کیا عمران خان قید میں رہتے ہوئے بھی اپنے حامیوں کو بڑی تعداد میں متحرک کر سکتے ہیں، کیا پی ٹی آئی اس عوامی طاقت کو کسی سیاسی فائدے میں تبدیل کر پائے گی، اور کیا حکومت ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے ساتھ جاری کشیدگی کو کم کرنے کی کوئی صورت نکال سکتی ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کیا تھا۔ تاہم مارچ کے آغاز سے ایک روز قبل اسے ایک ہفتے کے لیے ملتوی کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ لانگ مارچ 4 اکتوبر کو اسلام آباد کے لیے روانہ ہو گا۔
ایک ایسے وقت میں جب پارٹی کے مطابق اس کے ڈیڑھ ہزار کارکن، پانچ ارکانِ قومی اسمبلی، ایک سابق سینیٹر اور کئی ارکانِ صوبائی اسمبلی گرفتار کیے جا چکے ہیں، جبکہ عمران خان اور ان کی تینوں بہنیں بھی زیرِ حراست ہیں، یہ احتجاج محض ایک سیاسی سرگرمی سے زیادہ اہمیت اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔
بظاہر اس احتجاج کے فوری مطالبات عمران خان کی رہائی، سیاسی کارکنوں کی آزادی، عدلیہ کے تحفظ اور آئین کی بالادستی سے متعلق ہیں، تاہم سیاسی مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی کا احتجاج دراصل پاکستان کی موجودہ سیاست میں کئی بڑے سوالات کا امتحان بھی بن سکتا ہے۔
ان میں سے ایک اہم سوال یہ ہے کہ آیا عمران خان قید میں رہتے ہوئے بھی اپنے حامیوں کو بڑی تعداد میں متحرک کر سکتے ہیں، کیا پی ٹی آئی اس عوامی طاقت کو کسی سیاسی فائدے میں تبدیل کر پائے گی، اور کیا حکومت ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے ساتھ جاری کشیدگی کو کم کرنے کی کوئی صورت نکال سکتی ہے۔
پی ٹی آئی کے مطالبات کیا ہیں؟
پی ٹی آئی کی جانب سے جاری کیے گئے مطالبات میں عمران خان، ان کے اہلِ خانہ اور تمام زیرِ حراست سیاسی کارکنوں کی رہائی اولین ترجیح حاصل ہے۔
اس کے علاوہ پارٹی عدالتی نظام کے تحفظ، قانون کی بلاامتیاز حکمرانی، آئینی اور جمہوری عمل کی مکمل پاسداری اور عمران خان کو صحت کی مناسب سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کر رہی ہے۔
پارٹی نے اپنے مطالبات میں معاشی بحران، مہنگائی اور بڑھتی ہوئی قیمتوں سے متاثرہ عوام کو فوری ریلیف دینے کا نکتہ بھی شامل کیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی اس احتجاج کے ذریعے نہ صرف اپنے مطالبات کو اجاگر کرنا چاہتی ہے بلکہ حکمران اتحاد پر سیاسی دباؤ بڑھانے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔
اسی تناظر میں عمران خان کے قریبی ساتھی زلفی بخاری کا حالیہ بیان بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان کو رہا کیا جاتا ہے تو وہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ محاذ آرائی کی پالیسی اختیار نہیں کریں گے اور ملک کے وسیع تر مفاد میں کسی بھی مثبت پیش رفت کا خیرمقدم کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔
اس بیان کے بعد بعض مبصرین نے توجہ دلائی ہے کہ ایک طرف پی ٹی آئی احتجاج اور عوامی دباؤ کی حکمتِ عملی اختیار کیے ہوئے ہے جبکہ دوسری طرف مفاہمت کے امکانات سے متعلق اشارے بھی سامنے آ رہے ہیں۔
ناقدین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ جس طرح حکومت کی طرف سے اِس وقت پی ٹی آئی پر کریک ڈاؤن کی خبریں آ رہی ہیں، اِس سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جیسے حکومت دباؤ میں ہے۔
اس حوالے سے بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے صحافی اور تجزیہ کار شاہ زیب جیلانی کا کہنا تھا کہ ایسا کہنا کہ حکومت دباؤ میں ہے صحیح نہیں ہوگا، تاہم میرے خیال میں حکومت کو ’خوف ضرور ہے۔‘
’اس کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان کو جیل میں تین سال ہو چکے ہیں لیکن ان کی مقبولیت کم نہیں ہوئی۔‘
ان کا کہنا ہے کہ جس طرح نو مئی کے بعد حکومت نے ایکشن لیا ہے اس سے لوگوں میں ڈر و خوف ضرور پیدا ہوا ہے لیکن عمران خان کے لیے لوگوں کے دلوں میں ہمدردی بڑھتی گئی ہے۔
’یہ بات حکومت میں موجود سویلین اور دیگر جو زیادہ طاقتور افراد ہیں وہ بھی جانتے ہیں کہ لوگوں میں عمران خان کی مقبویت کم ہونے کے بجائے بڑھی ہے۔‘

پی ٹی آئی کا آخری بڑا احتجاج نومبر 2024 میں ہوا تھا۔ اس کے بعد پارٹی اب ایک مرتبہ پھر ملک گیر سطح پر سڑکوں کی سیاست کا راستہ اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
جب اس بارے میں شاہ زیب جیلانی سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ 2014 کے دھرنے میں پی ٹی آئی نے تبدیلی یعنی نظام کو بدلنے کا نعرہ لگایا تھا لیکن اس کے بعد جو بھی مظاہرے ہوئے ان کا بنیادی مطالبہ عمران خان کی رہائی تھا۔
’اب کی بار کا مطالبہ انتہائی سادہ ہے: ہماری اپنے لیڈر سے ملاقات کروا دیں، ہمارے لیڈر کو علاج کی ضرورت ہے علاج کروادیں۔‘
جیلانی کہتے ہیں کہ ’آپ دیکھیں کہ پی ٹی آئی کہاں سے چلی تھی اور کہاں آ گئی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت یہ مطالبات مان لے، تو اس سے پی ٹی آئی کو فیس سیونگ مل جائے گی اور وہ احتجاج کو منسوخ کر سکیں گے۔
شاہ زیب جیلانی کے مطابق گذشتہ چند برسوں میں حکومت اندرونی اور بیرونی طور پر مضبوط ہوئی ہے۔
’پارلیمان، عدلیہ، میڈیا، سب ہی حکومت کے ماتحت نظر آتے ہیں‘ جبکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی اہمیت بڑھی ہے۔
’پہلی مرتبہ ہم ایسی منفرد پوزیشن میں ہیں کہ امریکہ بھی ہمارا دوست ہے اور چین بھی، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ بھی ہمیں سراہ رہا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ عموماً جب حکومت پر اعتماد محسوس کرتی ہے تو اندرونی مسائل کو بنسبت طاقت کی پوزیشن سے حل کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس وقت پی ٹی آئی کمزور جبکہ حکومت بہتر پوزیشن میں ہے لیکن حکومت ان کے ساتھ مذاکرات کرکے ان سے اپنے حق میں باتیں منوانے کے بجائے حکومت الٹی سمت میں جا رہی ہے اور کوئی لچک دکھائی نہیں دیتی۔
کیا عمران خان کی رہاَئی سے سیاسی بحران حل ہو سکتا ہے؟
اس سوال کے جواب میں کہ اگر حکومت عمران خان کا رہا کر دیتی ہے کہ تو کیا ملک میں موجود سیاسی بحران ختم ہو جائے گا؟ شاہ زیب جیلانی کا کہنا تھا کہ ماضی میں جب بھی ایسے حالات ہوتے تھے تو اس میں دو چیزیں ہوتی تھیں: ایک یہ کہ حکومتوں پر دباؤ ہوتا تھا اور دوسرا یہ کہ فریقین کے درمیان کچھ باتیں بھی طے ہوتی تھیں جیسے نواز شریف کہہ کر گئے تھے وہ دس سال تک سیاست میں حصہ نہیں لیں گے تاہم اطلاعات کے مطابق عمران خان ایسی کسی چیز کے لیے تیار نہیں۔
’نہ وہ باہر جانا چاہتے ہیں نہ ہی وہ کوئی لچک یا گنجائش دکھا رہے ہیں۔‘
عمران خان کی رہائی فی الحال ممکن دکھائی نہیں دے رہی۔'

دو برس بعد سڑکوں کی سیاست کی جانب واپسی
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق سڑکوں کی سیاست کی جانب واپسی کی ایک اہم وجہ عمران خان کی سیاسی مرکزیت کو برقرار رکھنا ہے۔ گزشتہ تین برس سے جیل میں ہونے اور پارٹی رہنماؤں سے محدود رابطوں کے باوجود پی ٹی آئی کے سیاسی فیصلوں اور بیانیے میں ان کا کردار اب بھی نمایاں نظر آتا ہے۔
بعض مبصرین کے نزدیک یہ احتجاج عمران خان کی سیاسی مقبولیت کا بھی امتحان ہے۔ اگر بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکلتے ہیں تو پی ٹی آئی کے اس موقف کو تقویت مل سکتی ہے کہ عمران خان اب بھی ملک کے مقبول ترین رہنماؤں میں شامل ہیں۔
خیبر پختونخوا جہاں تحریکِ انصاف کی حکومت ہے اس احتجاج کا نقطۂ آغاز ہے۔
پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کا کہنا ہے کہ اب کی بار پی ٹی آئی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس احتجاج کو ٹیسٹ میچ کی طرح لے کر چلیں گے۔ اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ پانچ سے چھ دن میں اسلام آباد تک پہنچنے کی کوشش کریں گے اور پی ٹی آئی کے مطابق انھوں نے اس کے لیے آٹھ مختلف راستوں کی نشاندہی کی ہوئی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مرتبہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی لانگ مارچ کی قیادت کریں گے اور وہ اس طرح کی سیاست کے ماہر ہیں۔
شفیع جان نے بتایا کہ وہ لانگ مارچ کے لیے ہر طریقہ اپنائیں گے اور اگر انھیں پیدل جانا پڑے تو بھی جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے مارچ کو روکنے کے لیے انتظامات کر رکھے ہیں لیکن وہ انھیں تھکا دیں گے۔
بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ پی ٹی آئی کے خلاف خیبر پختونخوا میں بھی کریک ڈاؤن ہو رہا ہے اور گرفتاریاں بھی کی جا رہی ہیں۔
صوبائی حکومت کے ترجمان شفیع جان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پر امن رہے گیاسی تناظر میں بی بی سی نے خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کے ترجمان شفیع جان سے بات کی اور پوچھا کہ تصادم کی صورت میں بات ہلاکتوں تک بھی جا سکتی ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا؟
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پر امن رہے گی۔ ’ہم نے 26 نومبر کو بھی گولی نہیں چلائی تھی لیکن ہمارے ساتھ ہماری طاقت، ہماری عوام ہوگی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اتنی تعداد میں لوگ نکلیں گے کہ سامنے والے کو گولی چلانا ہی نہیں پڑے گی۔‘
اس سوال پر کہ اس مرتبہ جو احتجاج اور لانگ مارچ ہو رہا ہے کیا تحریکِ انصاف کے اندر اس پر اتفاق ہے شفیع جان کا کہنا تھا کہ تمام تر لیڈرشپ ایک پیج پر ہے اور سہیل آفریدی سب کو ساتھ لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔
حکومت پر دباؤ یا حفاظتی حکمتِ عملی؟
پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران گرفتاریوں اور کریک ڈاؤن کی اطلاعات نے یہ سوال بھی پیدا کیا ہے کہ آیا حکومت دباؤ میں ہے یا یہ صرف سکیورٹی اور نظم و نسق سے متعلق اقدامات ہیں۔
اس بارے میں وفاقی وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ احتجاج ایک آئینی حق ہے لیکن وہ مشروط ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا جو ماضی ہے وہ آپ کے سامنے ہے، چاہے نو مئی ہو یا 26 نومبر ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک بار 25 مئی کو سپریم کورٹ نے مارچ کی اجازت دی تھی اور اسلام آباد کے درخت بھی نہیں بچے تھے۔
وزیرِ داخلہ برائے مملکت سے سوال کیا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کو احتجاج سے نہیں روکا تاہم سڑکیں بند نہ کرنے کی ہدایت کی ہے، تو کیا مارچ سے قبل حکومت کی جانب سے کنٹینرز رکھ کر شہر کو بند کرنا اس حکم نامے کی خلاف ورزی نہیں۔
وزیرِ مملکت کا کہنا تھا کہ عدالت نے اپنے اس ہی حکم نامے میں شہریوں کی حفاظت یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی، ہم وہی کر رہے ہیں۔
انھوں نے اس بات کی تردید کی کہ دارالحکومت کی حفاظت کے لیے فوج کو تعینات کیا جا رہا ہے۔
’اس کی تو ضرورت بھی نہیں پڑَ ے گی۔‘

کیا سیاسی بحران کا حل نظر آتا ہے؟
عمران خان کی گرفتاری کو تین برس گزرنے کے باوجود ان کی مقبولیت اور ان کے حامیوں کی سیاسی سرگرمیوں کے بارے میں بحث جاری ہے۔ دوسری جانب معاشی مشکلات، مہنگائی، ٹیکسوں کے بوجھ اور حکمران طبقے کے خلاف موجود عوامی عدم اطمینان بھی سیاسی منظرنامے کا حصہ ہیں۔
اسی لیے بعض مبصرین کے مطابق پاکستان کا اندرونی سیاسی بحران ابھی تک اپنی جگہ موجود ہے، حالانکہ حکومت اور ریاستی اداروں کو بعض حلقوں میں بین الاقوامی سطح پر سفارتی کامیابیوں کا کریڈٹ دیا جاتا رہا ہے۔
پی ٹی آئی کے احتجاج کو بھی اسی وسیع سیاسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
پی ٹی آئی کے لیے یہ اپنے سیاسی اثر و رسوخ اور عمران خان کی مقبولیت کا امتحان ہے، جبکہ حکومت کے لیے یہ اس سوال کا سامنا ہے کہ آیا موجودہ کشیدگی کو صرف طاقت کے استعمال یا انتظامی اقدامات سے کم کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔
فی الحال یہ تو آنے والے دن ہی بتائیں گے کہ یہ احتجاج سیاسی منظرنامے پر کیا اثرات مرتب کرتا ہے، تاہم ایک بات واضح ہے کہ پاکستان میں جاری سیاسی کشمکش ابھی ختم ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔