پہلگام حملے کی مذمت اور فلسطین کا ذکر: برکس ممالک کا ’نئی دہلی اعلامیہ‘ جسے انڈیا نے اپنی سفارتی کامیابی قرار دیا

اگرچہ برکس اتحاد کے اعلامیے میں اپریل 2025 کے پہلگام حملے کی مذمت کی گئی ہے تاہم ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کو کسی مذہب، قومیت، تہذیب یا نسلی گروہ سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔ برکس ممالک نے کہا کہ کسی بھی وجہ یا مقصد کے تحت کیے گئے دہشت گردی کے واقعات کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
BRICS
brics2026.gov.in
برکس ممالک کا دو روزہ سربراہی اجلاس سنیچر کو انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں شروع ہوا تھا

انڈیا میں برکس سربراہی اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے جس میں گذشتہ برس انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں شدت پسندوں کے حملے کی مذمت کی گئی ہے۔ بعض انڈین تجزیہ کار اسے انڈیا کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے میں دہشت گردی، اس کی مالی معاونت، سرحد پار دہشت گردی اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا ہے۔

45 صفحات پر مشتمل اس اعلامیے کو ’نئی دہلی اعلامیہ‘ کا نام دیا گیا ہے جس پر برکس کے رُکن ممالک برازیل، روس، انڈیا، چین، جنوبی افریقہ، مصر، ایران، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور ایتھوپیا کے رہنماؤں نے دستخط کیے ہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کو کسی مذہب، قومیت، تہذیب یا نسلی گروہ سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔ اعلامیے میں برکس ممالک نے دہشت گردی کی ’تمام شکلوں‘ کی سخت مذمت کی اور کہا کہ کسی بھی وجہ یا مقصد کے تحت کیے گئے دہشت گردی کے واقعات کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس اپریل میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں ہونے والے حملے میں 26 افراد مارے گئے تھے۔ انڈیا نے اس کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا جس نے اسے مسترد کیا تھا اور غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

اسی واقعے کے بعد مئی 2025 میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان چار روزہ فوجی لڑائی بھی ہوئی تھی جس میں فریقین نے ایک دوسرے کو بھاری نقصان پہنچانے کے دعوے کیے تھے۔ لیکن برکس سربراہی اجلاس کے اعلامیے میں پاکستان کا نام نہیں لیا گیا۔

برکس دُنیا کی اہم اور تیزی سے اُبھرتی ہوئی معیشتوں پر مشتمل ایک عالمی اقتصادی اور سیاسی اتحاد ہے جس کا قیام 2006 میں عمل میں لایا گیا تھا۔

برکس کے 18ویں سربراہی اجلاس کا آغاز سنیچر کو انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں ہوا ہے جس میں چینی صدر شی جن پنگ، روسی صدر پوتن، ایرانی صدر مسعود پزشکیان سمیت رُکن ممالک کے رہنما شریک تھے۔

Pahalgam
AUSEEF MUSTAFA/AFP via Getty Images
گذشتہ سال جموں و کشمیر کے پہلگام میں 26 افراد کو قتل کر دیا گیا تھا جن میں زیادہ تر باہر سے آنے والے سیاح تھے (فائل فوٹو)

پہلگام حملے پر مزید کیا کہا گیا؟

کانفرنس کے پہلے ہی دن ایک مشترکہ اعلامیے کی تمام برکس ممالک نے منظوری دی۔

برکس ممالک نے اپنے اعلامیے میں کہا کہ ’ہم دہشت گردی کے کسی بھی عمل کی سخت مذمت کرتے ہیں، کیونکہ یہ مجرمانہ ہے اور اسے کسی بھی صورت جائز قرار نہیں دیا جا سکتا، خواہ اس کے پیچھے کوئی بھی وجہ ہو۔ یہ کہیں بھی، کبھی بھی یا کسی کی جانب سے کیا گیا ہو۔‘

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’ہم 22 اپریل 2025 کو جموں و کشمیر میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے اور متعدد دیگر زخمی ہوئے۔‘

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’ہم دہشت گردی کے حوالے سے زیرو ٹالرنس کو یقینی بنانے کی اپیل کرتے ہیں اور دہشت گردی سے نمٹنے میں دوہرے معیار کو مسترد کرتے ہیں۔ ہم دہشت گردی سے نمٹنے میں ریاستوں کی بنیادی ذمہ داری پر زور دیتے ہیں۔‘

برکس ممالک نے اقوامِ متحدہ کی فہرست میں شامل تمام دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔

اسرائیل-فلسطین تنازعے کے دو ریاستی حل پر زور

गज़ा
BASHAR TALEB / AFP via Getty Images
غزہ میں انسانی بحران پر برکس ممالک نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور فلسطین کی حمایت کی ہے (فائل فوٹو)۔

مشرق وسطیٰ اور مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر برکس نے شدید تشویش کا اظہار کیا اور تمام فریقوں سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے اور ایسے اقدامات سے گریز کرنے کی اپیل کی جو صورتحال کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔

برکس نے غزہ میں جنگ بندی برقرار رکھنے اور انسانی امداد کی بلا تعطل رسائی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

گروپ نے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور غزہ میں کسی بھی جغرافیائی حیثیت یا آبادیاتی تبدیلی کی مخالفت کی۔

برکس نے کہا کہ اسرائیل۔فلسطین تنازع کا منصفانہ اور پائیدار حل صرف پُرامن طریقے سے ہی ممکن ہے۔

گروپ نے دو ریاستی حل کی حمایت کی، جس میں 1967 کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کے اندر ایک خودمختار اور آزاد فلسطینی ریاست کا تصور پیش کیا گیا ہے جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

غزہ کی انسانی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے برکس ممالک نے شہریوں، طبی مراکز اور دیگر شہری ڈھانچوں پر حملوں اور انسانی امداد کو روکنے کی مذمت کی۔

برکس ممالک نے کہا کہ وہ مقبوضہ یروشلم کی قانونی اور تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے والی کسی بھی یکطرفہ کارروائی کو تسلیم نہیں کرتے۔

لبنان میں جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے برکس نے تمام فریقوں سے اس کی شرائط پر عمل کرنے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر مکمل عمل درآمد کی اپیل کی۔

یکطرفہ ٹیرف کی مخالفت

BRICS
brics2026.gov.in

برکس نے عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کے قواعد کے خلاف یکطرفہ ٹیرف پر تشویش کا اظہار کیا۔

گروپ نے کہا کہ ایسے اقدامات عالمی تجارت اور سپلائی چینز کو متاثر کر سکتے ہیں اور معاشی عدم مساوات میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

برکس نے بین الاقوامی قانون کے خلاف یکطرفہ اقتصادی پابندیوں اور دیگر جبری اقتصادی اقدامات پر تنقید کی۔

رہنماؤں نے کہا کہ ان کے اثرات غریب اور کمزور طبقات پر پڑتے ہیں۔

’پہلگام واقعے کا ذکر مودی کی بڑی کامیابی ہے‘

نئی دہلی اعلامیے پر سوشل میڈیا پر بھی بات ہو رہی ہے اور بعض انڈین مبصرین پہلگام واقعے کی مذمت کو انڈیا کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔

انڈین صحافی راہول شیو شنکر نے مشترکہ اعلامیہ میں پہلگام واقعے کے ذکر کو وزیرِ اعظم مودی کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کے ’بڑے بھائی‘ چین نے دہلی اعلامیے پر دستخط کر دیے ہیں جس میں پہلگام حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔‘

اس پر پاکستانی صحافی کامران یوسف نے لکھا کہ ’اس میں اتنی بڑی بات کیا ہے؟ پاکستان نے بھی پہلگام حملے کی مذمت کی۔ مشترکہ بیان میں واضح طور پر کہا گیا کہ دہشت گردی کو کسی بھی ’قومیت‘ سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔ چنانچہ چین نے اپنا کردار ادا کیا۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’دوسری بات یہ کہ اس میں حملے کا مقام جموں و کشمیر بتایا گیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ برکس (BRICS) رہنماؤں نے اسے واضح طور پر انڈیا کا حصہ قرار دینے سے انکار کر دیا۔‘

BRICS
Kristina Solovyova / POOL / AFP via Getty Images

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ وہ برکس کی جانب سے پہلگام حملے کی مذمت کا خیر مقدم کرتی ہیں۔

ایکس پر اپنے بیان میں محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردی کی مذمت منتخب بنیادوں پر نہیں کی جا سکتی۔ شہریوں کے خون کی کوئی قومیت نہیں ہوتی اور بین الاقوامی انصاف کے معاملے میں دوہرے معیار نہیں اپنائے جا سکتے۔‘

واشنگٹن میں ولسن سینٹر تھنک ٹینک میں ساؤتھ ایشیا انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر مائیکل کوگلمین کہتے ہیں کہ نئی دہلی اعلامیے میں فلسطینی کاز کی پرزور حمایت پر مبنی چار پیراگراف شامل ہیں۔

ایکس پر اُن کا کہنا تھا کہ اسرائیل انڈیا کے اہم ترین شراکت داروں میں سے ایک ہے۔ لیکن برکس کے نئے ارکان اور خود انڈیا کے نقطہ نظر اور گلوبل ساؤتھ میں اس مسئلے کی اہمیت کے پیشِ نظر برکس کے اندر اتفاقِ رائے کو یقینی بنانے کے لیے ایک دانشمندانہ اقدام تھا۔

ایرانی صدر کی اماراتی ولی عہد سے ملاقات

برکس اجلاس کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی امارات کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کو بھی غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل اپنے دورے کے پہلے روز مسعود پزشکیان نے برکس کے مرکزی اجلاس، اقتصادی سربراہی اجلاس اور بند کمرہ اجلاس سے خطاب کیا تھا۔ انھوں نے انڈیا کے مذہبی رہنماؤں، ممتاز شخصیات اور کاروباری حلقوں سے بھی ملاقاتیں کیں۔

یاد رہے کہ ایران اور امریکہ۔اسرائیل جنگ کے دوران تہران کی جانب سے متحدہ عرب امارات ایرانی حملوں کا سب سے زیادہ نشانہ بنا ہے۔

ایرانی صدر برکس اجلاس میں شریک دیگر عالمی رہنماؤں اور حکام سے بھی ملاقاتیں اور تبادلۂ خیال کریں گے۔

برکس سربراہی اجلاس میں روسی صدر ولادیمیر پوتن اور چینی صدر شی جن پنگ سمیت مختلف ممالک کے رہنما شریک ہیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US