متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے شہری سندھ میں نئے صوبے کے قیام کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں صوبے لسانی کے بجائے انتظامی بنیادوں پر بنائے جانے چاہئیں۔
کراچی میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبے زیادہ تر لسانی بنیادوں پر قائم کیے گئے تھے جبکہ انتظامی سہولت کے لیے ان کی ازسرنو تشکیل ضروری ہے۔
خالد مقبول صدیقی نے کراچی کے ساتھ ناانصافیوں کا گلہ کرتے ہوئے کہا کہ کراچی سندھ کے بجٹ میں 97 فیصد حصہ ڈالتا ہے لیکن اپنے وسائل پر اس کا اختیار 1 فیصد سے بھی کم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کی تقسیم کو غداری سے نہیں جوڑنا چاہیے کیونکہ صوبے انتظامی ضرورت کے تحت تقسیم ہو سکتے ہیں، تاہم موجودہ سیاسی صورتحال میں سندھ میں نیا صوبہ بنانے کی قرارداد پیش نہیں کی جا سکتی۔