القاعدہ کی نئی پروپیگنڈا ویڈیو میں حمزہ بن لادن کی موجودگی کیا ظاہر کرتی ہے؟

القاعدہ نے نائن الیون حملوں کے 25 برس مکمل ہونے پر 52 منٹ 36 سیکنڈ پر میحط ایک دستاویزی سٹائل کی ویڈیو جاری کی ہے جس میں اُسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ بن لادن کی ایسی فوٹیج شامل کی گئی ہے جو بظاہر پہلے کبھی منظرِ عام پر نہیں آئی ہے۔

القاعدہ نے 11 ستمبر 2001 کو امریکہ میں ہونے والے حملوں کے 25 برس مکمل ہونے پر 52 منٹ 36 سیکنڈ پر میحط ایک دستاویزی سٹائل کی ویڈیو جاری کی ہے جس میں اُسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ بن لادن کی ایسی فوٹیج شامل کی گئی ہے جو بظاہر پہلے کبھی منظرِ عام پر نہیں آئی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت صدارت کے دوران (سنہ 2019 میں) اعلان کیا تھا القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ بن لادن کو ایک امریکی حملے میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔ تاہم واشنگٹن نے کبھی یہ نہیں بتایا کہ حمزہ کب، کہاں اور کن حالات میں مارے گئے تھے۔

مگر اب القاعدہ کی نئی پروپیگنڈا ویڈیو میں حمزہ بن لادن براہ راست کیمرے سے مخاطب ہو کر پیغامات دیتے دکھائی دیے ہیں جس کے بعد آن لائن جہادی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں دوبارہ زیر بحث ہیں کہ ممکن ہے وہ (حمزہ) اب بھی زندہ ہوں۔

’11 ستمبر حملوں کے ایک چوتھائی صدی (25 سال) بعد‘ کے عنوان سے یہ 52 منٹ کی ویڈیو القاعدہ کے میڈیا ونگ ’السحاب‘ کی جانب سے ’راکٹ چیٹ‘ اور ’ٹیلیگرام‘ پر جاری کی گئی۔ اس طویل ویڈیو کو ’حصہ اول‘ قرار دیا گیا ہے اور اِس کے اختتام پر ’انشا اللہ، جاری ہے‘ کے الفاظ درج ہیں، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ بعدازاں اس ویڈیو کی مزید اقساط بھی جاری کی جا سکتی ہیں۔

ویڈیو میں 11 ستمبر کے حملوں کے امریکہ اور عالمی جہادی تحریک پر اثرات سے متعلق القاعدہ کے دیرینہ بیانیے کو نمایاں انداز میں پیش کیا گیا ہے اور اس میں آرکائیو فوٹیج اور القاعدہ کے سابق سینیئر رہنماؤں بشمول اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کے پیغامات شامل کیے گئے ہیں۔

القاعدہ کی سابقہ دستاویزی طرز کی ویڈیوز کی طرح 10 ستمبر 2026 کو جاری ہونے والی ویڈیو میں بھی مغربی شخصیات اور سرکاری حکام کے بیانات کو منتخب انداز میں استعمال کیا گیا ہے تاکہ تنظیم کے مؤقف کو بیرونی تائید حاصل ہونے کا تاثر دیا جا سکے۔

خاص طور پر سابق سی آئی اے افسر مائیکل شیور، جو اسامہ بن لادن کا سراغ لگانے والے ادارے کے یونٹ کے سربراہ رہ چکے ہیں، کو ویڈیو میں نمایاں طور پر شامل کیا گیا ہے۔

اس پروپیگنڈا ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ9/11 کے بعد امریکہ میں بڑی تبدیلیاں آئیں اور جہادی گروہ دنیا کے مختلف حصوں میں پھیل گئے۔

خیال رہے 2015 سے 2018 کے دوران حمزہ بن لادن نے القاعدہ کی میڈیا سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کیا اور تنظیم کی جانب سے مغرب اور دیگر اہداف کے خلاف دھمکی آمیز پیغامات جاری کیے۔ تاہم وہ اس عرصے میں براہِ راست ویڈیو میں نظر نہیں آئے۔ ان کے پیغامات عموماً تحریری یا آڈیو شکل میں جاری کیے جاتے تھے، جبکہ بعض ویڈیوز میں ان کی بچپن کی پرانی فوٹیج استعمال کی جاتی تھی۔

Osama Bin Laden
Getty Images
امریکی دفترِ خارجہ کے مطابق ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ سے ملنے والے خطوط سے ظاہر ہوتا ہے کہ القاعدہ کے بانی اپنے بیٹے حمزہ کو مستقبل میں تنظیم کی قیادت سنبھالنے کے لیے تیار کر رہے تھے۔

حمزہ بن لادن کی نایاب فوٹیج میں کیا ہے؟

جہادی تنظیموں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق القاعدہ کی جانب سے جاری کی گئی اس ویڈیو کا شاید سب سے نمایاں پہلو حمزہ بن لادن کی اس میں موجودگی ہے۔

امریکہ نے 2019 میں اعلان کیا تھا کہ اس نے افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقے میں انسدادِ دہشت گردی کی ایک کارروائی کے دوران حمزہ بن لادن کو ہلاک کر دیا ہے، تاہم اُس وقت اور آنے والے برسوں میں اُن کی ہلاکت کے وقت اور مقام کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

ماضی میں القاعدہ حمزہ بن لادن کے آڈیو پیغامات جاری کر چکی ہے اور انھیں اپنی آرکائیو ویڈیوز میں جہادی اجتماعات اور اُن کی شادی کی تقریب کے مناظر میں مختصر طور پر بھی دکھا چکی ہے۔ تاہم نئی دستاویزی ویڈیو میں پہلی مرتبہ حمزہ بن لادن، یا کم از کم وہ شخص جسے ویڈیو میں حمزہ بن لادن قرار دیا گیا ہے، واضح طور پر کیمرے کے سامنے براہِ راست پیغام دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

اس ویڈیو میں وہ تین مختلف کلپس میں نظر آتے ہیں، جو بظاہر ایک ہی ریکارڈنگ سے لیے گئے ہیں۔

اس ویڈیو میں شامل اُن کے بیانات میں زیادہ تر عمومی جہادی بیانیہ، دعوے اور اپیلیں شامل ہیں اور کسی ایسے مخصوص واقعے کا ذکر نہیں کیا گیا جس کی بنیاد پر ان کے ریکارڈ کیے جانے کا وقت متعین کیا جا سکے۔ اسی وجہ سے ویڈیو سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ یہ پیغامات کب ریکارڈ کیے گئے یا القاعدہ حمزہ بن لادن کو زندہ سمجھتی ہے یا فوت شدہ۔

ایک کلپ میں حمزہ بن لادن کے بیانات کے ساتھ حالیہ واقعات کی تصاویر اور مناظر بھی دکھائے گئے ہیں، جن میں سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کا حملہ اور اگست 2021 میں افغانستان میں طالبان کی اقتدار میں واپسی شامل ہے۔ اگرچہ حمزہ بن لادن خود اس ویڈیو میں اِن واقعات کا کوئی حوالہ نہیں دیتے، لیکن اس اندازِ پیشکش سے یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ ان کا پیغام نسبتاً حالیہ عرصے میں، ممکنہ طور پر 2019 میں اُن کی مبینہ ہلاکت کے اعلان کے بعد ریکارڈ کیا گیا تھا۔

قابلِ ذکر بات یہ بھی ہے کہ ویڈیو میں ان کا تعارف صرف ’مجاہد شیخ حمزہ بن لادن‘ کے طور پر کروایا گیا ہے۔ اُن کے نام کے ساتھ وہ لاحقے استعمال نہیں کیے گئے جو عموماً جہادی حلقوں میں رائج ہیں، یعنی زندہ شخص کے لیے ’حفظہ اللہ‘ اور ہلاک ہو جانے والے کے لیے ’رحمہ اللہ‘۔ مبصرین کے مطابق یہ ابہام دانستہ بھی ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ اِسی نوعیت کا ابہام القاعدہ کے سابق سربراہ ایمن الظواہری کے حوالے سے بھی برقرار رکھا گیا ہے، جن کے بارے میں امریکہ نے کہا تھا کہ وہ جولائی 2022 میں کابل میں ایک ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔ نئی ویڈیو میں ان کا ذکر کرتے وقت بھی کہیں واضح طور پر یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ زندہ ہیں یا وفات پا چکے ہیں۔

اگرچہ القاعدہ نے امریکی دعوے کے بعد الظواہری کے بارے میں کوئی سرکاری وضاحت جاری نہیں کی، لیکن تنظیم کے حامی حلقوں میں طویل عرصے سے یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ واقعتاً ہلاک ہو چکے ہیں۔

ویڈیو میں القاعدہ کے ممکنہ موجودہ سربراہ سیف العدل کی حیثیت کے بارے میں بھی کوئی واضح اشارہ نہیں دیا گیا۔ ان کا ذکر صرف ’شیخ‘ کے نام سے کیا گیا ہے اور اُن کی سابقہ تحریروں سے اقتباسات پیش کیے گئے ہیں۔ تاہم ویڈیو میں نہ تو انھیں تنظیم کا سربراہ قرار دیا گیا ہے اور نہ ہی ان کے موجودہ مقام کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

حمزہ بن لادن کی ویڈیو میں موجودگی نے سکیورٹی اُمور کے مبصرین اور تجزیہ کاروں کی خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ بعض ماہرین نے اس فوٹیج کو اس بات کے ممکنہ اشارے کے طور پر دیکھا کہ حمزہ اب بھی زندہ ہو سکتے ہیں۔

کچھ مبصرین نے اس بات کی جانب اشارہ کیا کہ ویڈیو میں حمزہ بن لادن سفید عمامہ پہنے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور پس منظر میں کچی مٹی کی دیوار نظر آتی ہے، جو ماضی میں افغانستان میں سرگرم جہادی گروہوں سے منسوب ویڈیوز سے مشابہت رکھتی ہے۔ اُن کے مطابق یہ ممکن ہے کہ پیغام ریکارڈ کرواتے وقت وہ افغانستان میں موجود ہوں۔

دوسری جانب اب تک جہادی حامی حلقوں کی جانب سے اس ویڈیو یا حمزہ بن لادن کی ظاہری موجودگی پر وسیع پیمانے پر ردعمل سامنے نہیں آیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کی ایک وجہ گذشتہ کم از کم دو برس کے دوران آن لائن فعال القاعدہ حامیوں کی تعداد میں نمایاں کمی بھی ہو سکتی ہے۔

نمایاں جہادی مبصر حمید القاوسی، جو خود کو ایک محقق کے طور پر پیش کرتے ہیں لیکن القاعدہ سے ہمدردی رکھنے والے سمجھے جاتے ہیں، نے بھی حمزہ بن لادن اور ایمن الظواہری کی ویڈیو میں موجودگی کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ویڈیو سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ ان دونوں میں سے کوئی زندہ ہے یا وفات پا چکا ہے۔

انھوں نے نشاندہی کی کہ ویڈیو میں دونوں شخصیات کے ناموں کے ساتھ وہ دعائیہ الفاظ استعمال نہیں کیے گئے جو عموماً کسی شخص کے زندہ یا فوت ہونے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان کے بقول یہی پہلو ویڈیو میں جان بوجھ کر ابہام برقرار رکھنے کی کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔

حمزہ کی موجودگی کیا اُن کی موت کی تصدیق کا اشارہ ہے؟

سویڈن میں مقیم محقق عبدالسید، جو القاعدہ اور جہادی تنظیموں کے میڈیا و پروپیگنڈا پر تحقیق کرتے ہیں، اس ویڈیو کو القاعدہ کے میڈیا ونگ ’السحاب‘ کی ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیتے ہیں تاہم وہ حمزہ بن لادن اور ایمن الظواہری کی پہلے کبھی منظرِ عام پر نہ آنے والی فوٹیج کو منفرد واقعہ نہیں سمجھتے۔

بی بی سی نیوز اُردو سے بات کرتے ہوئے عبدالسید کا کہنا تھا کہ سنہ 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا اور طالبان کے دوبارہ برسراقتدار آنے کے بعد السحاب میڈیا نے متعدد ایسی تاریخی ویڈیوز اور تصاویر جاری کیں جنھیں پہلے کبھی منظرِ عام پر نہیں لایا گیا تھا۔

وہ ستمبر 2019 میں افغانستان میں ایک امریکی حملے میں مارے جانے والے القاعدہ برصغیر کے بانی سربراہ مولانا عاصم عمر کی 2022 میں جاری کی گئی ویڈیو کی مثال دیتے ہیں جس میں ماضی کے برعکس اُن کا چہرہ ڈھکا ہوا نہیں تھا۔

عبدالسید کے نزدیک یہ ایک لحاظ سے عاصم عمر کی ہلاکت کی پہلی غیر رسمی تصدیق تھی، کیونکہ القاعدہ نے اس سے قبل اُن کی موت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی تھی۔

یاد رہے کہ القاعدہ ماضی میں اپنے رہنماؤں کی کُھلے چہرے کے ساتھ تصاویر یا ویڈیوز اُن کی ہلاکت کے بعد ہی جاری کرتا رہا ہے۔

عبدالسید کے مطابق سنہ 2024 میں السحاب نے ایک طویل ویڈیو ڈاکومنٹری ریلیز کی جس میں 2001 کے بعد افغانستان اور پاکستان کے خطے میں امریکی، افغان اور پاکستانی فورسز کے ہاتھوں مارے جانے والے سرکردہ کمانڈرز کی پہلی مرتبہ فوٹیج ریلیز کی گئی۔

اُن میں خالد حبیب اور ابوعبیدہ المصری جیسے سینیئر القاعدہ کمانڈرز شامل تھے، جنھوں نے نائن الیون کے بعد افغان اور پاکستانی طالبان کی جنگوں کو منظم کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا اور عالمی سطح پر القاعدہ کی کارروائیوں کے منصوبہ ساز تھے، مگر مارے جانے کے کئی برس بعد اُن کو پہلی مرتبہ دکھایا گیا۔

وہ سمجھتے ہیں کہ حمزہ بن لادن کی فوٹیج کو بھی اِسی سلسلے کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

عبدالسید کے نزدیک ’نئی ویڈیو میں حمزہ بن لادن کی یہ واضح فوٹیج شامل کرنا دراصل القاعدہ کی جانب سے ان کی ہلاکت کی تصدیق ہے، کیونکہ اگر وہ زندہ ہوتے تو القاعدہ اُن کی سکیورٹی کے پیشِ نظر ان کی فوٹیج ویڈیو میں ہرگز شامل نہ کرتی۔‘

خیال رہے القاعدہ عموماً اپنے زندہ کمانڈرز کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے اُن کی شناخت اور مقام کے حوالے سے احتیاط برتتی آئی ہے۔

القاعدہ سمیت عسکریت پسند گروہوں پر نظر رکھنے والے پاکستانی صحافی اور سکیورٹی تجزیہ کار احسان اللہ ٹیپو کے مطابق یہ ویڈیو القاعدہ کی اُس روایت کا تسلسل ہے جس کے تحت تنظیم ہر سال 11 ستمبر کے حملوں کی برسی پر خصوصی مواد جاری کرتی ہے۔

ٹیپو محسود کہتے ہیں کہ ویڈیو میں حمزہ بن لادن کی موجودگی حوصلہ افزائی اور تحریک دینے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے مگر ’میرے خیال میں وہ زندہ نہیں ہیں۔‘

’اُن کے بارے میں ابہام ضرور پایا جاتا ہے۔ لیکن میری رائے میں القاعدہ سے متعلق غیر رسمی ماہرین اور تنظیم سے وابستہ بعض حلقوں کی تحریروں میں بھی ان کی وفات کی جانب اشارے ملتے ہیں۔‘

ٹیپو کے مطابق حمزہ بن لادن کے معاملے میں ایک غیر معمولی بات یہ ہے کہ القاعدہ نے آج تک نہ تو اُن کی موت کی واضح تصدیق کی ہے اور نہ ہی اس کی کھلی تردید کی ہے۔ ٹیپو محسود کے مطابق تنظیم بظاہر اس حوالے سے ابہام برقرار رکھنا چاہتی ہے۔

’اسی لیے جب لوگ حمزہ بن لادن کی کوئی ویڈیو دیکھتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ وہ زندہ ہیں۔‘

ٹیپو محسود کا کہنا ہے کہ حمزہ بن لادن کے بارے میں معتبر اطلاعات یہ ہیں کہ وہ 2018 میں مارے گئے تھے، جبکہ 2019 میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ان کی موت کی تصدیق کر چکے تھے۔ ان کے نزدیک یہی وجہ ہے کہ حمزہ کے زندہ ہونے کے دعوے کے مقابلے میں ان کی وفات کے حق میں شواہد زیادہ مضبوط دکھائی دیتے ہیں۔

حمزہ کو ویڈیو میں شامل کرنے کا مقصد کیا ہو سکتا ہے؟

محقق عبدالسید کے مطابق اس فوٹیج میں حمزہ کو شامل کرنے کا ایک مقصد القاعدہ کی نئی نسل یا نوجوان حامیوں کو متحرک کرنا ہو سکتا ہے۔ ان کے خیال میں اس کے ذریعے یہ پیغام بھی دیا جا رہا ہے کہ القاعدہ اب بھی اسامہ بن لادن کے افکار اور نظریاتی ورثے سے جڑی ہوئی ہے اور اس مقصد کے لیے ان کے بیٹے کو ایک علامتی کردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

ٹیپو محسود بھی عبدالسید سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کا مقصد نوجوان نسل کو ترغیب اور یہ پیغام دینا ہے کہ ہماری قیادت موت، قربانی، قتل کیے جانے یا اپنے بچوں کو کھونے سے خوفزدہ نہیں ہوتی۔ گویا وہ اپنے سامعین کو حوصلہ اور جذبہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ اسی مقصد کے تحت کی جانے والی ایک کوشش ہے۔

ٹیپو محسود کے مطابق جہادی گروہوں میں یہ ایک پرانی روایت رہی ہے۔ وہ یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ وہ صرف دوسروں سے لڑتے اور انھیں قتل نہیں کرتے بلکہ ان کی اپنی قیادت بھی جانیں دیتی ہے اور ان کے بچوں کی بھی ہلاکت ہوتی ہے۔ اس طرح وہ اپنی وابستگی اور عزم کو اپنے کارکنوں اور روایتی فوجوں کے مقابلے میں نمایاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

’ان کے نزدیک یہ تاثر موجود ہوتا ہے کہ قیادت الگ ہوتی ہے اور عام جنگجو الگ، لہٰذا اس تصور کا جواب دینے کے لیے جہادی گروہ اس نوعیت کا پروپیگنڈا کرتے ہیں۔‘

دفاعی اور انسدادِ دہشت گردی اُمور کی ماہر اور ’ایچ نائن‘ کی چیف ایگزیکٹیو سارہ ہرموش کے مطابق حمزہ زندہ ہیں یا نہیں، اس سے قطع نظر القاعدہ کی ویڈیو میں انھیں ایک رابطہ کار کے کردار میں استعمال کیا گیا ہے۔

انھوں نے ایکس پر لکھا کہ اس ویڈیو میں ایک طرف سیف العدل کی نظریاتی اور حکمتِ عملی پر مبنی سوچ پیش کی گئی ہے، دوسری طرف بن لادن خاندان کا نام اور علامتی ورثہ سامنے رکھا گیا ہے، جبکہ نئی بھرتیوں کے لیے بھی اپیل کی گئی ہے۔

سارہ ہرموش کہتی ہیں کہ یہ پیغام 11 ستمبر 2001 کے حملوں کی 25ویں برسی کے موقع پر ایسے نوجوانوں کو مخاطب کرتا دکھائی دیتا ہے جو ان حملوں کے بعد پیدا ہوئے۔ وہ کہتی ہیں کہ ویڈیو کو ’پارٹ ون‘ کا عنوان دیا گیا ہے، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ اس سلسلے کی مزید اقساط بھی سامنے آ سکتی ہیں۔

The FBI website lists Sayf al-Adl (Saif Al-Adel) as a
BBC
مصری سپیشل فورسز کے سابق لیفٹیننٹ کرنل سیف العدل، افغانستان جانے اور القاعدہ میں شامل ہونے سے پہلے مصری اسلامی جہاد کے رُکن تھے۔

سیف العدل: القاعدہ کے مبینہ سربراہ کی حیثیت پر ابہام برقرار

سیف العدل کی حیثیت کے بارے میں بھی ابہام تاحال موجود ہے۔

سیف العدل القاعدہ کے ایک سینیئر رُکن ہیں اور کہا جاتا ہے کہ 2022 میں ایمن الظواہری کی مبینہ ہلاکت کے بعد سے وہ تنظیم کی قیادت کر رہے ہیں۔

القاعدہ کی حالیہ پروپینگڈا ویڈیو میں انھیں صرف ’شیخ‘ کہا گیا ہے، اور اُن کی ایک کتاب سے کئی اقتباسات پیش کیے گئے ہیں، جسے القاعدہ نے سنہ 2023 میں9/11 کے 22 سال مکمل ہونے پر شائع کیا تھا۔

تاہم حالیہ ویڈیو اس میں اس بات کا کوئی اشارہ نہیں کہ وہ تاحال القاعدہ کے سربراہ ہیں، اور نہ ہی ان کے مقام کے متعلق کچھ بتایا گیا ہے۔

سیف العدل کی ایران میں مبینہ موجودگی عرصہ دراز سے تنازع کا باعث رہی ہے۔

خیال رہے مصری سپیشل فورسز کے سابق لیفٹیننٹ کرنل سیف العدل، افغانستان جانے اور القاعدہ میں شامل ہونے سے پہلے مصری اسلامی جہاد کے رُکن تھے۔

وہ القاعدہ کی فوجی کمیٹی کے رکن بنے اور اسامہ بن لادن کی سکیورٹی ٹیم میں بھی شامل کیے گئے۔ سیف العدل ایف بی آئی کی ’انتہائی مطلوب افراد کی فہرست‘ میں شامل ہیں اور امریکہ کو 1998 میں تنزانیہ کے دارالسلام اور کینیا کے نیروبی میں امریکی سفارت خانوں پر ہونے والے بیک وقت بم دھماکوں میں ان کے مبینہ کردار کے حوالے سے مطلوب ہیں۔

ان کی شناخت بھی کئی برس تک موضوعِ بحث رہی ہے۔ ایک عرصے تک انھیں مصری جہادی محمد ابراہیم مکاوی سمجھا جاتا تھا، تاہم بعد میں سامنے آنے والی اطلاعات اور القاعدہ رہنما ابو محمد المصری کی ایک کتاب میں دعویٰ کیا گیا کہ سیف العدل اور محمد مکاوی دو مختلف شخصیات ہیں۔

سنہ 2020 تک سیف العدل الظواہری کے واحد معلوم نائب تھے جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ زندہ ہیں۔

بی بی سی مانیٹرنگ کی ایک تحقیق کے مطابق سیف العدل کو جہادی حلقے، تجزیہ کار اور انٹیلیجنس ادارے القاعدہ کا عملاً یا ’ڈی فیکٹو‘ رہنما سمجھتے ہیں، تاہم تنظیم نے نہ تو ایمن الظواہری کی موت کی باضابطہ تصدیق کی ہے اور نہ ہی کسی نئے سربراہ کا اعلان کیا ہے اور یہی ابہام القاعدہ کی مرکزی قیادت کے بارے میں سوالات کو زندہ رکھتا ہے۔

عبدالسید کے مطابق سنہ 2022 میں ایمن الظواہری کی ہلاکت کے بعد القاعدہ کی رسمی میڈیا پبلیکیشنز میں سیف العدل کی تحریروں اور پیغامات کو خصوصی اہمیت حاصل ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اہم موضوعات، مثلاً غزہ میں اسرائیل حماس جنگ یا جہادیوں کی جنگی حکمتِ عملیوں کے حوالے سے ان کے خیالات متواتر سے پیش کیے جاتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ اہمیت اس حیثیت سے منفرد ہے کہ اس سے قبل القاعدہ کی مرکزی میڈیا پبلیکیشنز میں اس نوعیت کی توجہ اسامہ بن لادن اور پھر ایمن الظواہری جیسے رہنماؤں کو حاصل رہی۔

 9/11 attacks
Getty Images

عبدالسید کے مطابق اس ویڈیو میں بھی ان کی جہادی سٹریٹیجی کو کافی اہمیت سے بیان کیا گیا ہے۔ ’یہ سب ان اشاروں کا تسلسل ہے جو بتاتا ہے کہ شاید وہ ایمن الظواہری کے بعد القاعدہ کے سربراہ بن چکے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اگر القاعدہ میں سیف العدل کی تاریخ کو دیکھا جائے تو وہ ایک ایسی پراسرار شخصیت رہے ہیں جو سخت گیر اور بااثر ہونے کے ساتھ میڈیا سے دور ہیں۔

ٹیپو محسود کہتے ہیں کہ جہاں تک سیف العدل کا تعلق ہے، القاعدہ نے اب تک جولائی 2022 میں کابل میں ایمن الظواہری کی ہلاکت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔

ان کے مطابق اس کی بڑی وجہ افغان طالبان پر پڑنے والا دباؤ ہے۔ اگر القاعدہ ایمن الظواہری کی موت کو تسلیم کر لے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ افغانستان میں موجود تھے۔ افغان طالبان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ایمن الظواہری افغانستان میں موجود نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ القاعدہ نے اُن کی ہلاکت کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔

’اگر القاعدہ ایمن الظواہری کی موت کی تصدیق نہیں کرتی تو پھر وہ سیف العدل کو القاعدہ کا نیا سربراہ بھی باضابطہ طور پر قرار نہیں دے سکتی۔ اسی لیے بین الاقوامی مبصرین اور القاعدہ پر نظر رکھنے والے ماہرین بعض اوقات سیف العدل کو القاعدہ کا ’ڈی فیکٹو‘ (عملاً یا غیر اعلانیہ) رہنما قرار دیتے ہیں۔‘

حمزہ اور سیف العدل کو ایک ہی ویڈیو میں پیش کرنے کی حکمتِ عملی

ٹیپو محسود کا کہنا ہے کہ القاعدہ یہ بتانے کی کوشش کر رہی ہے کہ اسامہ بن لادن سے شروع ہونے والی روایت، ان کی وراثت اور اس کا تسلسل اب سیف العدل تک پہنچتا ہے۔

’جہاں تک سیف العدل کا تعلق ہے، وہ القاعدہ کے ایک عسکری حکمتِ عملی ساز کے طور پر جانے جاتے ہیں، اس لیے ان کی گفتگو کا محور بھی ہمیشہ فوجی حکمتِ عملی اور آپریشنل منصوبہ بندی رہا ہے۔ نظریاتی اعتبار سے وہ اتنے نمایاں نہیں جتنے عسکری اور آپریشنل معاملات میں سمجھے جاتے ہیں۔‘

سارہ ہرموش کے مطابق اس ویڈیو کا مرکزی نکتہ دراصل سیف العدل اور حمزہ بن لادن کو ایک تکمیلی فریم میں پیش کرنا ہے۔ ان کے بقول القاعدہ کے ڈی فیکٹو رہنما سمجھے جانے والے سیف العدل اپنی روایتی پس منظر میں رہنے والی حکمتِ عملی کے مطابق ویڈیو میں خود نظر نہیں آتے، تاہم ان کی کتاب کے اقتباسات پوری ویڈیو کے مرکزی استدلال کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

سارہ ہرموش کے مطابق سیف العدل تنظیم کی حکمتِ عملی اور نظریاتی سمت مہیا کرتے ہیں، جبکہ حمزہ بن لادن بن لادن خاندان کے نام اور علامتی ورثے کی نمائندگی کرتے ہیں۔

انھوں نے ایکس پر لکھا: ’یوں کہا جا سکتا ہے کہ قیادت کی سطح پر تیار کیا گیا نظریہ القاعدہ کے بانی کے بیٹے کی آواز میں پیش کیا گیا ہے۔‘

بعض مبصرین کے مطابق یہ ویڈیو ایک ایسے وقت میں جاری کی گئی ہے جب عالمی جہادی تحریک اپنے مستقبل کے بارے میں داخلی بحث سے گزر رہی ہے۔

بی بی سی مانیٹرنگ کے لیے جہادی امور کی ماہر مینا اللامی کے مطابق حالیہ برسوں میں بعض شدت پسند حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ آیا القاعدہ کے روایتی عالمی جہاد کے ماڈل کے بجائے طالبان یا شام میں ہیئت تحریر الشام جیسے زیادہ مقامی اور عملی ماڈلز کامیابی کا راستہ ہو سکتے ہیں۔

ایسے ماحول میں حمزہ بن لادن اور سیف العدل کی مشترکہ پیشکش کو القاعدہ کی جانب سے اپنی تاریخی شناخت اور نظریاتی تسلسل کو اجاگر کرنے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

ٹیپو محسود کے مطابق ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ویڈیو میں سیف العدل کی کوئی نئی تصویر یا ویڈیو شامل نہیں کی گئی۔ استعمال کی جانے والی تمام تصاویر پرانی ہیں، جن میں بعض تصاویر اسامہ بن لادن کے ساتھ اور بعض وہ ہیں جو مبینہ طور پر ایران سے مغربی انٹیلیجنس ذرائع کے ذریعے منظرِ عام پر آئی تھیں۔

ان کے مطابق القاعدہ کی روایت رہی ہے کہ اس کی قیادت میڈیا میں نظر آتی رہی ہے، لیکن سیف العدل کے معاملے میں اب تک مختلف رویہ اختیار کیا گیا ہے اور تنظیم انھیں پس منظر میں رکھے ہوئے ہے۔

’ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ابھی تک انھیں باضابطہ طور پر تنظیم کا امیر نامزد نہیں کیا گیا۔ جب ان کی باقاعدہ نامزدگی ہو جائے گی تو غالب امکان ہے کہ القاعدہ اپنے حامیوں کے سامنے انھیں عوامی طور پر بھی پیش کرے گی۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US