وقت اور مقام کے تعین کرنے والے سسٹمز (نظاموں) پر حملہ کر کے ہماری جدید دنیا کو مفلوج کرنا کتنا آسان ہے؟

وقت اور مقام کے تعین کرنے والے سسٹمز (نظاموں) پر حملہ کر کے ہماری جدید دنیا کو مفلوج کرنا کتنا آسان ہے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے کچھ ماہرین عملی تجربات کر رہے ہیں۔
ہیرالڈ ہاؤگلِن غیرمعمولی طور پر بلند قامت شخص ہیں۔ اُن کی سفید ہوتی داڑھی، باریک فریم کے چشمے اور چہرے پر پھیلی مسکراہٹ فوراً توجہ اپنی جانب کھینچ لیتی ہے۔
جب ستمبر 2024 میں میری ان سے ملاقات ہوئی تو جو حفاظتی جیکٹ انھوں نے پہنی ہوئی تھی اُس کی جیب پر ایک کپڑے کا بیج لگا ہوا تھا، جس پر گھڑی تھامے ایک سفید خرگوش دوڑتا دکھائی دیتا تھا۔
ہیرالڈ ہاؤگلِن ناروے کی میٹرولوجی سروس میں وقت اور فریکوئنسی کی پیمائش کے شعبے کے چیف انجینیئر ہیں۔ تاہم جیمرٹیسٹ 2024 میں شریک افراد انھیں ایک اور نام سے بھی جانتے تھے: ’شفقِ قطبی کے شوقین‘۔
ناروے کے حکام کی جانب سے ہر سال منعقد کیا جانے والا جیمرٹیسٹ ایک منفرد کھلے ماحول میں ہونے والا ہیکنگ فیسٹیول ہے، جو آرکٹک سرکل سے تقریباً 300 کلومیٹر شمال میں واقع ایک دور افتادہ جزیرے پر منعقد ہوتا ہے۔
اس کا مقصد بظاہر سادہ، لیکن ذہن کو الجھا دینے والا ہے: سیٹلائٹ سگنلز کے ذریعے وقت کے نظام میں مداخلت کرنا اور یہ جانچنا کہ گھڑیوں سے لے کر ڈرونز تک مختلف آلات میں نصب ریسیور اس دباؤ کا مقابلہ کر سکتے ہیں یا نہیں۔
اس تجربے کے مرکز میں وہ ٹیکنالوجی ہے جس پر جدید ڈیجیٹل دنیا کا بڑا حصہ انحصار کرتا ہے، یعنی گلوبل نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹمز (جی این ایس ایس)۔
عموماً ہم جی پی ایس اور دیگر سیٹلائٹ نیویگیشن نظاموں کو صرف راستہ بتانے والی ٹیکنالوجی سمجھتے ہیں، لیکن ان کا ایک اور نہایت اہم کام بھی ہے: انتہائی درست وقت فراہم کرنا۔
بجلی کے گرڈز، ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورکس، سٹاک مارکیٹیں، ٹرانسپورٹ کے نظام اور بے شمار دیگر اہم شعبے اپنی سرگرمیوں کے باہمی ربط اور درست ہم آہنگی کے لیے جی این ایس ایس پر انحصار کرتی ہیں۔
تاہم بنیادی ڈھانچے میں جی این ایس ایس کی یہی اہمیت اسے ایک کمزور پہلو بھی بنا دیتی ہے۔ سیٹلائٹ سے آنے والے سگنلز نسبتاً کمزور ہوتے ہیں، جنھیں زیادہ طاقتور اور بدنیتی پر مبنی سگنلز کے ذریعے متاثر یا گمراہ کیا جا سکتا ہے اور روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے بعد ایسے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اس کے سب سے واضح اثرات فضائی سفر کے شعبے میں سامنے آئے ہیں۔ رواں برس مئی میں روسی سرحد کے قریب برطانوی فضائیہ کے ایک طیارے کو جی پی ایس جامنگ کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ستمبر 2025 میں سویڈن کی ٹرانسپورٹ ایجنسی نے کہا تھا کہ اس نوعیت کی مداخلت روزمرہ کا مسئلہ بن چکی ہے۔
اسی تناظر میں ناروے ان چند ممالک میں شامل ہے جو ایسے مستقبل کی تیاری کر رہے ہیں جس میں جی این ایس ایس ایک سٹریٹجک کمزوری بن سکتا ہے۔
تو کیا وقت اور مقام کے تعین کے نظام پر ممکنہ حملوں سے بچاؤ کی تیاری کی جا سکتی ہے؟
اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے ہر سال درجنوں انجینیئرز، فزکس کے ماہرین اور سرکاری اہلکار آرکٹک کے اس دور افتادہ جزیرے کا رخ کرتے ہیں۔
جیمر فیسٹ: سیٹلائٹ سگنلز میں مداخلت کے خلاف دنیا کا سب سے بڑا تجربہ
ایک خاکہ جس میں زمین کے گرد موجود سیٹلائٹ نیٹ ورکس دکھائے گئے ہیںجیمر فیسٹ کا انعقاد ناروے کے دور افتادہ جزیرے آندویا کے گاؤں بلیک میں کیا جاتا ہے۔ یہ علاقہ عموماً شمالی روشنیاں (اورورا بوریالس) دیکھنے اور ان پر تحقیق کے لیے جانا جاتا ہے۔ دلکش مناظر، آرکٹک خطے کا منفرد ماحول اور روزانہ پیش کیے جانے والے وافل اسے کسی انجینیئرنگ سمر کیمپ جیسا بنا دیتے ہیں، لیکن اس تقریب کا مقصد انتہائی سنجیدہ ہے۔
تجارتی جی این ایس ایس (عالمی سیٹلائٹ نیویگیشن نظام) ریسیورز کو مصنوعی مگر شدید مداخلت کے ماحول میں آزمانے کا تصور نیا نہیں ہے۔
امریکی فوج کئی برسوں سے نیو میکسیکو کے وائٹ سینڈز میزائل رینج میں ایسے تجربات کرتی رہی ہے، جن کا مقصد یہ جانچنا ہوتا ہے کہ جب جی این ایس ایس سگنلز میں رد و بدل کیا جائے تو نیویگیشن آلات کس طرح ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم یہ تجربات سخت نگرانی میں کیے جاتے ہیں اور ان کے نتائج سے متعلق معلومات بھی محدود حد تک ہی شیئر کی جاتی ہیں۔
اس کے برعکس ناروے نے ایک مختلف راستہ اختیار کیا ہے۔ جیمر فیسٹ کو ٹیکنالوجی کی دنیا میں مقبول ’وائٹ ہیٹ ہیکاتھونز‘ کے طرز پر ترتیب دیا گیا ہے، جہاں ماہر ہیکرز سافٹ ویئر اور نظاموں میں موجود کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہیں تاکہ انھیں مزید محفوظ بنایا جا سکے۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ تمام تجربات کھلے ماحول میں کیے جاتے ہیں اور آندویا آنے والا ہر شخص انھیں دیکھ سکتا ہے۔ تقریب کی آخری شام شرکا اپنے تجربات اور نتائج سرکاری اور نجی شعبے کے دیگر نمائندوں کے ساتھ بھی شیئر کرتے ہیں۔
سنہ 2024 کے جیمر فیسٹ کے دوران میں کئی دن تک لکڑی کے روایتی انداز میں تعمیر کیے گئے بلیک کمیونٹی ہاؤس میں ہاگلِن کے ساتھ بیٹھا رہا۔ میں کوشش کر رہا تھا کہ کافی کا کپ کہیں مہنگے الیکٹرانک آلات پر نہ گر جائے، جبکہ وہ اور ان کے ساتھی مختلف فرضی حملوں کا عملی مظاہرہ کر رہے تھے۔
ان کا کام طیاروں، گاڑیوں اور صنعتی مشینری سمیت مختلف آلات کے ریسیورز کو غلط معلومات فراہم کرنا تھا۔ ان معلومات میں صرف ان کے مقام کے بارے میں ہی نہیں بلکہ اکثر درست وقت کے بارے میں بھی دھوکا دہی شامل ہوتی تھی۔
اسے یوں سمجھیں کہ اگر آپ ستمبر 2026 میں لندن میں موجود ہوں اور آپ کا جی این ایس ایس نظام سپوفنگ یا سگنل جعل سازی کا شکار ہو جائے تو آپ کے ڈیوائس کو یہ غلط معلومات مل سکتی ہیں کہ آپ دراصل پیرو کے دارالحکومت لیما میں موجود ہیں، اور موجودہ سال 2026 کے بجائے 2017 ہے۔ یعنی نہ صرف آپ کا مقام بلکہ وقت کا تعین بھی مکمل طور پر غلط ہو سکتا ہے۔
طویل المدت جیمنگ اور خاموشی سے ہونے والی سپوفنگ کے خطرات
ایک سٹیڈیم میں منعقد ہونے والا ہیکاتھونجی این ایس ایس (عالمی سیٹلائٹ نیویگیشن نظام) میں مداخلت کی بنیادی طور پر دو اقسام ہوتی ہیں۔ پہلی جیمنگ کہلاتی ہے، جس میں سگنلز کو اس حد تک متاثر یا دبایا جاتا ہے کہ نیویگیشن سروس کام کرنا بند کر دیتی ہے۔ دوسری سپوفنگ ہے، جس میں جعلی سگنلز کے ذریعے ریسیور کو غلط مقام اور غلط وقت کی معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق جی این ایس ایس پر حملوں کی دو صورتیں سب سے زیادہ خطرناک سمجھی جاتی ہیں۔
پہلا بڑا خطرہ طویل المدت جیمنگ ہے۔ اس میں جی این ایس ایس سروس کو اتنی دیر تک مکمل طور پر معطل رکھا جاتا ہے کہ متبادل وقتی نظام بھی ناکام ہونے لگتے ہیں۔ نتیجتاً وہ ڈیجیٹل ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے جس پر جدید دنیا کے بے شمار نظام انحصار کرتے ہیں، اور ایک کے بعد ایک مسائل جنم لینے لگتے ہیں۔
کوئی بجلی کا گرڈ یا جدید ڈیجیٹل نظام جی این ایس ایس کے بغیر کتنی دیر تک درست طور پر کام کر سکتا ہے، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ حکومتیں یا کمپنیاں متبادل ڈھانچے پر کتنی سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ اس میں عموماً زمینی بنیادوں پر قائم انتہائی درست گھڑیاں اور فائبر آپٹک کیبلز شامل ہوتی ہیں، جو وقت کی معلومات کو نہایت درستگی کے ساتھ منتقل کرتی ہیں۔
ایل جیمر ٹیسٹ ہر سال منعقد کیا جاتا ہے۔ تصویر کے دائیں جانب 2024 کے ایڈیشن کا کپڑے پر بنا ہوا نشان (پیچ) دکھایا گیا ہے، جس پر خرگوش کی تصویر موجود ہےدوسرا اور اس سے بھی زیادہ سنگین خطرہ خاموشی سے جاری رہنے والی جدید نوعیت کی سپوفنگ ہے۔ اس صورت میں حملہ اتنی مہارت سے کیا جاتا ہے کہ بروقت اس کا پتہ نہیں چلتا اور نہ ہی اسے روکا جا سکتا ہے۔ چنانچہ حفاظتی متبادل نظام فعال ہی نہیں ہو پاتے۔
یہ دراصل وقت کے نظام پر مبنی ایک خفیہ حملہ ہوتا ہے، جو اچانک متعدد ڈیجیٹل نظاموں کو متاثر کر سکتا ہے۔
ان دونوں اقسام کے حملوں کا ہدف بنیادی طور پر جی پی ایس کے وقت کا نظام ہوتا ہے اور ان کے لیے انتہائی جدید اور طاقتور طریقہ کار استعمال کیا جاتا ہے، جو کسی پیچیدہ سائبر حملے سے کم نہیں ہوتے۔
اسی نوعیت کے خطرات اور حملوں کا جائزہ لینے کے لیے ہاگلِن، ناروے کی میٹرولوجی سروس اور صنعتی سطح پر درست وقت فراہم کرنے والی متعدد کمپنیاں آندویا میں منعقد ہونے والے جیمر فیسٹ میں جمع ہوتی ہیں۔
اس مشق کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ کسی بڑے حملے کے فوراً بعد وسیع ڈیجیٹل نظام کس حد تک کام جاری رکھ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ جانچنا کہ بجلی کے گرڈز اور موبائل فون نیٹ ورکس کو سنگین مسائل کا سامنا ہونے سے پہلے کتنا وقت دستیاب ہوتا ہے، تاکہ ممکنہ خطرات کا بہتر اندازہ لگایا جا سکے۔
وقت اور مقام کے نظام کو کیسے گمراہ کیا جاتا ہے؟
یہ مشقیں ان حکمت عملیوں کو اپناتی ہیں جو ہیکرز سیٹلائٹ نیٹ ورکس کو دھوکا دینے کے لیے استعمال کر سکتے ہیںجیمرٹیسٹ 2024 کے پہلے دن دو آزمائشی پروازیں کی گئیں۔ ایک ناروے کے ریسکیو ہیلی کاپٹر کی تھی، جبکہ دوسری ایک چھوٹے طیارے کی، جسے یورپی فضائی تحفظ کے ادارے یوروکنٹرول کے ایک پائلٹ نے اڑایا۔
میں نے دیکھا کہ کس طرح جی این ایس ایس سگنلز میں چھیڑ چھاڑ کر کے دونوں پروازوں کے ریسیورز کو غلط معلومات فراہم کی گئیں۔ نتیجتاً فلائٹ ٹریکر پر دکھائی دینے والے راستے ان راستوں سے بالکل مختلف تھے جن پر پائلٹ حقیقت میں پرواز کر رہے تھے۔
ہیلی کاپٹر کی لوکیشن سکرین پر یوں دکھائی دے رہی تھی جیسے وہ گھبراہٹ میں بے شمار گول چکر کاٹ رہا ہو۔ نقشے پر بننے والی یہ بے ترتیب لکیریں کسی کاغذ پر جلدی میں بنائے گئے خاکے جیسی لگتی تھیں، حالانکہ حقیقی زندگی میں کوئی ہیلی کاپٹر ایسی حرکات نہ کر سکتا ہے اور نہ ہی کرتا ہے۔
بعد میں فلائٹ ٹریکر پر یوروکنٹرول کے آزمائشی طیارے کا راستہ بھی عجیب و غریب شکلیں بناتا دکھائی دیا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے وہ آسمان میں تیز اور خطرناک موڑ کاٹ رہا ہو، جبکہ حقیقت میں طیارہ شہر کے اوپر بڑے سکون سے وسیع دائروں میں پرواز کر رہا تھا۔
جی پی ایس میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں یا خرابیوں کے اثرات بجلی کے ترسیلی نظام (برقی گرڈ) میں بھی ظاہر ہو سکتے ہیںاگلی صبح میں نے ہاؤگلن کو اس سے بھی زیادہ پیچیدہ نوعیت کی مداخلت کرتے دیکھا۔
تقریباً 40 منٹ تک وہ اور ان کے ساتھی دھوکا دہی پر مبنی سگنل (سپوفنگ) پیدا کرنے والے آلات کی طاقت بتدریج بڑھاتے رہے۔ یعنی جعلی سگنل کو آہستہ آہستہ اتنا مضبوط بنایا گیا کہ اصل سگنل اس کے سامنے دبنے لگا، بالکل ایسے جیسے کسی نظام کو بتدریج اپنی گرفت میں لے لیا جائے، اس سے پہلے کہ اسے احساس ہو کہ کچھ غلط ہو رہا ہے۔
ہاؤگلن نے اس عمل کو ایک مشہور مثال سے تشبیہ دی، ’گویا مینڈک کو آہستہ آہستہ گرم ہوتے پانی میں رکھا جائے۔‘
جیسے جیسے خفیہ اینٹینا سے خارج ہونے والا سگنل طاقتور ہوتا گیا، ہمارے اوپر دیوار پر نصب مانیٹر کی سکرین پر گوگل میپس کھلا ہوا تھا۔ وہاں ہماری موجودہ جگہ کو ظاہر کرنے والا ایک نشان آہستہ آہستہ اپنی اصل پوزیشن سے ہٹنے لگا۔
چند ہی لمحوں میں نقشے پر ایسا لگنے لگا جیسے ہم ناروے کے ساحل سے نکل کر بحیرہ ناروے کے اندر جا پہنچے ہوں، حالانکہ حقیقت میں ہم اپنی جگہ سے ہلے تک نہیں تھے۔
جب وقت کو ’ہیک‘ کیا جائے تو کیا ہوتا ہے؟
گھڑیوں پر اس قسم کی مداخلت کے اثرات کو خصوصی آلات کے بغیر دیکھنا آسان نہیں تھا۔ یہ جاننے کے لیے کہ مداخلت کے باعث وقت میں کتنا فرق پیدا ہو رہا ہے، ماہرین کو ایک ایسے جی این ایس ایس سے ہم آہنگ گھڑی کا موازنہ ایک ایسے حوالہ جاتی وقت سے کرنا پڑتا تھا جسے کسی قسم کی مداخلت کا سامنا نہ ہو۔
اس مقصد کے لیے فائبر آپٹک کیبلز کے ذریعے ایک مسلسل اور محفوظ حوالہ جاتی وقت فراہم کیا جا رہا تھا۔ یہ وقت ایک ایسے جی این ایس ایس ریسیور سے حاصل کیا جاتا تھا جو ایک پہاڑ کے دوسری جانب نصب تھا، جہاں وہ مداخلت سے محفوظ رہتا تھا۔
میں ہاگلِن کے کندھے کے اوپر سے جھانک کر ایک چارٹ دیکھ رہا تھا جس میں یہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ جعلی سگنلز کے زیرِ اثر آنے والی گھڑی وقت کے اصل معیار سے کتنی دور ہوتی جا رہی ہے۔ اس فرق کو نینو سیکنڈز میں ناپا جا رہا تھا اور چارٹ بتا رہا تھا کہ گھڑی بتدریج حقیقی وقت سے ہٹتی جا رہی ہے۔
ہاگلِن کے مطابق اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم وقت کو ایک ایسی چیز سمجھتے ہیں جو ہمیشہ درست اور یقینی ہوتی ہے۔ روزمرہ زندگی میں ہم اس کے بارے میں زیادہ سوچتے بھی نہیں اور شاید ہی کبھی یہ تصور کرتے ہیں کہ وقت کو بھی ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
لیکن جدید دنیا میں، جہاں بجلی کے نظام، مواصلاتی نیٹ ورکس، مالیاتی لین دین اور نقل و حمل کے متعدد نظام انتہائی درست وقت پر انحصار کرتے ہیں، وہاں وقت میں معمولی سی چھیڑ چھاڑ بھی بڑے پیمانے پر مسائل پیدا کر سکتی ہے۔
جیمرفیسٹ کے دوران ناروے کے امدادی اور ریسکیو ہیلی کاپٹروں کو بھی مختلف آزمائشوں کا حصہ بنایا گیا تاکہ جی پی ایس میں مداخلت کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکےکیا ہیکنگ کا خطرہ روکا جا سکتا ہے؟
جی این ایس ایس (عالمی سیٹلائٹ نیویگیشن نظام) کا متبادل تلاش کرنے یا اسے مزید محفوظ اور مضبوط بنانے کے لیے مسلسل نئی ٹیکنالوجیز پر کام کیا جا رہا ہے۔
کیا آپ کو ہاگلِن کی شرٹ پر بنا سفید خرگوش یاد ہے؟ یہ نہ صرف لیوس کیرول کے مشہور ناول ایلس اِن ونڈر لینڈ کے کردار کی طرف اشارہ ہے بلکہ وائٹ ریبٹ نامی ایک انتہائی دقیق وقت پیمائی کے نظام کی علامت بھی ہے۔ یہ نظام سوئٹزرلینڈ میں قائم تحقیقی ادارے سرن (سی ای آر این) نے تیار کیا ہے اور ایک نینو سیکنڈ سے بھی کم فرق کے ساتھ درست وقت فراہم کر سکتا ہے۔
’وائٹ ریبٹ‘ اور اس جیسے دیگر نظام عام طور پر سیٹلائٹس پر انحصار کرنے کے بجائے فائبر آپٹک کیبلز اور ایٹمی حوالہ جاتی گھڑیوں کے ذریعے وقت کی درست ترسیل کو یقینی بناتے ہیں۔ اسی وجہ سے ان نظاموں میں مداخلت یا ہیکنگ کرنا بھی کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے۔
تاہم اس شعبے کے تقریباً تمام ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ فی الحال کوئی ایک ایسا متبادل نظام موجود نہیں جو جی این ایس ایس کی فراہم کردہ تمام سہولیات اور خدمات کا مکمل نعم البدل بن سکے۔
ریزیلینٹ ٹائمنگ اینڈ نیویگیشن فاؤنڈیشن کے شریک بانی ڈانا گوورڈ کہتے ہیں کہ ’کوئی ایک جادوئی حل موجود نہیں، اسی لیے مختلف نظاموں کو ملا کر استعمال کرنا ضروری ہے۔‘
کیتھرین ڈن، جو کتاب لِٹل بلو ڈاٹ: گلوبل پوزیشننگ سسٹم نے جدید دنیا کو کس طرح تشکیل دیا کی مصنفہ ہیں، 2024 میں منعقد ہونے والے جیمر فیسٹ میں شریک ہوئیں۔گوورڈ 2013 سے جی پی ایس کے تحفظ کے لیے پالیسی سازی کی وکالت کرتے آ رہے ہیں۔ سنہ 2024 میں انھوں نے مجھے بتایا تھا کہ ان کے خیال میں سپوفنگ یعنی جعلی سگنلز کے ذریعے نیویگیشن نظام کو دھوکا دینے کے واقعات مستقبل میں مزید بڑھیں گے۔
ان کے بقول، ’یہ سستا بھی ہے اور آسان بھی۔‘
گوورڈ نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا تھا کہ خطرہ صرف حملہ آوروں سے نہیں بلکہ دیگر سیٹلائٹ نیویگیشن نظاموں سے بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ جون 2026 میں یہ خدشات اس وقت حقیقت بنتے نظر آئے جب ماہرین کے ایک گروپ نے خبردار کیا کہ روسی سیٹلائٹس خلا سے مداخلتی سگنلز نشر کر رہے ہیں، جن کے باعث یورپ کے مختلف حصوں میں کچھ وقت کے لیے جی پی ایس سگنلز متاثر ہوئے۔
لیوس کیرول کے ناول 'ایلس اِن ونڈر لینڈ' کا خرگوش اپنی گھڑی کے ساتھماضی میں جی این ایس ایس میں مداخلت عموماً کسی مخصوص علاقے یا سرحدی خطے تک محدود رہتی تھی، کیونکہ زمین سے نشر ہونے والے ریڈیو سگنلز ایک محدود فاصلے تک ہی پہنچ سکتے ہیں۔ لیکن اب جبکہ مداخلت خلا سے بھی ممکن ہو گئی ہے، ماہرین کے مطابق مستقبل میں شاید دنیا کا کوئی خطہ اس خطرے سے مکمل طور پر محفوظ نہ رہے۔
اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے میرے ذہن میں یہ سوال آیا کہ چونکہ سکینڈینیوین ممالک کے لیے جیمر فیسٹ کا ایک اہم مقصد ممکنہ روسی خطرات کی تیاری بھی تھا، تو پھر 2024 کی یہ تقریب اتنی کھلی اور عوامی انداز میں کیوں منعقد کی جا رہی تھی؟
آج ان سگنلز میں براہِ راست خلا سے مداخلت کی جا سکتی ہے، جس سے وہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہو گئے ہیںاگرچہ سکیورٹی انتظامات موجود تھے اور ناروے کے انٹیلی جنس اہلکار بھی وہاں موجود تھے، لیکن ان کی موجودگی نمایاں نہیں تھی۔
درحقیقت اس تقریب کا کھلا پن ہی اس کا بنیادی مقصد ہے۔
میں نے جیمر فیسٹ کے منتظمین میں شامل ناروے کی روڈز ایڈمنسٹریشن کے سینیئر انجینیئر ٹوماس لیون سے پوچھا، کیا اس کا مقصد یہ پیغام دینا بھی ہے کہ ہم زیادہ مضبوط اور تیار ہو رہے ہیں اور اس خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا کر رہے ہیں؟‘
انھوں نے جواب دیا کہ ’بالکل۔ تو پھر آؤ روس، اگر تمھیں آزمانا ہے تو آزما لو۔‘