کوہاٹ: اولڈ پولیس لائنز کی مسجد پر بارود سے بھری گاڑی سے حملہ، پانچ اہلکاروں سمیت 17 ہلاک

پاکستان میں صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں پولیس لائن کی سابقہ عمارت کے قریب ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 17 افراد ہلاک جبکہ 73 زخمی ہوئے ہیں۔ آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کے مطابق بارود سے بھری گاڑی عمارت کے ساتھ ٹکرائی گئی ہے۔
Kohat
Getty Images

پاکستان میں صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں پرانی پولیس لائنز میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں پانچ پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 17 افراد ہلاک جبکہ 73 زخمی ہوئے ہیں۔

انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پرانی پولیس لائنز کے ساتھ بارود سے بھری گاڑی ٹکرائی گئی ہے جبکہ دھماکے کے بعد مسلح شدت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ بھی جاری ہے۔

ترجمان ریسکیو 1122 بلال احمد فیضی کے مطابق دھماکہ دوپہر ایک بج کر 15 منٹ کے قریب ہوا۔

بی بی سی نیوز کے عثمان زاہد سے بات کرتے ہوئے ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز سینٹرل پولیس آفس عبد السلام خالد نے بتایا کہشدت پسندوں کا ہدف پولیس لائنز اور وہاں واقع مسجد تھی، اور جب واقعہ پیش آیا تو نمازِ جمعہ جاری تھی۔

آئی جی خیبر پختونخوا کے مطابق ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کے بعد ایک خودکش حملہ آور نے سپیشل برانچ کے قریب خود کو دھماکے سے اُڑایا۔

ترجمان خیبر پختونخوا پولیس کے مطابق پولیس لائنز مسجد میں دھماکے کے بعد سات مسلح دہشت گردوں نے پولیس لائنز میں دراندازی کی جس کے بعد پولیس اور سی ٹی ڈی نے حملہ آوروں کا بھرپور مقابلہ کیا۔

اُن کے بقول اب تک کی اطلاعات کے مطابق خودکش بمبار اور سنائپر سمیت چھ دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں اور کلیئرنس آپریشن آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔

ڈسٹرکٹ ہسپتال کوہاٹ کے ایم ایس ڈاکٹر طاہر علی شاہ نے بی بی سی کے محمد بلال کو بتایا کہ پولیس لائنز دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 17 ہو گئی ہے جبکہ 73 زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 15 کی حالت تشویشناک ہے۔

’یہ گنجان آباد اور مصروف علاقہ ہے‘

ترجمان کوہاٹ پولیس کے مطابق پرانا پولیس لائنز کا علاقہ گنجان آباد اور مصروف ہے اور یہاں پرانی پولیس لائنز میں سی ٹی ڈی کے دفتر کے علاوہ دیگر اہم دفاتر بھی موجود ہیں۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ دھماکے سے مسجدکی بیرونی دیوار اور کچھ عمارتوں کو نقصاں پہنچا ہے اور اب بھی دہشت گردوں کے ساتھ مقابلہ جاری ہے جبکہ پشاور-کوہاٹ روڈ کو عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

بلال فیضی نے کہا کہ ریسکیو ایمبولینسز کے ذریعے ہلاک ہونے والوں اور زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

ترجمان ریسکیو کے مطابق اس وقت جائے وقوعہ پر 14 ایمبولینسز، ریسکیو ور ریکوری ویکلز اور 40 سے زائد اہلکار امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

’دھماکے بعد پولیس لائنز پہنچے تو شدید فائرنگ شروع ہو گئی‘

دھماکے کے بعد اولڈ پولیس لائنز پہنچنے والے الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکار نوید نے بی بی سی کو بتایا کہ جب وہ وہاں پہنچے تو زخمیوں کی بڑی تعداد مدد کے لیے پکار رہی تھی۔

نوید کا مزید کہنا تھا کہ دھماکے کے وقت وہ ایک کلو میٹر دُور ایک اور مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے اور دھماکے کی آواز سن کر فوراً وہ اولڈ پولیس لائنز پہنچے۔

اُن کا کہنا تھا کہ وہاں ریسکیو 1122 کے اہلکار ریسیکو آپریشن میں مصروف تھے اور ہمیں ہر طرف سے ایمبولینسز کیآوازیں آرہی تھیں۔

’ہر طرف زخمی افراد تھے۔ کچھ مدد کے لیے پکار رہے تھے اور کچھ پانی مانگ رہے ہیں۔ ہم نے ریسکیو 1122 والوں کے ساتھ مل کر امدادی کام شروع کر دیا۔ کچھ دیر بعد مزید ایمبولینسز اور سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد موقع پر پہنچ گئی۔‘

نوید کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اہلکاروں نے سویلینز کو وہاں سے ہٹ جانے کا کہا جس کے فوری بعد شدید فائرنگ شروع ہو گئی۔

نوید کا کہنا تھا کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ ہم جس مسجد میں موجود تھے وہاں پر در و دیوار ہل کر رہ گے تھے۔

قریبی رہائشی مصطفی خان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں ابھی تک فائرنگ کی آوازیں آ رہی ہیں ا ور ہم لوگ اپنے گھروں میں محصور ہو چکے ہیں۔‘

مصطفی خان کا کہنا تھا کہ ’جس مسجد میں دھماکہ ہوا ہے میں اس سے آدھا کلو میٹر دور مسجد میں اپنے بچوں کے ساتھ نماز کے لیے موجود تھا۔ جب دھماکہ ہوا تو ہم لوگ مسجد سے باہر نکل آئے۔ میرے ساتھ چھوٹے بچوں تھے جنھیں لے کر میں گھر آ گیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہگھر پہنچا تو اس وقتبھی فائرنگ کی آوازیں آ رہی تھیں اور ابھی بھی آ رہی ہیں جبکہ پولیس اور سکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کی ناکہ بندی کررکھی ہے وہ کسی کو بھی باہر نہیں نکلنے دے رہے ہیں۔

Kohat
Getty Images

صدر، وزیرِ اعظم اور دیگر حکام کی مذمت

صدرِپاکستان آصف علی زرداری نے بھی کوہاٹ دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’خارجی حمایت سے سرگرم خارجی فتنہ اور دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔‘

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کوہاٹ دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے ہلاکتوں پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

وزیرِ اعظم آفس سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق شہباز شریف نے زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیرِ اعظم نے متعلقہ حکام سے دھماکے کی نوعیت اور وجوہات کے بارے میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیرِ اعظم نے امدادی کارروائیاں تیز کرنے اور متاثرہ افراد کا ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بھِی کوہاٹ پرانی پولیس لائنز دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، گورنر فیصل کریم کنڈی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

ترجمان خیبر پختونخوا پولیس کے مطابق سی ٹی ڈی کے ماہرین نے آئی جی پولیس اور ایڈیشنل آئی کو صورتحال پر بریفنگ دی ہے۔

آئی جی خیبر پختونخوا کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا سراغ لگا رہے ہیں اور ان کا مکمل خاتمہ یقینی بنائیں گے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US