری زندگیوں میں آ رہا ہے۔
اُن کے بقول پرائیویسی کے حوالے سے ابھی بہت سا کام ہونا باقی ہے۔ اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس کے فوائد بھی ہیں۔