عبداللطیف: غریب مسلم گھرانے میں آنکھ کھولنے والا ’گینگسٹر‘، جس نے گجرات میں بی جے پی کو مضبوط کیا

عبد اللطیف صرف جرائم کی دنیا کا کردار نہیں تھے بلکہ سیاست میں بھی ان کی خاصی دلچسپی اور اثر و رسوخ تھا۔ ان کے مختلف سیاسی رہنماؤں سے تعلقات تھے اور ان کی سرگرمیوں نے گجرات کے سماجی اور سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ یہ رپورٹ اسی سیاسی اور سماجی اثر و رسوخ کا جائزہ پیش کرتی ہے۔
عبدالطیف
Getty Images
1980 کی دہائی میں احمد آباد میں عبد اللطیف کے نام سے شاید ہی کوئی شخص ناواقف ہو

سنہ 1995 میں لطیف کے شارپ شوٹر شریف اور اس کے ایک ساتھی کی گرفتاری کے بعد پولیس افسر گیتا جوہری تین اہلکاروں کے ساتھ عبد اللطیف کے گھر کے باہر موجود تھیں۔ انھوں نے مزید نفری طلب کرنے کے لیے پولیس کنٹرول روم سے رابطہ کیا۔ کچھ دیر بعد دریاپور کے علاقے پاپٹیہ واڑ کے قریب ایک پولیس وین پہنچی، مگر اہلکار لطیف کے گھر کی طرف بڑھنے سے ہچکچا رہے تھے۔

ان کی ہچکچاہٹ کی وجہ یہ تھی کہ انھیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ واقعی انھیں عبد اللطیف کے گھر جانا ہے۔ یہ واقعہ گجرات کے معروف صحافی پرشانت دیال نے اپنی کتاب ’لطیف‘ میں بیان کیا ہے، جو اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ عبد اللطیف کا اثر و رسوخ کس قدر وسیع تھا اور پولیس کے بعض حلقوں میں بھی اس کا خوف موجود تھا۔

1980 کی دہائی میں احمد آباد کے ڈان عبد اللطیف کا نام تقریباً ہر شخص جانتا تھا۔ عام طور پر ان کا ذکر ان کے جرائم، قتل کی وارداتوں اور شراب کی غیر قانونی تجارت کے حوالے سے کیا جاتا ہے، لیکن ان کی شخصیت کا ایک اور پہلو بھی تھا۔

عبد اللطیف صرف جرائم کی دنیا کا کردار نہیں تھے بلکہ سیاست میں بھی ان کی خاصی دلچسپی اور اثر و رسوخ تھا۔ ان کے مختلف سیاسی رہنماؤں سے تعلقات تھے اور ان کی سرگرمیوں نے گجرات کے سماجی اور سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

گجرات اور لطیف میں پولرائزیشن کی بنیاد

گجرات میں گذشتہ تقریباً تین دہائیوں سے بی جے پی اقتدار میں ہے اور ریاست کی سیاست پر ہندوتوا کا گہرا اثر رہا ہے۔

1950 سے 1995 کے درمیان ہونے والے ہندو مسلم فسادات کے حوالے سے تیار کیے گئے ورشنی۔ولکنسن ڈیٹاسیٹ کے مطابق، ان 45 برسوں میں سب سے زیادہ فرقہ وارانہ فسادات گجرات میں ریکارڈ کیے گئے، جہاں ان کی تعداد 241 تھی۔ اس فہرست میں اتر پردیش 199 اور مہاراشٹر 187 واقعات کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر تھے۔

اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ گجرات میں فرقہ وارانہ فسادات کے نتیجے میں فی ملین آبادی 120 اموات ریکارڈ ہوئیں، جو ملک میں سب سے زیادہ شرح تھی۔ اس کے مقابلے میں بہار میں یہ شرح 80 اموات فی ملین رہی۔

تاہم گجرات میں مذہبی پولرائزیشن میں اضافے کی وجہ صرف فسادات نہیں تھے۔

ہندوستانی جمہوریت اور ہندو قوم پرستی پر تحقیق کے لیے معروف فرانسیسی سیاسیات دان کرسٹوف جعفریلوٹ نے اپنی کتاب ’گجرات انڈر مودی: دی بلیو پرنٹ آف ٹوڈیز انڈیا‘ میں لکھا ہے کہ شراب کی غیر قانونی تجارت میں ملوث مسلم مافیا گروہوں نے بھی اس فضا کی تشکیل میں کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق گجرات میں شراب بندی کی پالیسی نے غیر قانونی شراب کے کاروبار کو فروغ دیا، جبکہ پولیس کی مبینہ بھتہ خوری نے اس نیٹ ورک کو مزید مضبوط کیا۔

گجرات کی سماجی و سیاسی تاریخ کے ممتاز ماہر اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر گھنشیام شاہ کے مطابق، 1969 کے فسادات کے بعد ریاست میں یہ تاثر عام ہو گیا تھا کہ زیادہ تر ’غنڈے‘ مسلم برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔

انھوں نے لکھا کہ یہ بھی سمجھا جاتا تھا کہ ایسے عناصر کو بعض کانگریسی سیاست دانوں کی سرپرستی حاصل ہے کیونکہ وہ ان کے لیے ووٹ اکٹھے کرتے تھے۔ مزید یہ کہ ان کے پولیس سے روابط کی باتیں بھی کی جاتی تھیں، جس سے بہت سے ہندوؤں میں یہ احساس پیدا ہوا کہ وہ ایسے بااثر عناصر کے سامنے بے بس ہیں۔

ان مباحث میں عبد اللطیف کا نام بار بار سامنے آتا ہے۔ 1951 میں احمد آباد کے قدیم شہر کے ایک غریب خاندان میں پیدا ہونے والے لطیف بعد میں گجرات کے سب سے طاقتور جرائم پیشہ کرداروں میں شمار ہونے لگے۔

لطیف پر سمگلنگ، قتل اور اغوا سمیت متعدد سنگین جرائم کے الزامات عائد کیے گئے۔ ان کا بنیادی کاروبار غیر قانونی شراب کی خرید و فروخت اور ترسیل تھا، جس سے انھوں نے بڑی مالی طاقت حاصل کی۔ 1980 کی دہائی میں ان کا اثر و رسوخ تیزی سے بڑھا، جبکہ اس وقت ریاست میں کانگریس کی حکومت تھی۔

Abdul Latif'
Context Publication
ماہر سیاسیات پروفیسر کرسٹوف جعفریلوٹ کی کتاب ’گجرات انڈر مودی‘

1985 کے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران، لطیف نے مسلم آبادی کے غریب طبقے میں خوراک اور امدادی سامان تقسیم کیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے کئی فلاحی سرگرمیوں کی بھی سرپرستی کی، جس کے باعث پرانے احمد آباد کے بعض مسلمانوں میں ان کی مقبولیت بڑھ گئی۔

کرسٹوف جعفریلوٹ کے مطابق، پرانے شہر کے بہت سے مسلمانوں کی نظر میں عبد اللطیف ایک مقامی ’رابن ہڈ‘ کی حیثیت اختیار کر گئے تھے۔ ان کے لیے ہمدردی اور حمایت پائی جاتی تھی، جبکہ اس دور میں عام تاثر یہ بھی تھا کہ پولیس، ریاستی انتظامیہ اور حتیٰ کہ حکومت بھی لطیف کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔

یہی وہ پس منظر تھا جس میں عبد اللطیف صرف جرائم کی دنیا کا ایک کردار نہیں رہے، بلکہ گجرات کی سماجی، فرقہ وارانہ اور سیاسی سیاست کا بھی ایک اہم حوالہ بن گئے۔

لطیف نے جیل سے پانچ نشستیں جیتیں

1987 میں احمد آباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات منعقد ہوئے۔ اس وقت تک عبد اللطیف کا اثر و رسوخ اس حد تک بڑھ چکا تھا کہ انھوں نے جیل میں ہونے کے باوجود دریاپور، کالوپور، دانیلیمڈا، جمال پور اور رائکھڈ سمیت پانچ وارڈوں سے آزاد امیدوار کے طور پر کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے۔

نتائج آنے پر عبد اللطیف پانچوں نشستوں پر کامیاب قرار پائے، تاہم انتخابی قواعد کے مطابق انھوں نے ایک نشست برقرار رکھی اور باقی چار چھوڑ دیں۔

گجرات کے سینیئر تحقیقاتی صحافی پرشانت دیال اپنی کتاب ’لطیف‘ میں لکھتے ہیں کہ جن بی جے پی رہنماؤں نے عوامی سطح پر لطیف پر تنقید کی، انھی میں سے بعض نے پسِ پردہ ان کے ساتھ سمجھوتے بھی کیے تاکہ خالی ہونے والی نشستوں پر بی جے پی کو فائدہ پہنچ سکے۔ دیال کے مطابق کالوپور سے بی جے پی کی بھامنی پٹیل اور رائکھڈ سے گرو پرساد نائیڈو کامیاب ہوئے، جس سے میونسپل بورڈ میں بی جے پی کی قوت میں اضافہ ہوا۔

یہ وہ انتخابات تھے جن میں بی جے پی نے پہلی مرتبہ احمد آباد میونسپل کارپوریشن کا اقتدار حاصل کیا۔

فرانسیسی سیاسیات دان کرسٹوف جعفریلوٹ کے مطابق بی جے پی نے گجرات کی سیاست کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کے لیے عبد اللطیف کی سیاسی موجودگی کو ایک علامت کے طور پر استعمال کیا۔ ان کے بقول اس حکمتِ عملی کا نقصان کانگریس کو ہوا، کیونکہ مسلم ووٹروں کا ایک طبقہ کانگریس سے بھی مایوس ہو چکا تھا۔ جعفریلوٹ کا کہنا ہے کہ اس حکمتِ عملی کی پہلی جھلک 1987 کے بلدیاتی انتخابات میں دیکھی جا سکتی ہے۔

تاہم اس تجزیے سے ہر کوئی متفق نہیں۔

گجرات کی سیاست پر طویل عرصے سے لکھنے والے سینیئر صحافی وشنو پانڈیا کا خیال ہے کہ عبد اللطیف کے کردار کو اکثر اس سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے جتنی حقیقت میں تھی۔ ان کے مطابق گجرات کی سیاست پر صرف لطیف ہی نہیں بلکہ مختلف ادوار میں مافیا سرغنوں، گینگسٹروں اور شراب کے سمگلروں کا بھی اثر رہا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ 1980 کی دہائی کے وسط میں احمد آباد کے کئی علاقوں میں جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان مسلح جھڑپیں اور فائرنگ معمول کی بات تھی، لیکن آج کے گجرات کا ماحول اس دور سے کافی مختلف ہے۔

پانڈیا اس بات سے بھی اتفاق نہیں کرتے کہ عبد اللطیف کی انتخابی سیاست نے براہِ راست بی جے پی کو کوئی بڑا سیاسی فائدہ پہنچایا۔ ان کے مطابق لطیف نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑا تھا، اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ اس کا نتیجہ بی جے پی کے حق میں گیا۔

اسی طرح وہ اس دعوے کو بھی مسترد کرتے ہیں کہ لطیف کی موجودگی نے گجرات میں مذہبی پولرائزیشن کو جنم دیا۔ ان کے بقول، ’پولرائزیشن کسی ایک مافیا یا گینگسٹر کی وجہ سے نہیں ہوتی، بلکہ بڑے فرقہ وارانہ فسادات اس کا سبب بنتے ہیں۔ گجرات میں 1969 اور 2002 کے فسادات نے معاشرے پر گہرا اثر ڈالا، اور اسی پس منظر میں سیاسی رجحانات تشکیل پائے۔‘

دوسری جانب عالمی شہرت یافتہ مورخ ہاورڈ سپوڈیک اپنی کتاب ’احمد آباد: شاک سٹی آف ٹوئنٹیئتھ سنچری انڈیا‘ میں لکھتے ہیں کہ بی جے پی نے عبد اللطیف کو محض ایک فرد کے طور پر نہیں بلکہ ایک سیاسی علامت کے طور پر پیش کیا۔ ان کے مطابق پارٹی نے انتخابی مہم میں ’رام راجیہ‘ اور ’لطیف راج‘ کا تقابل کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ نظم و قانون اور ہندو مفادات کی نمائندہ جماعت ہے۔ سپوڈیک کے نزدیک یہ حکمتِ عملی 1987 کے انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی کی اہم وجوہات میں شامل تھی۔

ان انتخابات میں بی جے پی نے 127 میں سے 67 نشستیں جیت کر واضح برتری حاصل کی، جبکہ کانگریس صرف 30 نشستیں حاصل کر سکی۔

پرشانت دیال کے مطابق عبد اللطیف کے خلاف کارروائی میں کانگریس کی ہچکچاہٹ عوام میں ناراضی پیدا کر رہی تھی۔ کانگریسی قیادت کو خدشہ تھا کہ سخت کارروائی سے مسلم ووٹر ناراض ہو سکتے ہیں، لیکن وہ یہ سمجھنے میں ناکام رہی کہ اس طرزِ عمل سے ہندو ووٹروں میں بداعتمادی بڑھ رہی ہے۔ دیال کے مطابق کانگریس نے اس سیاسی تبدیلی کی شدت کا اندازہ نہیں لگایا اور بی جے پی نے اس خلا سے فائدہ اٹھایا۔

1989 تک بی جے پی شہری گجرات میں اپنی پوزیشن اس قدر مضبوط کر چکی تھی کہ اس نے سورت، راجکوٹ اور وڈودرا کی میونسپل کارپوریشنوں میں بھی کامیابیاں حاصل کر لیں۔

دیال لکھتے ہیں کہ اسی عرصے کے دوران احمد آباد کے قدیم شہر میں وشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل جیسی تنظیموں نے اپنا اثر بڑھانا شروع کیا، جس کا سیاسی فائدہ بی جے پی کو ملا۔ ان کے مطابق 1985 کے فسادات اور کانگریس کی سیاسی غلطیوں نے بی جے پی کے لیے راستہ ہموار کیا۔

وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ اشوک بھٹ سمیت بی جے پی کے کئی اہم رہنما پرانے احمد آباد ہی میں رہتے تھے اور روزمرہ کی بنیاد پر عوام سے رابطے میں رہتے تھے۔ اس دوران عام ووٹروں کے ایک حصے میں یہ تاثر مضبوط ہوتا گیا کہ بی جے پی ہندوؤں کی جماعت ہے جبکہ کانگریس مسلمانوں کی نمائندہ جماعت بن گئی ہے۔

تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ کانگریس کے اندر عبد اللطیف کے ناقدین موجود تھے۔ ان میں کالوپور سے کانگریس کے رکنِ پارلیمان رؤف ولی اللہ نمایاں تھے، جنھیں بعد میں انڈرورلڈ سے وابستہ افراد نے قتل کر دیا۔ پرشانت دیال کے مطابق کانگریس کے سابق وزیرِ داخلہ سی ڈی پٹیل بھی عبد اللطیف کے سخت مخالفین میں شمار ہوتے تھے۔

بی جے پی گھر گھر جا کر کہہ رہی ہے کہ لطیف کو مت بھولنا

Abdul Latif'
Kalpit Bhachech/Getty Images
بی جے پی رہنما لال کرشن اڈوانی 1993 کے ضمنی انتخابات کے دوران احمد آباد میں ایک ریلی سے خطاب کر رہے ہیں، ہرین پانڈیا ان کے ساتھ نظر آئے، نریندر مودی پیچھے بیٹھے ہوئے تھے

1987 کے بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کے بعد بی جے پی نے عبد اللطیف کے معاملے کو اپنی سیاسی مہمات میں زیادہ نمایاں کرنا شروع کیا۔ یہ حکمتِ عملی 1990 کے گجرات اسمبلی انتخابات میں بھی دکھائی دی، اگرچہ اس انتخاب میں بی جے پی 182 میں سے 67 نشستیں ہی جیت سکی اور واضح اکثریت حاصل نہ کر سکی۔

فرانسیسی سیاسیات دان کرسٹوف جعفریلوٹ کے مطابق، اسی طرزِ سیاست کو 1993 میں احمد آباد کی ایلس برج اسمبلی نشست کے ضمنی انتخاب میں بھی آزمایا گیا۔ اس انتخاب میں بی جے پی کے امیدوار ہریں پانڈیا تھے، جنھیں اس وقت پارٹی کا ابھرتا ہوا ستارہ سمجھا جاتا تھا، جبکہ ان کی انتخابی مہم کی نگرانی نریندر مودی کر رہے تھے، جو اس دور میں گجرات بی جے پی کے تنظیمی سیکریٹری تھے۔

کانگریس نے ہریں پانڈیا کے مقابلے میں صنعت کار لال چند دیو چند کو امیدوار بنایا۔ جعفریلوٹ کے مطابق اس وقت کے وزیر اعلیٰ چمن بھائی پٹیل ہریں پانڈیا کو شکست دینا چاہتے تھے، لیکن ان کے عبد اللطیف سے قریبی تعلقات کی باتیں سیاسی حلقوں میں زیرِ بحث رہتی تھیں، اور بی جے پی نے اسی پہلو کو انتخابی مہم کا حصہ بنایا۔

جعفریلوٹ لکھتے ہیں کہ گھر گھر چلائی جانے والی انتخابی مہم کے دوران بی جے پی کارکن ووٹروں سے کہا کرتے تھے: ’ووٹ ڈالنے جائیں تو لطیف کو مت بھولنا۔‘ اس نعرے کے ذریعے عوام کو عبد اللطیف کی مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں، بھتہ خوری اور جرائم کی یاد دلائی جاتی تھی۔

یہ نشست پہلے جنتا دل کے پاس تھی، لیکن ضمنی انتخاب میں ہریں پانڈیا نے تقریباً 48 ہزار ووٹوں کے بڑے فرق سے کامیابی حاصل کی۔ اس جیت کے بعد کئی مبصرین کو محسوس ہوا کہ بی جے پی کو گجرات میں انتخابی کامیابی کا ایک نیا سیاسی بیانیہ مل گیا ہے، جس میں قانون و نظم، جرائم اور فرقہ وارانہ سیاست کے موضوعات کو ایک دوسرے سے جوڑ کر پیش کیا جاتا تھا۔

کچھ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس کامیابی نے بی جے پی کو یہ یقین دلایا کہ عبد اللطیف جیسے متنازع کرداروں کو انتخابی بیانیے کا حصہ بنا کر ووٹروں کو متحرک کیا جا سکتا ہے، اور بعد کے برسوں میں بھی اس حکمتِ عملی کے مختلف پہلو گجرات کی سیاست میں نظر آتے رہے۔

1995 کے اسمبلی انتخابات میں ایک بڑا تجربہ

لطیف کے پاکستان فرار ہونے کے بعد چھبیل داس مہتا گجرات کے وزیر اعلیٰ بنے، جبکہ 1995 کے اسمبلی انتخابات قریب آ رہے تھے۔

سینیئر صحافی پرشانت دیال کے مطابق، کانگریس کے بعض رہنما عبد اللطیف کے خلاف سخت مؤقف تو رکھتے تھے، لیکن یہ باتیں زیادہ تر بند کمروں تک محدود رہتی تھیں۔ دوسری جانب عام لوگوں میں یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا تھا کہ احمد آباد اور گجرات میں ہندوؤں کو درپیش مسائل کی ذمہ دار کانگریس ہے۔ ساتھ ہی مسلم برادری کا ایک حصہ بھی کانگریس سے بددل ہوتا جا رہا تھا۔

فرانسیسی سیاسیات دان کرسٹوف جعفریلوٹ اپنی کتاب ’گجرات انڈر مودی: دی بلیو پرنٹ آف ٹوڈیز انڈیا‘ میں لکھتے ہیں کہ ایلس برج کے ضمنی انتخاب نے 1995 کے اسمبلی انتخابات کے لیے ایک طرح کا سیاسی خاکہ فراہم کیا۔

1995 کے انتخابی معرکے میں بی جے پی نے اپنی مہم کا بڑا حصہ کانگریس رہنماؤں اور عبد اللطیف کے مبینہ روابط پر مرکوز رکھا۔ جعفریلوٹ کے مطابق، کانگریس کے مسلم رکنِ اسمبلی محمد حسین باریہ اور لطیف کے تعلقات کے حوالے سے خاصی بحث ہوتی تھی، اور انھیں کانگریس کے چمن بھائی پٹیل دھڑے کے قریب سمجھا جاتا تھا۔

پرشانت دیال لکھتے ہیں کہ انتخابی مہم کے دوران اشوک بھٹ سمیت بی جے پی کے متعدد رہنما عبد اللطیف کے عروج کا ذمہ دار کانگریس کو قرار دیتے تھے۔ اگرچہ موضوع بظاہر لطیف تھا، لیکن براہِ راست نام لیے بغیر پوری مسلم برادری کو اس بحث کا حصہ بنا دیا جاتا تھا۔

ان کے مطابق، بہت سے ہندو ووٹروں میں یہ احساس پیدا کیا گیا کہ اس صورت حال سے نجات دلانے والی واحد سیاسی قوت بی جے پی ہے۔ 1995 کا انتخاب اس لحاظ سے اہم تھا کہ پہلی بار بی جے پی ان تصورات اور سیاسی بیانیوں کو انتخابی میدان میں آزما رہی تھی جو اس نے برسوں سے عوام کے ذہنوں میں قائم کیے تھے۔

پرشانت دیال کے بقول، ’1995 کے انتخابات میں بی جے پی کے پاس کوئی بڑا عوامی مسئلہ نہیں تھا، لیکن اس کے پاس عبد اللطیف کا معاملہ موجود تھا۔ پارٹی نے کانگریس کو لطیف کی جماعت، اور بالواسطہ طور پر مسلمانوں کی جماعت، کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت عبد اللطیف خود انڈیا میں موجود نہیں تھے اور پاکستان فرار ہو چکے تھے۔ تاہم ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق، بی جے پی رہنماؤں کی انتخابی تقاریر میں عبد اللطیف اور داؤد ابراہیم کے مبینہ کانگریسی روابط کا ذکر ایک مستقل موضوع بن چکا تھا۔

گجرات کے ایک ریٹائرڈ پولیس افسر نے تو یہاں تک کہا کہ ’یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ گجرات میں بی جے پی کے اقتدار تک پہنچنے کی راہ ہموار کرنے میں عبد اللطیف کے کردار نے بھی اہم حصہ ڈالا۔‘

Abdul Latif'
Getty Images
1995 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو واضح اکثریت حاصل کرنے کے بعد کیشو بھائی پٹیل کی حلف برداری کی تقریب میں ایل کے اڈوانی، نریندر مودی اور دیگر بی جے پی رہنما موجود تھے

ریٹائرڈ آئی پی ایس آر بی سری کمار اپنی کتاب ’گجرات کے پیچھے پردے‘ میں لکھتے ہیں، ’1984 سے گجرات میں حالات سنگھ پریوار کے لیے سازگار ہوتے جا رہے تھے۔ ریزرویشن مخالف تحریکیں مسلم مخالف تشدد میں بدل گئیں۔ کانگریس کے روایتی ووٹر بی جے پی کی طرف متوجہ ہوتے رہے۔ 1995 میں بی جے پی کی جیت کے بعد، سنگھ پریوار نے اپنے فرقہ واریت اور بھگوا کاری کے پروگراموں کو تیز کر دیا۔ اس کے نتیجے میں، آبادی کے بڑے حصے، جیسے پاٹیدار، بی جے پی کی طرف راغب ہوئے۔‘

وہ لکھتے ہیں، ’رام جنم بھومی تحریک، اڈوانی کی رتھ یاترا، کشمیری پنڈت کا مسئلہ، بابری مسجد کا انہدام اور اس کے بعد ہونے والے فسادات، گجرات کے احمد آباد جیسے شہروں میں عبداللطیف جیسے مجرموں کا عروج وغیرہ جیسے واقعات نے روایتی طور پر سیکولر آبادی کے ایک بڑے حصے کو ہندو اکثریتی سیاست کی طرف دھکیل دیا۔‘

1995 کے انتخابات میں بی جے پی نے 121 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی اور کانگریس 45 سیٹوں تک سمٹ گئی۔

پرشانت دیال لکھتے ہیں، ’اس جیت کے بعد بھی عوام کا دھیان بی جے پی کے سائنسدان نریندر مودی کی طرف نہیں گیا، جنھوں نے ہندو مسلم ووٹوں کو تقسیم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ صرف پانچ سالوں میں نریندر مودی نے رام جنم بھومی کا مسئلہ اٹھا کر اور لطیف کے خلاف مہم چلا کر کانگریس کا صفایا کر دیا۔ یہ ان کا پہلا بڑا تجربہ تھا جس میں وہ کامیاب رہے۔‘

اس بارے میں ہم نے بی جے پی کا مؤقف لینے کے لیے گجرات میں پارٹی کے چیف ترجمان سے بات کی، لیکن انھوں نے واضح طور پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

لطیف کی گرفتاری، موت اور اس کے بعد کی سیاست

1996 میں جب کیشو بھائی پٹیل کی حکومت کے دور میں عبد اللطیف گرفتار ہوئے تو بی جے پی نے اس کارروائی کو اپنی سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کیا۔ گجرات کے مختلف علاقوں میں کیشو بھائی پٹیل کو ’ہندو ہردے سمراٹ‘ (ہندوؤں کے دلوں کا بادشاہ) کے لقب سے نوازا گیا اور انھیں ایک مضبوط رہنما کے طور پر پیش کیا گیا۔

تاہم عبد اللطیف کے نام اور ان کے خلاف سخت موقف کو سیاسی طور پر استعمال کر کے بنائی گئی حکومت زیادہ عرصہ برقرار نہ رہ سکی۔ بی جے پی اندرونی اختلافات اور بغاوت کا شکار ہوئی، جس کے نتیجے میں شنکر سنگھ واگھیلا اقتدار میں آ گئے۔

نومبر 1997 میں شنکر سنگھ واگھیلا کی راشٹریہ جنتا پارٹی (آر جے پی) اور کانگریس کی مخلوط حکومت کے دور میں عبد اللطیف ایک مبینہ پولیس مقابلے میں مارے گئے۔

صحافی پرشانت دیال اپنی کتاب ’لطیف‘ میں لکھتے ہیں کہ عبد اللطیف کی ہلاکت کے بعد پولیس کو خدشہ تھا کہ احمد آباد میں بڑے پیمانے پر فسادات بھڑک سکتے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ان کے مطابق اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وقت گزرنے کے ساتھ بہت سے مسلمانوں میں بھی لطیف کے بارے میں ناراضی پیدا ہو چکی تھی، کیونکہ ان پر مبینہ طور پر اپنے ہی طبقے کے لوگوں سے رقم بٹورنے کے الزامات لگتے رہے تھے۔ دیال کے مطابق، ان کی موت کے بعد ہندو اور مسلم دونوں علاقوں میں صورتحال نسبتاً پرامن رہی۔

وہ لکھتے ہیں، ’لیکن ایک شخص، عبد اللطیف، کے گرد بننے والی سیاست نے احمد آباد کے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ایسی خلیج پیدا کر دی جسے پاٹنے میں شاید کئی دہائیاں لگ جائیں۔ اس خلیج کو گہرا کرنے میں سیاسی جماعتوں نے بھی اہم کردار ادا کیا۔‘

فرانسیسی سیاسیات دان کرسٹوف جعفریلوٹ بھی اپنی کتاب میں اسی نقطۂ نظر کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق عبد اللطیف کی موت کے بعد بھی ان کا نام گجرات کی سیاست میں ایک علامت کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ جعفریلوٹ کا کہنا ہے کہ جب تک لطیف اور ان کے نیٹ ورک کی سرگرمیاں سیاسی مباحث کا حصہ رہیں، بی جے پی نے قانون و امان، جرائم اور فرقہ وارانہ شناخت کے موضوعات کو جوڑ کر اپنا سیاسی بیانیہ مضبوط کیا۔

ان کے خیال میں 1990 کی دہائی میں گجرات میں بی جے پی کے عروج کی متعدد وجوہات تھیں، لیکن فرقہ وارانہ پولرائزیشن ان میں ایک اہم عنصر تھی۔ یہی پولرائزیشن بعد کے برسوں میں گجرات کی سیاست کا نمایاں پہلو بن گئی اور ریاست کے سیاسی منظرنامے کو تبدیل کرنے میں مؤثر ثابت ہوئی۔

Modi in Gujrat
Kalpit Bhachech/Dipam Bhachech/Getty Images
2002 میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی

اگر لطیف نہ ہوتے تو کیا گجرات میں بی جے پی مضبوط نہ ہوتی؟

ریٹائرڈ پروفیسر گھنشیام شاہ اس تاثر سے اتفاق نہیں کرتے کہ اگر عبد اللطیف نہ ہوتے تو گجرات میں بی جے پی اتنی مضبوط نہ بن پاتی۔ تاہم ان کے نزدیک یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ گجرات کے اس سیاسی ماحول کو مزید تقویت ضرور دی۔

وہ کہتے ہیں کہ 1985 کے بعد ابھرنے والی ریزرویشن مخالف تحریک کو بی جے پی نے سیاسی طور پر بڑی مہارت سے استعمال کیا۔ ان کے بقول، لطیف اور دیگر متنازع شخصیات کے گرد بننے والی سیاست نے فرقہ وارانہ کشیدگی کو بڑھایا، جس کے نتیجے میں فسادات بھی ہوئے، لیکن ان کا نقصان دونوں برادریوں کو اٹھانا پڑا۔ شاہ یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ گجرات کے دو بڑے فرقہ وارانہ سانحات، 1969 اور 2002 کے فسادات، ایسے ادوار میں ہوئے جب عبد اللطیف منظرنامے پر موجود نہیں تھے۔

احمد آباد کے سینیئر کالم نگار اور مصنف اروش کوٹھاری کے مطابق، عبد اللطیف ایک ایسے کردار تھے جنھیں مختلف اوقات میں کانگریس اور بی جے پی، دونوں نے اپنے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔

وہ کہتے ہیں، ’گجرات میں ہندو اکثریت کے باوجود ایک ایسا ماحول تشکیل دیا گیا جس میں یہ تاثر پیدا ہو کہ ہندو خود کو خطرے اور عدم تحفظ میں محسوس کر رہے ہیں۔ اس بیانیے کی تشکیل میں لطیف ایک اہم علامت بن گئے تھے۔‘

اروش کوٹھاری کے مطابق ممکن ہے کہ لطیف نے بعض مواقع پر کانگریس کو فائدہ پہنچایا ہو، لیکن طویل المدت سیاسی اعتبار سے ان کے وجود سے سب سے زیادہ فائدہ بی جے پی نے اٹھایا۔

ان کے خیال میں اس وقت بی جے پی کو ایسی علامتوں اور بیانیوں کی ضرورت تھی جو عام لوگوں کے جذبات سے براہِ راست جڑ سکیں۔ چونکہ احمد آباد مسلسل فرقہ وارانہ کشیدگی اور فسادات کی لپیٹ میں رہتا تھا، اس لیے ایسے کردار سیاسی مباحث میں نمایاں اہمیت اختیار کر گئے۔

اروش کوٹھاری کا کہنا ہے کہ آج بھی اگر احمد آباد میں متوسط یا بڑی عمر کے بہت سے لوگوں سے بات کی جائے تو ان میں سے اکثر کے پاس ہندو مسلم تعلقات یا مسلم برادری کے بارے میں کوئی نہ کوئی منفی تجربہ یا تاثر موجود ہوگا۔

ان کے بقول، بی جے پی نے عبد اللطیف کے کردار کو بھرپور انداز میں سیاسی بیانیے کا حصہ بنایا اور ایسا ماحول تشکیل دیا جس میں اس پر مسلسل بحث ہوتی رہی۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ گجرات جیسی ریاست میں، جہاں تقریباً 89 فیصد آبادی ہندوؤں پر مشتمل ہے، اکثریتی طبقے میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنا ایک غیر معمولی سیاسی عمل تھا، اور ان کے نزدیک بی جے پی اس میں کامیاب رہی۔

تاہم وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ بی جے پی کی سیاسی کامیابی کا انحصار صرف عبد اللطیف پر نہیں تھا۔

ان کے الفاظ میں، ’اگر عبد اللطیف نہ بھی ہوتے تو بی جے پی شاید کوئی اور علامت یا کردار تلاش کر لیتی۔ درحقیقت اصل کامیابی لطیف کے وجود میں نہیں بلکہ اس سیاسی حکمت عملی میں تھی جس کے ذریعے ان کی شبیہ کو عوامی اور انتخابی بیانیے کا حصہ بنایا گیا۔‘

اتنے سالوں بعد بھی بی جے پی نے ہمیں لطیف یاد دلایا

عبد اللطیف کی موت کو تقریباً تین دہائیاں گزر چکی ہیں، لیکن گجرات کی سیاست میں ان کا نام آج بھی وقتاً فوقتاً سامنے آ جاتا ہے۔ احمد آباد میونسپل کارپوریشن کے 2026 کے انتخابات میں بھی عبد اللطیف کا تذکرہ انتخابی مہم کا حصہ بنا رہا۔

21 اپریل 2026 کو احمد آباد کے دریاپور علاقے میں ایک انتخابی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گجرات کے نائب وزیر اعلیٰ ہرش سنگھوی نے کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے عبد اللطیف کا حوالہ دیا۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس کے دور میں شہر کا ماحول ایسا تھا کہ احمد آباد کو ’لطیف کا شہر‘ کہا جاتا تھا، جبکہ بی جے پی حکومت نے ایسے عناصر کا خاتمہ کر دیا۔

اسی طرح بی جے پی کے سابق رکنِ اسمبلی بھوشن بھٹ نے 15 اپریل 2026 کو اپنی انتخابی مہم کے دوران عبد اللطیف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں یہ تاثر عام تھا کہ احمد آباد کی پولیس اور انتظامیہ پر لطیف کا اثر و رسوخ موجود ہے۔ ان کے بقول اسی پس منظر میں بی جے پی نے خود کو قانون و نظم بحال کرنے والی جماعت کے طور پر پیش کیا تھا۔

تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ اس انتخاب میں بی جے پی کو کھاڈیا جیسے علاقے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جو تقریباً چار دہائیوں تک اس کا مضبوط سیاسی گڑھ سمجھا جاتا تھا۔

عبد اللطیف کا نام اس سے پہلے بھی سیاسی مباحث میں زیرِ بحث آ چکا ہے۔ 2017 میں شاہ رخ خان کی فلم رئیس کی ریلیز کے وقت یہ چہ میگوئیاں عام تھیں کہ فلم کا مرکزی کردار کسی حد تک عبد اللطیف کی زندگی سے متاثر ہے۔ اتفاق سے اسی سال گجرات اسمبلی کے انتخابات بھی منعقد ہوئے تھے، جس کے باعث ان کا نام ایک بار پھر عوامی مباحث کا حصہ بن گیا۔

اس معاملے پر مؤقف جاننے کے لیے جب گجرات بی جے پی کے میڈیا انچارج سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی اس موضوع پر کوئی بیان نہیں دینا چاہتی۔

جمال پور-کھاڈیا کے سابق بی جے پی رکنِ اسمبلی بھوشن بھٹ ان سیاست دانوں میں شامل ہیں جنھوں نے عبد اللطیف کے عروج کا دور قریب سے دیکھا۔ ان کے مطابق اس زمانے میں لطیف کا اثر و رسوخ اتنا وسیع تھا کہ اس کا آج تصور کرنا بھی مشکل ہے۔

بھٹ ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ان کے والد اشوک بھٹ اور پولیس کمشنر کے درمیان ایک کانسٹیبل کے تبادلے سے متعلق ہونے والی فون پر گفتگو کی اطلاع بھی فوری طور پر عبد اللطیف تک پہنچ گئی تھی۔ ان کے بقول اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شہر کے مختلف اداروں تک اس کی رسائی کس حد تک تھی۔

بھوشن بھٹ کا کہنا ہے کہ عبد اللطیف کی موجودگی کے باعث گجرات کی سیاست اور امن و امان کی صورتحال ایسے راستے پر جا رہی تھی جو اتر پردیش اور بہار کے ’گینگ وار‘ اور ’انکاؤنٹر سیاست‘ سے مشابہ ہو سکتی تھی۔ ان کے مطابق لطیف کے خاتمے کے بعد یہ رجحان بھی رک گیا۔

تاہم وہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ بی جے پی کو گجرات میں اپنی سیاسی کامیابی محض عبد اللطیف کی وجہ سے حاصل ہوئی۔ ان کے بقول اگر کیشو بھائی پٹیل کی حکومت سخت کارروائی نہ کرتی تو آج گجرات کی صورتحال مختلف ہو سکتی تھی، اور ریاست میں امن و امان کا کریڈٹ بی جے پی کی حکومتی پالیسیوں کو جاتا ہے۔

دوسری جانب پروفیسر گھنشیام شاہ کا موقف ہے کہ جب بھی سیاسی ضرورت محسوس ہوئی، بی جے پی نے عبد اللطیف کے نام اور ان کی شبیہ کو اپنے سیاسی بیانیے میں استعمال کیا۔

مصنف اور کالم نگار ارویش کوٹھاری کے مطابق، عبد اللطیف کی موت کے بعد رفتہ رفتہ ان کی سیاسی اہمیت کم ہوتی گئی۔ ان کے بقول جب نریندر مودی گجرات کے وزیر اعلیٰ بنے تو انتخابی مہم کا مرکز بھی بدل گیا۔ کوٹھاری کہتے ہیں کہ بعد کے برسوں میں عبد اللطیف کا نام نسبتاً پس منظر میں چلا گیا اور اس کی جگہ پاکستان، جنرل پرویز مشرف اور قومی سلامتی جیسے موضوعات نے لے لی۔

ان کے مطابق، ’آج عبد اللطیف بنیادی طور پر ماضی کا ایک کردار ہیں۔ بی جے پی کی سیاست اور انتخابی حکمت عملی اب بہت وسیع موضوعات کے گرد گھومتی ہے، اس لیے لطیف جیسی شخصیات پہلے جیسی اہمیت نہیں رکھتیں۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US