ڈپٹی کمشنر کوہاٹ محمد نواز وزیر نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس لائنز دھماکے میں 21 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جن میں 15 پولیس اہلکار جبکہ چھعام شہری شامل ہیں۔ آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کے مطابق بارود سے بھری گاڑی عمارت کے ساتھ ٹکرائی گئی ہے۔

پاکستان میں صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں پرانی پولیس لائنز میں ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 21 ہو گئی ہے جن میں 15 پولیس اہلکار اور چھ عام شہری شامل ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کوہات کے مطابق دھماکے میں 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پرانی پولیس لائنز کے ساتھ بارود سے بھری گاڑی ٹکرائی گئی ہے جبکہ دھماکے کے بعد مسلح شدت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ بھی جاری ہے۔
ترجمان ریسکیو 1122 بلال احمد فیضی کے مطابق دھماکہ دوپہر ایک بج کر 15 منٹ کے قریب ہوا۔
ڈپٹی کمشنر کوہاٹ محمد نواز وزیر نے بی بی سی کےبلال احمد سے گفتگو میں 21 ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایس پی ٹریفک پولیس اکبر شنواری بھی شامل ہیں۔ اُن کے بقول 73 پولیس اہلکار ہیں۔
بی بی سی نیوز کے عثمان زاہد سے بات کرتے ہوئے ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز سینٹرل پولیس آفس عبد السلام خالد نے بتایا کہ شدت پسندوں کا ہدف پولیس لائنز اور وہاں واقع مسجد تھی، اور جب واقعہ پیش آیا تو نمازِ جمعہ جاری تھی۔

آئی جی خیبر پختونخوا کے مطابق ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کے بعد ایک خودکش حملہ آور نے سپیشل برانچ کے قریب خود کو دھماکے سے اُڑایا۔
ترجمان خیبر پختونخوا پولیس کے مطابق پولیس لائنز مسجد میں دھماکے کے بعد سات مسلح دہشت گردوں نے پولیس لائنز میں دراندازی کی جس کے بعد پولیس اور سی ٹی ڈی نے حملہ آوروں کا بھرپور مقابلہ کیا۔
اُن کے بقول اب تک کی اطلاعات کے مطابق خودکش بمبار اور سنائپر سمیت چھ دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں اور کلیئرنس آپریشن آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔
’یہ گنجان آباد اور مصروف علاقہ ہے‘
کوہاٹ میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والی مسجد اولڈ پولیس لائنز انتہائی اہم سمجھی جانے والی مصروف ترین اور کوہاٹ کی تاریخی شاہراہ ہنگو روڈ پر واقع ہے۔
ترجمان کوہاٹ پولیس کے مطابق پرانا پولیس لائنز کا علاقہ گنجان آباد اور مصروف ہے اور یہاں پرانی پولیس لائنز میں سی ٹی ڈی کے دفتر کے علاوہ دیگر اہم دفاتر بھی موجود ہیں۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ دھماکے سے مسجدکی بیرونی دیوار اور کچھ عمارتوں کو نقصاں پہنچا ہے اور اب بھی دہشت گردوں کے ساتھ مقابلہ جاری ہے جبکہ پشاور-کوہاٹ روڈ کو عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
ہنگو روڈ کوہاٹ کو ضلع ہنگو، اورکزئی اور کرم سے ملاتی ہے اور اسے کوہاٹ کی سکیورٹی کے لیے اہمتصور کیا جاتا ہے۔
اولڈ پولیس لائنز کا علاقہ کوہاٹ کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ یہیں سے شہر کے تجارتی مراکز، سول انتظامی دفاتر اور ملٹری کینٹ کے راستے نکلتے ہیں۔
یہ علاقہ کوہاٹ کے پرانے شہری علاقے اور ملٹری کینٹونمنٹ زون کے بالکل سنگم پر واقع ہے۔ اولڈ پولیس لائنز کے عقب میں کوہاٹ کینٹ کی حدود شروع ہو جاتی ہیں۔
ڈسڑکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کوہاٹ اولڈ پولیس لائنز سے چند منٹ کی مسافت پر واقع ہے۔
اسی ایک زون اور ہنگو روڈ کے حصے میں نہ صرف اولڈ پولیس لائنز ہے بلکہ کینٹ پولیس سٹیشن، سٹی پولیس سٹیشن، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کا دفتر بھی واقع ہے۔
’دھماکے کے بعد پولیس لائنز پہنچے تو شدید فائرنگ شروع ہو گئی‘
دھماکے کے بعد اولڈ پولیس لائنز پہنچنے والے الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکار نوید نے بی بی سی کو بتایا کہ جب وہ وہاں پہنچے تو زخمیوں کی بڑی تعداد مدد کے لیے پکار رہی تھی۔
نوید کا مزید کہنا تھا کہ دھماکے کے وقت وہ ایک کلو میٹر دُور ایک اور مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے اور دھماکے کی آواز سن کر فوراً وہ اولڈ پولیس لائنز پہنچے۔
اُن کا کہنا تھا کہ وہاں ریسکیو 1122 کے اہلکار ریسیکو آپریشن میں مصروف تھے اور ہمیں ہر طرف سے ایمبولینسز کیآوازیں آرہی تھیں۔
’ہر طرف زخمی افراد تھے۔ کچھ مدد کے لیے پکار رہے تھے اور کچھ پانی مانگ رہے ہیں۔ ہم نے ریسکیو 1122 والوں کے ساتھ مل کر امدادی کام شروع کر دیا۔ کچھ دیر بعد مزید ایمبولینسز اور سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد موقع پر پہنچ گئی۔‘
نوید کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اہلکاروں نے سویلینز کو وہاں سے ہٹ جانے کا کہا جس کے فوری بعد شدید فائرنگ شروع ہو گئی۔
نوید کا کہنا تھا کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ ہم جس مسجد میں موجود تھے وہاں پر در و دیوار ہل کر رہ گے تھے۔
قریبی رہائشی مصطفی خان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں ابھی تک فائرنگ کی آوازیں آ رہی ہیں ا ور ہم لوگ اپنے گھروں میں محصور ہو چکے ہیں۔‘
مصطفی خان کا کہنا تھا کہ ’جس مسجد میں دھماکہ ہوا ہے میں اس سے آدھا کلو میٹر دور مسجد میں اپنے بچوں کے ساتھ نماز کے لیے موجود تھا۔ جب دھماکہ ہوا تو ہم لوگ مسجد سے باہر نکل آئے۔ میرے ساتھ چھوٹے بچوں تھے جنھیں لے کر میں گھر آ گیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہگھر پہنچا تو اس وقتبھی فائرنگ کی آوازیں آ رہی تھیں اور ابھی بھی آ رہی ہیں جبکہ پولیس اور سکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کی ناکہ بندی کر رکھی ہے وہ کسی کو بھی باہر نہیں نکلنے دے رہے ہیں۔

صدر، وزیرِ اعظم اور دیگر حکام کی مذمت
صدرِپاکستان آصف علی زرداری نے بھی کوہاٹ دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’خارجی حمایت سے سرگرم خارجی فتنہ اور دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔‘
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کوہاٹ دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے ہلاکتوں پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وزیرِ اعظم آفس سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق شہباز شریف نے زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیرِ اعظم نے متعلقہ حکام سے دھماکے کی نوعیت اور وجوہات کے بارے میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیرِ اعظم نے امدادی کارروائیاں تیز کرنے اور متاثرہ افراد کا ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بھِی کوہاٹ پرانی پولیس لائنز دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، گورنر فیصل کریم کنڈی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔
ترجمان خیبر پختونخوا پولیس کے مطابق سی ٹی ڈی کے ماہرین نے آئی جی پولیس اور ایڈیشنل آئی کو صورتحال پر بریفنگ دی ہے۔
آئی جی خیبر پختونخوا کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا سراغ لگا رہے ہیں اور ان کا مکمل خاتمہ یقینی بنائیں گے۔