حکومت کا بڑا کفایت شعاری پلان، بازاروں سے سرکاری دفاتر تک نئے اوقات اور پابندیاں

image

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد وفاقی حکومت نے سرکاری اخراجات کم کرنے کے لیے تین ماہ کی کفایت شعاری مہم شروع کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ اس مہم کے تحت کاروباری سرگرمیوں کے اوقات محدود کرنے کے ساتھ ساتھ سرکاری دوروں، تقریبات، گاڑیوں اور خریداری سے متعلق کئی فیصلے کیے گئے ہیں۔

نوٹیفکیشن کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں اور شاپنگ مالز رات 9 بجے بند کرنا ہوں گے، جبکہ شادی ہالز اور دیگر کمرشل سرگرمیوں کے لیے رات 10 بجے تک کی حد مقرر کی گئی ہے۔ ہوٹل، ریسٹورنٹس اور کیفے بھی رات 11 بجے بند ہوجائیں گے۔ تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری سروسز کو اس پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

شادی کی تقریبات میں صرف ایک ڈش پیش کرنے کی اجازت ہوگی۔ دوسری جانب فارمیسیز، لیبارٹریز، کلینکس، اسپتال، تندور، بیکریاں، دودھ اور ڈیری شاپس، پیٹرول و سی این جی اسٹیشنز اور الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز مقررہ اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔

کفایت شعاری کے تحت آئی ٹی آلات کی خریداری کے علاوہ تمام پائیدار اشیا کی خریداری پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ جم، کھیلوں کی سہولتیں، پیڈل کورٹس، آئی ٹی کمپنیاں اور کال سینٹرز بھی اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ رہیں گے۔

سرکاری اخراجات کم کرنے کے لیے آئندہ تین ماہ تک بیرون ملک سرکاری دوروں اور سفر پر بھی پابندی ہوگی۔ تاہم ناگزیر دوروں کی صورت میں وزرا، مشیران اور سرکاری افسران کو اکانومی کلاس میں سفر کرنا ہوگا۔

سرکاری اجلاسوں کے لیے ویڈیو کانفرنسنگ کو ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ سرکاری عشائیوں کی میزبانی بھی ممنوع ہوگی۔ غیر ملکی وفود کے اعزاز میں دیے جانے والے عشائیے اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔

حکومت کے خرچ پر سیمینارز، تربیتی پروگرامز اور کانفرنسز منعقد کرنے پر بھی پابندی ہوگی۔ اگر کسی سرکاری تقریب کا انعقاد ناگزیر ہو تو سرکاری آڈیٹوریم یا کمیٹی رومز استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

سرکاری گاڑیوں کے حوالے سے بھی اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق 50 فیصد سرکاری گاڑیاں گراؤنڈ کردی جائیں گی جبکہ سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کی فراہمی بھی نصف کردی جائے گی۔ تاہم مسلح افواج، سول آرمڈ فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں، ضروری سروسز اور ایف بی آر کی آپریشنل گاڑیاں ایندھن میں کمی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

مالی سال 2026-27 کے نان ای آر ای بجٹ میں بھی 5 فیصد کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ ہر قسم کی نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔

وفاقی حکومت نے صوبائی اور علاقائی حکومتوں کو بھی اسی نوعیت کے کفایت شعاری اقدامات اپنانے پر غور کرنے کی ہدایت کی ہے۔

نوٹیفکیشن میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کسی مخصوص کفایت شعاری اقدام سے استثنیٰ کی درخواست مکمل پابندی کے بجائے کیس ٹو کیس بنیاد پر دیکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ کمیٹی اپنی سفارش وزیراعظم کو پیش کرے گی، جس کے بعد استثنیٰ دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کیا جائے گا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US