بی بی سی اور امریکی نشریاتی ادارے این پی آر کی مشترکہ تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ بسام الحسن کو امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی اور امریکہ و لبنان کے دیگر حکام پر مشتمل ایک انتظام کے تحت لبنان میں رہنے کی اجازت دی گئی ہے۔

بی بی سی نیوز کی ایک تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں مطلوب شام کے ایک سابق جنرل کو امریکہ اور لبنانی حکام کی جانب سے مالی اور حفاظتی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
سابق شامی صدر بشار الاسد کے سینئر مشیر اور شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کی نگرانی کرنے والے بسام الحسن کو 2024 میں اسد حکومت کے خاتمے کے بعد لبنان میں پناہ دی گئی تھِی۔
بی بی سی اور امریکی نشریاتی ادارے این پی آر کی مشترکہ تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ بسام الحسن کو امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی اور امریکہ و لبنان کے دیگر حکام پر مشتمل ایک انتظام کے تحت لبنان میں رہنے کی اجازت دی گئی ہے۔
بی بی سی کو بتایا گیا ہے کہ اس کی وجہ ان کی جانب سے 2012 میں شام میں اغوا ہونے والے امریکی صحافی آسٹن ٹائس کے متعلق معلومات فراہم کرنے اور دیگر انٹیلی جنس معلومات دینے پر آمادگی ہے۔
گذشتہ ماہ بی بی سی نے انکشاف کیا تھا کہ آسٹن ٹائس کا اغوا ایک منصوبہ بند کارروائی تھی، اور بسام الحسن اس کی کمانڈ چین کا حصہ تھے۔

شام کی نئی حکومت کے دو مختلف اداروں کے حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ بسام الحسن پر مقدمہ چلانے کے لیے انھیں شام واپس لانا چاہتے ہیں، تاہم ان کے مطابق امریکی حکام چاہتے ہیں کہ وہ لبنان ہی میں رہیں، اور دمشق اس معاملے میں بہت زیادہ کچھ نہیں کر سکتا۔
ہم نے اپنی تحقیقات پر تبصرے کے لیے ایف بی آئی، امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور لبنان کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف جنرل سکیورٹی سے رابطہ کیا۔ تاہم ان میں سے صرف ایف بی آئی نے جواب دیا اور تبصرے سے گریز کرتے ہوئے اپنے ایک سابق بیان کی طرف رجوع کرنے کو کہا، جس میں کہا گیا تھا کہ ادارے کی توجہ آسٹن ٹائس کے معاملے سے متعلق حقائق معلوم کرنے اور ان کی واپسی کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے۔
اپنی تحقیقات کے حوالے سے جب آسٹن ٹائس کے خاندان رجوع کیا گیا تو ٹانس خاندان کے ترجمان فل ایل ووڈ کا کہنا تھا ’اگر آپ کی بات درست ہے تو یہ حقیقت کہ ہمارے ٹیکس دہندگان کے پیسے ایک ایسے شخص کو آرام دہ زندگی فراہم کرنے پر خرچ کیے جا رہے ہیں جو شامی شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے منسلک رہا ہے، اور جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ آسٹن ٹائس کو اس کے حکم پر قتل کیا گیا، انتہائی ناگوار ہے۔
’یہ ایک مطلوب جنگی مجرم کو فرار ہونے میں مدد دینے کے مترادف ہے۔ شامی عوام انصاف کے مستحق ہیں اور اسے مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے واپس بھیجا جانا چاہیے۔‘

کئی برسوں پر محیط اس تفتیش جسے بی بی سی کے نئے پوڈکاسٹ ’آسٹن ٹائس کہاں ہے؟‘ میں شامل کیا گیا ہے۔ بی بی سی نے اس دوران ایک ملاقات کے تفصیلی ریکارڈ کا جائزہ لیا ہے جس میں بسام الحسن، ایف بی آئی اور سی آئی اے کے نمائندوں، اور لبنانی سکیورٹی حکام کے درمیان آسٹن ٹائس کے معاملے پر گفتگو ہوئی تھی۔
اس ریکارڈ کے مطابق، بسام الحسن کو معلومات فراہم کرنے کے بدلے، بالخصوص آسٹن ٹائس سے متعلق معلومات کے عوض، ’رہائش‘، ’حفاطت‘ اور ان کی ’گزر بسر کی ضروریات‘ پوری کرنے میں مدد کی پیشکش کی گئی۔
اس انتظام سے واقف ذرائع نے اس کی تصدیق کی ہے اور ہمیں بتایا ہے کہ بسام الحسن کو امریکی حکام ایک ثالث کے ذریعے رقم فراہم کرتے ہیں، جس سے اس مالی معاونت کا سراغ لگانا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ شامی جرنیل پر امریکی حکومت کی جانب سے پابندیاں عائد ہیں۔
تاہم آسٹن ٹائس کی تحقیقات سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے تحت بسام الحسن کی جانب سے معلومات فراہم کیے جانے کے باوجود تحقیقات میں نمایاں پیش رفت کے بہت کم شواہد سامنے آئے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ معاہدہ 2025 میں طے پایا تھا۔
تحقیقات سے واقف ذرائع نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ بسام الحسن کا یہ انتظام غیر معینہ مدت تک جاری رہ سکتا ہے، جس پر خاطر خواہ اخراجات آئیں گے جبکہ اس سے محدود نتائج حاصل ہونے کی امید ہے۔
بسام الحسن واحد شامی حکومتی اہلکار نہیں جن کا آسٹن ٹائس کے معاملے سے تعلق بظاہر انھیں بیرون ملک رہائش کے لیے مالی ادائیگیوں یا دیگر سہولتوں کا باعث بنا ہے۔
سابق شامی حکومت کے ایک رکن نے بتایا کہ انھیں آسٹن ٹائس کے معاملے میں تعاون کے بدلے متعدد بار ایف بی آئی سے رقم موصول ہوئی۔ ان کے بقول، ’میرے مفاد میں نہیں تھا کہ میں تمام معلومات ایک ہی بار فراہم کر دوں‘، تاکہ ’میں طویل عرصے تک ان سے [امریکی حکام سے] ادائیگیاں وصول کرتا رہوں۔‘
آسٹن ٹائس کے معاملے سے منسلک سابق شامی حکومت کے ایک اور عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ وہ امریکی حکام کی ’سرپرستی‘ میں لبنان میں رہ رہے ہیں، اور اسی وجہ کو بنیاد بناتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ آسٹن ٹائس کے بارے میں ہم سے بات نہیں کر سکتے۔
بی بی سی نے لبنان کی انٹیلی جنس کے ایک سابق سینیئر اہلکار سے بھی بات کی، جنھوں نے تصدیق کی کہ لبنانی انٹیلی جنس کے امریکی حکام کے ساتھ ایسے انتظامات موجود ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق جب دونوں ادارے کسی ایک ہی معاملے پر کام کر رہے ہوں تو اس نوعیت کی ادائیگیاں ماضی میں بھی کی جاتی رہی ہیں اور اب بھی کی جاتی ہیں۔ تاہم انھوں نے کہا کہ انھیں آسٹن ٹائس کے معاملے میں کی جانے والی کسی ادائیگی کے متعلق علم نہیں۔
خیال کیا جاتا ہے کہ دسمبر 2024 کے اوائل میں اسد حکومت کے خاتمے کے بعد بسام الحسن ابتدا میں ایران فرار ہو گئے تھے۔
سابق شامی حکومت اور لبنانی حکام دونوں سے قریبی روابط رکھنے والے ایک شامی کاروباری شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ بعد ازاں الحسن کو لبنان لانے کے لیے امریکہ، لبنان اور ایران کے درمیان مذاکرات ہوئے۔
نام نہ ظاہر کرنے کی درخواست کرنے والے اس کاروباری شخص نے کہا کہ بسام الحسن نہ صرف اس وجہ سے اہم تھے کہ ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ آسٹن ٹائس کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں، بلکہ اس لیے بھی کہ انھیں شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام اور ایران کے ساتھ اس کے عسکری تعلقات کے بارے میں معلومات حاصل تھیں - ایسے راز جن میں مبینہ طور پر امریکی انٹیلی جنس کی دلچسپی تھی۔

گذشتہ برس بسام الحسن نے امریکی تفتیش کاروں کو بتایا تھا کہ آسٹن ٹائس کو سابق صدر بشار الاسد کے حکم پر قتل کر دیا گیا تھا، تاہم تحقیقات سے واقف کئی افراد نے ان کے بیان کی تفصیلات پر سوالات اٹھائے ہیں۔
بسام الحسن نے ایک مقام کی نشاندہی بھی کی تھی جہاں ان کے مطابق ٹائس کی باقیات موجود ہیں۔ تاہم جب اس مقام کی تلاشی لی گئی تو کچھ نہیں ملا۔ کھدائی سے واقف متعدد ذرائع کے مطابق اس سے بسام الحسن کی فراہم کردہ بعض معلومات کی صحت پر شکوک پیدا ہوئے۔
تاہم اس بارے میں بھی سوالات موجود ہیں کہ اس مقام کی تلاشی کتنی جامع تھی۔ دو ذرائع، جن کا کہنا تھا کہ انھیں اس کارروائی کی مکمل معلومات تھیں، نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکی حکام نے ممکنہ طور پر سکیورٹی خدشات کے باعث تلاش مکمل ہونے سے پہلے ہی کھدائی روک دی تھی۔
گذشتہ برس جب بی بی سی نے بسام الحسن سے انٹرویو کے لیے فون پر رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ ان سے بات کرنے کی اجازت حاصل کرنے کے لیے بیروت میں امریکی سفارت خانے کے ذریعے ایف بی آئی اور سی آئی اے سے رجوع کیا جائے۔
ہماری تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آسٹن ٹائس کے معاملے سے منسلک دیگر شامی اہلکاروں کو بھی بظاہر بیرونِ ملک پناہ حاصل ہوئی ہے۔
ان میں محمد مخلوف بھی شامل ہیں جو بسام الحسن کے ماتحت تھے اور ٹائس کی حراست میں ان کا ہاتھ تھا۔ اب خیال کیا جاتا ہے کہ وہ لبنان میں مقیم ہیں۔ اسی طرح الحسن کے بھتیجے صقر رستم، جو ٹائس کے اغوا میں ملوث تھے، کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات اور لبنان میں اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ جب بی بی سی نے ٹائس کے معاملے پر رستم سے بات کرنے کی کوشش کی تو انھوں نے کہا کہ وہ ’مستقبل کے معاملات پر توجہ دینا پسند کرتے ہیں۔‘
ہمیں بتایا گیا ہے کہ شام کی ریپبلکن گارڈ کے سابق جنرل غسان نصور، جن کے بارے میں نیشنل ڈیفنس فورسز کے سابق ارکان کا کہنا ہے کہ وہ اس جیل کے نگران تھے جہاں ٹائس کو رکھا گیا تھا، اپنے خاندان کے ساتھ متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں۔