میر رضا کیس: عدالتی کمیشن میں ڈاکٹر سمعیہ کے دھماکا خیز انکشافات اور ایس ایچ او پر برہمی

image

میر رضا کے پراسرار قتل کیس کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن کے سامنے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں سرجن ڈاکٹر سمعیہ اور ایس ایچ او فیروز آباد عدیل افضال نے کیس سے متعلق سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔

کمیشن کی سربراہی کرنے والے جسٹس عمر سیال نے کارروائی کے دوران پولیس اور متعلقہ حکام کی کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

سرجن ڈاکٹر سمعیہ نے کمیشن کے سامنے بیان دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ اس کیس کی وجہ سے انہیں شدید دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور ان کا کیریئر، نوکری اور ذاتی زندگی داؤ پر لگ گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر ان کے گھر کا ایڈریس اور شوہر کا نام وائرل کر کے انہیں ہراساں کیا گیا، جس پر انہوں نے این سی سی آئی کو بھی شکایت درج کرائی ہے۔

ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق ڈی آئی جی عامر فاروقی اور سمیع اللہ سومرو نے ان کی بات سننے سے انکار کیا، جبکہ بعد میں ڈی آئی جی کی جانب سے دباؤ ڈالا گیا کہ وہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ نہ لکھیں کہ یہ معاملہ خودکشی سے مطابقت نہیں رکھتا۔ دو دن تک ان کا پیچھا بھی کیا گیا۔ اس پر جسٹس عمر سیال نے رینجرز یا پولیس سیکیورٹی دینے کی پیشکش کی، جسے ڈاکٹر سمعیہ نے فی الحال لینے سے معذرت کرلی، جس کے بعد عدالت نے ایڈیشنل لاء سیکریٹری کو ان کی سیکیورٹی یقینی بنانے اور معاملہ وزیرِ داخلہ و وزیراعلیٰ سندھ کے سامنے رکھنے کی ہدایت کی کیونکہ یہ صورتحال کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔

میڈیکل رپورٹس کے حوالے سے ڈاکٹر سمعیہ نے بتایا کہ مقتول میر رضا کے کپڑوں سے کنسرٹیڈ ہائیڈرو کلورک ایسڈ (تیزاب) کے اثرات اور ہاتھ پر جلے کے نشانات ملے۔ گولی پیچھے کی طرف سے لگی جو دل سے ہوتی ہوئی باہر نکلی، تاہم معدے کے نمونوں سے تیزاب نہیں ملا اور وہاں سے کوئی چیز لیک بھی نہیں ہوئی تھی۔

فرانزک جانچ کے دوران دل کے خون کے نمونوں سے لوکل اینستھیسیا کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ گولی لگنے کے وقت یہ دوا میر رضا کے خون کے نظام (سرکولیشن) میں موجود تھی۔ اینستھیسیا نس کے ذریعے دیا جائے تو اس کا اثر فوری ہوتا ہے اور اگر یہ زیادہ مقدار میں دیا جائے تو جان لیوا ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹر سمعیہ نے واضح کیا کہ مقتول کو کیمیکل ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا اور میڈیکل بورڈ کی حتمی فائنڈنگز کے مطابق شواہد خودکشی کے عنصر کو مکمل طور پر خارج از امکان قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 28 جولائی کو لاپتا ہونے کے بعد 29 جولائی کی صبح ڈیڈ باڈی ملی، یعنی میر رضا تقریباً 12 گھنٹے تک غائب رہنے کے بعد بھی زندہ رہے تھے۔

دوسری جانب کمیشن نے ایس ایچ او فیروز آباد عدیل افضال کے رویے اور طریقہ تفتیش پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ کیس کی تفتیش باقاعدہ طور پر تفتیشی افسر کے پاس ہونے کے باوجود ایس ایچ او کی جانب سے ازخود شواہد اکٹھے کرنے اور گواہوں سے بات چیت کرنے پر سوالات اٹھائے گئے۔

کمیشن نے نشاندہی کی کہ پولیس نے 9 مختلف مقامات سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی لیکن کسی کا بھی قانون کے مطابق "سیزر میمو" تیار نہیں کیا، جو سپریم کورٹ کے احکامات اور ضابطہ اخلاق کی شدید خلاف ورزی ہے۔

ایس ایچ او جب تفتیش کے حوالے سے اصل روزنامچہ کمیشن کے سامنے پیش کرنے میں ناکام رہے اور سادے کاغذ پر تحریر لائے تو جسٹس عمر سیال نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے روزنامچہ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

کمیشن نے سی آئی اے کے انسپکٹر محمد علی اور ایس ایچ او فیروز آباد کو طلب کرتے ہوئے پولیس پروٹوکول اور ثبوتوں کی ممکنہ تلفی پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US