فلائی دبئی کا پائلٹ جہاز کو ’اسرائیلی ہوائی اڈے یا کسی بلند عمارت سے ٹکرانا چاہتا تھا‘

امریکی اور اسرائیلی میڈیا نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے اسرائیل جانے والی پرواز کے دوران جہاز کے کپتان پر چاقو سے حملہ کرنے والے فرسٹ آفیسر طیارے کو تل ابیب کے بین گوریون ہوائی اڈے یا شہر کی کسی بلند عمارت سے ٹکرانے کا منصوبہ رکھتے تھے۔
Tel Aviv
Getty Images

امریکی اور اسرائیلی میڈیا نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے اسرائیل جانے والی پرواز کے دوران جہاز کے کپتان پر چاقو سے حملہ کرنے والے فرسٹ آفیسر طیارے کو تل ابیب کے بین گوریون ہوائی اڈے یا شہر کی کسی بلند عمارت سے ٹکرانے کا منصوبہ رکھتے تھے۔

ان رپورٹس کے مطابق عمانی شہری ایک تنہا حملہ آور ہیں، یعنی اس منصوبے میں کوئی شدت پسند گروہ ملوث نہیں تھا۔

متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ شریک پائلٹ نے بدھ کو دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز FZ1073 پر ایک ’دہشت گردی کی کارروائی‘ کی کوشش کی۔

فرسٹ آفیسر نے کاک پٹ میں موجود ہنگامی کرَیش ایکس (کلہاڑی) کے ذریعے کپتان پر حملہ کیا اور انھیں زخمی کر دیا، تاہم مسافروں نے اسے قابو کر لیا تھا۔ طیارے میں سفر کرنے والے عملے کے ایک دوسرے رکن نے بعد ازاں طیارے کو سعودی عرب میں اتار لیا۔

اسرائیل کے وزیر اعظم نے دعویٰ کیا تھا کہ شریک پائلٹ ’انتہا پسندانہ نظریاتی تربیت‘ سے گزرا تھا اور کپتان، مسافروں اور عملے کے ایک دوسرے رکن نے ’نائن الیون جیسے سانحے‘ کو روک دیا۔

یاد رہے کہ فلائی دبئی کی پرواز بدھ کے روز دبئی انٹر نیشنل ایئر پورٹ سے تل ابیب کے بین گورین ایئر پورٹ کے لیے روانہ ہونے کے تقریباً دو گھنٹے بعد اچانک 17,000 فٹ (5,200 میٹر) سے زیادہ نیچے آ گئی تھی جس کے باعث جہاز پر سوا مسافروں میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔

بعد ازاں یہ پتا چلا کہ اس کی وجہ فرسٹ آفیسر کی جانب سے ساتھی پائلٹ پر حملہ تھا۔ تاہم مسافروں اور عملے نے حملہ آور کو قابو میں کر کے اور طیارے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا اور اسے سعودی عرب کے شہر تبوک کے شہزادہ سلطان بن عبدالعزیز ایئر پورٹ پر اتار لیا گیا۔

Fly Dubai
Getty Images
علامتی تصویر

فرسٹ آفیسر نے تفتیش کاروں کو مزید کیا بتایا؟

فلائی دبئی کے فرسٹ آفیسر، جن کا نام متعدد رپورٹس کے مطابق حمام الحمامی بتایا جا رہا ہے، کے حوالے سے مزید تفصیلات سنیچر کے اختتام پر سامنے آئیں۔

وہ متحدہ عرب امارات میں تفتیش کے عمل سے گزر رہے ہیں اور اسرائیلی نمائندوں کو بھی پیش رفت سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔

اسرائیلی میڈیا نے تحقیقات سے واقف ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ شریک پائلٹ نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ کپتان سُمت مچھر پر حملے کے بعد شریک پائلٹ کا ارادہ تھا کہ وہ معمول کے مطابق طیارہ اسرائیلی فضائی حدود تک اڑاتے رہیں اور بین گوریون ہوائی اڈے سے لینڈنگ کی اجازت حاصل کریں۔

ان رپورٹس کے مطابق اس کے بعد وہ بوئنگ 737 میکس، جس میں 180 سے زائد مسافر سوار تھے، کو ہوائی اڈے یا وسطی تل ابیب کی کسی بلند عمارت سے نائن الیون حملے کی طرح ٹکرانا چاہتے تھے۔

ان ذرائع کے مطابق غالب امکان یہی ہے کہ اُنھوں نے کسی شدت پسند تنظیم یا غیر ملکی حکومت کی جانب سے نہیں بلکہ اکیلے کارروائی کی۔

یہ بھی بتایا گیا کہ شریک پائلٹ نے تفتیش کاروں کو کہا کہ اُنھوں نے اس سے قبل بھی تل ابیب جانے والی ایک پرواز ہائی جیک کر کے تباہ کرنے کا ارادہ کیا تھا، لیکن پھر انھوں نے اپنا فیصلہ بدل لیا کیونکہ وہ جہاز میں موجود ایک شخص کو جانتے تھے۔

اماراتی یا اسرائیلی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل حمد الشمسی نے سنیچر کے روز کہا کہ ان کے ملک کی تحقیقات اس واقعے کے تمام حالات، محرکات اور ممکنہ روابط کا مکمل تعین کریں گی، اور ان کے نتائج تحقیقات مکمل ہونے پر عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔

fly dubai
BBC

اسرائیلی مسافروں سے بھرا طیارہ اڑانے پر سوالات

اس واقعے کے حوالے سے بڑے سکیورٹی نقائص پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جن میں یہ سوال بھی شامل ہے کہ حملہ آور کو فلائی دبئی نے کس طرح بھرتی کیا اور انھیں اسرائیلی مسافروں سے بھرے طیارے کو تل ابیب لے جانے کی اجازت کیسے دی گئی۔

علاقائی حکام کے مطابق عمان کی قومی ایئرلائن عمان ایئر نے انھیں پروازیں اڑانے سے روک دیا تھا اور ان کے شدت پسندانہ نظریات کے حوالے سے خدشات کے باعث انھیں انتظامی عہدے پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

بعد ازاں انھیں متحدہ عرب امارات کی فضائی کمپنی فلائی دبئی نے معمول کی سکیورٹی جانچ پڑتال کے بعد ملازمت دے دی، تاہم حکام کے مطابق جانچ پڑتال میں اُن میں انتہا پسندی کی علامات کا جائزہ شامل نہیں تھا۔

اسرائیلی فضائی ضوابط بھی یہ کہتے ہیں کہ کسی ایسے ملک کے شہری اسرائیل جانے والی پروازیں چلانے کے مجاز نہیں ہیں جن کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ عمان بھی ان ممالک میں شامل ہے۔

علاقائی حکام نے اتوار کے روز ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ اماراتی حکام نے پرواز FZ1073 کی روانگی سے قبل مسافروں اور عملے کی فہرست اسرائیل کے ساتھ شیئر کی تھی۔

اسرائیل کی داخلی سلامتی کی ایجنسی شن بیت نے کہا کہ غیر ملکی ایئرلائنز کی جانب سے فراہم کی جانے والی ایسی فہرستوں کی جانچ پڑتال کی ذمہ داری وزارتِ ٹرانسپورٹ پر عائد ہوتی ہے۔

تاہم وزیرِ ٹرانسپورٹ میری ریگیو نے کہا کہ ان کی وزارت کو مسافروں اور عملے کی فہرستیں فراہم نہیں کی گئیں، اور یہ کہ غیر ملکی ایئرلائنز کی پروازوں کی سکیورٹی نگرانی شن بیت اور موساد، یعنی اسرائیل کی غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی، کی ذمہ داری ہے۔

اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ’اسرائیل آنے والی غیر ملکی سول ہوابازی سے متعلق تمام سکیورٹی پہلوؤں‘ کا جائزہ لیں۔

پائلٹ کا آسٹریلیا سے کیا تعلق تھا؟

دوسری جانب آسٹریلوی حکام متحدہ عرب امارات سے اسرائیل جانے والی پرواز کے دوران جہاز کے کپتان پر چاقو سے حملہ کرنے والے فرسٹ آفیسر کے آسٹریلیا سے روابط کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

آسٹریلوی پولیس کے مطابق اس تحقیقات میں ریاستی پولیس اور ملک کی سکیورٹی ایجنسی بھی شامل ہیں جبکہ مناسب وقت پر تازہ معلومات فراہم کی جائیں گی۔

کیس سے واقف ذرائع، جنھوں نے آسٹریلوی میڈیا سے بات کی ہے کا کہنا ہے کہ شریک پائلٹ کو 2014 میں ایک سٹوڈنٹ ویزا جاری کیا گیا تھا اور اُنھوں نے 2015 سے 2017 کے درمیان آسٹریلیا میں تعلیم حاصل کی جس کے بعد وہ آسٹریلیا سے چلے گئے۔

آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن (ABC) نے کہا کہ شریک پائلٹ کا سٹوڈنٹ ویزا 2019 میں اس لیے منسوخ کر دیا گیا تھا کیونکہ وہ اب کسی تعلیمی کورس میں داخل نہیں تھے جس کی وجہ سے وہ اس ویزے کے بھی اہل نہیں تھے۔

Israel UAE
Getty Images

اے بی سی نے رپورٹ کیا کہ انسدادِ دہشت گردی کے حکام یہ جائزہ لیں گے کہ آیا یہ شخص آسٹریلیا میں انتہا پسندی کی جانب مائل ہوا تھا یا نہیں۔

30 ستمبر کو دبئی سے تل ابیب جانے والی اس پرواز میں اسرائیل جانے والے 170 سے زائد مسافر سوار تھے۔

متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل کے مطابق، سفر کے ڈھائی گھنٹے بعد طیارہ 17,000 فٹ (5,200 میٹر) نیچے آ گیا جب شریک پائلٹ نے کپتان پر کریش ایکس سے حملہ کیا۔

طیارہ اڑانے والے کپتان سُمت مچھر نے بیان کیا کہ وہ زخمی حالت میں فرش پر پڑے تھے جب انھیں احساس ہوا کہ طیارہ تیزی سے نیچے جا رہا ہے اور انھیں کارروائی کرنا ہوگی۔

اُنھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا: ’میں نے خود سے کہا کہ دروازہ اندر سے کھولنے کے لیے ایک آخری کوشش کرنی ہے، جس کے بعد مسافر اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔‘

اس کے بعد دو ریزرو پائلٹوں نے طیارے کو بحفاظت سعودی عرب میں اتار لیا۔

فلائی دبئی جس کی پرواز کے دوران یہ واقعہ پیش آیا اور متحدہ عرب امارات، جہاں یہ فضائی کمپنی رجسٹرڈ ہے، نے تاحال حملہ آور فرسٹ آفیسر کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے اور نہ ہی یہ بتایا کہ مذکورہ افسر کس ملک کا شہری ہے۔

فرسٹ پائلٹ کے پرواز کے مجموعی تجربے، پیشہ ورانہ اہلیت یا اس بارے میں تاحال کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں کہ آیا وہ اس سے قبل فلائی دبئی کے طیارے پر اسرائیل پرواز کر چکے تھے یا نہیں۔

تاہم اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کا دعویٰ ہے کہ حملہ آور کا تعلق عمان سے ہے جو ’انتہاپسندانہ اسلامی نظریاتی تربیت‘ سے گزرا تھا۔

Benjamin Netanyahu speaks at an event in East Jerusalem.
AFP via Getty Images

’مجھے احساس ہو گیا تھا کہ اگر میں نہ اٹھا تو کیا ہوگا‘

اس واقعے میں زخمی ہونے والے پائلٹ کی شناخت انڈین شہری کیپٹن سمِت مچھر کے نام سے ہوئی تھی۔ انھیں طیارے کے اترنے کے بعد ہسپتال منتقل کیا گیا اور بعد ازاں اسرائیلی وزیرِ اعظم نے انھیں ’ہیرو‘ قرار دیا۔

جمعہ کے روز انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے فلائی دبئی کے پائلٹ سمت مچھر کو ویڈیو کال کر کے ان کا حال دریافت کیا اور ان کی بہادری پر انھیں خراجِ تحسین پیش کیا۔

نریندر مودی نے ان سے کہا کہ ’میں اور تمام قوم آپ کے لیے دعا گو ہے۔‘

ہمت، سوجھ بوجھ سے کام لینے پر انڈین وزیر اعظم نے ان کی تعریف کی۔ اور کہا ’ہم انڈین جان لینے والے نہیں جان بجانے والے لوگ ہیں۔ اپنے جسم پر اتنا بڑا زخم لے کر زندگی اور موت کی لڑائی لڑتے ہوئے اپنی پرواہ نہیں کی اور مسافروں کی جان کی پرواہ تھی۔‘

انھوں نے کہا ’آپ نے پوری قوم کا مان رکھا۔‘

اس موقعے پر پائلٹ سمت مچھر نے کہا کہ ’آپ میرے آئیڈیل ہیں۔ مجھے فخر محسوس ہو رہا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’اس لمحے میں اپنی زندگی کے لیے لڑ رہا تھا۔ ایک لمحے مجھے احساس ہوگیا تھا کہ اگر میں نہ اٹھا تو کیا ہوگا، 17 سال سے جہاز اڑا رہا ہوں تو مجھے پتا تھا یہ جہاز نیچے جا رہا ہے۔ میں ان سب (مسافروں) کو نہیں مرنے دے سکتا۔‘

سمت مچھر نے سعودی عرب میں میّسر علاج کی سہولیات پر تسلی کا اظہار کیا اور کہا ’مجھے اس سے اچھا طبی علاج نہیں مل سکتا تھا۔‘

انھوں نے وزیر اعظم سے ویڈیو کال پر بات کرتے ہوئے جذباتی ہوتے ہوئے کہا ’میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میری آپ سے بات ہوگی۔‘ اس پر نریندر مودی نے جواب دیا کہ 'آپ نے کام ہی اتنا بڑا کیا ہے کہ ساری دنیا آپ کو دیکھ رہی ہے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US