کو پائلٹ نے اماراتی طیارہ اسرائیل میں عمارت سے ٹکرانے کا منصوبہ بنایا تھا: تحقیقات میں انکشاف

image

اماراتی ایئرلائن کی ایک پرواز میں مبینہ ہائی جیکنگ کی کوشش کی تحقیقات کے دوران مزید سنگین تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق 29 سالہ عمانی معاون پائلٹ حَمّام الحمّانی پر الزام ہے کہ وہ کپتان کو قتل کرنے کے بعد طیارے کا مکمل کنٹرول حاصل کرکے اسے تل ابیب میں کسی بلند عمارت یا دوسرے طیارے سے ٹکرانا چاہتا تھا۔

تحقیقاتی حکام کے مطابق الحمّانی دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز میں شریک پائلٹ کی حیثیت سے موجود تھا۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے بھارتی کپتان سمت پر کاک پٹ میں حملہ کیا۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس منصوبے میں کوئی دوسرا شخص شریک نہیں تھا اور وہ تنہا کارروائی کرنا چاہتا تھا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ معاون پائلٹ نے 30 ستمبر کے لیے مبینہ طور پر ایک تفصیلی منصوبہ تیار کیا تھا۔ اس کا ارادہ پہلے کپتان کو راستے سے ہٹانے اور بعد میں پرواز کو معمول کے مطابق جاری رکھنے کا تھا، تاکہ فوری طور پر کسی کو غیر معمولی صورتحال کا اندازہ نہ ہوسکے۔

تفتیش سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق وہ طیارے کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اردن کی فضائی حدود تک پہنچنے کا انتظار کرنا چاہتا تھا۔ مبینہ منصوبہ یہ تھا کہ لینڈنگ کی اجازت حاصل کرنے کے بعد بن گوریون ایئرپورٹ کے قریب پہنچ کر طیارے کا رخ کسی عمارت یا دوسرے جہاز کی طرف موڑ دیا جائے۔

رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ الحمّانی اس سے قبل جولائی میں ایسی کارروائی پر غور کرچکا تھا، تاہم عملے کے ایک رکن سے دوستی کے باعث اس وقت اس نے اپنا ارادہ بدل دیا۔ بعد میں مبینہ طور پر اس نے دوبارہ منصوبہ بندی شروع کی اور بن گوریون ایئرپورٹ کے دوروں کے دوران وہاں کی صورتحال کا جائزہ لیا۔

واقعے کے روز صورتحال اس وقت انتہائی خطرناک ہوگئی جب معاون پائلٹ نے مبینہ طور پر کاک پٹ میں کپتان سمت پر کلہاڑی سے حملہ کرکے طیارے پر قبضے کی کوشش کی۔ دونوں کے درمیان مزاحمت کے دوران بوئنگ 737 میکس 8 تیزی سے بلندی کھونے لگا اور رپورٹس کے مطابق تقریباً دو منٹ میں 36 ہزار فٹ سے 17 ہزار فٹ تک نیچے آگیا۔

اس وقت جہاز میں 174 مسافر موجود تھے۔ زخمی ہونے کے باوجود کپتان سمت کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوگئے، جس کے بعد عملے کے ارکان اور بعض مسافر اندر پہنچے اور معاون پائلٹ پر قابو پالیا۔

ہنگامی صورتحال کے دوران جہاز میں مسافر کی حیثیت سے موجود دو آف ڈیوٹی پائلٹس نے پرواز کا کنٹرول سنبھالا۔ طیارے کو بعد ازاں سعودی عرب کے شہر تبوک کے ایئرپورٹ پر بحفاظت اتار لیا گیا، جبکہ مسافروں کو بعد میں ان کی منزل کی جانب روانہ کیا گیا۔

اس مبینہ منصوبے کو 11 ستمبر 2001 کے امریکا میں ہونے والے حملوں سے مماثل قرار دیا جارہا ہے، کیونکہ تحقیقات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مقصد مسافر طیارے کو کسی اہم عمارت سے ٹکرانا تھا۔ تاہم موجودہ معاملے میں حملے کی کوشش ناکام بنا دی گئی اور طیارے میں موجود افراد محفوظ رہے۔

رپورٹس کے مطابق ملزم نے حالیہ مہینوں میں اپنی ملازمت کے دوران بن گوریون ایئرپورٹ کے کئی دورے کیے تھے۔ تفتیش کار اب یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ آیا ان دوروں کے دوران اس نے ممکنہ حملے کے لیے معلومات جمع کی تھیں یا نہیں۔

معاون پائلٹ کے خلاف تحقیقات ابھی جاری ہیں اور کوئی حتمی سزا نہیں سنائی گئی۔ رپورٹس میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ جرم ثابت ہونے کی صورت میں اسے متحدہ عرب امارات میں انتہائی سخت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب کپتان سمت کو طیارے اور اس میں سوار افراد کو بچانے کے لیے مزاحمت کرنے پر سراہا جارہا ہے۔ وہ دبئی کے ایک اسپتال میں زیرِ علاج ہیں، جہاں سرجری کے بعد ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US