یوکو ایک بینک میں ملازمت کرتی تھیں۔ سنہ 2011 میں سونامی نے جاپان کے شمال مشرقی ساحل کو اپنی لپیٹ میں لیا اور اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو تباہ کر دیا۔ یوکو بھی بینک کی عمارت کی چھت پر موجود تھیں جب سمندر انھیں بہا لے گیا۔
یاسوو تاکاماتسو گذشتہ 13 برس سے اس امید پر گہرے سمندر میں غوطے لگاتے ہیں کہ کسی نہ کسی دن انھیں اپنی اہلیہ مل جائیں گییاسوو تاکاماتسو نامی جاپانی شہری ہر ماہ میں دو مرتبہ اوناگاوا کی بندرگاہ سے ایک چھوٹی کشتی پر سوار ہوتے ہیں اور گہرے سمندر کی جانب روانہ ہو جاتے ہیں۔
وہ 13 برس سے زیادہ عرصے سے یہی معمول اپنائے ہوئے ہیں: کشتی پر سوار ہونے کے بعد وہ وہ اپنا فیس ماسک پہنتے ہیں، آکسیجن کا ٹینک کمر پر لادتے ہیں اور غوطہ خوری کا دیگر سامان اٹھاتے ہیں۔
جب اُن کی کشتی ساحلِ سمندر سے کئی کلومیٹر دور سمندر کے اندر پہنچتی ہے تو وہ ٹھنڈے پانی میں چھلانگ لگا دیتے ہیں۔
ہر غوطے کے ساتھ وہ اُسی سمندر میں واپس جاتے ہیں، جس نے اُن کی اہلیہ یوکو کو اُن سے چھین لیا تھا۔
اُن کی اہلیہ یوکو ایک بینک میں ملازمت کرتی تھیں۔ سنہ 2011 میں سونامی نے جاپان کے شمال مشرقی ساحل کو اپنی لپیٹ میں لیا اور اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو تباہ کر دیا تو یوکو بھی اپنے اُس بینک کی عمارت کی چھت پر موجود تھیں جسے سمندر اپنے ساتھ بہا کر لے گیا۔
جس روز یہ سونامی آئی اُس دن یاسوو نے صبح کے وقت اپنی اہلیہ کو اُن کے بینک چھوڑا تھا۔
اُس صبح گاڑی میں مختصر سفر کے دوران میاں، بیوی نے اس بارے میں بات کی تھی کہ رات کے کھانے میں کیا کھایا جائے گا۔
جب سونامی کے وارننگ سائرن بجنے لگے تو یوکو اپنے 12 ساتھیوں کے ساتھ عمارت کی چھت پر چڑھ گئیں اور وہاں سے انھوں نے اپنے شوہر کو ایک مختصر پیغام بھیجا: ’کیا آپ محفوظ ہیں؟ میں گھر جانا چاہتی ہوں۔‘
2011 میں جاپان میں آنے والا سونامی انتہائی طاقتور 9.1 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں پیدا ہوا تھایاسوو نے جب یہ پیغام دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ اُن کی اہلیہ محفوظ ہیں۔ لیکن اگلے روز جب وہ اُس میونسپل ہسپتال پہنچے جہاں بچ جانے والے افراد نے پناہ لے رکھی تھی، تو انھیں معلوم ہوا کہ یوکو وہاں موجود نہیں تھیں۔
یاسوو کہتے ہیں کہ ’مجھے بتایا گیا کہ میری اہلیہ سونامی کی نذر ہو گئی تھیں۔ اس کے بعد میں کھڑا بھی نہیں ہو سکا۔ میری ٹانگوں سے ساری طاقت ختم ہو گئی تھی، مجھے ایسے لگا کہ جیسے میری طاقت بھی سونامی کے پانی میں بہہ گئی ہو۔‘
چند ہفتوں میں جب سمندری پانی پیچھے ہٹا، تو جاپان کے ساحلی علاقوں سے ہزاروں لاشیں برآمد کی گئیں۔
لیکن یوکو کی طرح بہت سے متاثرین لاپتا ہی رہے۔
دو برس تک یاسوو جاپانی کوسٹ گارڈ کے غوطہ خوروں کو لاشوں کی تلاش کرتے، لوگوں کی ذاتی اشیا اور یادگاریں پانی سے نکالتے ہوئے دیکھتے رہے۔
اور پھر انھوں نے ایک فیصلہ کیا۔
یاسوو کہتے ہیں کہ ’میں نے غوطہ خوری سیکھ لی۔ مجھے محسوس ہوتا تھا کہ اگر میں غوطے لگاتا رہوں تو ایک دن اپنی اہلیہ سے ضرور مل سکوں گا۔‘
یاسوو نے غوطہ خوری کا یہ سلسلہ جاری رکھا اور اپنی پچاس اور ساٹھ کی عمر کے دوران سمندر میں 760 سے زیادہ غوطے اس امید پر مکمل کیے کہ ایک روز وہ اپنی اہلیہ کو ڈھونڈ نکالیں گے۔
یاسوو، یوکو اور اُن کے بچے۔ دونوں بچے چونکہ اُس وقت سکول میں تھے اس لیے وہ اس آفت میں محفوظ رہے تھےزندہ لوگوں کے درمیان مردہ شخص
جاپان میں مرنے والوں کو روزمرہ رسوم و رواج میں یاد رکھا جاتا ہے اور یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ وہ وفات کے بعد بھی طویل عرصے تک ہماری زندگیوں کا حصہ رہتے ہیں۔
بدھ مت کی رسم ’کویو‘ میں مختلف عبادات اور رسومات شامل ہوتی ہیں، جن میں قبروں یا عبادت گاہوں کے پاس نذرانے پیش کرنا اور دعائیں کی جاتی ہیں، تاکہ وفات پا جانے والے عزیزوں کے لیے سکون اور خیر و عافیت مانگی جا سکے۔
چونکہ یوکو کی باقیات کبھی برآمد نہیں ہو سکیں، اس لیے یاسوو اس طرح کسی قبر پر جا کر انھیں یاد نہیں کر سکے۔
اس کے بجائے جو عمل ایک تلاش کے طور پر شروع ہوا تھا، وہ خود ایک رسم میں تبدیل ہو گیا ہے۔ یاد اور تعلق کو زندہ رکھنے کا ایک ذریعہ۔
یاسوو کہتے ہیں کہ ’بار بار غوطے لگانے کے بعد مجھے محسوس ہونے لگا کہ شاید وہ کہیں قریب ہی ہیں۔ یہ کسی قبر پر جانے سے کچھ مختلف ہے کیونکہ وہ کسی قبر میں نہیں ہیں۔ یہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میں ان سے ملنے جا رہا ہوں۔‘
یاسوو تاکاماتسو کی سنہ 2014 کی ایک تصویریاسوو کے مطابق جب وہ سمندر کی گہرائیوں میں اترتے ہیں اور قدرتی آفات سے ہونے والی تباہی کے آثار دیکھتے ہیں تو انھیں شدید دکھ ہوتا ہے۔
’جب میں ملبہ دیکھتا ہوں تو میرے ذہن میں آتا ہے کہ ’میری اہلیہ اس سب کے درمیان سے واپس اوپر نہیں آ سکی ہوں گی‘ اور جب میں یہ سوچتا ہوں تو واقعی ایسا لگتا ہے کہ شاید میں رو پڑوں گا۔‘
تاہم یاسوو سمندر سے نفرت نہیں کرتے۔ وقت گزرنے کے ساتھ وہ یہ قبول کر چکے ہیں کہ قدرتی آفات ناگزیر ہوتی ہیں اور انسانی اختیار سے باہر ہیں۔
’میں واقعی اس سے نفرت نہیں کرتا۔ اُس وقت سونامی آیا تھا اور سمندر بہت طوفانی تھا۔ لیکن دوسری طرف یہ بہت سی لذیذ نعمتیں بھی فراہم کرتا ہے اور اس کے مناظر بھی بہت خوبصورت ہیں۔‘
اس طرح یاسوو ایسے لوگوں کے رویّے کی عکاسی کرتے ہیں جنھوں نے بار بار قدرتی آفات کا سامنا کیا ہے۔
بحرالکاہل کے ساحل پر واقع توہوکو کے علاقے میں جہاں یاسوو رہتے ہیں، وہاں سونامی اور زلزلے کوئی غیر معمولی بات نہیں ہیں۔ ساحلی پٹی پر جگہ جگہ عبادت گاہیں اور تباہ شدہ ڈھانچوں کی باقیات نظر آتی ہیں، جو فطرت کی طاقت اور اس حقیقت کی یاد دلاتی ہیں کہ انسان اسی قدرتی ماحول کا ایک حصہ ہیں۔
غوطہ خوری پر جاتے اور واپسی کے راستے میں یاسوو مسکراتے رہتے ہیں اور خوش اخلاقی سے پیش آتے ہیں۔ جب وہ یوکو کا ذکر کرتے ہیں تو ان کی آواز میں ہلکی سی مزاحیہ چاشنی محسوس ہوتی ہے۔
’اگر ہماری ملاقات ہو جائے تو میرا خیال ہے کہ وہ حیران کن طور پر سب سے پہلے مجھ سے یہی کہیں گی: ’تم بوڑھے ہو گئے ہو۔‘
یاسوو اور یوکو اپنی شادی کی ایک تصویر میںتاہم ان کے لیے غوطہ خوری غور و فکر کا ایک وقت بھی ہے۔ سطحِ سمندر سے پچاس میٹر نیچے، وہ ایک ایسی ٹوٹی پھوٹی زیرِ آب دنیا کے اوپر تیرتے ہیں، جو تباہی کے بار بار دہرائے جانے والے ادوار کے آثار اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
یوسوو کہتے ہیں کہ ’پانی کے اندر ہر طرح کی ساختیں موجود ہیں۔ کچھ پہاڑوں جیسی ہیں اور آپ ان کے اوپر تیر سکتے ہیں اور بلندی سے نیچے ان کی طرف دیکھ سکتے ہیں۔ اس لیے واقعی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آپ کسی حد تک پرواز کر رہے ہوں۔‘
یاسوو اس سمندر کے کنارے یوکو سے ملنے سے بہت پہلے پلے بڑے تھے۔ انھوں نے اسی کے پانیوں میں تیرنا اور مچھلیاں پکڑنا سیکھا تھا اور جب سے انہیں یاد ہے یہ سمندر ان کی زندگی کا حصہ رہا ہے۔
اب جب وہ سطحِ آب کے نیچے موجود تباہ شدہ ڈھانچوں کو دیکھتے ہیں تو انہیں فطرت کے مسلسل تغیر اور تبدیلی کے چکر کا ایک حصہ سمجھتے ہیں۔
’ایسی گاڑیاں ہیں جو آدھی پسی ہوئی محسوس ہوتی ہیں اور دوسری چیزیں بھی ہیں جو مصنوعی چٹانوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ وہاں مچھلیاں آتی ہیں اور بعد میں انڈے بھی۔‘
پندرہ برس گزر جانے کے باوجود غم اب بھی ان کے ساتھ ہے اور سمندر بھی۔
یہ ان کا 763واں غوطہ تھا۔ جلد ہی وہ ایک بار پھر پانی میں اتریں گے یوکو کے قریب ہونے کے لیے۔