موت کے 40 سال بعد پہچان پانے والے شاعر جن کی غزلیں نصرت نے بھی گائیں

ناول نگار جسبیر بھلر کہتے ہیں سکھبیر سنگھ سندھو اب دوبارہ زندہ ہو گیا ہے۔ پہلے مجھے بہت برا لگتا تھا جب معروف فنکار نصرت فتح علی خان، اکرم راہی، مراتَب علی اور نصیبو لال اس کی تخلیق گاتے تھے۔
تصویر
Jasbir singh Bhullar/BBC
سکھبیر سنگھ سندھو اور ان کی کتاب کی تصویر

’اُس بے وفا دی یاد وچ، رویاں کراں کہ ناں

بیتے دناں دی فیر، تمناں کراں کہ ناں‘

بہت سے لوگوں نے یہ پنجابی غزل اکثر کئی معروف فنکاروں کی آواز میں سُنی ہو گی، لیکن یہ غزل کہنے والے شاعر ہمیشہ گمنام ہی رہے۔

اس غزل کو پاکستان کے معروف اور سُریلے گلوکاروں بشمول نصرت فتح علی خان، اکرم راہی، مراتب علی اور نصیبو لال نے بھی گایا ہے۔

کئی بار اس پنجابی غزل کی تخلیق کا سہرا شیو کمار بٹالوی کے سر باندھا گیا، جس کے باعث اصل شاعر کا نام مزید پردے کے پیچھے چلا گیا۔

پنجابی ادب سے وابستہ کئی شخصیات نے ماضی میں کوشش کر کے اس شاعر کو تلاش کرنے کی کوشش کی، مگر کوئی خاص کامیابی نہ مل سکی۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ غزل سنہ 1986 میں وفات پانے والے پنجابی شاعر سکھبیر سنگھ سندھو کی تھی۔ اُن کی موت کے 40 سال بعد اب اُن کی معروف غزلوں اور کلام کو دوبارہ کتابی شکل دی گئی ہے۔

سکھبیر سنگھ سندھو نے اپنی زندگی میں بھی اپنے کام کو ایک کتاب کی صورت دی تھی، لیکن وہ کتاب کبھی منظر عام پر نہ آ سکی، اور محض ردی بن گئی۔

اُس کتاب کی تقریباً 10 کاپیاں خاندان کے افراد اور رشتہ داروں تک پہنچ سکی تھیں۔

سکھبیر سندھو کے ایک رشتہ دار کے مطابق اِن 10 کتابوں کی حالت بھی خستہ ہے اور اپنے آخری ایام میں سکھبیر سنگھ سندھو شراب نوشی کی لت میں مبتلا تھے اور اُن کی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ اپنا کلام دوبارہ شائع کروانے کے بارے میں سوچ بھی سکتے۔

تصویر
BBC
یہ غزل سکھبیر سندھو کے پہلے اور آخری مجموعۂ غزل ’پائل‘ میں 1973 میں شائع ہوئی تھی

یہ غزل پہلی بار کہاں شائع ہوئی تھی؟

سکھبیر سندھو ناول نگار جسبیر بھلر کی بہن نرمل کے شوہر تھے۔

ناول نگار جسبیر بھلر بتاتے ہیں کہ ’اس بے وفا دی یاد وچ‘ غزل پہلی بار 1964-1963 میں کرتار سنگھ بلگن اور ودھاتا سنگھ تیر کے رسالے ’کویتا‘ میں شائع ہوئی تھی۔

بعد میں یہ سکھبیر سندھو کے پہلے اور آخری مجموعۂ غزل ’پائل‘ میں سنہ 1973 میں شائع ہوئی۔

جسبیر بھلر بتاتے ہیں کہ انگلینڈ سے واپس آ کر سکھبیر سنگھ ترن تارن شہر میں ایک ریستوران چلاتے تھے۔ اسی دوران اُنھوں نے اپنی غزلوں کی کتاب شائع کروانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس وقت پنجابی کتابیں شائع کرنے والے تمام ناشر انڈیا کے شہر امرتسر میں تھے۔

جسبیر بھلر کے مطابق ’سکھبیر کے گھر کے قریب ہی باجوا پرنٹنگ پریس تھی۔ اس پرنٹنگ پریس میں عام طور پر کتابیں اشاعت کے لیے نہیں آتی تھیں، لیکن ہمسائیگی کے باعث باجوا پرنٹنگ والے وہ کتاب چھاپنے پر آمادہ ہو گئے۔ سکھبیر نے اپنی کتاب کا نام اپنے ریسٹورنٹ کے نام پر ’پائل‘ رکھا تھا۔‘

اُن کے بقول پرنٹنگ پریس نے کتاب کی 1100 کاپیاں چھاپ دیں، لیکن ان کے پاس کتابوں کی جلد بندی کا انتظام نہیں تھا، کیونکہ اُنھوں نے پہلے کبھی کسی کتاب کی جلد بندی کا کام نہیں کیا تھا۔

’مگر کسی نہ کسی طرح اُنھوں نے 10 کتابوں کی جلدیں بنوا دیں اور پھر ہاتھ کھڑے کر دیے۔ بعد میں یہ کتابیں ردی بن گئیں اور پرنٹنگ پریس والوں نے یہ ردی اُن کے گھر لا کر رکھ دی۔ جن کتابوں کی جلد بندی ہوئی تھی، ان میں سے ایک کتاب میرے پاس موجود ہے۔‘

سکھبیر سنگھ سندھو کون تھے؟

تصویر
Jasbir singh Bhullar

اُن کی اپنی کتاب کے مطابق سکھبیر سنگھ کی پیدائش 12 اگست 1932 کو ضلع ترن تارن کے گاؤں کلسیاں خورد میں ہوئی تھی۔

اُن کے والد سردار سنگھ سندھو ترن تارن شہر کے گورو ارجن دیو خالصہ ہائی سکول میں استاد تھے۔

اسی شہر سے سکھبیر نے ایم اے بی ٹی تک رسمی تعلیم حاصل کی۔ اپنی زندگی میں سکھبیر سندھو نے کلرک، استاد، پنجاب کے محکمہ تعلقات عامہ میں ڈرامہ انسپکٹر اور انگلینڈ میں سپرے پینٹر کے طور پر بھی کام کیا۔

ترن تارن میں ہی سکھبیر سنگھ نے ’پائل ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ‘ بھی قائم کیا تھا۔ لندن میں وہ پنجابی ساہت سبھا کے جنرل سیکریٹری بھی رہے۔

محکمہ تعلقات عامہ میں اُنھوں نے کپور تھلہ میں ملازمت کی۔ اس کے بعد وہ انگلینڈ چلے گئے۔

کافی عرصہ وہاں رہنے کے بعد وہ واپس ترن تارن آئے اور ریسٹورنٹ کھول لیا۔ انگلینڈ میں وہ ساؤتھ ہال میں رہتے تھے۔

وہ گمنامی سے کیسے نکلے؟

شاعر پروفیسر گربھجن سنگھ گل بتاتے ہیں کہ میں ’بے وفا دی یاد‘ غزل بہت بار سُن چکا تھا۔ دل شکستہ عاشق اکثر یہ غزل گاتے تھے۔ لوگ اسے شیو کمار بٹالوی کی غزل کہہ کر گاتے تھے۔

’میں شیو کمار بٹالوی کے تخلیقی اسلوب سے واقف تھا۔ اس لیے مجھے معلوم تھا کہ یہ غزل شیو کمار کی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ فن کے شعبے سے وابستہ مجھ سے بڑی کئی شخصیات نے بھی مجھے بتایا تھا کہ یہ تخلیق شیو کی نہیں ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ جس تخلیق کو بڑے بڑے فنکاروں نے گایا ہو اور جو بے شمار سٹیجوں پر پیش کی گئی ہو، اس کا اصل وارث کون ہے؟ ایک معروف غزل کا شاعر گمنام کیسے رہ سکتا ہے؟ میرے اندر اس شاعر کو تلاش کرنے کی خواہش تھی لیکن کوئی معلومات نہیں مل رہی تھیں۔

اُن کے بقول سنہ 2010 میں وہ کلکتہ گئے جہاں اُن کی ملاقات پنجابی ناول نگار موہن کاہلوں سے ہوئی۔ ’اُنھوں نے بتایا کہ اس غزل کا شاعر سکھبیر سندھو ہے جو کبھی ترن تارن میں رہتا تھا۔ میں نے ترن تارن کے کئی لکھاریوں سے سکھبیر سندھو کے بارے میں پوچھا لیکن کوئی بھی ان کے نام سے واقف نہیں تھا۔‘

’پھر ایک دن اتفاقاً میری ملاقات پنجابی ادیب کرنل جسبیر بھلر سے ہوئی۔ اُنھوں نے بتایا کہ سکھبیر سندھو اُن کے رشتہ دار تھے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ سکھبیر نے ’پائل‘ کے نام سے ایک کتاب شائع کروائی تھی جو لوگوں تک نہیں پہنچ سکی۔ آخرکار جسبیر بھلر نے ’پائل‘ کی واحد دستیاب کاپی ڈھونڈ نکالی۔‘

تصویر
BBC

ناول نگار جسبیر بھلر کہتے ہیں ’سکھبیر سنگھ سندھو اب دوبارہ زندہ ہو گیا ہے۔ پہلے مجھے بہت بُرا لگتا تھا جب معروف فنکار نصرت فتح علی خان، اکرم راہی، مراتَب علی اور نصیبو لال اس کی تخلیق گاتے تھے۔‘

’کالجوں کے گائیکی کے مقابلوں میں اُن کی غزلیں گائی جاتی تھیں، لیکن سکھبیر سنگھ سندھو کے نام کا ذکر نہیں ہوتا تھا۔ کئی بار لوگ اپنے اشعار شامل کر کے اُن کی تخلیق کو اپنے نام سے منسوب کر دیتے تھے۔‘

’لیکن اب سکھبیر سندھو کو ان کی تخلیقات کا کریڈٹ ملنا شروع ہو گیا ہے۔ یہ جان کر مجھے بہت خوشی ہوتی ہے۔‘

تصویر
Surjit Singh Sandhu (EX-ETO)

گاؤں میں کتابیں کیوں تقسیم کی گئیں؟

پنجاب حکومت سے ریٹائرڈ ای ٹی او سرجیت سنگھ سندھو کہتے ہیں ’ہمیں چند دن پہلے معلوم ہوا کہ ہمارے گاؤں کے ایک شخص نے دنیا بھر میں گائی جانے والی مشہور غزلیں لکھی ہیں۔ فوراً ہم نے کتابیں خرید کر گاؤں میں تقسیم کیں تاکہ لوگوں کو معلوم ہو سکے کہ اس گاؤں میں پیدا ہونے والے سکھبیر سندھو کی تخلیقات کیا ہیں اور لوگ اُن کے بارے میں جان سکیں۔‘

ناول نگار جسبیر بھلر بتاتے ہیں کہ ’سکھبیر سندھو کو شراب کی حد سے زیادہ لت تھی۔ خاندان نے انھیں شراب چھوڑنے پر مجبور کرنے کی بہت کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ملی۔ بعد میں اُنھوں نے کئی بار لکھنے کی کوشش کی مگر قلم نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔‘

اُن کے بقول آخری دنوں میں اُنھیں گینگرین بھی ہو گیا تھا اور پھر پانچ جون 1986 کو اُنھوں نے آخری سانسیں لیں۔

سکھبیر سنگھ سندھو اپنی زندگی میں وہ عزت حاصل نہ کر سکے جس کے وہ حقدار تھے، لیکن 40 سال بعد اب اُن کا نام دوبارہ ان کی غزلوں کے ساتھ جڑ رہا ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US