اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (OICCI) نے آئی ایم ایف کے وفد سے ملاقات کے دوران پاکستان میں معاشی استحکام کے فوائد کو نجی سرمایہ کاری، برآمدات، توانائی کے تحفظ اور اسٹرکچرل اصلاحات میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا۔
چیمبر کی سینئر قیادت اور رکن ملٹی نیشنل کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات کے لیے آنے والے آئی ایم ایف کے وفد میں مڈل ایسٹ اینڈ سینٹرل ایشیا ڈیپارٹمنٹ کی ایڈوائزر ایوا پیٹرووا اور پاکستان میں آئی ایم ایف کے ریزیڈنٹ نمائندے ماہِر بنِیسی شامل تھے۔ جمعرات کو او آئی سی سی آئی کے ہیڈ آفس میں ہونے والی ملاقات میں ملکی معیشت اور سرمایہ کاری کے ماحول سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
او آئی سی سی آئی نے پاکستان کی بیرونی مالیاتی صورتحال اور خودمختار کریڈٹ پروفائل میں بہتری کے باوجود براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 2026 میں خالص غیر ملکی سرمایہ کاری تقریباً 32 فیصد کم ہوکر 1.7 ارب ڈالر رہ گئی۔ چیمبر نے سرمایہ کاروں کے لیے ریگولیٹری اور کمپلائنس کے بوجھ میں کمی، سرمایہ کاروں کے تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے اور وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پر زور دیا۔
او آئی سی سی آئی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملکی انڈسٹری کو پاکستان میں دوبارہ سرمایہ کاری کے ذریعے آگے آنا چاہیے کیونکہ غیر ملکی سرمایہ کار مقامی کاروباری طبقے کی جانب سے ملک کی معیشت پر ظاہر کیے جانے والے اعتماد کو بھی اپنے فیصلوں میں مدنظر رکھتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں او آئی سی سی آئی نے فوری طور پر توانائی کے تحفظ اور بچت کے اقدامات کے ساتھ ساتھ درمیانی مدت میں توانائی کے شعبے میں خودکفالت کے لیے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔ چیمبر نے بجلی، گیس اور پٹرولیم کے شعبوں پر مشتمل مربوط توانائی سیکیورٹی حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے خطے میں توانائی کی بلند لاگت، گردشی قرضے، ریفائننگ کے شعبے میں سرمایہ کاری اور علاقائی سطح پر توانائی کے تعاون کی ضرورت کو اجاگر کیا۔
ایکسٹرنل سیکٹر کے حوالے سے او آئی سی سی آئی نے کہا کہ پاکستان اپنی زرمبادلہ کمانے کی صلاحیت میں اضافہ کیے بغیر بلند معاشی شرح نمو برقرار نہیں رکھ سکتا۔ اس مقصد کے لیے چیمبر نے مسابقت اور پیداواری صلاحیت بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ برآمدات پر مبنی شعبوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ او آئی سی سی آئی نے اہم عالمی منڈیوں کے ساتھ تجارتی و سرمایہ کاری روابط بڑھانے اور جہاں تجارتی طور پر موزوں ہو، علاقائی تجارت کو فروغ دینے کی اہمیت اجاگر کی۔
اسٹرکچرل اصلاحات کے حوالے سے او آئی سی سی آئی نے سرکاری اداروں (SOEs) میں اصلاحات کا عمل تیز کرنے اور ایسے اداروں کی شفاف و قابلِ اعتماد نجکاری پر زور دیا جہاں ریاستی ملکیت برقرار رکھنا ضروری نہیں۔ چیمبر نے پالیسی سازی، ریگولیشن، سہولت کاری اور تجارتی سرگرمیوں میں ریاست کے مختلف کرداروں کو الگ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور مسابقت کے لیے مزید مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
او آئی سی سی آئی نے زراعت، رئیل اسٹیٹ، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) اور ریٹیل سمیت ان شعبوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر زور دیا جو اس وقت ٹیکس کے دائرے میں پوری طرح شامل نہیں ہیں۔ چیمبر نے کہا کہ ٹیکس بیس بڑھانے کے لیے پہلے سے دستاویزی اور ٹیکس ادا کرنے والے کاروباری اداروں پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے۔