دبئی سے تل ابیب جانے والے طیارے کی سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ کے بعد اسرائیلی حکام نے اسے ممکنہ طور پر دہشت گردانہ کارروائی اور ہائی جیکنگ کی ناکام کوشش قرار دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پرواز کے دوران پائلٹ اور معاون پائلٹ کے درمیان لڑائی ہوئی، جس کے بعد طیارے میں سول لباس میں موجود پائلٹس کی دوسری ٹیم نے کنٹرول سنبھال کر ایمرجنسی لینڈنگ کروائی تھی۔
اسرائیلی اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ اماراتی ایئرلائن پر ایک بڑی تباہی کو ٹال دیا گیا ہے اور اگر یہ پائلٹس نہ ہوتے تو یہ نائن الیون یا 1976 جیسی ہائی جیکنگ کا واقعہ بن سکتا تھا۔
ابتدائی اشاروں کے مطابق معاون پائلٹ نے طیارے کا کنٹرول حاصل کر کے اسے کریش کرنے کی کوشش کی تھی، جس کی سکیورٹی حکام کی جانب سے ممکنہ دہشت گردانہ اقدام کے طور پر تفتیش کی جا رہی ہے۔
اسرائیلی نیوز ویب سائٹ کے مطابق زیرِ تفتیش معاون پائلٹ کا تعلق عمان سے ہے۔ تاہم طیارے میں سول لباس میں ملبوس پائلٹس کی موجودگی سے متعلق رپورٹ کی تاحال مصدقہ تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔