ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ مکہ معاہدے میں شامل کسی ایک فریق پر حملہ ہوا تو معاہدے میں شامل تینوں ممالک مل کر لائحہ عمل طے کریں گے اور اسی کے مطابق عمل درآمد کیا جائے گا۔
عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دفاعی وعدوں پر عمل درآمد کا طریقہ کار عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا جاتا کیونکہ فوجی کارروائیوں اور سکیورٹی سے متعلق معلومات خفیہ ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدے پر کسی کو اعتراض نہیں یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد خطے میں امن اور استحکام برقرار رکھنا ہے۔ ان کے مطابق معاہدے میں کوئی جارحانہ پہلو نہیں بلکہ یہ ایک دوسرے کے لیے معاون دفاعی تعاون ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ بھارت اپنی فوجی طاقت بڑھانے کیلئے بہت زیادہ وسائل خرچ کر رہا ہے تاہم پاکستان کی دفاعی صلاحیتیں خالصتاً دفاعی نوعیت کی ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کسی اسلحے کی دوڑ میں شامل ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کے کسی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں ہمیں اپنی دفاعی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہے۔
افغانستان کی صورتحال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹس میں افغانستان میں درجنوں دہشت گرد تنظیموں کا ذکر ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان کو دنیا کا دہشت گردی کا مرکز نہیں بننا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے دہشت گردوں کو تربیت دے رہی ہے جبکہ پاکستان کا واحد مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہ کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ مکہ معاہدے میں شامل ممالک کے دیگر ملکوں کے ساتھ اپنے آزادانہ اور الگ تعلقات بھی ہیں، جبکہ معاہدہ باہمی دفاعی تعاون اور ایک دوسرے کیلئے معاونت کی یقین دہانی سے متعلق ہے۔