امریکی پائلٹ کا اصل نام ظاہر نہیں کیا گیا اور انھیں ’براوو‘ سے مخاطب کیا گیا ہے۔ طیارہ گرنے کے بعد عملے کے ایک رُکن کو کچھ ہی دیر میں ریسکیو کر لیا گیا تھا۔ تاہم ایک دوسرے اہلکار کو لگ بھگ 50 گھنٹوں بعد شدید زخمی حالت میں ایرانی سرزمین سے ’ایک مشکل آپریشن‘ کے ذریعے ریسکیو کیا گیا تھا۔
’میں نے ایک لمحے کے لیے اُوپر دیکھا اور محسوس کیا کہ کوئی پیرا شوٹ نہیں تھا۔ یہ میری زندگی کا سب سے خوفناک منظر تھا۔ آزادانہ طور پر نیچے گرتے ہوئے میں نے اُلجھے ہوئے پیرا شوٹ کو کھولنے کی کوشش کی۔‘
یہ الفاظ امریکی فضائیہ کے ایک اہلکار کے جو اس امریکی ایف-15 طیارے میں سوار تھے جسے اپریل میں جنگ کے دوران جنوبی ایران کے اُوپر مار گرایا گیا تھا۔
امریکی پائلٹ کا اصل نام ظاہر نہیں کیا گیا اور انھیں ’براوو‘ سے مخاطب کیا گیا ہے۔ طیارہ گرنے کے بعد عملے کے ایک رُکن کو کچھ ہی دیر میں ریسکیو کر لیا گیا تھا۔ تاہم ایک دوسرے اہلکار کو لگ بھگ 50 گھنٹوں بعد شدید زخمی حالت میں ایرانی سرزمین سے 'ایک مشکل آپریشن' کے ذریعے ریسکیو کیا گیا تھا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے یہ طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا جس کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان یہ دوڑ شروع ہو گئی تھی کہ لاپتہ ہونے والے امریکی فضائیہ کے اہلکار تک پہلے کون پہنچتا ہے۔ ایرانی حکام نے اہلکار کی تلاش میں مدد دینے کے لیے شہریوں کے لیے 66 ہزار ڈالرز انعامی رقم کا بھی اعلان کیا تھا۔
امریکی صدر ٹرمپ کے مطابق اس ریسکیو مشن میں 155 طیاروں نے حصہ لیا، جن میں چار بمبار، 64 فائٹر جیٹس، 48 ری فیولنگ ٹینکرز، 13 ریسکیو طیارے اور دیگر شامل تھے۔
امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس نیوز کے پروگرام ’سکسٹی منٹس‘ کے انٹرویو میں اہلکار کے اصل نام کے بجائے اُنھیں ’براوو‘ کہا گیا ہے۔ جبکہ دوسرے اہلکار ’ایلفا‘ نے سی بی ایس نیوز کو انٹرویو نہیں دیا۔
براوو نے اس واقعے کے لگ بھگ پانچ ماہ بعد شدید زخمی حالت میں جنوبی ایران کے دُشوار گزار پہاڑی سلسلے پر گزرنے والے 50 گھنٹوں کی تفصیلات بتائی ہیں۔
’ہمیں اندازہ ہو گیا تھا کہ اب پرواز جاری نہیں رکھی جا سکتی‘
براوو نے بتایا کہ میزائل لگنے کے بعد اُنھوں نے پائلٹ کے ہمراہ طیارے کو بچانے کی کوشش کی۔ لیکن ایک موقع پر ہمیں اندازہ ہو گیا کہ اب مزید پرواز جاری نہیں رکھی جا سکتی جس کے بعد ایجیکٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
براوو کا کہنا تھا کہ ’میں اس رفتار پر توجہ مرکوز نہیں کیے ہوئے تھا جس سے میں نیچے گر رہا تھا۔ اس کے بجائے میری توجہ اپنے سامنے موجود مسائل کو درست کرنے پر تھی اور میں پیراشوٹ کے ٹکڑوں کو کھولنے یا انھیں الگ کرنے کے لیے جو کچھ بھی کر سکتا تھا، کر رہا تھا۔‘
اُنھوں نے اپنی جان بچ جانے کو ’ایک معجزہ‘ قرار دیا، کیونکہ زمین پر زیادہ رفتار سے گرنے سے اُن کی کمر، کندھا اور بازو ٹوٹ گئے تھے۔ ان کا ٹخنہ بھی مڑ گیا جبکہ سر اور چہرے پر زخم آئے اور خون بہا۔ اس حالت کے باوجود براوو نے اس مقام سے نکل گئے۔
امریکی فوجی ماہرین کے مطابق جس رفتار سے وہ زمین سے ٹکرائے، وہ تقریباً 70 سے 100 میل فی گھنٹہ (113 سے 161 کلو میٹر فی گھنٹہ) کے درمیان تھی۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’ہمیں تربیت دی جاتی ہے کہ حالات سے مطابقت پیدا کریں اور مشکلات پر قابو پائیں۔ زخمی ہونے کے باوجود میں جتنی تیزی سے ممکن تھا، لینڈنگ کے مقام سے دور ہو گیا۔‘
امریکی فضائیہ کے دوسرے اہلکار، جن کی شناخت ’ایلفا‘ کے نام سے کی گئی ہے، نے سی بی ایس کو انٹرویو دینے سے انکار کر دیا ہے۔
تباہ شدہ طیارے سے نکلنے والے دونوں اہلکار ایک دوسرے سے الگ ہو گئے تھے اور امریکی سپیشل فورسز کی جانب سے ریسکیو کے انتظار کے دوران انھیں ایرانی افواج سے بچ کر رہنا پڑا۔

’چوٹوں کے باوجود ایرانی فوج کے خوف میں پیدل چلتا رہا‘
سی بی ایس نیوز کے مطابق تین کروڑ ڈالر مالیت کے دو نشستوں والے ایف-15 ای طیارے کو کندھے سے داغے جانے والے ایک میزائل کے ذریعے گرایا گیا جس کی قیمت تقریباً ایک لاکھ ڈالر ہے۔
براوو نے کہا کہ اپنی چوٹوں کے باوجود وہ ایرانی افواج کے خوف میں پیدل چلتے رہے اور چڑھائی کرتے ہوئے ایک بلند پہاڑی چوٹی تک پہنچ گئے۔
اُنھوں نے کہا کہ ’میں نہیں چاہتا تھا کہ میں حوصلہ چھوڑ دوں اور پھر مجھے ایران کی ٹیلی ویژن سکرینز پر آنا پڑے۔‘
براوو نے کہا کہ عملے نے ابتدا میں طیارے کو بچانے کی کوشش کی، لیکن جلد واضح ہو گیا کہ پرواز جاری رکھنا ممکن نہیں۔
تیز ہواؤں نے لینڈنگ کے دوران دونوں افراد کو ایک دوسرے سے دور کر دیا۔ وہ ایک دوسرے سے لگ بھگ آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر زمین پر اترے۔ براوو کا پیراشوٹ میزائل کی زد میں آنے کے دوران خراب ہو گیا تھا۔
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ’ایلفا‘ کو چند گھنٹوں کے اندر ایک ایسے آپریشن میں بچا لیا گیا جس میں شدید لڑائی شامل تھی۔
ہیگستھ نے کہا کہ ایرانی سرزمین پر اُترتے ہوئے بھی شدید فائرنگ کا تبادلہ ہو رہا تھا اور وہاں سے نکلتے ہوئے بھی، لیکن ایلفا کو بحفاظت نکال لیا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا تھا کہ ایک موقع پر ایران کے اندر زمین پر 90 سے زائد امریکی فوجی اہلکار موجود تھے۔
اُن کا کہنا تھا کہ 46 برسوں میں یہ پہلی بار تھا کہ امریکی افواج ایران کے اندر کارروائی کر رہی تھیں۔
براوو کا مختصر پیغام
رات ہونے پر براوو نے چھپنے کی جگہ تلاش کر لی اور ایک خفیہ پیغام بھیجنے میں کامیاب ہوا: ’میں زخمی ہوں، حرکت کر رہا ہوں۔‘
ایک اور پیغام میں اُنھوں نے لکھا کہ ’خدا مہربان ہے۔‘
ہیگستھ نے کہا کہ ان پیغامات سے معلوم ہوا کہ ’براوو زندہ ہے اور حرکت کر رہا ہے۔‘
امریکی حکام نے ابتدا میں اسی رات آپریشن کرنے کے امکان پر غور کیا، لیکن ہیگستھ کے مطابق حالات اس کی اجازت نہیں دیتے تھے۔
اُنھوں نے کہا کہ وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں فیصلہ کیا گیا کہ آپریشن 24 گھنٹے کے لیے مؤخر کر دیا جائے۔
’یہ ایک انتہائی مشکل فیصلہ تھا، اس کا مطلب تھا کہ براوو کو تقریباً مزید 24 گھنٹے وہاں رہنا پڑے گا۔‘
براوو نے سردی، بہت کم پانی اور تقریباً بغیر خوراک کے مزید ایک دن اور رات گزار دی۔
سی بی ایس کے مطابق امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے ایرانی فورسز کو گمراہ کرنے کے لیے ایک دھوکے کی کارروائی کی۔
جھوٹی معلومات پھیلائی گئیں کہ براوو افغانستان کی سرحد، بحیرۂ کیسپین یا جنوبی ایران کی طرف جا رہا ہے۔
اسی دوران ایک خفیہ ٹیکنالوجی کے ذریعے ان کا درست مقام معلوم کیا گیا۔
ریسکیو ٹیم کے داخل ہونے سے پہلے امریکی بمبار طیاروں اور ڈرونز نے علاقے کے قریب پاسدارانِ انقلاب کی پوزیشنوں کو نشانہ بنایا۔
سی بی ایس نے رپورٹ کیا کہ تقریباً 50 گھنٹے طویل اس آپریشن میں امریکی افواج نے 339 ہتھیار استعمال کیے۔
دوسرے آپریشن میں 150 سے زیادہ فضائی پلیٹ فارمز شریک تھے۔
اعلان کردہ ترکیب میں 64 جنگی طیارے، چار بمبار، 48 فضائی ایندھن بھرنے والے طیارے، 13 ریسکیو طیارے اور 26 انٹیلی جنس اور الیکٹرانک مداخلت کے طیارے شامل تھے۔
ایڈمرل کوپر نے کہا کہ آپریشن کے زمینی مرحلے میں تقریباً 92 امریکی فوجی موجود تھے، کئی سو اہلکار فضا میں سرگرم تھے اور تین سے پانچ ہزار افراد مختلف معاون کرداروں میں شریک تھے۔
مشن کا مقصد کیا تھا؟
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے سی بی ایس کو بتایا کہ اس جنگی طیارے کا مشن ’ایران کے ڈرون اور میزائل پروگراموں سے متعلق صنعتی تنصیبات‘ پر حملہ کرنا تھا۔
اُنھوں نے زور دیا: ’اس مشن کا اصفہان کی جوہری تنصیبات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔‘
کوپر کے مطابق اس وقت تک امریکی افواج ایران کے خلاف جنگ میں تقریباً 13 ہزار فضائی مشن انجام دے چکی تھیں۔
براوو نے کہا کہ رات کی تاریکی میں اُنھوں نے خود کو ایک بلند وادی میں پایا جس کے دونوں طرف چٹانیں تھیں۔
اُنھوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ حرکت کرنے کے لیے محفوظ ترین راستہ بلندیوں کی طرف ہے اور فریکچر کے باوجود وہ تقریباً سات ہزار فٹ، یعنی دو ہزار ایک سو میٹر سے زیادہ اونچی ایک چوٹی کی جانب بڑھے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ اتنی چوٹوں کے باوجود وہ پہاڑ کیسے چڑھ گئے؟ تو اُنھوں نے جواب دیا کہ وہ ایرانی ٹیلی ویژن کے کیمروں کے سامنے پیش ہونے پر مجبور نہیں ہونا چاہتے تھے۔
سی بی ایس کے مطابق طیارہ گرنے کے بعد ایران کے ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں دونوں امریکی فوجیوں کی تلاش کے لیے انعام مقرر کیا گیا تھا اور مسلح افراد کی علاقے میں تلاش کی ویڈیوز نشر کی گئیں۔
امریکی فوجی حکام کا دعویٰ ہے کہ تقریباً 1500 ایرانی اہلکار براوو کی تلاش میں ان کے مقام سے 10 میل کے دائرے میں موجود تھے اور ایک مرحلے پر ان کے چھپنے کی جگہ سے چند سو میٹر تک پہنچ گئے تھے۔
ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سربراہ جنرل ڈین کین نے کہا کہ گرفتار امریکی فوجیوں کو تہران میں عوام کے سامنے پیش کیے جانے کا خطرہ امریکی کمانڈروں کی بڑی تشویشوں میں شامل تھا۔
حادثے کے تقریباً چھ گھنٹے بعد امریکی افواج نے پائلٹ ایلفا کا مقام معلوم کر لیا تھا اور ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا تھا۔
سی بی ایس کی رپورٹ کے مطابق اس مرحلے میں 21 امریکی طیارے ایرانی فضائی حدود میں داخل ہوئے، جن میں 12 جنگی طیارے، چار الیکٹرانک وار فیئر طیارے اور پانچ ریسکیو طیارے شامل تھے۔
ایلفا کو نکالنے کے لیے دو ہیلی کاپٹر علاقے میں گئے اور ان پر فائرنگ کی گئی۔
ایک ایچ ایچ-60 ہیلی کاپٹر ہلکے ہتھیاروں کی فائرنگ کی زد میں آیا اور اس کے کئی عملے کے ارکان زخمی ہوئے، لیکن وہ محفوظ علاقے تک واپس پہنچ گیا۔
ایک اے-10 حملہ آور طیارے کو بھی نقصان پہنچا اور اس کے پائلٹ کو خلیج فارس کے اوپر ایجیکٹ کرنا پڑا۔ اسے بھی بچا لیا گیا۔
امریکی افواج نے اسی آپریشن میں براوو کو تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہیں اور واپس لوٹ آئیں۔
زرعی زمین میں ٹرانسپورٹ طیاروں کی لینڈنگ
پینٹاگون نے کم از کم چار ریسکیو منصوبوں کا جائزہ لیا تھا، لیکن آخرکار دو خصوصی ایم سی-130 ٹرانسپورٹ طیارے ایک عارضی رن وے پر، زرعی زمین میں، براوو کے مقام سے تقریباً 10 میل یا 16 کلومیٹر دور اترے۔
چار ایم ایچ-6 ’لٹل برڈ‘ ہیلی کاپٹر ان طیاروں کے اندر الگ الگ حصوں میں لے جائے گئے تھے۔ فورسز نے تقریباً 15 منٹ میں ہیلی کاپٹروں کو دوبارہ جوڑ لیا۔
عارضی رن وے سے براوو کے چھپنے والے پہاڑی سلسلے تک پرواز تقریباً سات منٹ کی تھی۔
سی بی ایس کے مطابق خصوصی فورسز رن وے کی حفاظت کر رہی تھیں جبکہ فضائیہ کے جنگی ریسکیو اہلکار، جنھیں ’پی جے‘ کہا جاتا ہے، براوو کی طرف روانہ ہوئے۔
براوو نے ان کی آمد کو ’اپنی زندگی کے عظیم ترین لمحات میں سے ایک‘ قرار دیا۔
براوو نے ریسکیو ٹیم کے ساتھ ہونے والی گفتگو کی تفصیلات بتانے سے انکار کیا، لیکن کہا کہ اس کا پہلا جملہ مختصر تھا کہ ’چلیں۔‘
لیکن براوو کو وہاں سے نکالنے کا مرحلہ بھی آسان نہیں تھا۔ دونوں ایم سی-130 طیاروں کے پہیے نرم مٹی میں دھنس گئے اور وہ اڑان بھرنے کے قابل نہیں رہے تھے۔
اس وقت براوو سمیت 90 سے زیادہ امریکی فوجیوں کو ایران سے نکالنا ضروری تھا۔
پینٹاگون نے متبادل منصوبہ نافذ کیا اور نسبتاً ہلکے ٹرانسپورٹ طیاروں کے ذریعے انھیں علاقے سے باہر نکال لیا۔
امریکہ نے دونوں زمین گیر ایم سی-130 اور چار لٹل برڈ ہیلی کاپٹر موقع پر چھوڑ دیے اور بعد میں بمباری کر کے انھیں تباہ کر دیا تاکہ ان کی ٹیکنالوجی اور سازوسامان ایران کے ہاتھ نہ لگ سکے۔
آخرکار براوو جنگی طیارے کے مار گرائے جانے کے تقریباً 50 گھنٹے بعد ایک محفوظ علاقے میں پہنچ گئے۔