بی بی سی افغانستان کے فیکٹ چیکنگ یونٹ کی جانب سے سیٹلائٹ تصاویر کے جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ شہر قندھار میں ’سرائے ملا عمر‘ پر بھی حملہ کیا گیا، جو ایک فوجی تنصیب سمجھی جاتی ہے۔ تصاویر سے واضح ہے کہ اس مقام پر موجود متعدد ہینگر مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔
پاکستان کے گذشتہ شب افغانستان پر حملوں کے بعد جاری ہونے والی سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملوں میں بظاہر کئی ’فوجی‘ مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
بی بی سی افغانستان کے فیکٹ چیکنگ یونٹ کی جانب سے سیٹلائٹ تصاویر کے جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ شہر قندھار میں ’سرائے ملا عمر‘ پر بھی حملہ کیا گیا، جو ایک فوجی تنصیب سمجھی جاتی ہے۔ تصاویر سے واضح ہے کہ اس مقام پر موجود متعدد ہینگر مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔
سرائے ملا عمر، جو کبھی طالبان کے سابق رہنما ملا محمد عمر کی رہائش گاہ تھی، جمہوری دورِ حکومت میں افغانستان میں امریکی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے مراکز میں شامل رہی تھی۔
قندھار سے شائع ہونے والی تصاویر میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ حملوں کے بعد علاقے میں آگ اور دھواں واضح طور پر موجود تھا۔
صوبہ پکتیا میں، دارالحکومت گردیز کے نواحی علاقے میں واقع 203ویں قول اردو کے ایک ہینگر کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس ہینگر کے اندر کیا رکھا گیا تھا۔
صوبہ خوست کی تصاویر سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک فوجی مقام پر حملہ کیا گیا، جہاں دو ہینگر مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔
اس سے قبل طالبان حکومت کے ترجمان نے قندھار، خوست اور پکتیا صوبوں میں پاکستان کے فضائی حملوں کی تصدیق کی تھی۔
دوسری جانب افغانستان میں طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے کابل میں پاکستانی سفارت خانے کے ناظم الامور کو طلب کیا ہے۔
طالبان حکومت کی وزارتِ خارجہ نے اپنے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر بتایا ہے کہ اس نے قندھار، پکتیا اور خوست میں گزشتہ رات ہونے والے پاکستانی فضائی حملوں کے حوالے سے اپنا احتجاج پاکستانی ناظم الامور کے سامنے پیش کیا ہے۔
طالبان حکومت کی وزارتِ خارجہ کے مطابق ان حملوں کے بارے میں اپنا احتجاجی مکتوب بھی کابل میں پاکستانی سفارت خانے کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہےکہ ’افغانستان کی اسلامی امارت ان حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور انھیں افغانستان کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتی ہے، جو اسلامی، بین الاقوامی، انسانی اور ہمسائیگی کے اصولوں کے منافی ہے۔‘
طالبان حکومت نے قندھار، پکتیا اور خوست پر گذشتہ رات کے حملوں کو ’پاکستانی فوجی حکومت کی ظالمانہ جارحیت‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں ’چار عام شہری‘ ہلاک ہوئے ہیں۔ بی بی سی کو بتایا گیا ہے کہ یہ چاروں افراد جنوبی شہر قندھار میں ہلاک ہوئے۔
افغانستان کے شہر قندھار میں فضائی حملے کے بعد علاقے سے آگ کے شعلے اور دھواں بلند ہو رہا ہےطالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جمعرات (24 ستمبر) کو جاری ایک بیان میں کہا کہ: ’ان اندھے اور بزدلانہ حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور انھیں تمام اصولوں کی کھلی خلاف ورزی، واضح جارحیت اور جرم سمجھتے ہیں۔‘
ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان کو خبردار کیا کہ اسے اس کا ’مناسب جواب‘ دیا جائے گا، تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ جواب کس نوعیت کا ہوگا۔
انھوں نے اپنے بیان میں پاکستان کے ان دعوؤں کو بھی مسترد کیا جن میں کہا گیا تھا کہ افغانستان سے ڈرون حملے کیے گئے تھے اور انھیں مار گرایا گیا تھا۔
ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ وہ ایسی باتوں کے ذریعے ’اپنے داخلی مسائل اور ناکامیوں کا جواز پیدا کرنے کے لیے افغان سرزمین پر فضائی حملے‘ کر رہا ہے۔
ان کے مطابق، ’اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ، غیر محتاط اور اشتعال انگیز اقدامات بلا شبہ افغان عوام کے غم و غصے کو بھڑکاتے ہیں، جس کے پاکستانی فوج کے لیے منفی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔‘
دوسری جانب خوست کی صوبائی انتظامیہ کے ترجمان مستغفر گربز نے بھی اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ: ’پاکستانی فوجی حکومت کی جانب سے رات تقریباً ساڑھے تین بجے ضلع گربز کے علاقے گلان کیمپ، صوبائی مرکز کے قریب اور اسماعیل خیل و مندوزئی ضلع کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے کیے گئے، تاہم ان میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔‘
پاکستان اور افغانستان کی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں
پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ صوبہ بلوچستان میں گلستان سیکٹر پر افغان طالبان کی جانب سے مبینہ دراندازی کی کوشش کے دوران کئی طالبان جنگجو ہلاک کر دیے گئے ہیں۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یا افغان طالبان کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
پاکستان کے سرکاری انگلش چینل ’پاکستان ٹی وی‘ نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ علاقے میں وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ تاحال جاری ہے، جبکہ پاکستانی سکیورٹی فورسز سرحد پر مکمل طور پر چوکس اور ہائی الرٹ ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’سکیورٹی حکام کے مطابق سرحدی علاقوں کی کڑی نگرانی جاری ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے فورسز ہر قسم کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘
بی بی سی اُردو کے رابطہ کرنے پر بلوچستان میں سرکاری حکام نے بتایا کہ بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ کے قریب سرحد پر پاکستان اور افغانستان کی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔
حکومت کے ایک سینیئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سرحدی جھڑپوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ جھڑپیں گلستان سیکٹر میں ہوئیں، تاہم انھوں نے اس ضمن میں زیادہ معلومات فراہم نہیں کیں۔
بلوچستان کے محکمہ داخلہ کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان کی جانب سے قلعہ عبداللہ میں گلستان سیکٹر میں دراندازی کی کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی سرحدی حدود اور خودمختاری کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور افغانستان کی جانب سے کسی بھی جارحانہ اقدام کا جواب پاکستان اپنی دفاعی صلاحیت کے مطابق بھرپور انداز میں دے گا۔
یاد رہے کہ گلستان، قلعہ عبداللہ کی تحصیل ہے اور یہ علاقہ بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ سے شمال مغرب میں تقریباً 90 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

ڈرونز داغنے اور ذخیرہ کرنے کے ٹھکانوں پر حملے کیے: پاکستان کا دعویٰ
پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا تھا کہ فضائیہ اور ڈرونز کے ذریعے افغانستان میں 10 ’ایسے مقامات پر انتہائی درست حملے کیے گئے ہیں جو ڈرونز داغنے اور انھیں ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔‘
پاکستان کی جانب سے ان مقامات کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی تاہم یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب ایک ہی دن قبل پاکستان کی سرکاری چینل نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ پاکستان نے بدھ کی صبح افغانستان سے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ’آٹھ ڈرون مار گرائے‘ ہیں۔
جمعرات کی صبح اس اعلان کے بعد افغانستان کے طلوع نیوز نے خوست کے گورنر کے ترجمان مستغفر گربز کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ’پاکستان کے حملے رات تقریباً ساڑھے تین بجے ہوئے اور ضلع گربز کے علاقے کمپ گلان کے علاوہ ضلع اسماعیل خیل اور مندوزی کے بعض علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔‘ ان کے مطابق حملوں میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
گیٹی امیجز نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کی فراہم کردہ چند تصاویر جاری کی ہیں، جن میں قندھار میں ایک فضائی حملے کے بعد آگ اور دھوئیں کے شعلے بلند ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
طالبان سکیورٹی اہلکار صوبہ خوست میں فضائی حملے میں تباہ ہونے والے ایک مقام پر جمع ہیںسوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں وزیرِ اطلاعات نے الزام لگایا کہ گذشتہ روز (23 ستمبر کو) افغان سر زمین سے پاکستان میں ڈرونز بھیجے گئے تھے۔
عطا اللہ تارڑ کے بقول ’یہ پاکستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے اور جارحیت کا ایک سنگین اور نا قابلِ قبول عمل ہے۔‘
واضح رہے کہ گذشتہ روز پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ بدھ، 23 ستمبر کی صبح پاکستان نے اپنی فضائی حدود میں افغانستان سے داخل ہونے والے آٹھ ڈرونز مار گرائے ہیں۔
سرکاری ذرائع ابلاغ پر رپورٹ کیے گئے سکیورٹی ذرائع کے مطابق ’ان ڈرونز کا تعلق افغان طالبان رجیم سے تھا‘ جن میں سے چار کو طورخم سرحد سے ملحقہ علاقوں میں مار گرایا گیا، جبکہ دیگر چار کو کوہاٹ سے متصل سرحدی پہاڑی علاقوں میں نشانہ بنایا گیا۔
تاہم افغانستان میں طالبان حکومت کی وزارتِ دفاع کے ترجمان صدیق اللہ نصرت نے اس الزام کی تردید کی تھی کہ افغانستان کی جانب سے آٹھ ڈرونز پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوئے تھے۔
اس سے قبل، پیر (21 ستمبر) کو پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ’مستند خفیہ اطلاعات‘ کی بنیاد پر سرحد سے متصل افغان علاقے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اُس سے وابستہ گروہوں کے ٹھکانوں کو انتہائی درستی کے ساتھ نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں کئی 'خودکش بمباروں' کے علاوہ 28 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔
اُسی روز افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پوسٹ میں کہا تھا کہ ’افغان عوام اس جارحیت کا مناسب جواب دیں گے۔‘
تاہم، بی بی سی سے گفتگو میں افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان صدیق اللہ نصرت نے اس تاثر کو رد کیا کہ پاکستانی حملوں کے ردعمل میں افغانستان نے بھی پاکستان پر ڈرون داغے ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’افغان فضائیہ نے ابھی تک کوئی ڈرون حملہ نہیں کیا اور جوابی کارروائی کا وقت اور نوعیت وہ خود طے کرے گی۔‘
جمعرات کے روز اپنی ایکس پوسٹ میں عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کئی سال سے پڑوسی ملک کی طالبان حکومت سے اس تشویش کا اظہار کر رہا ہے کہ افغان سر زمین پر دہشت گردوں کی پناہ گاہیں اور ان کے سہولت کار موجود ہیں۔‘
21 ستمبر کو پاکستان نے 'مستند خفیہ اطلاعات' پر افغانستان میں 28 شدت پسند ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھاپاکستان کے وزیرِ اطلاعات کے مطابق، ’افغان سر زمین استعمال کر کے پاکستان میں دہشت گردی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے افغان طالبان حکومت نے پاکستان پر ڈرون داغ کر صورتحال مزید کشیدہ کرنے کا انتخاب کیا۔‘
عطا تارڑ کے بقول پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے دراندازی کرنے والے ڈرونز کو ان کے کسی بھی مطلوبہ ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی غیر مؤثر کیا اور ’حملے کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔‘
وزیرِ اطلاعات نے اپنی ایکس پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ جوابی کارروائی کے طور پر افغانستان میں ڈرونز داغنے اور ذخیرہ کرنے کے لیے بنائے گئے 10 مقامات کو ’انتہائی درستی‘ سے نشانہ بنایا گیا اور وہ صرف اُن فوجی اہداف تک محدود تھے جن کا پاکستان پر حملوں سے براہِ راست تعلق تھا۔
عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان افغان سر زمین سے کیے جانے والے حملوں کو ’قبول کرے گا اور نہ ہی برداشت کرے گا۔‘
ان کے بقول ’افغان طالبان کی جانب سے دھمکیوں، تردید یا ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کوشش سے‘ حقائق نہیں بدلیں گے اور پاکستان اپنے عوام اور قومی سلامتی کا دفاع جاری رکھے گا۔
اپنی ایکس پوسٹ میں وزیرِ اطلاعات نے افغانستان کی طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ دشمنی پر مبنی سرگرمیاں بند کرے اور ’افغان سر زمین سے کارروائیاں کرنے والے شدت پسند عناصر کے خلاف مؤثر، ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کرتے ہوئے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرے۔‘
انھوں نے لکھا: ’افغان سر زمین کو پاکستان کے خلاف حملے کرنے یا دشمنی پر مبنی کارروائیاں انجام دینے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔‘
وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا لیکن ’افغان طالبان کی جانب سے کسی بھی مزید اشتعال انگیزی کا سخت جواب دیا جائے گا۔‘
افغان طالبان حکومت کے پاس کس قسم کے ڈرونز موجود ہیں؟
رواں سال 27 فروری کو افغانستان کی طالبان حکومت نے ڈرونز استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے تین شہروں میں ’متعدد فضائی حملوں‘ کا دعویٰ کیا تھا۔
اس دعوے کے بعد طالبان حکومت کی ڈرون صلاحیتوں اور استعمال کیے گئے ڈرونز کی نوعیت کے بارے میں سوالات اٹھے تھے، اور بی بی سی نے اپنی پانچ مارچ کی رپورٹ میں ان کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کی تھی۔
ذیل کی معلومات اسی رپورٹ سے لی گئی ہیں۔
بی بی سی افغانستان کی فیکٹ چیک ٹیم کی تحقیقات کے مطابق طالبان حکومت نے پاکستان پر حملوں کے لیے دو قسم کے ڈرون استعمال کیے تھے، جن میں سے کچھ خودکش ڈرونز جبکہ چند کواڈ کاپٹرز (ایسے ڈرون جو چار پروں کی مدد سے اڑتے ہیں) شامل تھے۔
کواڈ کاپٹرز عمومی طور پر فوجی استعمال کے لیے تیار نہیں کیے جاتے تاہم شدت پسند گروہ ان میں معمولی تبدیلیاں کر کے اور انھیں دھماکہ خیز مواد سے لیس کر کے حملوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ریموٹ کنٹرول کے ذریعے چلائے جانے والے ان ڈرونز کی پرواز کی حد 25 کلومیٹر تک ہے اس لیے انھیں طویل فاصلے کے اہداف پر حملے کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔
طالبان حکومت کے استعمال کردہ ڈرونز کے بارے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایک افغان ماہر نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ڈرونز کی ایک قسم وہ ہے ’جو 20 کلومیٹرکے فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنا سکتی ہے، ایسے ڈرونز کو ایک خاص ریموٹ کنٹرول کی مدد سے چلایا جاتا ہے اور ان میں چھ سے آٹھ کلوگرام دھماکہ خیز مواد لے جانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔‘
’دوسری قسم ایک سافٹ ویئر کے ذریعے کام کرتی ہے اور ہدف کے محل وقوع کی تفصیلات اس میں فیڈ کی جاتی ہیں۔‘
انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہر کے مطابق ان ڈرونز کی پرواز کی حد کئی عوامل پر منحصر ہے مثلاً دھماکہ خیز مواد کا وزن، ایندھن کی مقدار اور موسم کی صورتحال۔ خود اس ڈرون کا وزن تقریباً 15 کلوگرام ہوتا ہے۔
یوکرین کے دفاع اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سربراہ رائے گارڈنر نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ یہ ڈرونز 150 سے 400 کلومیٹر کے فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر اس کا دار و مدار وار ہیڈ کے وزن پر ہے۔
بی بی سی نے رائے گارڈنر کو ایک ڈرون کے باقی ماندہ حصوں کی تصاویر دکھائی تھیں جو طالبان فورسز کے مطابق پاکستان کے علاقے صوابی پر فائر کیا گیا تھا۔
رائے گارڈنر نے اس ڈرون کو ’غیر معروف اور مقامی طور پر تیار شدہ (دیسی ساختہ)‘ قرار دیا تھا۔
جن ڈرونز سے طالبان نے فروری میں پاکستان میں حملہ کیا تھا، ان میں سے چند اپنی ظاہری شکل کے لحاظ سے ’ڈیلی‘ نامی ڈرون سے بہت مشابہ تھے جو ماضی میں ایک ترک ٹیکنالوجی کمپنی ’ٹیٹرا‘ تیار کرتی تھی۔
رائے گارڈنر کے مطابق ’طالبان کے ڈرونز فکسڈ وِنگ ہیں جن میں سنگل سلنڈر پٹرول سے چلنے والا انجن اور لکڑی کا پہیہ ہے۔ ایسی مشینیں مارکیٹ میں تفریحی ہوا بازی کے شوقین افراد کے لیے دستیاب ہوتی ہیں۔‘
انھوں نے اپنے بیان میں شبہ ظاہر کیا تھا کہ ’زیادہ امکان ہے کہ ان مشینوں کے پرزے کسی اور ملک میں تیار کیے گئے ہوں۔‘
پاکستان پر حملے کے لیے طالبان حکومت کے استعمال کیے جانے والے ڈرون کے بچے ہوئے حصوں کے تجزیے سے معلوم ہوا تھا کہ اس نوعیت کے ڈرونز کی زیادہ سے زیادہ قیمت مارکیٹ میں تقریباً 250 ڈالر (15,000 افغانی) ہے۔
رائے گارڈنر کے مطابق کامی کازی ڈرونز بنانے کی لاگت عام طور پر تقریباً 700 ڈالر (تقریباً 45,000 افغانی) بنتی ہے۔
ایک افغان ٹیکنالوجی ماہرنے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’ان ڈرون کا چھوٹا سائز، کم بلندی پر پرواز، اور فائبر سے بنا ڈھانچہ انھیں ریڈار سے پوشیدہ رکھتا ہے۔ اس ڈرون کی ایک قسم ایندھن جبکہ دوسری لیتھیم بیٹریوں پر چلتی ہے۔‘