یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز نے باب المندب آبنائے کے اطراف اور ساحلی علاقوں میں تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے حوثیوں کو کئی اہم مقامات سے پیچھے دھکیل دیا ہے۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق یمنی حکومتی فورسز نے سعودی فضائی حملوں کی مدد سے موچا شہر کے اطراف تک پیش قدمی کی، جبکہ یمنی وزارت دفاع نے شہر پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔ فورسز نے آبنائے باب المندب کے دہانے پر واقع ذباب ضلع میں ایک ایئر اسٹرپ سمیت اہم مقامات بھی اپنے قبضے میں لے لیے ہیں۔
دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، رابغ میں آرامکو ریفائنری، ابہا ایئرپورٹ اور خمیس مشیط فوجی اڈے سمیت اہم تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
یمن کے مختلف محاذوں پر کئی ہفتوں سے شدید لڑائی جاری ہے۔ حوثی گروپ نے طائز کے قریب بھی پیش قدمی کرتے ہوئے اہم پہاڑی راستوں پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے نتیجے میں حکومتی فورسز کو مشکلات کا سامنا ہے۔
دریں اثنا سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے ہنگامی اجلاس کے بعد مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب میں فوجی دستے اور دفاعی صلاحیتیں تیزی سے تعینات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ تینوں ممالک نے سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے خلاف کسی بھی حملے یا خطرے کو مسترد کردیا۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق یمن میں جنگ دوبارہ شروع ہونے کے بعد ایک لاکھ 84 ہزار افراد بے گھر ہوچکے ہیں، جس سے پہلے ہی سنگین انسانی بحران مزید شدت اختیار کرگیا ہے۔