امپائر ڈیرل ہیئر، جو خود بھی تنازعات سے ناواقف نہیں تھے، نے چوتھے دن دوپہر کے سیشن کے دوران گیند تبدیل کرنے کا حکم دیا۔ گیند کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا شبہ ظاہر کیا گیا اور پاکستان نے چائے کے وقفے کے بعد کھیلنے سے انکار کر دیا۔ صورتحال افراتفری کا شکار ہو گئی۔
سنہ 2018 میں دنیائے کرکٹ کو ہلا کر رکھ دینے والے ’سینڈ پیپرگیٹ سکینڈل‘ کے آٹھ برس بعد آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ میچ کے لیے اس کی سرزمین پر اُتر چکی ہے، جہاں تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ نو اکتوبر سے ڈرپن میں شروع ہو رہا ہے۔
ٹیسٹ کرکٹ کی ڈیڑھ صدی سے زائد تاریخ میں ایسے کئی تنازعات سامنے آئے جنھوں نے نہ صرف کھیل کی ساکھ کو متاثر کیا بلکہ اس کے قوانین، روایتوں اور مستقبل پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔
باڈی لائن، ڈی اولیویرا معاملہ، ہنسی کرونیے کا میچ فکسنگ سکینڈل، پاکستان سپاٹ فکسنگ کیس اور سینڈ پیپر گیٹ، وہ تنازعات ہیں جو آج بھی کرکٹ کی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں شمار ہوتے ہیں۔ لیکن ان میں سب سے بڑا سکینڈل کون سا تھا؟
آسٹریلیا کا جنوبی افریقہ کا پہلا ٹیسٹ دورہ، سینڈ پیپرگیٹ سکینڈل کے بعد نو اکتوبر سے شروع ہو رہا ہے۔باڈی لائن
1932-33 کے آسٹریلوی دورے میں انگلینڈ کو عظیم ڈونلڈ بریڈ مین کو روکنے کے لیے ایک منصوبے کی ضرورت تھی۔
انگلینڈ کے بااثر کپتان ڈگلس جارڈین نے ایک ایسی حکمت عملی تیار کی جس نے کھیل کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا: باڈی لائن۔
جارڈین نے اپنے فاسٹ بولرز، ہیرولڈ لارووڈ اور بل ووس کو ہدایت دی کہ وہ آسٹریلوی بلے بازوں کو تیز رفتار گیندیں کریں۔
1933 میں ایڈیلیڈ اوول میں تیسرے ٹیسٹ کے تیسرے دن کے دوران ہیرولڈ لارووڈ ایک باؤنسر کے ذریعے آسٹریلوی وکٹ کیپر برٹ اولڈ فیلڈ کے سر پر گیند مارتے ہیںاس دور میں جب بلے باز جسم کے اوپری حصے پر کوئی حفاظتی سامان نہیں پہنتے تھے، انگلینڈ کے اس طریقے کو کرکٹ کے جذبے کے خلاف قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
دونوں ٹیموں کے درمیان کشیدگی اتنی بڑھی کہ معاملہ دونوں ممالک کے کرکٹ منتظمین تک پہنچا اور یہاں تک کہ سفارتی تنازع کی شکل اختیار کر گیا، جس سے حکومتوں کے درمیان تعلقات متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔
انگلینڈ نے سیریز 4-1 سے جیتی، مگر یہ نتیجہ پورے واقعے کی بدنامی کے سائے میں تقریباً گم ہو گیا۔
ڈی اولیویرا معاملہ
باسل ڈی اولیویرا نے انگلینڈ کے لیے 44 ٹیسٹ میچ کھیلے۔1968 میں انگلینڈ کو جنوبی افریقہ کا دورہ کرنا تھا، جہاں اس وقت نسلی علیحدگی کے نظام، اپارتھائیڈ، کا نفاذ تھا۔
انتخاب کے لیے باسل ڈی اولیویرا بھی زیر غور تھے، جو جنوبی افریقہ میں پیدا ہونے والے مخلوط نسل کے آل راؤنڈر تھے، ہجرت کے بعد انگلینڈ کی نمائندگی کے اہل قرار پائے۔
آسٹریلیا کے خلاف موسم گرما کے آخری ٹیسٹ میں 158 رنز بنانے کے باوجود، ابتدائی طور پر انھیں انگلینڈ کے سکواڈ سے باہر رکھا گیا، لیکن بعد میں زخمی ٹام کارٹ رائٹ کے متبادل کے طور پر شامل کر لیا گیا۔
ان کی شمولیت پر جنوبی افریقہ میں تنقید ہوئی اور ایک ہفتے سے کچھ زیادہ عرصے بعد ہی دورہ منسوخ کر دیا گیا۔
جنوبی افریقہ نے مزید صرف ایک ٹیسٹ سیریز کھیلی، جو اگلے سال آسٹریلیا کے خلاف اپنے میدان میں تھی، اور اس کے بعد دو دہائیوں تک بین الاقوامی کرکٹ سے باہر رہا۔
اس عرصے کے دوران جنوبی افریقہ کے متعدد باغی دورے ہوئے، جن کے کھلاڑیوں پر بڑے اثرات مرتب ہوئے۔
’جارج ڈیوس بے گناہ ہے‘
1975 میں آسٹریلیا کے این چیپل (بائیں) اور انگلینڈ کے کپتان ٹونی گریگ ہیڈنگلے کی متاثرہ پچ کا معائنہ کرتے ہوئے1975 میں آسٹریلیا انگلینڈ میں ایشز کا دفاع کر رہا تھا۔
موسم گرما کے اوائل میں پہلے مردوں کے ورلڈ کپ کے باعث سیریز کو مختصر کر کے چار ٹیسٹوں تک محدود کر دیا گیا تھا۔
1-0 سے پیچھے ہونے کے بعد انگلینڈ کے پاس ہیڈنگلے میں تیسرے ٹیسٹ میں سیریز برابر کرنے کا بہترین موقع تھا۔
چوتھے دن کے اختتام پر آسٹریلیا 445 رنز کے ہدف کے تعاقب میں تین وکٹیں گںوا کر 220 رنز بنا چکا تھا۔
ایک سنسنی خیز اختتام متوقع تھا۔ رات کے دوران پچ کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس میں گڑھے کھودے گئے اور اس کے اُوپر تیل ڈالا گیا۔
یہ نقصان جارج ڈیوس کے حامیوں نے پہنچایا تھا، جنھیں ایک سال قبل مسلح ڈکیتی کے جرم میں قید کیا گیا تھا۔
گراؤنڈ کے اردگرد دیوار پر لکھا گیا: ’جارج ڈیوس بے گناہ ہے۔‘
ٹیسٹ ڈرا قرار دے کر ختم کر دیا گیا، جس کے باعث آسٹریلیا نے ایشز برقرار رکھی اور دی اوول میں فیصلہ کن مقابلے کی امید ختم ہو گئی۔
1976 میں ڈیوس کو اس بنیاد پر رہا کر دیا گیا کہ ان کی سزا غیر محفوظ قرار دی گئی تھی، جبکہ 2011 میں اپیل پر سزا مکمل طور پر کالعدم کر دی گئی۔
ورلڈ سیریز کرکٹ
ویسٹ انڈیز کے کھلاڑی ورلڈ سیریز کرکٹ کے دوران بالکونی میں بیٹھے ہوئے ہیں1970 کی دہائی کے وسط میں آسٹریلیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک، کیری پیکر، اپنے چینل نائن ٹی وی نیٹ ورک کی ریٹنگ بڑھانے کے لیے براہ راست کھیلوں کی نشریات چاہتے تھے۔
اُنھوں نے آسٹریلین کرکٹ بورڈ کو ایک منافع بخش پیشکش کی، مگر اسے مسترد کر دیا گیا اور براہ راست کرکٹ آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے پاس رہی۔
تب پیکر نے اپنی ہی پراڈکٹ تیار کر لی جسے ورلڈ سیریز کرکٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
منصوبہ سادہ تھا۔ پیکر نے دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کو اپنی مقابلہ جاتی کرکٹ کھیلنے کے لیے بھرتی کر لیا۔
اس میں سب سے اہم انگلینڈ کے کپتان ٹونی گریگ کا معاہدہ تھا، جنھوں نے عملی طور پر ایجنٹ کا کردار ادا کیا۔
ورلڈ سیریز کرکٹ دو سیزن تک جاری رہی، 1977-78 اور 1978-79، جس میں ایک روزہ میچ اور آسٹریلیا، ویسٹ انڈیز اور ورلڈ الیون کی نمائندہ ٹیموں کے درمیان ’سپر ٹیسٹ‘ شامل تھے۔
دوسری جانب روایتی کرکٹ جاری رہی۔
1978-79 میں انگلینڈ نے ایشز میں پانچ ایک سے کامیابی حاصل کی۔
بعد ازاں 1979 میں پیکر اور بورڈ کے درمیان مفاہمت ہوئی اور نائن کو آسٹریلیا میں کرکٹ کے ٹی وی حقوق حاصل ہو گئے۔
ورلڈ سیریز کرکٹ کی کئی اختراعات، جن میں رنگین لباس اور دن رات کرکٹ شامل ہیں، آج کے کھیل کی تشکیل میں اہم ثابت ہوئیں۔
مائیک گیٹنگ اور شکور رانا
مائیک گیٹنگ نے بعد میں کہا کہ انھیں شکور رانا واقعے پر افسوس ہے۔ 1987 کے اواخر میں پاکستان کے دورے کے پہلے ٹیسٹ میں ایک مقامی امپائر کے فیصلوں پر انگلینڈ پہلے ہی مایوسی کا شکار تھا۔
دوسرے ٹیسٹ میں شکور رانا کو امپائر مقرر کیا گیا، جس پر انگلینڈ ناخوش تھا۔
رانا اس سے پہلے نیوزی لینڈ کے کپتان جیریمی کونی سے بھی اختلافات رکھ چکے تھے۔
فیصل آباد میں دوسرے دن رانا سکوائر لیگ پر تھے جب اُنھوں نے بظاہر انگلینڈ کے کپتان مائیک گیٹنگ کی ایک فیلڈ پلیسمنٹ پر اعتراض کرتے ہوئے کھیل روک دیا۔
گیٹنگ غصے میں آ گئے اور امپائر کا سامنا کیا، جس کی ویڈیو بار بار نشر کی جاتی رہی ہے۔
اگلے روز رانا نے میدان میں آنے سے انکار کر دیا، جس کے باعث انگلینڈ کی ٹیم کھیل شروع ہونے کے انتظار میں میدان میں کھڑی رہی۔
میچ بالآخر چوتھے دن دوبارہ شروع ہوا اور دورے کی منسوخی بال بال ٹل گئی، لیکن انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان بداعتمادی اور تلخی کئی سال تک برقرار رہی۔
جیب میں مٹی
1990 کی دہائی کے وسط میں گیند کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ٹیسٹ کرکٹ کا سب سے جذباتی موضوع تھا۔
1992 میں پاکستان کے دورہ انگلینڈ پر الزامات اور اشاروں کنایوں کا سایہ رہا۔
دو سال بعد انگلینڈ کے کپتان خود ایک ایسے ہی تنازع کے مرکز میں آ گئے۔
لارڈز ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کے خلاف مائیکل ایتھرٹن ٹی وی کیمروں میں گیند پر مٹی ملتے ہوئے پکڑے گئے۔
ایتھرٹن کی وضاحت تھی کہ وہ گیند کی حالت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے تھے، نہ کہ اسے تبدیل کرنے کی۔
مسئلہ یہ تھا کہ اُنھوں نے میچ ریفری کو بتایا کہ وہ مٹی اپنے ہاتھ خشک رکھنے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔
یہ خبر سرخیوں میں رہی اور ایک ہنگامہ خیز نیوز کانفرنس پر ختم ہوئی، جہاں ایتھرٹن کے بقول انھیں ’شیروں کے آگے ڈال دیا گیا۔‘
ایتھرٹن نے استعفیٰ دینے پر غور کیا، مگر جرمانے کے ساتھ بچ نکلے اور مزید چار سال تک کپتان رہے۔
ہنسی کرونیے

جنوبی افریقہ کے سابق کپتان ہنسی کرونیے اپنے ملک کی انتہائی معزز شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔
یہاں تک کہ ان کے نیلسن منڈیلا سے بھی قریبی تعلقات تھے۔
تاہم وہ انڈین سٹے بازوں سے منسلک ہو گئے اور آہستہ آہستہ میچ یا اس کے حصے فکس کرنے کی تجاویز دینے لگے۔
کرونیے نے اپنے منصوبے کا حصہ بنانے کے لیے متاثر ہونے والے ساتھی کھلاڑیوں کو نشانہ بنایا۔
ان کا سب سے بدنام منصوبہ 2000 میں سنچورین پارک میں انگلینڈ کے خلاف پانچویں اور غیر فیصلہ کن ٹیسٹ میں سامنے آیا۔
بارش سے شدید متاثر اس میچ میں کرونیے اس بات پر مصر تھے کہ مقابلہ ڈرا نہ ہو۔
اُنھوں نے انگلینڈ کے کپتان ناصر حسین کے ساتھ دونوں ٹیموں کی ایک ایک اننگز کم کرنے پر اتفاق کیا، جس کے بعد انگلینڈ کی ٹیم کو آخری دن ہدف ملا اور اس نے کامیابی حاصل کر لی۔
انگلینڈ لاعلم تھا، مگر کرونیے نے نتیجہ ترتیب دیا تھا۔
کرونیے نے چند ماہ بعد اعتراف جرم کیا اور بعد میں کنگ کمیشن کے سامنے عوامی گواہی بھی دی۔ ان پر زندگی بھر کرکٹ کھیلنے پر پابندی لگا دی گئی اور 2002 میں ایک طیارہ حادثے میں ان کی موت ہو گئی۔
جب ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ میچ فارفیٹ کیا گیا
اس سکینڈل کی جڑیں پاکستانی کرکٹ اور گیند کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے بارے میں ماضی کے رویوں میں تھیں۔
2006 میں پاکستان پہلے ہی انگلینڈ میں سیریز ہار چکا تھا، مگر دی اوول میں آخری ٹیسٹ جیتنے کے قریب تھا۔
تاہم آسٹریلوی امپائر ڈیرل ہیئر، جو خود بھی تنازعات سے ناواقف نہیں تھے، نے چوتھے دن دوپہر کے سیشن کے دوران گیند تبدیل کرنے کا حکم دیا۔ گیند کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا شبہ ظاہر کیا گیا اور پاکستان نے چائے کے وقفے کے بعد کھیلنے سے انکار کر دیا۔ صورتحال افراتفری کا شکار ہو گئی۔
پاکستان کے کپتان انضمام الحق نے بالآخر موقف نرم کیا اور کھیل دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی، لیکن تب تک امپائر ہیئر اور بلی ڈوکٹروو میچ انگلینڈ کے نام کر چکے تھے۔
اس کے بعد کئی سال تک بحث و مباحثہ جاری رہا، نتیجہ پہلے ڈرا میں تبدیل ہوا اور پھر دوبارہ انگلینڈ کی جیت قرار دے دیا گیا۔
انضمام کو گیند کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے الزام سے بری کر دیا گیا، جبکہ ہیئر پر امپائرنگ کرنے پر پابندی لگا دی گئی۔
یہ ٹیسٹ تاریخ کا واحد میچ ہے جو فارفیٹ کیا گیا اور انگلینڈ کو اس کا فاتح قرار دیا گیا۔
پاکستان سپاٹ فکسنگ

2010 کے لارڈز ٹیسٹ میں انگلینڈ کے خلاف پاکستانی بولرز کی جانب سے کی گئی نو بالز کی وجہ سے تین کھلاڑیوں کو جیل جانا پڑا۔
نیوز آف دی ورلڈ اخبار کی ایک خفیہ کارروائی میں ایک درمیانی شخص، کرکٹ ایجنٹ مظہر مجید، کو تین نو بالز کی تفصیلات کے عوض رقم دی گئی۔
مجید نے پاکستان کے کپتان سلمان بٹ اور فاسٹ بولرز محمد آصف اور محمد عامر کے ذریعے ان نو بالز کا انتظام کیا، اور پھر نیوز آف دی ورلڈ نے میچ جاری ہونے کے دوران ہی خبر شائع کر دی۔
تینوں کھلاڑیوں پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے پابندیاں عائد کیں اور بعد میں انھیں جوئے میں دھوکہ دہی کی سازش اور بدعنوان ادائیگیاں قبول کرنے کی سازش کا مجرم قرار دیا گیا۔
بٹ کو ڈھائی سال قید، آصف کو ایک سال اور عامر کو، جو اس منصوبے کے وقت صرف 17 برس کے تھے، چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔
سینڈ پیپر گیٹ
2018 میں جنوبی افریقہ کے خلاف آسٹریلیا کے کشیدہ دورے کے تیسرے ٹیسٹ میں ٹی وی کیمروں نے فیلڈر کیمرون بینکرافٹ کو ایک چھوٹی زرد چیز کے ذریعے گیند پر رگڑ لگاتے ہوئے دکھایا۔
بینکرافٹ اور کپتان سٹیو سمتھ دونوں نے گیند کی حالت تبدیل کرنے کی کوشش کا اعتراف کیا۔
چند دن بعد یہ انکشاف ہوا کہ بینکرافٹ سینڈ پیپر استعمال کر رہے تھے۔
اس واقعے پر ردعمل نے آسٹریلوی ٹیم اور پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
وزیراعظم میلکم ٹرن بل نے کہا کہ وہ ’شدید مایوس‘ ہیں۔
سمتھ کو کپتانی سے ہٹا دیا گیا، جبکہ نائب کپتان ڈیوڈ وارنر، جو اس منصوبے کے معمار تھے، بھی اپنے عہدے سے محروم ہو گئے۔
سمتھ، وارنر اور بینکرافٹ تینوں نے آسٹریلیا کے لیے کھیلنے سے طویل پابندیاں کاٹیں۔
کوچ ڈیرن لیہمن کو گیند کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے لاعلم قرار دیا گیا، لیکن اُنھوں نے بھی استعفیٰ دے دیا۔