تانیہ ہیڈ: 11 ستمبر کے حملوں میں زندہ بچ جانے والا فرضی کردار اور جھوٹی کہانی جس نے پوری دنیا کو دھوکا دیا

تانیا ہیڈ دعویٰ کرتی تھیں کہ وہ ان 18 زندہ بچ جانے والے افراد میں شامل تھیں جو جنوبی ٹاور کی ان منزلوں پر موجود تھے جہاں طیارہ براہِ راست ٹکرایا تھا۔
Alicia Esteve Head que se hizo pasar por una víctima del 11-S posa con el cabello rubio y gafas de pasta negra frente a una maqueta de las Torres Gemelas.
Getty Images
ایلیسیا ایسٹیو ہیڈ (بارسلونا، 1973) نے خود کو برسوں تک ’تانیہ ہیڈ‘ کے طور پر پیش کیا

سنہ 2003 میں انھوں نے اپنی پوری پرانی زندگی پیچھے چھوڑ دی۔ وہ ایک نئی شناخت اور نئے نام کے ساتھ ایک مختلف شخصیت بن گئیں اور 11 ستمبر 2001 کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر حملوں کے بعد صدمے سے دوچار نیویارک کے ماحول میں داخل ہوئیں، جہاں تقریباً 3,000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تانیا ہیڈ دعویٰ کرتی تھیں کہ وہ ان 18 زندہ بچ جانے والے افراد میں شامل تھیں جو جنوبی ٹاور کی ان منزلوں پر موجود تھے جہاں طیارہ براہِ راست ٹکرایا تھا۔

ان کے مطابق وہ 78ویں منزل پر تھیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی کہانی کی تفصیلات بدلتی رہیں، لیکن یہ دعویٰ برقرار رہا، حالانکہ یہ بھی جھوٹا تھا۔

بچ جانے والے تمام افراد میں یہ گروہ سب سے زیادہ غیر معمولی سمجھا جاتا تھا۔ اندازہ ہے کہ دونوں عمارتوں کے منہدم ہونے سے پہلے تقریباً 17 ہزار افراد وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوئے، لیکن ان میں سے زیادہ تر ان منزلوں پر موجود تھے جو طیاروں کے ٹکرانے والے حصوں سے نیچے واقع تھیں۔

شمالی ٹاور میں 91ویں منزل سے اوپر جانے والی تینوں مرکزی سیڑھیاں تباہ ہو چکی تھیں، جبکہ جنوبی ٹاور میں صرف ایک سیڑھی جزوی طور پر قابلِ استعمال رہی تھی۔

تانیا کے مطابق وہ اسی راستے سے فرار ہوئی تھیں، ان کا بازو آگ کی لپیٹ میں تھا اور وہ مسلسل اپنے سفید عروسی لباس کے بارے میں سوچ رہی تھی، جو وہ ڈیو نامی شخص سے شادی کے موقع پر پہننے والی تھیں۔ انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایک ’سرخ رومال والے شخص‘ نے ان کی مدد کی تھی۔

یہ 24 سالہ نوجوان اس دن درجنوں افراد کی جان بچانے کی وجہ سے قومی ہیرو بن گیا تھا، اگرچہ وہ خود اس واقعے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔

El segundo avión impacta contra la Torre Sur
Getty Images
پہلا حملہ نارتھ ٹاور میں 8:46 پر ہوا۔ دوسرا 9:03 پر ساؤتھ ٹاور میں۔

اس پوری داستان کو انھوں نے بعد میں مزید ڈرامائی تفصیلات سے مزین کیا۔ ان کے مطابق جب وہ افراتفری اور لاشوں کے درمیان راستہ بناتے ہوئے نکل رہی تھی تو ان کی ملاقات ایک مرنے والے شخص سے ہوئی، جس نے اپنی شادی کی انگوٹھی، جس پر نقش کندہ تھا، انھیں دے دی۔ بعد میں انھوں نے وہ انگوٹھی اس شخص کی بیوہ کو واپس کر دی۔

ان کی اپنی بیان کردہ کہانی کے مطابق، جسے برسوں بعد دی نیویارک ٹائمز نے شائع کیا، وہ وہاں میرل لنچ کی ملازم کے طور پر موجود تھیں اور دو کمپنیوں کے انضمام کے ایک معاہدے کو مکمل کرانے میں مدد کر رہی تھی۔ ان کا منگیتر ڈیو، جو شمالی ٹاور میں کام کرتا تھا، حملوں میں ہلاک ہو گیا تھا۔

ان کے بقول دونوں کی ملاقات ایک شام اس وقت ہوئی جب وہ ایک ہی ٹیکسی روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ بحث کرتے ہوئے کہ ٹیکسی کون لے گا، انھوں نے ایک دوسرے کے فون نمبر لیے اور پھر گہری محبت میں مبتلا ہو گئے۔

یہ افسانوی کہانی ایک یاہو فورم پر شائع ہوئی، جہاں سانحے کے زندہ بچ جانے والے افراد اور متاثرین کے اہلِ خانہ اپنے تجربات اور یادیں ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرتے تھے۔ انٹرنیٹ کی جانب سے 25 سال پہلے فراہم کیے گئے گمنامی کے تحفظ کے سہارے، جب سوشل میڈیا موجود نہیں تھا اور معلومات کی تصدیق کرنا کہیں زیادہ مشکل تھا، وہ مسلسل اپنی کہانی اور اپنی فرضی شہرت کو بڑھاتی چلی گئیں۔

ایک فرضی کردار کی تخلیق

دو برس تک انھوں نے انٹرنیٹ پر ’ایسا کردار تخلیق کیا جو اتنا فلمی تھا کہ یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ حقیقی نہیں تھا‘۔ یہ بات دستاویزی فلم ’دا سروائیور‘ کے ہدایت کار کیکے مائیو نے بی بی سی منڈو کو بتائی۔ اس فلم کے لیے انھوں نے سکرین رائٹر مارکوس گوئیکوئچیا کے ساتھ تین سال تک تحقیق کی اور تانیا ہیڈ کی حیرت انگیز کہانی بیان کی۔

اس خاتون کی کہانی انتہائی جذباتی تھی۔ انھوں نے دوست بنائے اور محبت، قدر اور قبولیت سمیٹی۔ وہ 11 ستمبر کے متاثرین کے خاندان کا حصہ سمجھی جاتی تھیں اور بہت سے لوگوں کے لیے امید اور ثابت قدمی کی علامت بن گئی تھیں۔

مائیو وضاحت کرتے ہیں کہ ’اس عرصے میں انھوں نے لوگوں سے رابطے کیے، معلومات جمع کیں، ایک فرضی واقعہ گھڑا، اسے تحریر کیا اور فورم پر شائع کر دیا۔ چند دن بعد کوئی جواب دیتا، پھر وہ اس شخص کو جواب دیتیں۔ اس طرح آہستہ آہستہ لوگوں کے ایک گروہ کے ساتھ ان کا تعلق بن گیا اور پھر اس گروہ نے آپس میں ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا۔‘

یوں 2002 اور 2003 ایک کمپیوٹر کی بورڈ کے پیچھے گمنامی میں زندگی گزارنے کے بعد جون 2004 میں وہ پہلی بار ذاتی طور پر ’ورلڈ ٹریڈ سینٹر سروائیورز نیٹ ورک‘ کی ایک ملاقات میں شریک ہوئیں۔

Alicia Esteve Head lleva un traje de color gris, gafas de pasta negra y el pelo corto rubio.
Getty Images
تانیہ ہیڈ نے گراؤنڈ زیرو کے پہلے گائیڈڈ ٹور پر سابق میئر روڈی گیولیانی، نیو یارک سٹیٹ کے اس وقت کے گورنر جارج پاٹاکی اور میئر مائیکل بلومبرگ کی رہنمائی کی

خوش شکل، پُرکشش شخصیت کی مالک اور دوسروں کی بات غور سے سننے کی صلاحیت رکھنے والی تانیا پہلے ہی ’سپر سروائیور‘ کے طور پر مشہور ہو چکی تھی۔

کیکے مائیو کہتے ہیں ’وہ اس ملاقات میں تو آ گئیں لیکن مجھے یقین ہے کہ انھیں اندازہ نہیں ہوا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ انھیں یہ تصور بھی نہیں تھا کہ اگلے پانچ برسوں میں نیویارک میں وہ کس کردار میں نظر آئیں گی۔ اس وقت ان کی خواہش صرف یہ تھی کہ وہاں جائیں، ان لوگوں کے ساتھ کافی پیئیں اور اپنا کردار نبھاتی رہیں، کیونکہ ان لوگوں کے ساتھ ان کا پہلے ہی ایک تعلق قائم ہو چکا تھا۔‘

بے خوابی، خوفناک خواب اور گھبراہٹ

اور جب وہ لوگوں سے آمنے سامنے ملنے لگی تو انھوں نے صرف اپنی کہانی کو ہی نہیں، بلکہ اپنے جذبات اور کیفیت کو بھی فرضی انداز میں بیان کرنا شروع کر دیا۔ وہ کہتی تھیں کہ انھیں بے خوابی رہتی ہے، ڈراؤنے خواب آتے ہیں، وہ کھڑکیوں کے قریب نہیں جا سکتی اور بعض آوازوں سے انھیں شدید گھبراہٹ ہوتی ہے۔

یہ وہ تمام علامات تھیں، جن کے بارے میں غالباً وہ اس وقت تک اسی فورم پر دوسرے زندہ بچ جانے والوں کی سینکڑوں کہانیوں میں پڑھ چکی تھیں، یا اخبارات، رسائل اور دستاویزی فلموں میں دیکھ اور سن چکی تھیں۔

ان کی باتیں مخلصانہ اور حقیقی محسوس ہوتی تھیں۔ وہ لوگوں میں ہمدردی پیدا کر لیتی تھیں۔ یہاں تک کہ انھوں نے اپنے معالج سیم کینڈر کو بھی دھوکا دے دیا، جنھوں نے کبھی ان پر شک نہیں کیا اور ان کی علامات کا علاج ایسے کیا جیسے وہ واقعی موجود ہوں۔

سیویل کی بین الاقوامی اکیڈمی برائے جرمیاتی علوم کے مطابق ’ان کا معاملہ متاثرہ ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرنے، جعلی شناخت تشکیل دینے اور گواہی کی جانچ پڑتال میں اجتماعی ناکامی کی سب سے زیادہ مطالعہ کی جانے والی مثالوں میں سے ایک ہے۔‘

مائیو کا ماننا ہے کہ ہیڈ ایک ایسے وقت میں ایک علامت بن گئی تھیں، جب معاشرہ شدید صدمے سے دوچار تھا اور ہر طرف المیے کی کہانیاں تھیں۔

وہ کہتے ہیں: ’ان کی کہانی میں امید کی ایک کرن موجود تھی، جس کا لوگ سہارا لے سکتے تھے۔ یہ داستان کہ وہ تقریباً اپنا بازو کھو بیٹھی تھی، ان کا منگیتر دوسرے ٹاور میں ہلاک ہو گیا تھا، اور اس سب کے باوجود وہ اب بھی مضبوطی سے کھڑی تھیں، بعض اوقات مسکراتی ہوئی اپنی کہانی سناتی تھیں، کمیونٹی پر بہت مثبت اثر ڈالتی تھی۔‘

مائیو کے مطابق ’انھوں نے سامعین کے لیے ایک انتہائی موزوں کہانی کو نہایت مہارت سے ترتیب دیا اور بُنا۔ اس میں مشکلات پر قابو پانے، زندہ بچ جانے اور محبت کی کہانی جیسے تمام عناصر موجود تھے۔‘

’وہ میئر کو جانتی تھیں‘

کمیونٹی نے انھیں بے حد سراہا اور بالآخر انھیں ورلڈ ٹریڈ سینٹر سروائیورز نیٹ ورک کی صدر منتخب کر لیا گیا، کیونکہ ان کی کہانی اور اسے بیان کرنے کا انداز اس تاریک دور میں امید کی ایک روشن کرن بن گئے تھے۔

ان کی شہرت مسلسل بڑھتی گئی اور انھوں نے متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کر لیا۔ ایک عوامی شخصیت بن جانے سے ان کی کہانی مزید قابلِ یقین محسوس ہونے لگی۔

مائیو کی دستاویزی فلم میں شامل بعض گواہان یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’وہ نیویارک کے میئر کو جانتی تھی۔ وہ فون اٹھا کر براہِ راست انھیں کال کر سکتی تھی۔‘

Kike Maíllo entrevista a Sam Kedem, terapeuta de Tania Head.
Sábado Películas
کیک میلو (دائیں) سیم کیڈیم کا انٹرویو لے رہے ہیں، تانیہ ہیڈ کے معالج

وہ دہشت گرد حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں منعقد ہونے والی بے شمار تقریبات میں شریک ہوئیں۔ انھوں نے نیویارک کے میئر مائیکل بلومبرگ، سابق میئر روڈولف جیولیانی اور ریاست کے سابق گورنر جارج پاتاکی جیسی شخصیات کو بھی اپنی داستان سنائی۔

وہ نہ تو سروائیورز نیٹ ورک کی صدر کی حیثیت سے کوئی تنخواہ لیتی تھیں اور نہ ہی زیرو گراؤنڈ میں رضاکار گائیڈ کے طور پر۔ اس کے برعکس انھوں نے ان تنظیموں کے لیے بڑی مقدار میں فنڈز جمع کرنے میں مدد کی جن سے وہ وابستہ تھی۔

انھوں نے وفاقی متاثرین معاوضہ فنڈ سے مالی امداد بھی طلب نہیں کی اور ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ انھوں نے ذاتی طور پر مالی فائدہ حاصل کیا ہو۔

ان کے جھوٹ کا پول کھل گیا

یہ سارا فریب 27 ستمبر 2007 کو اس وقت بے نقاب ہوا، جب دی نیویارک ٹائمز کے صحافیوں ڈیوڈ ڈبلیو ڈنلپ اور سرج ایف کووالیسکی نے ایک خصوصی رپورٹ شائع کی۔

تحقیقات سے معلوم ہوا کہ میرل لنچ اینڈ کمپنی کے پاس تانیا ہیڈ نامی کسی ملازم کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔

اسی طرح ہارورڈ اور اسٹینفورڈ یونیورسٹیوں میں، جہاں انھوں نے تعلیم حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا، ان نام کی کسی طالبہ کا ریکارڈ نہیں ملا۔

یہ بھی معلوم نہ ہو سکا کہ وہ کس ہسپتال میں پانچ دن تک بے ہوش رہی تھیں، جیسا کہ انھوں نے دعویٰ کیا تھا۔

ان کے منگیتر ڈیو کے خاندان اور مینہیٹن میں اس کے فلیٹ ساتھی کو بھی تانیا ہیڈ کے وجود کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔

تانیا ہیڈ ایک دھوکے باز ثابت ہوئیں۔ انھوں نے خود کو 11 ستمبر کے حملوں میں زندہ بچ جانے والی خاتون قرار دے کر پیش کیا تھا۔ انھوں نے سب کو دھوکا دیا تھا اور یہ دھوکا وہ کئی برسوں تک دیتی رہی تھیں۔

Un artículo del diario The New York Times que titula
Getty Images
نیویارک ٹائمز کا مضمون جس نے انکشاف کیا کہ تانیہ ہیڈ 9/11 میں زندہ بچ جانے والی نہیں تھی

سپین میں اخبار لا وانگوارڈیا کی صحافی اور مصنفہ مارٹا فورن نے جب دی نیویارک ٹائمز کی خصوصی رپورٹ دیکھی تو انھیں احساس ہوا کہ تانیا نہ صرف ایک دھوکے باز تھیں بلکہ درحقیقت اس کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ وہ ایک گھڑا ہوا کردار تھیں۔

تانیا امریکی نہیں تھی۔ وہ ہسپانوی تھیں اور بارسلونا سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان کا نام تانیا نہیں بلکہ الیسیا تھا۔ امریکہ میں انھوں نے اپنی حقیقی زندگی سے صرف اپنی والدہ کا خاندانی نام برقرار رکھا تھا۔ ان کی والدہ برٹش ایئرویز میں فضائی میزبان تھیں اور الیسیا نے انہی سے بہترین انگریزی زبان سیکھی تھی۔

اس کے علاوہ باقی سب کچھ من گھڑت تھا، مکمل افسانہ۔ وہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کے دن کبھی نیویارک میں موجود ہی نہیں تھی۔ حقیقت یہ تھی کہ الیسیا استیوے ہیڈ اس زمانے میں بارسلونا کے ایک بزنس سکول میں ایم بی اے کی تعلیم حاصل کر رہی تھی۔

فورن اور ان کے ساتھی صحافی زاویئر ماس دے شاخاس نے اس معاملے کی مزید تحقیق شروع کی۔ ایک سالنامے میں انھیں ان کی تصویر ان کے حقیقی نام کے ساتھ مل گئی، لیکن ابھی یہ ثابت نہیں ہوا تھا کہ بارسلونا کی الیسیا ہی نیویارک کی تانیا تھی۔ انھوں نے ان کے قریبی جاننے والوں سے بات چیت شروع کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ 2001 سے پہلے ان کی زندگی کیسی تھی۔

فورن نے بی بی سی منڈو سے گفتگو میں یاد کرتے ہوئے کہا: ’ہم نے ایک ایسے شخص سے بات کی جس کا ان سے قریبی تعلق رہا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی کہانیاں پہلے بھی شکوک پیدا کرتی تھیں۔ مثال کے طور پر، وہ کہتی تھیں کہ ان کا ایک امریکی پلاسٹک سرجن بوائے فرینڈ ہے۔ اس نے انھیں 50 ہیروں والی شادی کی انگوٹھی تحفے میں دی تھی، جو ان سے غلطی سے ایک ہوٹل کے باتھ روم میں گم ہو گئی اور اگلے ہی دن اس شخص نے انھیں ایک اور انگوٹھی خرید کر دے دی۔‘

حتمی سراغ

مارٹا فورن کے مطابق الیسیا استیوے ہیڈ ایک غیر ملکی کمپنی کے ڈائریکٹر کی سیکریٹری اور قابلِ اعتماد ساتھی تھیں، اور اپنے پیشے میں بہت اچھی کارکردگی رکھتی تھیں، ’لیکن انھیں پہچان اور توجہ حاصل کرنے کی شدید خواہش تھی۔‘

صحافی زاویئر ماس دے شاخاس کہتے ہیں: ’وہ ایک ایسی شخصیت تھیں، جس میں خود اعتمادی کی کمی تھی اور جو شدید جذباتی عدم توازن کا شکار تھیں۔ بارسلونا میں بھی وہ اپنی زندگی کے بارے میں فرضی کہانیاں گھڑتی تھیں اور بعد میں اسی خیالی دنیا کو وہ اپنے ساتھ نیویارک لے گئیں۔‘

ان دونوں کرداروں، یعنی فرضی تانیا اور حقیقی الیسیا، کو ایک دوسرے سے جوڑنے والی فیصلہ کن کڑی انھیں ایک اور تصویر سے ملی۔

اس تصویر میں الیسیا استیوے ہیڈ کو ایک گلاس اٹھا کر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا اور ان کا زخمی دایاں بازو واضح نظر آ رہا تھا۔ یہی وہی زخم کا نشان تھا، جسے تانیا ہیڈ امریکہ میں اپنی عوامی پیشیوں کے دوران دکھایا کرتی تھی۔

Un hombre permanece entre los escombros tras el derrumbe de la primera torre del World Trade Center el 11 de septiembre de 2001.
Getty Images
نائن الیون کے سانحے سے نیویارک کو زبردست صدمہ پہنچا

فورن بتاتی ہیں کہ ’ایک ایسے شخص نے، جو الیسیا کو جانتا تھا، مجھے بتایا کہ ان کے دائیں بازو میں معذوری تھی، کیونکہ جوانی میں وہ اپنی چار سہیلیوں کے ساتھ ایک گاڑی میں سوار تھیں اور ان کا حادثہ ہو گیا تھا۔ اس حادثے میں اس کے بازو پر گہرا زخم آیا، جو تقریباً کٹ چکا تھا اور ڈاکٹروں کو اسے دوبارہ جوڑنا پڑا‘۔

جب یہ دھوکا بے نقاب ہوا تو 11 ستمبر کے حملوں کے متاثرین نے خود کو ایک بار پھر زخمی اور دھوکا کھایا ہوا محسوس کیا۔

ماسدے شاخاس یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’مجھے اس شخص کی ماں یاد ہے جسے تانیا نے اپنا منگیتر بنا کر پیش کیا تھا۔ وہ اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی اور نہ ہی یہ جانتی تھی کہ اس کا بیٹا کسی سے منگنی کر چکا تھا۔ الیسیا نے اسے انگوٹھی دکھائی اور اس عورت کے ساتھ ایک تعلق قائم کر لیا۔ اس ماں نے سوچا، ’شاید میرا بیٹا مجھے سرپرائز دینا چاہتا تھا۔‘ اس نے اپنے فوت شدہ بیٹے سے محبت کے جذبے کے تحت ان تمام باتوں کو سمجھنے اور قبول کرنے کی کوشش کی۔‘

’پھر جب اسے معلوم ہوا کہ یہ سب جھوٹ تھا اور الیسیا نے اس کہانی کو اس کے مرے ہوئے بیٹے کو استعمال کرنے اور خود کو مزید بڑا متاثرہ ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیا تھا، تو وہ پوری طرح ٹوٹ گئی تھی۔‘

تعیش و آرام کی زندگی

اس دھوکے باز خاتون کے حقیقی نام نے لا وانگوارڈیا کے صحافیوں کو اس کی ماضی کی زندگی کے بارے میں مزید تفصیلات تک پہنچنے میں مدد دی۔

الیسیا استیوے ہیڈ بارسلونا کے معروف کاروباری خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، جو اعلیٰ طبقے میں شمار ہوتا تھا۔

1992 میں یہ خاندان کاتالونیا کے اس دور کے بڑے مالیاتی سکینڈلز میں سے ایک میں ملوث پایا گیا۔ ان کے والد فرانسسکو استیوے کوربیلا اور ان کے بھائی فرانسسکو خاویئر استیوے ہیڈ کو جعلی مالیاتی دستاویزات کے ذریعے فراڈ کے ایک مقدمے میں دستاویزات میں جعل سازی کے جرم پر قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔

ان کا گھر شہر کے بہترین علاقے میں واقع تھا اور وہ ہر قسم کی آسائشوں اور سہولتوں کے درمیان زندگی گزارتی تھی۔

Un fotograma del documental muestra a una mujer rubia con un taxi amarillo de juguete frente al memorial de las víctimas del 11-S
Sábado Películas
کچھ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ تانیہ ہیڈ نے ڈیو کے نام کے ساتھ یادگار پر ایک کھلونا پیلی ٹیکسی رکھی تاکہ یہ یاد کیا جا سکے کہ ان کی ملاقات کیسے ہوئی تھی

فورن کہتی ہیں کہ ’میرا خیال ہے کہ شاید یہی وہ عنصر تھا جس نے ان کے اندر ایک گہرا صدمہ پیدا کیا۔ ایک مکمل اور آرام دہ زندگی سے وہ ایسی صورتحال میں پہنچ گئیں جہاں ان کے والد جیل چلے گئے اور بھائی بھی۔ اور غالباً نیویارک والی کہانی انھوں نے ابتدا میں اپنی خیالی دنیا کے ایک حصے کے طور پر بنائی تھی، لیکن بعد میں یہ اتنی بڑی ہوتی گئی کہ وہ خود بھی اسے روک نہ سکی۔‘

آج کے دور میں، جب ذہنی صحت کے مسائل پر کھل کر بات کی جاتی ہے، فورن یہ سوال اٹھاتی ہیں کہ کیا الیسیا خود بھی اپنی گھڑی ہوئی باتوں پر یقین کرنے لگی تھیں؟

وہ بتاتی ہیں کہ ’ایک بار جب انھیں نوکری سے نکالا گیا تو وہ یہ کہتے ہوئے گئیں، ’آپ ایک 11 ستمبر کی متاثرہ خاتون کو نوکری سے کیسے نکال سکتے ہیں؟‘

دوسری جانب مائیو کہتے ہیں کہ ’میرا خیال ہے کہ ان کے عمل کا تعلق قبولیت، محبت اور تعلق کے احساس سے تھا۔ آپ ایک ایسی جگہ موجود ہوتے ہیں جہاں آپ خود کو غیر متعلق محسوس کرتے ہیں، کوئی آپ کی طرف توجہ نہیں دیتا اور آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کو دیکھیں، آپ کو اہمیت دیں، آپ سے محبت کریں۔ یہ ایک عالمگیر خواہش ہے۔ انسان چاہتا ہے کہ اسے قبول کیا جائے، اس سے محبت کی جائے، اسے ایک لمحے کی توجہ ملے، جیسے اپنی تصویر انسٹاگرام پر ڈالنا اور بہت سارے لائکس حاصل کرنا۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’یہ سب ایک دوسرے سے تعلق قائم کرنے کی خواہش ہے، دوسروں کی محبت حاصل کرنے اور انھیں محبت دینے کی کوشش ہے۔ ہم اسی جذبے کے ذریعے اپنے تعلقات برقرار رکھتے ہیں، اور یہی وہ چیز ہے جسے ہم مسلسل حاصل کرنا چاہتے ہیں۔‘

Una mujer de pelo rubio sonrie a la camara mientras toma un aperitivo con amigos.
Cedida
ایلیسیا ایسٹیو نے کاتالونیا میں اپنی زندگی کو از سر نو تعمیر کیا ہے

زندگی کی نئی شروعات

دی نیویارک ٹائمز کی خصوصی رپورٹ شائع ہونے کے بعد الیسیا نے اپنے گھڑے ہوئے کردار کو ترک کر دیا۔ بعض زندہ بچ جانے والے افراد کا کہنا ہے کہ انھوں نے انھیں معاف کر دیا، لیکن بہت سے دوسرے ایسا نہیں کر سکے۔

وہ کاتالونیا واپس چلی گئیں اور اپنی زندگی دوبارہ ترتیب دینے کی کوشش کی۔ جو لوگ جانتے ہیں کہ وہ آج کل کہاں ہے، ان کا کہنا ہے کہ جب بھی ان کا ماضی کسی اخبار، میڈیا رپورٹ یا دستاویزی فلم میں دوبارہ سامنے آتا ہے، انھیں ملازمت سے نکال دیا جاتا ہے۔

مائیو کہتے ہیں کہ ’اب وہ ڈیڑھ سال سے ایک ہی ملازمت کر رہی ہیں اور انھیں نکالا نہیں گیا، جبکہ گذشتہ 20 برسوں میں مسلسل ان کے ساتھ یہی ہوتا رہا ہے۔‘

وہ یہ خدشہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ دستاویزی فلم ’لا سپروویوینتے‘ کی نمائش کے بعد اسے ایک بار پھر منفی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

’خوان‘ (فرضی نام) نے 2023 میں بارسلونا کی ایک ٹریول ایجنسی میں الیسیا کے ساتھ کام کیا تھا۔

وہ کہتے ہیں ’جب وہ کمپنی میں آئیں تو مجھے لگا کہ وہ اپنی زندگی دوبارہ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ہمیں ان کے ماضی کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا، لیکن یہ سچ ہے کہ جب وہ گاہکوں کو نیویارک کے بارے میں مشورے دیتی تھی تو بہت تفصیل اور مہارت سے بات کرتی تھی۔ وہ کہا کرتی تھی کہ وہ وہاں طویل عرصے تک رہ چکی ہیں۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’وہ صرف تین ماہ وہاں رہیں۔ جیسے ہی ان کے بارے میں سب کچھ معلوم ہوا، وہ غائب ہو گئیں۔ میرے جن ساتھیوں نے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، انھیں جواب ملا کہ وہ شدید دباؤ کا شکار ہیں۔‘

مارٹا فورن کو افسوس ہے کہ الیسیا نے آج تک عوامی طور پر سامنے آ کر اپنے کیے پر خلوص دل سے معافی نہیں مانگی۔

فورن کہتی ہیں کہ ’شاید آخرکار وہ خود بھی اپنی بنائی ہوئی کہانی پر یقین کرنے لگی تھی۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US