چمن: ’ولور‘ کی رسم کے تحت 60 سالہ شخص سے تین سالہ بچی کا نکاح اور اُس کی 15 سالہ بہن کے قتل کا معمہ

بلوچستان کے سرحدی شہر چمن سے ایک شخص کو اپنی تین سالہ بچی کا نکاح 60 سالہ شخص سے کروانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ چمن پولیس کا دعویٰ ہے کہ گرفتار ہونے والے شخص عبدالباقی نے اپنی تین سالہ بیٹی کا نکاح 25 لاکھ روپے ’ولور‘ کے بدلے میں صلاح الدین نامی 60 سالہ شخص سے کیا تھا۔
Balochistan
Getty Images
تین سالہ بچی کے والد اور پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ اسی معاملے میں بچی کی 15 سالہ شادی شدہ بہن پہلے ہی قتل ہو چکی ہے (علامتی تصویر)

انتباہ: اس تحریر میں ایسی تفصیلات شامل ہیں جو کچھ قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔

بلوچستان کے سرحدی شہر چمن سے ایک شخص کو اپنی تین سالہ بچی کا نکاح 60 سالہ شخص سے کروانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

چمن پولیس کا دعویٰ ہے کہ گرفتار ہونے والے شخص عبدالباقی نے اپنی تین سالہ بیٹی کا نکاح 25 لاکھ روپے ’ولور‘ کے بدلے میں صلاح الدین نامی 60 سالہ شخص سے کیا تھا۔

ولور جسے بلوچی زبان میں ’لبّ‘ بھی کہا جاتا ہے ایک ایسی فرسودہ روایت ہے جس کے تحت لڑکی کے گھر والے رشتے کے بدلے لڑکے والوں سے رقم لیتے ہیں۔

تین سالہ بچی کی 60 سالہ شخص سے نکاح کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس کا نوٹس لیا تھا اور حکام کو کارروائی کی ہدایت کی تھی۔

حکام کے مطابق جب اس معاملے میں چھان بین ہوئی تو پتا چلا کہ تین سالہ بچی کی بڑی بہن شکریہ بی بی، جو کہ 60 سالہ صلاح الدین نامی ملزم کی بہو تھیں، کو سات ستمبر کو مبینہ طور پر اِسی معاملے پر قتل کیا گیا ہے۔ شکریہ بی بی کے قتل کے الزام میں اُن کے شوہر کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر چمن حبیب بنگلزئی کا کہنا ہے کہ نکاح کے اس معاملے کی ایف آئی آر تین سالہ بچی کی بہن کے قتل کے مقدمے میں ضمنی کے طور پر درج کی جائے گی کیونکہ یہ معاملات ایک، دوسرے ہی کی کڑیاں ہیں۔

چمن پولیس سرکل کے ایس ڈی پی او عبدالجبار خان نے بی بی سی کو بتایا کہ بچی کے والد کو چمن شہر سے گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ 60 سالہ شخصصلاح الدین کی گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں۔

کچلاک میں شکریہ بی بی کا قتل

تصویر
Getty Images
15 سالہ شکریہ بی بی کی تشدد زدہ لاش سات ستمبر کو ہسپتال لائی گئی تھی (علامتی تصویر)

ایس ڈی پی او عبدالجبار خان کا کہنا ہے دو برس قبل تین سالہ بچی کے والد عبدالباقی نے اپنی 15 سالہ بیٹی شکریہ بی بی کی شادی 15 لاکھ روپے ولور کے عوض 60 سالہ صلاح الدین نامی ملزم کے بیٹے کامران سے کی تھی۔

اُن کے مطابق چند ماہ قبل عبدالباقی نے صلاح الدین سے ’ولور‘ کے عوض اپنی تین سالہ بیٹی کا نکاح بھی کروایا لیکن بعد میں صلاح الدین کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ تین سالہ بچی کی بجائے اپنی آٹھ سالہ بیٹی کی رخصتی کریں۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس پر اِن دونوں خاندانوں کے درمیان جھگڑا ہوا، جس کے نتیجے میں شکریہ بی بی (صلاح الدین کی بہو اور عبدالباقی کی بڑی بیٹی) کو قتل کر دیا گیا۔

ڈپٹی کمشنر چمن حبیب بنگلزئی کے آفس سے جاری ہونے والے ایک اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے کی تین سالہ بچی کے نکاح کی کڑیاں کچلاک میں 15 سالہ لڑکی (شکریہ بی بی) کے قتل کے واقعے سے ملتی ہیں۔

شکریہ بی بی کے قتل کا مقدمہ تھانہ نیو کچلاک پولیس کے ایس ایچ او جمیل الرحمان کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق یہ قتل سات ستمبر کو ہوا تھا۔

ایس ایچ او جمیل الرحمان (مدعی مقدمہ) نے ایف آئی آر میں بتایا کہ جب وہ ایک خاتون کی موت کی اطلاع ملنے کے بعد سپنی روڈ پر واقع ٹراما سینٹر پہنچے تو شکریہ بی بی کی لاش وہاں موجود تھی اور ساتھ کھڑے شخص کامران نے اپنا تعارف شکریہ بی بی کے شوہر کے طور پر کروایا۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی طبی معائنے میں خاتون کے جسم پر تشدد کے بہت زیادہ نشانات تھے اور جسم کے مختلف حصوں پر خون جما ہوا تھا۔

شکریہ بی بی کے قتل کے الزام میں فوری طور پر اُن کے شوہر کامران کو گرفتار کیا گیا۔

ملزم سے کی گئی ابتدائی تفتیش کے بعد سرکار کی مدعیت میں درج ہونے والی ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’ملزم نے دوران تفتیش بتایا کہ مقتولہ دروازے سے جھانک کر سڑک پر گزرتے ہوئے لوگوں کو دیکھتی، جس پر اُس کو کئی مرتبہ منع کیا گیا، لیکن وہ باز نہیں آئی۔‘

ایف آئی آر کے مطابق ’ملزم نے بتایا کہ وقوعہ کے روز وہ گھر پر موجود تھا، تو شکریہ بی بی دروازے سے بار بار جھانک کر دیکھ رہی تھی جس پر اسے غصہ آیا اور شام ساڑھے پانچ بجے ملزم نے آہنی سریوں سے مار مار کر شکریہ بی بی کو قتل کیا اور پھر اُس کے کپڑے تبدیل کر کے اس کی میت کو ہسپتال منتقل کر دیا۔‘

ملزم شوہر کو ہسپتال ہی سے گرفتار کیا گیا تھا۔

’کمسن بچی کا نکاح شکریہ بی بی کی جان بچانے کے لیے کیا تھا‘

تصویر
Getty Images
(علامتی تصویر)

شکریہ بی بی کے قتل کے بعد نہ صرف یہ بات منظر عام پر آئی کہ اُن کی تین سالہ بہن کا رشتہ بھی اُن کے 60 سالہ سسر سے طے کر دیا گیا ہے بلکہ اس حوالے سے اُن کے والد عبدالباقی کا ایک ویڈیو انٹرویو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔

محکمہ تعلقات عامہ بلوچستان کی جانب سے اِن بچیوں کے والد عبدالباقی کا ایک ویڈیو بیان بھی سرکاری طور پر جاری کیا گیا ہے۔

اس ویڈیو بیان میں عبدالباقی دعویٰ کرتے ہیں کہ انھوں نے شکریہ بی بی کا نکاح صلاح الدین کے بیٹے سے 15 لاکھ روپے ولور کے عوض دو سال قبل کیا تھا۔

عبدالباقی کہتے ہیں کہ انھوں نے غربت اور مجبوری کی وجہ ایسا کیا کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ وہ اپنے لیے ایک گھر خریدیں۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ دو سال قبل شکریہ بی بی کی شادی ہوئی تھی اور شادی کے چار، پانچ ماہ بعد جب میں اپنی بیٹی کے گھر گئے تو معلوم ہوا کہ اُسے تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

عبدالباقی ویڈیو میں دعویٰ کرتے ہیں کہ اُن کی قتل ہونے والی بیٹی شکریہ بی بی نے انھیں کہا تھا کہ اُن کے سسرال والے (سُسر) دوسری بیٹی کے رشتے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں اور اگر دوسری بیٹی کا رشتہ نہیں دیا گیا تو انھیں (شکریہ) قتل کر دیا جائے گا۔

عبدالباقی مزید دعویٰ کرتے ہیں کہ انھوں نے شکریہ بی بی کو بچانے کے لیے اُس کے سُسر کو اپنی تین سالہ بیٹی کا رشتہ دیا، جس کے نکاح کے لیے کچلاک سے ایک مولوی کو بلایا گیا تھا۔

عبدالباقی دعویٰ کرتے ہیں کہ ’اس رشتے کے بعد ہمیں بتایا کہ یہ بچی بہت چھوٹی ہے اس لیے وہ اس کو چھوڑیں اور اس کے بدلے میں بڑی آٹھ سالہ بیٹی کا رشتہ دیا جائے۔‘

انھوں نے الزام عائد کیا کہ جب یہ معاملہ طول پکڑا تو ملزمان نے اُن کی بیٹی شکریہ بی بی کا قتل کر دیا۔

سرکاری طور پر جاری کردہ اس ویڈیو میں بچی کی والدہ بھی یہ بات کہتے ہوئے سنائی دے رہی ہے کہ انھوں نے مجبوری میں ایسا کیا اور انھوں نے اپنی بڑی بیٹی کی زندگی بچانے کے لیے تین سالہ بیٹی کا رشتہ بزرگ شخص کو دیا تھا۔

بی بی سی اُردو کی جانب سے رابطہ کرنے پر مقامی پولیس نے بتایا کہ ملزم صلاح الدین اس کیس میں مفرور ہیں جبکہ شکریہ بی بی کے قتل میں الزام میں گرفتار ملزم (صلاح الدین کے بیٹے) نے تاحال کسی وکیل کی خدمات حاصل نہیں کی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ صلاح الدین کے بیٹے کے اعتراف جرم کو باقاعدہ طور پر درج کی گئی ایف آئی آر کا حصہ بنایا گیا ہے۔

سرکاری حکام کا کیا کہنا ہے؟

وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا شاہد رند کا کہنا ہے کہ کمسن بچی کے ضعیف العمر شخص سے نکاح کے معاملے کا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے نوٹس لیا ہے اور مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کمسن بچی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے میں ملوث کسی بھی شخص کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا اور اس واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بچی کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کے لیے متعلقہ اداروں کو مؤثر اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے لیے پُرعزم ہے اور کمسن بچوں کے حقوق اور تحفظ کے معاملے پر حکومت بلوچستان کی واضح اور دوٹوک پالیسی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں انسداد کم عمری کی شادی کا قانون بھی موجود ہے۔

ولور یا لب بلوچ سماج کا بڑا مسئلہ ہے؟

عورت فاؤنڈیشن بلوچستان کے ریذیڈنٹ ڈائریکٹر علاؤالدین خلجی نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے کہا یہ پورا معاملہ بظاہر ولور کا شاخسانہ لگتا ہے جو کہ بلوچ سماج میں ایک بڑا مسئلہ ہے۔

انھوں نے بتایا کہ معاشرے میں یہ اس لحاظ سے بھی بڑا مسئلہ ہے کیونکہ معاشی حالات اور غربت نے لوگوں کی زندگیوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسی مثالیں بھی دیکھی گئی کہ رشتہ کے بعد اگر لڑکی والوں نے لڑکے والوں سے بڑی رقم یعنی ولور کا مطالبہ کر دیا اور اس کی ادائیگی میں بہت زیادہ تاخیر ہوئی تو لڑکیوں کی شادیاں بھی تاخیر کا شکار ہوئیں۔

علاؤالدین خلجی نے بتایا کہ اگرچہ اب یہ فرسودہ رسم تھوڑی کم ہوئی ہے مگر تاحال معاشرے میں موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہری علاقوں میں اس میں کمی آئی ہے لیکن شہروں سے باہر جہاں ابھی تک قبائلی رسم و رواج عائد ہے وہاں اس کی شرح اب بھی زیادہ ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ ولور کی مد میں لڑکی والے جو رقم دیتے ہیں وہ لڑکی کو نہیں دی جاتی بلکہ اُس کے اہلخانہ اسے اپنے استعمال میں لاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ولور سے بہت سارے مسائل جنم لیتے ہیں جن میں گھریلو تشدد بھی شامل ہے اور بعض اوقات یہ معاملات قتل کی صورت میں بھی سامنے آتے ہیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US