لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کے میڈیکل کالجوں سے افغان طلبا کو نکالنے سے روک دیا: ’یہ کوئی ریاستی سکیورٹی نہیں ہے‘

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب بھر کے میڈیکل کالجوں کو افغان طلبہ کو تعلیمی اداروں سے نکالنے اور ان کے امتحانات منسوخ کرنے سے عارضی طور پر روک دیا ہے۔
Afghan Medical Students in Pakistan
Getty Images
’والدین کو مجھ سے اُمیدیں تھیں کہ یہ ڈاکٹر بن کر ہمارا نام روشن کرے گی۔ لیکن اب یہ اُمید ٹوٹ رہی ہے‘ (فائل فوٹو)

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب بھر کے میڈیکل کالجوں کو افغان طلبہ کو نکالنے اور اُن کے امتحانات منسوخ کرنے سے عارضی طور پر روک دیا ہے۔

جمعہ کو جسٹس خالد اسحاق نے 30 سے زائد افغان میڈیکل طلبہ کی درخواستوں پر سماعت کی، جن میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی ہدایات کے بعد مختلف میڈیکل کالجوں نے انھیں تعلیم جاری رکھنے سے روکتے ہوئے اپنے ملک واپس جانے کا حکم دیا ہے۔

یاد رہے کہ یکم ستمبر کو پاکستان میں میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیوں کے نگراں ادارے پی ایم ڈی سی نے ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا جس کے ذریعے ملک میں تمام سرکاری اور نجی میڈیکل یونیورسٹیز اور کالجز میں زیرِ تعلیم افغان طلبہ کو ملک چھوڑنے کا کہا گیا ہے۔

پی ایم ڈی سی کی جانب سے میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیز سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے اپنے اداروں میں زیرِ تعلیم افغان طلبہ کو پالیسی کے مطابق ضروری اجازت نامے فراہم کریں اور اُن کی اپنے وطن واپسی کے لیے معاونت کریں۔

اس فیصلے کے خلاف 30 سے زائد افغان طلبہ نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔

اس درخواست پر جمعہ کو ہونے والی سماعت کے دوران پی ایم ڈی سی کے وکیل نے لاہور ہائیکورٹ کو آگاہ کیا کہ افغان میڈیکل سٹوڈنٹس کے پاس مطلوبہ درست ویزے موجود نہیں ہیں، اس لیے اُن کے قیام اور تعلیم سے متعلق مسائل پیدا ہوئے ہیں۔

اس پر کیس کی سماعت کرنے والے جج جسٹس خالد اسحاق نے استفسار کیا کہ اگر طلبہ کے ویزوں میں مسئلہ تھا تو انھیں داخلوں کے وقت تعلیمی ویزے کیسے جاری کیے گئے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ بعض طلبہ گذشتہ چار چار برس سے میڈیکل اداروں میں زیر تعلیم ہیں اور اب انھیں واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا جا رہا ہے۔

جسٹس خالد اسحاق نے ریمارکس دیے کہطلبہ کے خلاف کارروائی سے قبل کم از کم اُن کا مؤقف سُنا جانا چاہیے تھا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’کل تک یہ پسندیدہ بچے تھے، آج پالیسی تبدیل ہو گئی ہے۔‘

پی ایم ڈی سی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ دنیا بھر میں یہی اصول ہے کہ درست ویزے کے بغیر کسی ملک میں قیام نہیں کیا جا سکتا۔ اس پر عدالت نے کہا کہ اگر طلبہ کو واپس بھیجنا مقصود ہے تو کم از کم انھیں اپنی میڈیکل تعلیم مکمل کرنے کا موقع دیا جائے۔

سماعت کے دوران پی ایم ڈی سی کے وکیل نے معاملے کو ریاستی سکیورٹی سے جوڑا، تاہم جسٹس خالد اسحاق نے ریمارکس دیے کہ بظاہر یہ ریاستی سکیورٹی کا مسئلہ نہیں ہے۔

عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت تک کوئی بھی میڈیکل کالج کسی افغان طالب علم کو نہ نکالے گا اور نہ ہی اس کے امتحانات منسوخ کرے گا۔

بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے درخواستوں پر مزید کارروائی آئندہ جمعہ (18 ستمبر) تک ملتوی کر دی۔

یاد رہے کہ جمعرات کو وزارت خارجہ میں ہونے والی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران بھی بہت سے صحافیوں نے یہ سوال ترجمان وزارت خارجہ کے سامنے رکھا تھا جس پر پاکستانی دفتر خارجہ نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ ملک میں افغان طلبہ پر مکمل پابندی نہیں ہے اور درست ویزا رکھنے والے اور یونیورسٹی پروگرام میں رجسٹرڈ طلبہ اپنی پڑھائی جاری رکھ سکتے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی شخص دنیا کے کسی ملک میں جاتا ہے تو اسے ویزا ایک مخصوص مقصد کے تحت جاری کیا جاتا ہے، لہٰذا کسی بھی شخص کو اسی سرگرمی کی اجازت ہوتی ہے جس کے لیے اسے ویزا فراہم کیا گیا ہو۔‘

انھوں نے کہا تھا کہ ’یہ نوٹیفیکیشن پی ایم ڈی سی نے جاری کیا ہے تو ان سے سوال کریں کہ کیا یہ تمام طلبہ ویلڈ ویزا رکھتے ہیں اور ویلڈ یونیورسٹی پروگرام میں رجسٹرڈ ہیں یا کسی قسم کی کوئی کمی ہے۔‘

جن افغان طلبہ کو افغانستان جانے کا کہا گیا تھا، اُن میں ایم بی بی ایس کے پہلے، دوسرے، تیسرے، چوتھے اور فائنل ایئر کے طلبہ اور طالبات شامل ہیں۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب حالیہ عرصے میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور رواں برس دونوں ممالک کے درمیان جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں۔

خیال رہے کہ حکومتِ پاکستان نے ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیشِ نظر سنہ 2023 میں پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزینوں کو اُن کے ملک بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے مطابق ستمبر 2023 کے بعد سے 24 لاکھ سے زائد افغان شہری پاکستان چھوڑ چکے ہیں ان میں دو لاکھ ایسے ہیں جنھیں ڈی پورٹ کیا گیا ہے جبکہ باقی رضاکارانہ طور پر اپنے وطن واپس گئے ہیں۔

’افغانستان میں سب گھر والے پریشان ہیں‘

تصویر
EPA
افغانستان میں طالبان حکومت نے خواتین کی تعلیم پر قدغنیں لگا رکھی ہیں۔ (فائل فوٹو)

بی بی سی اُردو نے چند روز قبل چند ایسے افغان طلبہ سے بات کی تھی جنھیں ملک چھوڑنے کا کہا گیا تھا۔

لاہور کی کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں زیر تعلیم افغان طالبہ نے بی بی سی اُردو کو بتایا تھا کہ اس فیصلے کے بعد اُنھیں اپنا مستقبل غیر یقینی نظر آ رہا ہے اور افغانستان میں مقیم اُن کے گھر والے بھی کافی پریشان ہیں۔

افغانستان سے تعلق رکھنے والی یہ طالبہ (جن کی شناخت اُن کی درخواست پر ظاہر نہیں کی جا رہی) کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے اُن 22 افغان طلبہ میں شامل ہیں جنھیں یونیورسٹی انتظامیہ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے حکم پر فوری طور پر ہاسٹل خالی کر کے اپنے وطن واپس جانے کا کہا ہے۔

طالبہ کا کہنا تھا کہ ’افغانستان میں تو لڑکیوں کے لیے تعلیم کے مواقع پہلے ہی نہیں ہیں، ایسے میں والدین کو مجھ سے اُمیدیں تھیں کہ یہ ڈاکٹر بن کر ہمارا نام روشن کرے گی۔ لیکن اب یہ اُمید ٹوٹ رہی ہے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ منگل (آٹھ ستمبر) کو کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں زیر تعلیم افغان طلبہ یونیورسٹی کے رجسٹرار آفس گئے تھے اور درخواست کی تھی انھیں ابھی این او سی نہ جاری کیے جائیں۔

افغان طالبہ کا کہنا تھا کہ حکومت کو اگر افغان طلبہ سے متعلق کوئی پالیسی بنانی ہے تو اس کا اطلاق نئے طلبہ پر ہونا چاہیے، جو یہاں پڑھ رہے ہیں کم از کم اُنھیں تو پڑھائی مکمل کرنے دیں۔

’میری آدھی تعلیم مکمل ہو چکی ہے۔ پڑھائی کے دوران کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا اور نہ ہی کسی قسم کا خوف تھا کہ ہمارے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ کچھ طلبہ کے تو جنوری میں فائنل ایئر کے امتحان بھی ہیں۔‘

انھوں نے کہا تھا کہ ’ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس فیصلے کو واپس لیا جائے۔ وہاں افغانستان میں سب گھر والے پریشان ہیں۔ میری بہن بھی پاکستان میں میڈیکل کی طلیہ ہیں، اُنھیں بھی ہاسٹل چھوڑنے کا کہا گیا ہے۔‘

’میں اور میرا سارا خاندان پاکستان کے احسان مند تھے‘

Afghan students in Pakistan
Getty Images

زہرہ سادات افغانستان میں ایم بی بی ایس کے تیسرے سال میں تھیں جب طالبان نے اقتدار سنبھالا اور خواتین کی تعلیم پر پابندیاں عائد ہوئیں۔ انھیں اپنی میڈیکل تعلیم چھوڑ کر گھر بیٹھنا پڑا۔ وہ سات بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہیں اور کہتی ہیں کہ ان کے والدین نے ان کی تعلیم سے بہت امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’میرے تمام خواب ٹوٹ گئے تھے۔ میں بالکل ٹوٹ گئی تھی۔ ہم سات بہن بھائی ہیں اور میں بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی۔‘

زہرہ کے مطابق چار سال تک گھر میں رہنے کے بعد انھیں علامہ اقبال اسکالرشپ کے تحت پاکستان میں میڈیکل کی تعلیم جاری رکھنے کا موقع ملا اور ان کا داخلہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی لاہور میں ہوا۔ ’یہ ایسے تھا جیسے ٹوٹے ہوئے خواب دوبارہ جاگ جائیں۔ مجھے لگا کہ اب میں دوبارہ ڈاکٹر بن سکتی ہوں۔ میں اور میرا سارا خاندان پاکستان کے احسان مند تھے۔ ہمیں لگا کہ اب میری زندگی دوبارہ بن رہی ہے۔‘

لیکن حالیہ نوٹیفیکیشن سامنے آنے کے بعد انھیں ایک بار پھر خدشہ ہوا کہ انھیں پاکستان چھوڑ کر افغانستان واپس جانا پڑ سکتا ہے۔ ’مجھے ایک مرتبہ پھر کہا جا رہا ہے کہ میں ڈاکٹر نہیں بن سکتی۔‘

مریم نورزئی راولپنڈی کے ایک میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کے چوتھے سال میں ہیں۔ ان کے والدین اور بہن بھائی افغانستان واپس جا چکے ہیں جبکہ وہ اپنی میڈیکل تعلیم مکمل کرنے کے لیے پاکستان میں موجود ہیں۔

مریم دس بہن بھائیوں میں ساتویں نمبر پر ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ کافی عرصے سے وہ اپنے والدین سے ملنے افغانستان نہیں جا سکیں۔

ان کے مطابق انھیں غیر سرکاری طور پر بتایا گیا ہے کہ ان کے کالج میں بھی کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کی طرح PMDC کے نوٹس پر عمل درآمد کے حوالے سے ہدایات آ سکتی ہیں۔ ’ہمیں کہا گیا ہے کہ شاید یہاں بھی نوٹس آنے والا ہے۔ جب یہ بات سنی تو میں بہت پریشان ہو گئی۔‘

’آپ چار سال پڑھتے ہیں، محنت کرتے ہیں، امتحانات دیتے ہیں، اپنی زندگی کے اتنے سال اس تعلیم کو دیتے ہیں اور پھر ایک دن کہا جاتا ہے کہ واپس چلے جائیں۔ یہ بہت مشکل ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ان کے والدین اس صورتحال سے بہت پریشان ہیں۔ ’میرے والدین رو رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ڈگری کیسے چھوڑ سکتی ہو؟‘

سحر گل احمدی کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں ایم بی بی ایس کے فائنل ایئر کی طالبہ ہیں۔ ان کا داخلہ بھی علامہ اقبال سکالر شپ کے تحت ہوا تھا۔ اب وہ ایم بی بی ایس کے آخری سال میں ہیں اور ان کے لیے یہ خبر خاص طور پر پریشان کن ہے کہ شاید وہ اپنی ڈگری مکمل نہ کر سکیں۔ ’افغانستان میں خاتون ڈاکٹر بننے کا خواب پہلے ہی ہم سے چھین لیا گیا تھا۔ پاکستان نے ہمیں وہ خواب دوبارہ دیکھنے کا موقع دیا۔‘

’ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں‘

تصویر
Getty Images
افغانستان میں ڈاکٹرز اور طبی عملے کی کمی کی شکایات عام ہیں

لاہور کے علامہ اقبال میڈیکل کالج میں فائنل ایئر کے افغان طالبِ عالم پیر کو کلاس میں تھے، جب اُنھیں پی ایم ڈی سی کے نوٹیفکیشن کے بارے میں معلوم ہوا۔ اس طالبِ علم کی شناخت بھی مخفی رکھی جا رہی ہے۔

اُن کے مطابق علامہ اقبال میڈیکل کالج میں 10 افغان طلبہ فائنل ایئر میں ہیں اور اس فیصلے کے بعد انھیں اب اپنا مستقبل تاریک نظر آ رہا ہے۔

’ہمارے لیے یہ دھچکہ تھا۔ ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے اور ہمیں واپس جانے کے لیے بہت کم وقت دیا گیا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ طلبہ کی درخواست کے باوجود کالج انتظامیہ اپنے موقف پر قائم ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ انھوں نے تین روز کے اندر پی ایم ڈی سی کو عمل درآمد رپورٹ پیش کرنی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ افغان طلبہ آج یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز بھی گئے تھے، لیکن وہاں کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

افغان طالبِ علم کا کہنا تھا کہ حکومتِ پاکستان نے ایک طرح سے ہمیں یقین دہاںی کروائی تھی کہ تعلیم مکمل کر کے اپنے وطن واپس جائیں، لیکن اس طرح نوٹیفکیشن جاری کر کے ’ہمیں بے آسرا چھوڑ دیا گیا ہے۔‘

افغان طالبِ علم کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں تو ڈاکٹرز اور طبی عملے کی پہلے ہی بہت کمی ہے اور اب ان سینکڑوں افغان طلبہ کو تعلیم مکمل کیے بغیر واپس بھیجا گیا تو یہ وہاں جا کر کیا کریں گے۔

’ہم تو یہاں تعلیم حاصل کرنے آئے ہیں۔ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم تو مرد ہیں، لیکن جو خواتین ہیں، اُن کے لیے تو افغانستان میں تعلیم کے مواقع بالکل بھی نہیں ہیں۔ وہ وہاں جا کر کیا کریں گی۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ہم اُمید کرتے ہیں کہ حکومتِ پاکستان اس فیصلے پر نظرِ ثانی کرے گی ورنہ ہمارے مجبوراً عدالت سے رُجوع کرنا پڑے گا۔

افغان طالبِ علم نے دعویٰ کیا کہ اس فیصلے سے پنجاب کے میڈیکل کالجز میں زیرِ تعلیم لگ بھگ 400 افغان طلبہ متاثر ہوں گے۔

ترجمان پی ایم ڈی سی نے تصدیق کی تھی کہ یہ حکم نامہ پاکستان کی تمام سرکاری اور نجی میڈیکل یونیورسٹیز کو لکھا گیا ہے، تاہم اُن کا کہنا تھا کہ ان یونیورسٹیز میں زیرِ تعلیم افغان طلبہ کا ڈیٹا مرتب کیا جا رہا ہے جس کے بعد ہی ان کی درست تعداد کا تعین ہو سکے گا۔

بی بی سی کی جانب سے طلبہ کو پیش آنے والی مشکلات اور اس فیصلے پر ہونے والی تنقید پر پی ایم ڈی سی کی جانب سے بیان میں کہا گیا تھا کہ ’یہ قومی مفاد کا ایک حساس معاملہ ہے، اور اس سلسلے میں تمام فیصلے رائج پالیسی کے مطابق کیے جائیں گے۔‘

خیال رہے کہ پی ایم ڈی سی پاکستان کے تمام میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کی نگرانی کرنے والے ریگولیٹری ادارہ ہے۔

’تعلیم کو سیاسی اختلاف سے دُور رکھا جائے‘

اسلام آباد میں افغان سفارتخانے نے پی ایم ڈی سی کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ تعلیم جیسے اہم شعبے کو سیاسی اختلافات سے محفوظ رکھا جانا چاہیے۔

سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ اس اقدام کا اُن افغان طلبہ کی تعلیمی پیش رفت اور مستقبل پر گہرا اثر پڑے گا، جنھوں نے قانونی اور طے شدہ طریقہ کار کے تحت اپنی تعلیم کا آغاز کیا تھا اور برسوں کی لگن، وقت اور نمایاں مالی و ذاتی سرمایہ کاری کے بعد اب اپنے متعلقہ تعلیمی پروگراموں کی تکمیل کے مرحلے میں ہیں۔‘

بیان میں کہا گیا تھا کہ ’اسلام آباد میں افغانستان کا سفارتخانہ پاکستان کے تعلیمی حکام اور متعلقہ بین الاقوامی طبی، تعلیمی، انسانی اور پیشہ ورانہ اداروں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ افغان طلبہ کے تعلیمی حقوق کے تحفظ پر مناسب توجہ دیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ بغیر کسی رکاوٹ یا غیر ضروری مشکلات کے اپنی تعلیم مکمل کر سکیں۔‘

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس فیصلے کے خاص طور پر افغان طالبات پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ بہت سی طالبات پہلے ہی افغانستان میں طالبان کی جانب سے جاری صنفی بنیادوں پر امتیازی سلوک اور جبر کے باعث اعلیٰ تعلیم کے حصول سے محروم ہو چکی ہیں، اور اب انھیں تعلیم اور پیشے کو آگے بڑھانے کے چند باقی ماندہ راستوں میں سے ایک کے بھی ختم ہو جانے کے خدشے کا سامنا ہے۔

ایمنسٹی کے بیان میں کہا گیا تھا کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے تحت پاکستان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قومی پس منظر کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے امتیاز کے بغیر تعلیم کے حق کا پاس رکھے۔

افغان طلبہ کے پاکستان کے میڈیکل کالجز میں داخلے کا طریقہ کار کیا ہے؟

Pakistan Afghanistan
Getty Images

افغانستان سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عبید اللہ وردگ نے سنہ 2016 میں علامہ اقبال میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی تعلیم مکمل کی تھی۔ وہ اِن دنوں لندن میں مقیم ہیں۔

بی بی سی اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ افغان باشندوں کے پاکستان کے میڈیکل کالجز میں داخلہ لینے کے دو طریقے ہیں۔

اُن کے بقول ایک تو وہ افغان شہری ہیں جن کی پیدائش ہی پاکستان میں موجود افغان پناہ گزینوں کے کیمپوں میں ہوئی تھی اور ایسے افغان طلبہ کمشنریٹ کے ذریعے میڈیکل کالجز میں داخلہ لیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ وہ افغان طلبہ ہیں جو اپنی زندگیوں میں کبھی افغانستان نہیں گئے اور اُن کی پیدائش، پرورش اور تعلیم سب پاکستان میں ہی ہوئی ہے۔

عبید اللہ وردگ کے بقول دوسرے وہ طلبہ ہیں جو افغانستان میں انتہائی مشکل امتحان پاس کر کے وہاں پاکستانی قونصلیٹ کی طرف سے سکالر شپ حاصل کرتے ہیں، جسے علامہ اقبال سکالر شپ کہا جاتا ہے۔

اُن کے بقول میرٹ پر سب سے اُوپر آنے والے افغان طلبہ کو کنگ ایڈورڈ، علامہ اقبال اور اس طرح دیگر یونیورسٹیز میں داخلہ دیا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ بچے پاکستان کے سافٹ امیج کے سفیر بنتے ہیں، لیکن اب اگر وہ واپس جائیں گے تو پھر پاکستان کا کیا تاثر پیش کریں گے۔ اگر ایسے اقدامات کیے جائیں گے تو پھر ایسا ہی لگے گا کہ یہ دونوں ممالک جنگ و جدل کے علاوہ کوئی اور راستہ اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US