کنگز کالج لندن میں عسکری ٹیکنالوجی کی ماہر ڈاکٹر مرینا میرون نے کہا کہ ’جیٹ طاقت سے چلنے والے ڈرونز کی طرف جانے کی وجہ یہ ہے کہ وہ پچھلے ماڈل کے مقابلے میں بہت زیادہ تیز ہیں اور اس سے یوکرین کے لیے انھیں روکنا کہیں زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔‘

بی بی سی ویریفائی کی جانب سے یوکرینی فضائیہ کے اعداد و شمار کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ روس نے اگست کے پورے مہینے کے دوران اپنے نئے تیز رفتار، جیٹ طاقت سے چلنے والے ڈرون یوکرین کے خلاف روزانہ استعمال کیے جس کے نتیجے میں ایسے ہتھیار کا استعمال بڑھ گیا ہے جس سے نمٹنے میں کیئو کے فضائی دفاع کو مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ پہلا موقع تھا کہ ماسکو کے نئے اپ گریڈ شدہ ’گیران ڈرونز‘ کے روزانہ حملے یوکرینی فضائیہ کے اعداد و شمار میں ریکارڈ کیے گئے۔
یوکرین کے صدر زیلنسکی نے جیٹ سے چلنے والے اور دیگر اقسام کے ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے اسے کیئو کی فضاؤں پر پھیلتی ہوئی ’ہولناکی‘ قرار دیا ہے۔
یوکرین کی فوج نے حال ہی میں بی بی سی کو بتایا کہ جیٹ طاقت سے چلنے والے ڈرون حملوں کی تعداد جون میں 350 سے بڑھ کر جولائی میں 1600 اور اگست میں 2800 ہو گئی۔
اگست میں پانچ روز جاری رہنے والے ان حملوں میں پرانے اور نسبتاً سست ماڈلز سے زیادہ تعداد میں استعمال ہوئے۔
کنگز کالج لندن میں عسکری ٹیکنالوجی کی ماہر ڈاکٹر مرینا میرون نے کہا کہ ’جیٹ طاقت سے چلنے والے ڈرونز کی طرف جانے کی وجہ یہ ہے کہ وہ پچھلے ماڈل کے مقابلے میں بہت زیادہ تیز ہیں اور اس سے یوکرین کے لیے انھیں روکنا کہیں زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔‘
یہ اپ گریڈ شدہ ہتھیار 300 میل فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار سے پرواز کر سکتے ہیں، جو پرانے ماڈلز کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے اورکیئو کے روکنے والے ڈرونز کی زیادہ سے زیادہ رفتار سے بھی کہیں آگے ہے۔
یہ ڈرون ’ٹربوجیٹ انجنوں‘ سے چلتے ہیں جن میں سے بعض، یوکرینی فوجی انٹیلی جنس کے مطابق چین سے حاصل کیے جاتے ہیں۔
زیلنسکی کے مطابق یکم ستمبر کو کم از کم 12 افراد کی ہلاکت اور مزید 20 کے زخمی ہونے والے حملوں کی ایک لہر میں ان ڈرونز کا استعمال کیا گیا۔
ہلاک ہونے والوں میں سے چھ ریلوے کارکن تھے جو کیئو میں ایک ڈپو پر حملے کے بعد جان کی بازی ہار گئے تھے۔
بدھ کے روز مالدووا کی حکومت نے کہا کہ زیلنسکی کو لے جانے والے طیارے کی منگل کو چیسیناؤ ہوائی اڈے پر آمد میں تاخیر ہوئی کیونکہ ایک روسی ڈرون جس کے بارے میں اطلاع ہے کہ وہ جیٹ طاقت سے چلنے والا تھا، مالدووا کی فضائی حدود میں داخل ہو گیا تھا۔
اس سال کے شروع میں یوکرین نے روسی ڈرونز کا مقابلہ کرنے میں نسبتاً کامیابی دکھائی اور زیلنسکی کے مطابق طویل فاصلے تک مار کرنے والے 94 فیصد ڈرونز کو تباہ کیا گیا۔
لیکن نئے ڈرونز کی رفتار نے کیئو اور ماسکو کے درمیان اسلحے کی دوڑ کے تازہ مرحلے کو جنم دیا ہے۔
10 اگست کو یوکرین کی فوجی انٹیلی جنس کے نائب سربراہ میجر جنرل وادیم سکیبِتسکی نے کہا کہ ان کی افواج کو ایسے نئے انٹرسیپٹر میزائل درکار ہیں جو ’جیٹ ڈرونز کی رفتار کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔‘
جیٹ ڈرونز، سستے کروز میزائل؟
یوکرینی حکام نے حال ہی میں صحافیوں کو بتایا کہ یوکرین کی چار کمپنیاں ایسے میزائلوں کی آزمائش شروع کر چکی ہیں جو نئے گیران ماڈلز کو مار گرا سکتے ہیں۔
ملک کے نئے وزیر دفاع یوہینیئی خمارا نے ماہرین کو ہدایت دی ہے کہ وہ جتنی جلد ممکن ہو ’ہزاروں یونٹس‘ تیار کریں۔
روس کے پاس جیٹ طاقت سے چلنے والے ڈرونز میں سرمایہ کاری کرنے کی معاشی وجہ بھی موجود تھی۔
تھنک ٹینک فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریز سے وابستہ جان ہارڈی نے کہا کہ ان ماڈلز کی بڑھتی ہوئی رفتار اور چالاکی کی وجہ سے ان اور زیادہ مہنگے کروز میزائلوں کے درمیان فرق ’کم‘ ہو گیا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے ایک طرفہ حملہ آور ڈرون بنیادی طور پر کم لاگت والے کروز میزائل ہیں۔
’جتنا زیادہ آپ کسی ڈرون میں صلاحیتیں شامل کرتے ہیں، ڈرون اور نسبتاً کم درجے کے کروز میزائل کے درمیان فرق اتنا ہی کم معنی رکھتا ہے۔‘
لیکن تجزیاتی ادارے کانفلکٹ آرمامنٹ ریسرچ نے اس بات پر زور دیا کہ جیٹ ڈرونز ابھی کروز میزائلوں جتنے ترقی یافتہ نہیں ہیں۔
ادارے کا کہنا ہے کہ ان ہتھیاروں کی حملے کی حد کم ہے، ان میں کہیں چھوٹے وارہیڈ ہوتے ہیں اور یہ جیمنگ سسٹمز سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔

دریں اثنا سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماسکو یوکرین میں جنگ کے لیے مختص اہم تنصیبات کو جیٹ طاقت سے چلنے والے ڈرونز کے لیے دوبارہ ڈیزائن کر رہا ہے، جہاں اوریول خطے کے تسمبولوفا میں ایک بالکل نئے اڈے پر ان ہتھیاروں سے منسلک سازو سامان دیکھا جا سکتا ہے۔
اس تنصیب پر متعدد لانچ مقامات تعمیر کیے گئے معلوم ہوتے ہیں، جو یوکرینی سرحد سے تقریباً 109 میل (175 کلومیٹر) کے فاصلے پر واقع ہے۔
اس تنصیب کے فعال ہونے کے بعد سے تسمبولوفا روسی ڈرون حملوں کا ایک اہم مرکز بنتا دکھائی دیتا ہے۔
اوریول خطہ، جہاں تسمبولوفا اڈہ واقع ہے، ستمبر 2024 سے پہلے فضائیہ کی رپورٹس میں ڈرون لانچ کرنے کے مقام کے طور پر ذکر نہیں کیا گیا تھا، لیکن اگست 2026 تک تقریباً ہر حملے میں اس کا نام لیا گیا۔

یوکرین کے لیے نیا چیلنج
جیٹ طاقت سے چلنے والے ڈرونز کے پھیلاؤ کا یہ رجحان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بی بی سی ویریفائی کو علم ہوا کہ روس اب تقریباً ہفتے میں ایک بار یوکرین پر سینکڑوں ڈرونز اور میزائلوں پر مشتمل پیچیدہ حملے کر رہا ہے۔
رینڈ تھنک ٹینک کے تجزیہ کار مائیکل بوہنرٹ نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا کہ حملوں کے حجم میں اضافہ اس وجہ سے ممکن ہو رہا ہے کہ ماسکو ’ہتھیاروں کی زیادہ متنوع اقسام‘ کو یکجا کر رہا ہے، جن میں جیٹ طاقت سے چلنے والے اور دھوکا دینے والے ڈرونز شامل ہیں، اور انھیں مہنگے بیلسٹک میزائلوں کے ساتھ استعمال کر رہا ہے جنھیں روکنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔
کیئو کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماسکو اب فی حملہ چار سال پہلے کے مقابلے میں 15 گنا سے زیادہ ڈرون استعمال کر رہا ہے۔
بوہنرٹ نے مزید کہا کہ ان حملوں کی پیچیدہ حکمتِ عملی اور بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کی صلاحیت رکھنے والے فضائی دفاعی نظاموں کی دنیا بھر میں قلت کے باعث یوکرین کے لیے ڈرونز اور میزائلوں کو تباہ کرنے کی شرح کم ہوئی ہے۔ ان نظاموں کی قلت کی ایک وجہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ بھی ہے۔
یوکرین کی فضائیہ کے اعداد و شمار نے جولائی کے اختتام تک بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کی شرح میں کمی کو ظاہر کیا۔
اگست میں کیئو نے زیادہ تر ایسے اعداد و شمار شائع کرنا بند کر دیے جن سے اس کی روک تھام کی شرح ظاہر ہوتی۔