ترکی سے تیونس جانے والی ترک ایئرلائنز کی ایک پرواز کو منزل کے قریب پہنچ کر شدید خراب موسم کا سامنا کرنا پڑا، جہاں تیز ہواؤں اور خطرناک فضائی جھٹکوں کے باعث پائلٹس کو لینڈنگ میں مشکلات پیش آئیں۔ طیارے نے تیونس قرطاج بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترنے کی متعدد کوششیں کیں، تاہم موسم کی شدت کے باعث ہر بار صورتحال معمول کے مطابق نہ رہی۔
نیو یارک پوسٹ کے مطابق پرواز استنبول سے تیونس کے لیے روانہ ہوئی تھی اور سفر کا ابتدائی حصہ معمول کے مطابق گزرا، لیکن منزل کے قریب پہنچتے ہی موسم نے اچانک کروٹ بدل لی۔ طیارے کو شدید ہچکولے محسوس ہوئے، جس کے باعث کیبن میں موجود مسافر خوف زدہ ہوگئے اور کئی افراد نے اپنی نشستیں مضبوطی سے تھام لیں۔
مارینا میسکایا نامی ایک مسافر نے اس دوران بنائی گئی ویڈیو انسٹاگرام پر شیئر کی۔ ویڈیو میں طیارے کے اندر پیدا ہونے والی بے چینی واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے، جبکہ بعض مسافروں کو خوف کے باعث چیختے ہوئے بھی سنا گیا۔ ایک موقع پر ایک مسافر کو بار بار یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ ’’ہم مر جائیں گے‘‘۔
میسکایا کے مطابق طیارے نے تیونس کے اسی ہوائی اڈے پر اترنے کی تین کوششیں کیں۔ ان کے بقول تیسری مرتبہ لینڈنگ کے دوران طیارے کی حرکت انتہائی غیر معمولی محسوس ہوئی اور انہیں لگا کہ جہاز تیزی سے نیچے کی طرف جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے مسافروں کی پریشانی مزید بڑھا دی اور کچھ افراد نے کسی دوسرے ہوائی اڈے کا رخ کرنے کی خواہش ظاہر کی۔
بعد ازاں پائلٹس نے فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے پرواز کا رخ انفیدہ حمامات بین الاقوامی ہوائی اڈے کی جانب موڑ دیا، جو تیونس قرطاج ایئرپورٹ سے تقریباً 60 میل جنوب میں واقع ہے۔ طیارہ بالآخر وہاں بحفاظت اتر گیا اور تمام مسافروں کو محفوظ طریقے سے زمین پر پہنچا دیا گیا۔
واقعے کے بعد میسکایا نے ترک ایئرلائنز کے پائلٹس کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ وہ اپنی والدہ سمیت دیگر مسافروں کے ساتھ بحفاظت منزل تک پہنچ گئیں۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ مسافر کی جانب سے طیارے کے ’’تیزی سے نیچے جانے‘‘ کا بیان ان کے ذاتی مشاہدے اور اس وقت محسوس ہونے والی کیفیت پر مبنی ہے۔ دستیاب معلومات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ طیارہ حقیقتاً بے قابو ہو کر گر رہا تھا۔ شدید موسم میں پائلٹس حفاظتی اقدامات کے تحت لینڈنگ ترک کرکے دوبارہ فضا میں چکر لگانے یا متبادل ہوائی اڈے پر جانے کا فیصلہ کر سکتے ہیں، اور اس پرواز میں بھی بالآخر یہی احتیاطی قدم اٹھایا گیا۔