وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک کے مختلف علاقوں میں بجلی کی بڑھتی لوڈشیڈنگ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی علاقے میں دو گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ نہ کی جائے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں بجلی کی لوڈ مینجمنٹ کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس ہوا، جس میں ملک بھر میں بجلی کی طلب و رسد، لوڈ مینجمنٹ اور صارفین کو درپیش مسائل کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ خطے کی حالیہ صورتحال، آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور ترسیلی مشکلات کے باعث آر ایل این جی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی اور طلب و رسد میں توازن برقرار رکھنے کے لیے لوڈ مینجمنٹ کرنا پڑ رہی ہے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ خطے کی صورتحال اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے آر ایل این جی کی ترسیل میں تعطل سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ تمام دستیاب وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے تاکہ ملک کے کسی بھی علاقے میں دو گھنٹے سے زیادہ بجلی کی لوڈشیڈنگ نہ ہو۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں بجلی کی ترسیل اور دیگر مسائل سے متعلق عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے ڈسکوز کی سطح پر کنزیومر گریوینس ریڈریسل کمیٹیاں قائم کرنے کے احکامات بھی جاری کیے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ان کمیٹیوں میں عوامی نمائندگی کو بھی یقینی بنایا جائے اور تمام گریوینس ریڈریسل کمیٹیوں کو ایک ہفتے کے اندر فعال کیا جائے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ بجلی صارفین ہیلپ لائن 118 کے ذریعے اپنی شکایات درج کرا سکتے ہیں۔ شکایت درج ہونے کے بعد صارف کو ٹوکن نمبر اور شکایت کے ازالے کے متوقع وقت سے بھی آگاہ کیا جاتا ہے۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ اس وقت ضلع راجن پور کے 6 بجلی صارفین کے علاوہ ملک بھر میں کسی صارف کی بجلی مون سون بارشوں کے باعث متاثر نہیں ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس لغاری، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور دیگر متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔