جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمان نے حوثیوں کی جانب سے مکہ مکرمہ پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے پورے عالم اسلام پر حملہ قرار دیا ہے۔
بیان میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مکہ مکرمہ محض ایک شہر نہیں بلکہ کروڑوں اربوں مسلمانوں کی عقیدتوں کا مرکز ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر مکہ مکرمہ پر ایسا کوئی حملہ ہوتا ہے تو بدبخت حملہ آور امت مسلمہ کے غیض و غضب اور شدید ردعمل سے نہیں بچ سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ اس حملے کا پوری شدت سے بھرپور جواب دے گی اور سعودی عرب کا تحفظ ہر صورت یقینی بنائے گی۔ مولانا نے زور دیا کہ تمام مسلمان ممالک، بالخصوص پاکستان، اس حساس اور مشکل وقت میں حرم مکی اور سعودی عرب کے دفاع میں پیش پیش رہیں، جبکہ حکومت پاکستان حرمین شریفین کے تحفظ سے متعلق اپنی واضح پالیسی کا فوراً اعلان کرے۔
جے یو آئی سربراہ نے روز بروز بڑھتے ہوئے درپیش چیلنجز کے پیش نظر ایک مضبوط اور مؤثر اسلامی بلاک قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جمعیت علماء اسلام کے لاکھوں کارکنان مملکتِ سعودی عرب کے اس دکھ اور غم میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس واقعے نے امریکا اور مغربی دنیا کے منافقانہ اور دوغلے رویے کو ایک بار پھر طشت از بام کر دیا ہے۔