شوگر انڈسٹری کو بحران کا خدشہ، چینی کی برآمدی حد بڑھانے اور ڈی ریگولیشن کا مطالبہ

image

شوگر انڈسٹری کے اسٹیک ہولڈرز نے شعبے کو ممکنہ بحران سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے چینی کے شعبے کو ڈی ریگولیٹ کرنے اور برآمدی کوٹہ بڑھانے پر زور دیا ہے۔

شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ذکا اشرف نے کہا ہے کہ شوگر سیکٹر ملک کی ٹیکسٹائل کے بعد دوسری بڑی صنعت ہے اور وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کو براہ راست و بالواسطہ ٹیکسوں کی مد میں تقریباً 300 ارب روپے فراہم کرتا ہے۔

ذکا اشرف کے مطابق شوگر انڈسٹری ملک کے سب سے زیادہ ریگولیٹڈ شعبوں میں شامل ہے۔ حکومت نے صنعت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کیا جائے گا، تاہم اس وعدے پر تاحال عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ چینی کا موجودہ برآمدی کوٹہ 2 لاکھ ٹن سے بڑھا کر 10 لاکھ ٹن کیا جائے اور فوری طور پر 10 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی منظوری دی جائے۔

شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے حکومت پر زور دیا کہ شوگر سیکٹر کی مکمل ڈی ریگولیشن کی جائے تاکہ صنعت کو درپیش مسائل کا خاتمہ اور شعبے کو مستحکم کیا جاسکے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US