چین تجارت، جدید ٹیکنالوجی اور تائیوان سے متعلق اپنے اہم مطالبات پر پیش رفت چاہتا تھا، تاہم نتائج بیجنگ کی توقعات کے مطابق نہیں رہے۔
وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ اور شی جن پنگ کی عشائیے میں شرکتشی جن پنگ اور ٹرمپ کی سربراہی ملاقاتوں کا ایک واضح مقصد ہوتا ہے۔
چین کا مؤقف ہے کہ امریکہ اس کے ایک عالمی طاقت کے طور پر ابھرنے کی راہ میں رکاوٹ بننا چاہتا ہے، اور بیجنگ چاہتا ہے کہ واشنگٹن خاص طور پر تجارت، ٹیکنالوجی اور تائیوان کے معاملات میں اس کے راستے سے ہٹ جائے۔
تاہم اس دورے میں، ٹرمپ کی جانب سے پرتپاک استقبال اور سرخ قالین بچھائے جانے کے باوجود، چینی صدر شی جن پنگ اپنی تمام خواہشات پوری کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی کم کرنے کے لیے طے پانے والی جنگ بندی، جس کے تحت باہمی جوابی محصولات (ٹیرف) کے نفاذ کو روک دیا گیا تھا، صرف چند ماہ کے لیے بڑھائی گئی ہے۔ نومبر میں ختم ہونے والی اس مدت کو جنوری تک توسیع دی گئی، جبکہ بیجنگ کم از کم ایک سال کی توسیع کا خواہاں تھا تاکہ شی جن پنگ ٹرمپ کی باقی ماندہ صدارتی مدت نسبتاً پُرسکون انداز میں گزار سکیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ محصولات، نایاب زمینی معدنیات کی فراہمی میں چین کے غلبے اور جدید امریکی چِپس تک رسائی جیسے اہم تنازعات ایک بار پھر آئندہ مذاکرات کے لیے مؤخر کر دیے گئے ہیں۔
اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ طویل المدت رعایتیں دینے سے پہلے چین سے معاہدے کے تحت اپنے وعدوں پر مزید پیش رفت دیکھنا چاہتا ہے۔
شی جن پنگ کے لیے پریشان کن حقیقت یہ ہے کہ چین کی معیشت دباؤ کا شکار ہے۔ اگرچہ چین دنیا بھر میں ریکارڈ تعداد میں اشیا فروخت کر رہا ہے، لیکن ملک کے اندر صارفین خرچ کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح بدستور بلند ہے، جبکہ جائیدادوں کی قیمتیں بھی نمایاں طور پر گر چکی ہیں، حالانکہ چین میں تقریباً 80 فیصد لوگ اپنے گھروں کے مالک ہیں۔
ایسے حالات میں تجارت ہی معاشی نمو کو سہارا دینے کا ایک اہم ذریعہ بنی ہوئی ہے، جس سے بیرونی منڈیوں تک رسائی پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔ شی جن پنگ کے لیے ضروری ہے کہ وہ چینی برآمدات کو ان بھاری امریکی محصولات (ٹیرف) سے محفوظ رکھیں جو گزشتہ سال عائد کیے گئے تھے۔
تائیوان کے معاملے پر بھی شی جن پنگ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اس ملک کو امریکی اسلحے کی فراہمی چین کے لیے ایک سرخ لکیر ہے۔
امریکہ اپنے قانون کے تحت اس بات کا پابند ہے کہ وہ خود مختار طرزِ حکومت رکھنے والے جزیرے تائیوان کو اپنے دفاع کے لیے ضروری وسائل فراہم کرے۔
مئی میں شی جن پنگ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا تھا کہ اگر تائیوان کے معاملے کو غلط انداز میں سنبھالا گیا تو دونوں ممالک ’آپس میں ٹکرا سکتے ہیں یا حتیٰ کہ تنازع میں بھی داخل ہو سکتے ہیں۔‘
اس کے بعد ٹرمپ نے تائیوان کے لیے 14 ارب ڈالر کے اسلحہ پیکج کی منظوری مؤخر کرتے ہوئے اسے بیجنگ کے ساتھ مذاکرات میں ’ایک بہت اچھا سودے بازی کا پتہ‘ قرار دیا تھا۔
ممکنہ طور پر شی جن پنگ نے مذاکرات کے دوران اسی موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ تائیوان کی حمایت محدود کرنے سے تنازع کے خطرات بھی کم ہو سکتے ہیں۔
جمعرات کو انھوں نے ایک بار پھر امید ظاہر کی کہ امریکہ تائیوان کی آزادی کی مخالفت کے حوالے سے ’درست مؤقف‘ پر قائم رہے گا۔
تاہم ٹرمپ، جو تائیوان کی مسلسل امریکی حمایت برقرار رکھنے کے لیے دونوں بڑی امریکی جماعتوں کے بعض حلقوں کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، نے ابھی تک شی جن پنگ کے ان تبصروں پر کوئی عوامی ردعمل نہیں دیا۔
تجارت ہی وہ ستون ہے جو اس وقت چین کی معاشی ترقی کو سہارا دیے ہوئے ہےدونوں رہنماؤں نے کم از کم مصنوعی ذہانت پر بھی بات چیت کی، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا وہ اس شعبے میں کسی حفاظتی ضابطے یا احتیاطی اقدامات پر متفق ہوئے یا نہیں۔
اس ملاقات سے قبل توجہ اس بات پر مرکوز تھی کہ آیا دونوں رہنما اے آئی کے حوالے سے کوئی ٹھوس فیصلہ کریں گے، مثلاً کسی مشترکہ سربراہی اجلاس کے انعقاد پر اتفاق۔ یہ توقعات اس وقت بڑھ گئی تھیں جب اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو امودی نے ایک مضمون میں مصنوعی ذہانت کی ترقی کو زیادہ محفوظ بنانے کے لیے اس کی رفتار سست کرنے کی تجویز دی تھی۔
اس کے بعد کمپنی کے ایک ممتاز حفاظتی محقق نے خبردار کیا تھا کہ مصنوعی ذہانت کے باعث انسانیت کے خاتمے کا خطرہ ’10 فیصد سے زیادہ‘ ہو سکتا ہے۔
تاہم مذاکرات کے بعد شی جن پنگ کے اس بیان کے سوا کہ مصنوعی ذہانت ’ہمیشہ انسانی کنٹرول میں رہنی چاہیے‘، اس معاملے پر کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ دوسری جانب ٹرمپ حالیہ دنوں میں اس ٹیکنالوجی سے انسانی نسل کے خاتمے کے خدشات کو ’فریب‘ قرار دے چکے ہیں۔
اور پھر پانڈا سفارت کاری کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
چین کی جانب سے اٹلانٹا کو پانڈاز پِنگ پِنگ اور فو شوانگ تحفے میں دینے کا اعلان پہلی بار اپریل میں کیا گیا تھا، تاہم اب شی جن پنگ نے بتایا ہے کہ یہ دونوں پانڈاز چند ہی دنوں میں امریکہ پہنچ جائیں گے۔ اس طرح چین کی معروف ’پانڈا سفارت کاری‘ ایک بار پھر بحال ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
چین نے اپنی سفارت کاری میں پانڈاز کو ایک مؤثر سفارتی ذریعہ کے طور پر استعمال کیا ہےفی الحال اس سربراہی اجلاس کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک شاید بیجنگ کے لیے اس کا تاثر (آپٹکس) رہا ہے۔
شاندار استقبال، ہوائی اڈے پر ٹرمپ کی جانب سے ذاتی طور پر خیر مقدم اور سرکاری ضیافت میں تل سے مزین سی باس مچھلی اور بریزڈ بیبی بوک چوائے جیسے کھانوں کو چین میں مثبت نظر سے دیکھا گیا۔ اس سے شی جن پنگ کی گھریلو سطح پر ایک ایسے رہنما کی شبیہ مضبوط ہوئی ہے جو ٹرمپ کے ہم پلہ عالمی رہنما ہیں۔
چینی سوشل میڈیا پر دونوں رہنماؤں کے موازنے پر مبنی میمز بھی وسیع پیمانے پر گردش کر رہی ہیں۔ ایک مقبول تصویر میں ٹرمپ جنگی طیاروں کی پرواز کے دوران پریشان دکھائی دیتے ہیں، جبکہ شی جن پنگ پُر سکون اور غیر متأثر نظر آتے ہیں۔
شی جن پنگ نے بظاہر دنیا کے سب سے غیر متوقع سمجھے جانے والے رہنماؤں میں سے ایک، ڈونلڈ ٹرمپ، کے ساتھ معاملات چلانے کا ایک طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔ تاہم جہاں ٹرمپ ’ایک عظیم دوستی‘ کی بات کرتے ہیں، وہیں چینی صدر کی توجہ ایک بڑے ہدف پر مرکوز ہے: چین کو امریکہ کے شانہ بشانہ ایک سپر پاور کے طور پر مستحکم کرنا۔
پانڈا سفارت کاری، پُرتکلف تقریبات اور خوشگوار بیانات دونوں ممالک کے تعلقات کو نرم اور خوشگوار بنانے میں مدد دے سکتے ہیں، لیکن اس تمام سفارتی منظرنامے کے پس منظر میں دنیا کی دو سب سے طاقتور ریاستوں کے درمیان مسابقت بدستور اتنی ہی شدید ہے جتنی پہلے تھی۔