انڈیا کے اعتراض کے باوجود ترک صدر اردوغان عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر کا ذکر کیوں کرتے ہیں؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر اردوغان کا اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر کشمیر کے حوالے سے دیا گیا بیان اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ انقرہ مسلم دنیا میں ایک مؤثر آواز کے طور پر اپنی حیثیت مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ساتھ اپنے سٹریٹجک تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔
Shehbaz Sharif, Recep Tayyip Erdoğan
Getty Images

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے رواں ہفتے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران ایک بار پھر مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں موجود تنازعات کو اقوامِ متحدہ کے منشور اور متعلقہ قراردادوں کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

انھوں نے زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے بات چیت اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دینا ناگزیر ہے، جبکہ کشمیر سمیت تمام دیرینہ تنازعات کے حل کے لیے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد ضروری ہے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی موجودگی میں دیے گئے ان ریمارکس نے ایک بار پھر یہ واضح کیا ہے کہ صدر اردوغان انڈیا کے بار بار اعتراضات کے باوجود اس بین الاقوامی پلیٹ فارم پر کشمیر کا معاملہ اٹھا رہے ہیں۔

ماضی میں صدر اردوغان کی جانب سے کشمیر کے حوالے دیے گئے ریمارکس کے بعد نئی دہلی نے اُن کے بیانات کو ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ترکی کو دیگر ممالک کی خودمختاری کا احترام کرنا سیکھنا چاہیے اور خطے سے متعلق اپنی پالیسیوں کا بھی گہرائی سے جائزہ لینا چاہیے۔

نئی دہلی کا مؤقف مسلسل یہی رہا ہے کہ جموں و کشمیر انڈیا کا حصہ ہے اور پاکستان کے ساتھ تمام مسائل کسی تیسرے فریق کی مداخلت کے بغیر دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے حل ہونے چاہییں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر اردوغان کا اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر کشمیر کے حوالے سے دیا گیا بیان اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ انقرہ مسلم دنیا میں ایک مؤثر آواز کے طور پر اپنی حیثیت مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ساتھ اپنے سٹریٹجک تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔

یاد رہے کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب انڈیا اور ترکی کے تعلقات بڑھتے ہوئے تجارتی روابط کی وجہ سے انتہائی اہمیت کے حامل سمجھے جاتے تھے، لیکن پھر سنہ 2019 میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے انڈین آئین کے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد بظاہر ان تعلقات میں کشیدگی آئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تسلسل کے ساتھ اس مسئلے سے متعلق اظہار خیال کرنے کے ساتھ ساتھ حالیہ برسوں میں پاکستان کو ترکی کی جانب سے ڈرونز اور دیگر دفاعی ساز و سامان کی فراہمی جیسے معاملات نے نئی دہلی میں خدشات کو جنم دیا ہے۔

اور اسی ابھرتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں مودی حکومت نے ترکی کے علاقائی حریفوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کیا ہے، جس کے نتیجے میں ترکی اور انڈیا میں تعاون پر مبنی ماضی کا تعلق اب بتدریج ایک ابھرتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی رقابت میں تبدیل ہو رہا ہے۔

اگر صدر اردوغان کے بیانات کی بات کی جائے تو سنہ 2019 کے بعد سے صرف سنہ 2024 ایک ایسا سال تھا جب اردوغان نے کشمیر کا مسئلہ نہیں اٹھایا، اور اُس وقت انڈین مبصرین نے اس کی توجیہ یہ پیش کی تھی کہ ترکی ترقی پزیر ممالک کی تنظیم برکس میں شمولیت کا خواہاں ہے اور اسی وجہ سے کسی عالمی فورم پر اردوغان نے کشمیر سے متعلق بات نہیں کی۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مغربی ایشیائی اُمور کے ماہر پروفیسر محمد سہراب نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’صدر رجب طیب اردوغان نے اقوام متحدہ میں گذشتہ دنوں جو بیان دیا ہے اسے دو تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔‘

ان کے مطابق ’پہلی بات یہ ہے کہ پاکستان اور ترکی کے تعلقات بہت دیرینہ ہیں اور اب سٹریٹیجک نوعیت کے حامل بھی ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان ابتدا سے ہی قبرص کے معاملے پر ترکی کے موقف کی حمایت کرتا رہا اور حالیہ پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ پاکستان اور ترکی دونوں مکہ دفاعی معاہدے کا بنیادی حصہ ہیں۔‘

پروفیسر سہراب کے مطابق ان تمام حقائق نے ان دونوں ممالک میں موجود قربت کو مزید گہرا کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کشمیر ترکی کی خارجہ پالیسی کا حصہ ضرور ہے، لیکن اس کی داخلی سیاست یا امور کا حصہ نہیں ہے۔‘

دوسری جانب انڈیا کے سابق سفیر تلمیذ احمد نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ترکی کو جنوبی ایشیا کے مسائل سے دور رہنا چاہیے اور انھیں اپنے خطے پر دھیان دینا چاہیے کہ کس طرح اسرائیل فلسطین میں تباہی مچا رہا ہے۔ انھیں اس کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔‘

مکہ معاہدے کی وجہ سے ترکی اور پاکستان کے قریب آنے کے معاملے پر تلمیذ احمد نے کہا کہ ’یہ مسئلہ مشرق وسطیٰ کا ہے۔ اسرائیل کی طاقت کو دیکھتے ہوئے سعودی عرب اور ترکی کو خدشہ ہے۔ اس معاہدے کا جنوبی ایشیا پر دور دور تک کوئی اثر ہوتا نہیں دکھائی دیتا ہے۔‘

اس سے قبل ترکی کے وزیرِ خارجہ ہاکان فدان نے عوامی طور پر ایک انٹرویو میں نئی دہلی پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ ترکی کے اتحاد کو فطری طور پر انڈیا مخالف نہ سمجھے۔ ان کا یہ بیان اس خواہش کی عکاسی کرتا ہے کہ دوطرفہ اقتصادی تعاون کو علاقائی رقابتوں سے الگ رکھا جائے۔

تاہم ایسا نہیں ہے کہ ترکی اور انڈیا کے درمیان زیادہ کشیدگی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سالانہ دوطرفہ تجارت بدستور اہمیت رکھتی ہے اور اس کا حجم تقریباً 7.5 ارب ڈالر سے بڑھ کر 8.7 ارب ڈالر کے درمیان ہے۔

ماہرین کے مطابق اس صورتحال کے باوجود دونوں فریق اقتصادی روابط کی افادیت کو بھی تسلیم کرتے ہیں، اگرچہ نئی دہلی اس معاملے میں محتاط اور زیادہ تر مفادات پر مبنی اور عملی نقطۂ نظر اپنائے ہوئے ہے۔

ترکی کے ماہر معاشیات انس الحاجی نے انڈیا اور ترکی کی تجارت کے متعلق لکھا کہ ’یہ ایک حیران کن حقیقت ہے کہ اگست کے مہینے میں ترکی کو انڈیا کی پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئیں، جو گذشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً پانچ گنا اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ اور ان برآمدات کا زیادہ تر حصہریلائنس انڈسٹریز نے فراہم کیا۔‘

تاہم مبصرین کی رائے ہے کہ سنہ 2019 کے بعد سے انڈیا اور ترکی کے مابین تعلقات بتدریج گراوٹ کا شکار ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم بننے کے بعد نریندر مودی نے مشرق وسطی کے تقریبا تمام اہم ممالک کا دورہ کیا، لیکن وہ ترکی نہیں گئے۔

سنہ 2019 کے آخری مہینوں میں مودی ترکی جانے والے تھے لیکن انھوں نے پاکستان کے حق میں کشمیر پر اردوغان کے موقف کی وجہ سے اس سفر کو منسوخ کر دیا۔

ترکی کے انڈیا میں سفیر نے یہ کہا تھا کہ چین نے بھی کشمیر کے معاملے پر انڈیا کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا لیکن چینی صدر شی جن پنگ نے انڈیا کا دورہ کیا تھا۔

جب ترکی نے شمالی شام میں کردوں پر حملے شروع کیے تو انڈیا نے بھی ترکی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور کہا تھا کہ خودمختاری کا احترام کیا جانا چاہیے۔

اس کے بعد انڈیا نے ترکی کے انادولو شپ یارڈ سے انڈیا میں بحریہ کے ایک سپورٹ جہاز کی تعمیر کے معاہدے کو بھی منسوخ کر دیا۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US