حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان جاری مذاکراتی عمل سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب دو بجے کے بعد اختتام پذیر ہوا، جس کے بعد حکومتی نمائندوں نے الزام عائد کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کی قیادت کی جانب سے بار بار مداخلت کے باعث کسی مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق نہ ہو سکا۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ مذاکرات کے دوران مسودے میں چار مرتبہ تبدیلیاں کی گئیں اور مختلف نکات پر اپنی جماعتی قیادت سے مسلسل مشاورت بھی کی جاتی رہی۔
حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات میں ڈیڈلاک: ’لانگ مارچ اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘