’محسن نقوی سے ٹرافی نہیں لے سکتے‘: انڈیا کے انکار پر ایشیا کپ کی ٹرافی پر پھر تنازع

سٹیڈیم بھی وہی ہے۔ محسن نقوی بھی سٹیج پر موجود ہیں۔ پوڈیم پر ٹرافی بھی پڑی ہے۔ لیکن ٹرافی لینے والا کوئی نہیں۔ ٹھیک ایک برس بعد ایک بار پھر تاریخ نے خود کو دہرایا جب اتوار کی شب ایشین کرکٹ کونسل کے سربراہ محسن نقوی سٹیج پر موجود تھے۔ لیکن فرق یہ تھا کہ یہ ویمنز ایشیا کپ کا فائنل تھا۔
Asia Cup
Getty Images

سٹیڈیم بھی وہی ہے۔ محسن نقوی بھی سٹیج پر موجود ہیں۔ پوڈیم پر ٹرافی بھی پڑی ہے۔ لیکن ٹرافی لینے والا کوئی نہیں۔

گذشتہ برس 28 ستمبر کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایشیا کپ کے فائنل کے بعد کا منظر تو آپ کو یاد ہو گا۔ جب انڈین کپتان سوریا کمار یادیو نے محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار کر دیا تھا۔

ٹھیک ایک برس بعد ایک بار پھر تاریخ نے خود کو دہرایا جب اتوار کی شب ایشین کرکٹ کونسل کے سربراہ محسن نقوی سٹیج پر موجود تھے۔ لیکن فرق یہ تھا کہ یہ ویمنز ایشیا کپ کا فائنل تھا جس میں سری لنکا کو شکست دینے کے بعد اب انڈیا کی ویمنز ٹیم کو محسن نقوی سے ٹرافی وصول کرنا تھی۔

لیکن پھر سے انڈین کپتان ہرمن پریت کور نے ٹرافی وصول نہیں کی۔

کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق اختتامی تقریب تقریباً 50 منٹ تاخیر سے شروع ہوئی۔ اس دوران رنر اپ سری لنکن ٹیم کی کھلاڑیوں نے محسن نقوی سے میڈل اور انعامی رقم کا چیک وصول کیا۔ تاہم انڈین ویمنز ٹیم کا کوئی بھی رُکن وہاں موجود نہیں تھا۔

اس کے بعد تقریب عجلت میں ختم کر دی گئی۔ اس دوران وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ محسن نقوی دیگر حکام کے ہمراہ وہاں سے روانہ ہو جاتے ہیں۔

خیال رہے کہ ایشیا کپ کے فائنل میں انڈین ویمنز نے سری لنکا کی ویمنز ٹیم کو یکطرفہ مقابلے کے بعد 72 رنز سے شکست دے دی۔

انڈین ویمنز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 183 رنز بنائے اور جواب میں سری لنکا کی ویمنز ٹیم 111 رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی۔

Asia Cup final
Getty Images

’یہ فیصلہ انڈین کرکٹ بورڈ کا تھا‘

فائنل کے بعد پریس کانفرنس کے دوران جب انڈین ویمنز ٹیم کے کوچ امول مظمدار سے ٹرافی نہ لینے سے متعلق سوال ہوا تو اُن کا کہنا تھا کہ بی سی سی آئی نے ایک مؤقف اختیار کیا ہے اور ہم اس پر قائم ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ہمارے لیے یہ ٹورنامنٹ ختم ہو گیا ہے، ہمارے لیے یہ کافی ہے کہ ہم چیمپیئن ہیں اور یہاں بورڈ پر جلی حروف میں لکھا تھا کہ انڈیا ایشیا کپ جیت گیا ہے اور سب نے یہ دیکھا ہے۔ اب ہماری نظریں ایشین گیمز پر ہیں۔‘

انڈین کوچ سے یہ سوال ہوا کہ کیا آپ کو بتایا گیا ہے کہ کیا آپ کو یہ ٹرافی کب اور کیسے ملے گی یا مینز ایشیا کپ کی طرح یہ بھی ایشین کرکٹ کونسل کے صدر کے دفتر میں ہو گی؟ اس پر انڈین کوچ کا کہنا تھا کہ ’میرے پاس اس حوالے سے کوئی خبر نہیں ہے، لہذا میں اس پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا۔‘

واضح رہے کہ گذشتہ برس مینز ایشیا کپ کے فائنل میں انڈیا نے پاکستان کو پانچ وکٹوں سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔

ادھر انڈین کرکٹ بورڈ کے سیکریٹری دیوا جیت سائیکیا نے انڈین خبر رساں ادارے ’آئی اے این ایس‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری ٹیم نے محسن نقوی سے ٹرافی اس لیے وصول نہیں کی، کیونکہ وہ پاکستان کی حکومت کے مرکزی لیڈر ہیں اور ہمارے ملک کے خلاف کام کر رہے ہیں۔‘

اُن کا کہنا تھا ’ہم نے گذشتہ برس یہ فیصلہ لیا تھا کہ ہم پاکستان کے ساتھ دو طرفہ سیریز نہیں کھیلیں گے۔ لیکن ٹورنامنٹس میں ہر ٹیم کے ساتھ کھیلیں گے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم ساری شرائط مان لیں گے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاکستان کے ساتھ تعلقات پہلے سے ہی خراب تھے، لیکن اپریل 2025 (پہلگام واقعے) کے بعد مزید بگڑ گئے اور ہمارے آپریشنز اب بھی چل رہے ہیں اور اس ملک کے مرکزی لیڈرز میں سے ایک (محسن نقوی) سے ہم ٹرافی نہیں لے سکتے۔‘

’جس طرح ایک سال پہلے ہماری مینز ٹیم نے ٹرافی نہیں لی تھی، اسی طرح ہماری خواتین ٹیم نے بھی فیصلہ کیا کہ وہ ان سے ٹرافی نہیں لے گی۔‘

تاحال ایشین کرکٹ کونسل یا پی سی بی کی جانب سے اس معاملے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

مینز ایشیا کپ کے دوران ہی دونوں ممالک کے درمیان سیاسی تناؤ کی جھلک اس وقت سامنے آئی تھی، جب گذشتہ برس 14 ستمبر کو ایشیا کپ کے پہلے میچ میں پاکستان کو شکست دینے کے بعد انڈین ٹیم کے کپتان سوریا کمار یادیو نے میچ کے بعد دونوں ٹیموں کے درمیان روایتی مصافحے سے گریز کیا تھا۔

بعدازاں گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا تھا کہ ’ہم یہ جیت پہلگام واقعے میں ہلاک ہونے والوں کے نام کرتے ہیں۔‘ اس پر پاکستان میں شدید ردِعمل سامنے آیا تھا اور کھیل میں سیاست کو لانے کے الزامات بھی لگائے گئے تھے۔

ایک بار پھر انڈیا کی ویمنز ٹیم کی جانب سے ٹرافی وصول نہ کرنے کا معاملہ سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے اور پاکستان کے سابق کرکٹرز اور تجزیہ کار اس پر تنقید کر رہے ہیں۔

Indian Cricket
Getty Images
گذشتہ برس فائنل جیتنے پر بھی انڈین ٹیم نے ٹرافی کے بغیر جشن منایا تھا

پاکستان کا ردعمل: ’سپورٹس مین سپرٹ نہ ہو تو جیت معنی نہیں رکھتی‘

پاکستان کے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ’جیو نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’انڈیا عسکری اور سفارتی محاذ پر شکست کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ کھیل میں ہار اور جیت اتنی معنی نہیں رکھتی، جتنی سپورٹس مین سپرٹ کی اہمیت ہوتی ہے اور اگر یہ نہ ہو تو پھر آپ کی جیت کوئی معنی نہیں رکھتی۔

طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ انڈیا لگاتار سیاست اور کھیل میں فرق ختم کر رہا ہے۔

’محسن نقوی پاکستان کے وزیرِ داخلہ بھی ہیں اور وہ اپنی مصروفیات ترک کر کے دبئی گئے تھے۔ لیکن انڈیا کی جانب سے پھر بھی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا گیا۔‘

’ایک اور ٹرافی الماری کی زینت بننے جا رہی ہے‘

کرکٹ تجزیہ کار ڈاکٹر نعمان نیاز نے ایکس پر لکھا کہ انڈیا کا رویہ کرکٹ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ مایوس کن بات وہ ڈھٹائی ہے جس کے ساتھ اس پرانے دعوے کو یکسر ترک کر دیا گیا ہے کہ کھیل سیاست سے بالاتر ہوتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ محسن نقوی کو نظرانداز کرنا دراصل صرف ایک شخص کو نظرانداز کرنا نہیں بلکہ ایشین کرکٹ کونسل کے چیئرمین کے عہدے کو نظرانداز کرنا ہے۔ محسن نقوی نے اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے تقریب میں موجود رہ کر ایک خاص وقار کا مظاہرہ کیا جبکہ انڈیا کا رویہ شرمندگی کا باعث بنا۔

سابق کپتان راشد لطیف کہتے ہیں کہ بی سی سی آئی اور انڈین ٹیم کے رویے کا دفاع کرنا اب مشکل ہو گیا ہے۔ انڈین ٹیم بار بار کھیل کی بنیادی رواداری اور شائستگی کے بجائے سپورٹس مین سپرٹ کے خلاف جا رہی ہے جس سے عالمی کرکٹ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے ایکس پر لکھا کہ انڈیا نے ایک بار پھر بچگانہ رویے کا اظہار کیا۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے۔ کھیل کو سیاست سے دُور رکھیں۔

وکرم سنگھ نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ ’بی سی سی آئی کا موقف بالکل واضح ہے کہ کوئی سمجھوتہ نہیں۔ یہ ایک زبردست اور طاقتور اقدام تھا اور سٹیج پر چھائی ہوئی عجیب و غریب کیفیت دیدنی تھی۔ لگتا ہے کہ ایک اور ٹرافی سیدھی دبئی میں اے سی سی کے دفتر کی الماری کی زینت بننے جا رہی ہے۔‘

وجے نامی صارف نے لکھا کہ ’محسن نقوی ٹرافی پیش کرنے پر بضد رہے۔۔ انڈیم ٹیم فاتح تو ہے لیکن ٹرافی سے محروم واپس لوٹ رہی ہے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US