عراق سے ڈرون حملے کے بعد سعودی عرب نے ’ایسٹ ویسٹ پائپ لائن‘ بند کر دی: آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے والی ’پیٹرو لائن‘ کتنی اہم ہے؟

سعودی عرب نے عراق سے ہونے والے ڈرون حملے کے بعد اہم سمجھی جانے والی ’ایسٹ ویسٹ پائپ لائن‘ بند کر دی ہے۔یہ پائپ لائن عالمی تیل سپلائی کے چار سے پانچ فیصد حصے کی ترسیل کر رہی تھی۔ عراق نے اپنی سرزمین سے اس حملے کی تصدیق کے بعد ایک فوجی کمانڈر کو برطرف کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ یہ حملہ ایران سے متصل اس کے صوبے میسان سے کیا گیا تھا۔
Saudi Arabia
Getty Images
فائل فوٹو

سعودی عرب نے عراق سے ہونے والے ڈرون حملے کے بعد اہم سمجھی جانے والی ’ایسٹ ویسٹ پائپ لائن‘ بند کر دی ہے۔یہ پائپ لائن عالمی تیل سپلائی کے چار سے پانچ فیصد حصے کی ترسیل کر رہی تھی۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب یمن کے حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں میں شدت آ رہی ہے جس سے مشرقِ وسطیٰ تنازع مزید پھیل رہا ہے۔

دوسری جانب عراق نے اپنی سرزمین سے اس حملے کی تصدیق کے بعد ایک فوجی کمانڈر کو برطرف کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ عراقی حکام کے مطابق یہ حملہ ایران سے متصل اس کے صوبے میسان سے کیا گیا تھا۔

سعودی عرب دُنیا کا سب سے بڑا خام تیل برآمد کرنے والا ملک ہے اور 1200 کلو میٹر طویل ’ایسٹ ویسٹ پائپ لائن‘اسے آبنائے ہرمز کی متبادل گزرگاہ فراہم کرتی ہے۔

یہ واقعہ یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی بڑی پیش قدمی کے دوران پیش آیا ہے جس سے عالمی تیل کی ترسیل کے راستوں پر مزید دباؤ بڑھ گیا ہے جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ساتویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے۔

ریاض نے جمعے کو کہا کہ اس نے احتیاطی اقدام کے طور پر پائپ لائن بند کر دی ہے جبکہ مقام کے قریب جلی ہوئی زمین اور دھوئیں کی سیٹلائٹ تصاویر سامنے آئی ہیں۔

سعودی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ حملے کے نتیجے میں کچھ افراد زخمی ہوئے اور نقصان بھی ہوا، جس کا تخمینہ ابھی لگایا جا رہا ہے۔

Satellite images show blackened areas where the East-West pipeline was hit
Copernicus Sentinel-3/Reuters
سیٹلائٹ تصاویر اُن مقامات کو دکھاتی ہیں جہاں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو نشانہ بنایا گیا۔

’اپنے شہریوں کے تحفظ کا حق محفوظ رکھتے ہیں‘

خبر رساں ادارے ’روئٹرز‘ نے جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی کمپنیوں اور تجزیہ کاروں کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ یہ پائپ لائن عالمی تیل سپلائی کی چار سے پانچ فیصد حصے کی ترسیل کر رہی تھی۔

سعودی وزارتِِ خارجہ کے مطابق عراق کے وزیرِ اعظم کی ایک کال کے بعد سعودی عرب نے فی الحال جوابی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزارت نے کہا کہ مملکت پڑوسی ممالک کے خلاف اپنی سرزمین سے ہونے والے حملوں کو روکنے کے لیے ’عراقی حکومت کی کوششوں کی حمایت‘ کرے گی۔

سعودی وزارتِ خارجہ کے مطابق ’سعودی حکومت اس بات کی توثیق کرتی ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ، اپنی تنصیبات کے دفاع اور اپنے شہریوں اور رہائشیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔‘

عراقی وزیرِ اعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میسان کے آپریشنز کمانڈر کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

تحقیقات کا حکم

دوسری جانب عراقی مسلح افواج نے اعلان کیا ہے کہ وزیرِ اعظم علی الزیدی نے سعودی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر حملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

عراق کی فوج نے کہا کہ وزیرِ اعظم نے ’ان حملوں کی تفصیلات اور ان کے پسِ پردہ عوامل کی فوری تحقیقات‘ کا حکم دیا ہے اور عراق کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ’اس واقعے میں ملوث پائے جانے والے ہر شخص کے خلاف‘ قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اس سے پہلے بھی عراقی سرزمین سے سعودی عرب کی تنصیبات پر حملے کیے گئے تھے جن کے بعد سعودی عرب اور امریکہ کی جانب سے جوابی حملے ہوئے تھے جن میں سے ایک میں پاسدارانِ انقلاب کے کئی ارکان بھی مارے گئے تھے۔

یہ پائپ لائن کتنی اہم ہے؟

سعودی عرب کی یہ پائپ لائن جسے عراق سے آنے والے ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے، اس کی اہمیت اس وقت سے مزید بڑھ گئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایک جانب امریکہ اور اسرائیل اور دوسری جانب ایران کے درمیان جنگ شروع ہوئی۔

یہ پائپ لائن جو ’پیٹرولائن‘ کے نام سے بھی جانی جاتی ہے، سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں واقع ابقیق کے میدانوں سے مغرب میں واقع بندرگاہ ینبع تک جاتی ہے۔

اس کی لمبائی تقریباً 1200 کلومیٹر ہے اور یہ سعودی تیل کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے متبادل راستہ ہے جو آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرتا ہے۔

گذشتہ چند ماہ میں یہ روزانہ 40 لاکھ سے 50 لاکھ بیرل تیل منتقل کر رہی ہے، جو جہاز رانی کی نگرانی کرنے والی کمپنیوں اور تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی سپلائی کا چار سے پانچ فیصد بنتا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق اس لائن کی گنجائش تقریباً 70 لاکھ بیرل یومیہ ہے۔

سعودی عرب گذشتہ کئی مہینوں کے دوران بارہا اعلان کر چکا ہے کہ اس کی سرزمین، خصوصاً توانائی کی تنصیبات، ایسے حملوں کا نشانہ بنی ہیں جن کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ وہ عراق میں تہران سے منسلک گروہوں کی جانب سے کیے گئے۔

Saudi Arabia
Getty Images
فائل فوٹو

خلیج تعاون کونسل کی مذمت

خلیج تعاون کونسل جس میں متحدہ عرب امارات، بحرین، عمان، قطر اور کویت کے نمائندے شامل ہیں، نے بھی اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا ہے۔

سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے کہا: ’یہ حملہ ایک خطرناک کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے اور مملکتِ سعودی عرب کی سلامتی، اس کی علاقائی سالمیت اور اس کی اہم تنصیبات کے لیے ناقابلِ قبول خطرہ ہے، نیز یہ بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘

ذرائع کے مطابق اس ہفتے یمن میں تیز رفتار پیش رفت کے نتیجے میں حوثی جنگجوؤں نے ملک کے ساحلی علاقوں کے بڑے حصے پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

گروہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے باب المندب آبنائے، جو بحیرہ احمر اور نہر سویز کا داخلی راستہ ہے، پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے، تاہم اس کا کہنا ہے کہ سعودی جہازوں کے علاوہ یہ تمام کمپنیوں کے لیے محفوظ ہے۔

اس پیش رفت نے سعودی عرب کے دونوں اطراف دباؤ بڑھا دیا ہے جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمت جولائی کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔

پاکستان کا سعودی عرب کی تیل مصنوعات پر انحصار

نجی بروکریج فرم شرمین سکیورٹیز میں توانائی کے شعبے کے تجزیہ کار فرحان محمود نے رواں برس مارچ میں بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ پاکستان کا زیادہ تر تیل اور گیس سعودی عرب اور قطر سے آتا ہے اور اس کا زیادہ تر حصہ آبنائے ہرمز کے راستے ہی گزر کر آتا ہے۔

ان کے مطابق پاکستان کا 70 فیصد سے زیادہ خام تیل اور باقی پیٹرولیم مصنوعات سعودی عرب سے آتی ہیں، جبکہ کچھ حصہ کویت اور ابو ظہبی سے بھی آتا ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US